اقبال اور ترکی: ڈاکٹر خلیل طوق ار سے ایک گفتگو ۔۔۔ اعجازالحق اعجاز

0
  • 103
    Shares

ڈاکٹر خلیل طوق ار ایک ممتاز ترک سکالر اور ماہر اقبالیات ہیں۔ وہ تیس سال سے استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ہیں اور اردو اور اقبال سے دلی لگائو رکھتے ہیں۔ ایک جاذب نظر شخصیت کے حامل ہیں اور اردو ہماری طرح ہی روانی سے بولتے ہیں۔ انھوں نے ۹ نومبر کو یوم اقبال کے موقع پر ایوان اقبال میں ہونے والی تقریب میں حاضرین کو یہ کہ کر خوش گوار حیرت میں مبتلا کردیا کہ اقبال ایک ترک شاعر ہیں۔

جب میں نے ان سے اس بیان کی وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ اقبال پاکستانیوں ہی کے نہیں بلکہ ترکوں کے بھی شاعر ہیں کیوں کہ ترک عوام اقبال کو بہت چاہتے ہیں او ر ان کے شعر و فکر کے دلدادہ ہیں کیوں کہ اقبال کی شاعری نے ترکوں کی قومی زندگی کے مختلف فیصلہ کن ادوار میں ان کی بہت راہنمائی کی ہے۔ اس کی ایک وجہ مولانا جلال الدین رومی سے اقبال کی بے پناہ عقیدت ہے اسی لیے ترکوں نے رومی کے مزار کے احاطے میں اقبال کا علامتی مزار بنایا ہے جس سے ترکوں کی اقبال سے محبت و عقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

جب میں نے ڈاکٹر صاحب سے یہ پوچھا کہ اقبال کی شاعری کے وہ کون کون سے عناصر ہیں جنھوں نے ترکی کے عوام کو اپنا گرویدہ بنایا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ اقبال کے کلام میں بے پناہ تحرک، شوکت اور جدت پسندی ہے۔ اقبال ایک استقبال پرست (Futurist) شاعر ہیں اور اقبال اور ترکی کے لوگوں کی طبائع میں ایک خاص مماثلت پائی جاتی ہے۔ علامہ اقبال کے خیالات و تصورات بالکل ہم ترکوں جیسے ہیں۔ یعنی جس طرح ہم لوگوں کا انداز فکر ہے اور جو احساسات اورولولے ہمارے دلوں میں ہیں ہمیں لگتا ہے کہ علامہ صاحب کی شاعری بھی انھی کی ترجمانی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اقبال نے جن خصوصیات کی وجہ سے شاہین کو پسند کیا یعنی بلند پروازی، خودداری، اپنے مقاصد کو فوری طورپر پا لینے کا جذبہ اورسب سے بڑھ کر آزادی یہ سب خصوصیات ترک بھی اپنے اندر دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ شاہین کبھی شکست خوردہ نہیں ہوتا اور ترک بھی عام طور پر شکست برداشت نہیں کرتے اور حوصلہ نہیں ہارتے۔ یہ سب وہ خصوصیات ہیں جو کئی صدیوں سے ہمارے اندر چلی آرہی ہیں۔ اقبال کی شاعری کا مرکز و محور بھی یہی ہے۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ اقبال ایک جدت پسند مفکر اور شاعر ہیں مگر روایت کا احترام بھی کرتے ہیں اور ترک قوم بھی جدت پسند ہے اور اب روایت کی پاسداری کی طرف لوٹ رہی ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ترکوں کے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی ملی روایات سے اپنا تعلق منقطع کر لیا تھا تو یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ ترک عوام کی اکثریت ہر دورمیں اپنے ماضی کی روایات و اقدار کو تحسین کی نظر سے دیکھتی رہی ہے اور اس پہ بجا طور پر فخر کرتی رہی ہے مگر جس طرح پاکستان میں لیفٹ اور رائٹ طبقات موجود ہیں اسی طرح ترکی میں بھی ہیں۔ البتہ وہ بھی اقبال کی طرح بے جا تقلید کے بجائے اجتہاد اور نو تشکیلیت کی سوچ رکھتے ہیں تاکہ زمانہ جدید کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہوا جا سکے۔

جب میں نے پوچھا کہ کیا طیب اردوان بھی علامہ اقبال کو پسند کرتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ صرف پسند ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے بہت زیادہ مداح بھی ہیں۔ انھوں نے ترکی زبان میں اقبال کی شاعر ی کا مطالعہ کر رکھا ہے اور جب وہ 1995 میں ترکی کے مئیر تھے تو انھوں نے وہاں اقبال پر ایک عالمی کانفرنس کا انعقاد کرایا تھا۔ اب بھی جب کوئی موقع ہوتا ہے تو وہ اقبال کے اشعار سناتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ترکی کی بہت سی یونیورسٹیوں میں اقبال پر ایم فل اور پی ایچ ڈی لیول کی ریسرچ ہو رہی ہے اور اقبال ان یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بھی ہیں۔

اس سوال کہ اقبال کی کون کون سی کتب کا ترکی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے کے جواب میں انھوں نے کہا کہ علم الاقتصاد کے علاوہ باقی سب کتب کا ترکی میں ترجمہ ہو چکا ہے اور ایک ایک کتاب کے کئی کئی تراجم ہو چکے ہیں اور اقبال کے افکار کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے تحقیق جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے جاوید نامہ، مکاتیب اقبال اور اقبال کی ڈائری Stray Reflections کا ترجمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ شکوہ، جواب شکوہ، بچوں کی نظموں اور نوجوانوں کے نام نظموں کا اور کچھ دیگر منتخب نظموں کا بھی ترکی میں ترجمہ کیا ہے۔ اور ایک کتاب اردو اور ترک کے نام سے بھی لکھی ہے جو اردو زبان میں ہے۔ ان کی ا ب تک کل آٹھ کتب اقبال پر آچکی ہیں۔ اور ان کے دو دو ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ ایک سال کے لیے پاکستان آئے ہیں اور یہاں آنے کا مقصد لاہور میں ایک یونس ایمرے ترکش کلچرل سنٹر کا قیام ہے جو کہ ترکی کی حکومت کی طرف سے۔ اسی طرح کا ایک سنٹر کراچی میں بھی قائم ہو گا اور ان مراکز کے قیام کا مقصد ترکی زبان اور ثقافت کا فروغ ہے۔ جب میں نے پوچھا کہ پاکستان میں ان کا قیام انھیں کیسا محسوس ہو رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انھیں بہت محبت ملی ہے اور لاہور کو میں اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں اور میری شریک حیات کا تعلق بھی لاہور ہی سے ہے اس لیے مجھے یہاں آکر اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ ایک سال بعد میں استنبول یونیورسٹی واپس چلا جائوں گا اور پھر سے وہاں اردو کے فروغ میں اپنا کردار ادا کروں گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: