ایک نئی ایم کیوایم، ایک نیا فاروق ستار : محمد عثمان جامعی

0
  • 121
    Shares

سال بھر پہلے جب الطاف حسین کے بغیر ایم کیوایم کا تصور خوف اور اندیشوں سے ترتیب پاتا تھا۔ اُس وقت یہ تصور صرف ایم کیوایم کے بانی کے فانی ہونے کے امکان سے ابھرتا تھا۔ اُن کی صحت سے متعلق خبریں جس کی بنیاد تھیں، اس کے ساتھ ہی گروہ درگروہ منقسم اور باہم متصادم ایم کیوایم کی دہشت انگیز تصویر بنتی تھی، جس میں سُرخ رنگ سب سے نمایاں ہوتا تھا۔ پھر ان ہونی ہوگئی۔ الطاف حُسین کی بہکتی تقریر آپے سے باہر ہوئی، جس کے ساتھ ہی وہ ملک کی طرح پاکستان کی سیاست اور اپنی جماعت کی قیادت سے بھی باہر ہوگئے۔ اُس روز یہ حقیقت سامنے آئی کے پنڈورا کے باکس میں بچی آخری شئے امید کی طرح متحدہ قومی موومنٹ نے ڈاکٹر فاروق ستار کو بچالیا ہے، جن کی وجہ سے یہ جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے اور باہمی تصادم سے محفوظ اور بڑی حد تک یک جا رہی۔ الطاف حسین کے طرزسیاست کا جائزہ لیں تو صاف نظر آتا ہے کہ انھوں نے اپنی جماعت میں متبادل قیادت اور نیابت کو اپنے لیے خطرہ سمجھا اور پنپنے نہ دیا۔ چناں چہ ان کا نعم البدل بننے کی اہلیت رکھنے والے پارٹی کے راہ نما پس منظر میں بھیج دیے جاتے یا انھیں شہادت کی حیات جاوداں مل گئی۔ عظیم احمد طارق اور عمران فاروق قتل کردیے گئے۔ سینئر اور صف اول کے راہ نما طارق جاوید، اندرون سندھ کے اردو بولنے والوں میں مقبول سابق میئر حیدرآباد آفتاب احمد شیخ اور بہ طور ناظم کراچی پاکستان گیر مقبولیت حاصل کرلینے والے مصطفیٰ کمال کو منظر سے ہٹا کر کارکنوں اور عوام سے دور کردیا گیا۔ فاروق ستار ”قائد تحریک“ کے خوف کا شکار ہونے سے بچے رہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں۔ فاروق ستار شروع سے ایم کیوایم کا سیاسی چہرہ اور شرافت کی علامت رہے، جسے مشکل وقت میں آگے رکھنا ضروری تھا، انھیں مصطفیٰ کمال اور عمران فاروق جیسے جرات رکھنے والوں کے مقابلے میں کم ہمت تصور کیا جاتا تھا، صرف رابطے کی کڑی اور کارکنوں پر غیرموثر سمجھتے ہوئے انہیں کسی اندیشے کے قابل نہ گردانا گیا۔ غالباً یہ بھی سمجھا گیا کہ گجراتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے فاروق ستار کو اردو بولنے اپنے راہ نما کی حیثیت میں تسلیم نہیں کریں گے۔ مگر یہ ساری توقعات وہم وگماں ثابت ہوئیں، 23 اگست 2016 کی رات ہمارے سامنے ایک نیا فاروق ستار تھا، پھر یہ نیا چہرہ نمایاں ہوتا گیا۔

فاروق ستار شروع سے ایم کیوایم کا سیاسی چہرہ اور شرافت کی علامت رہے، جسے مشکل وقت میں آگے رکھنا ضروری تھا، انھیں مصطفیٰ کمال اور عمران فاروق جیسے جرات رکھنے والوں کے مقابلے میں کم ہمت تصور کیا جاتا تھا، صرف رابطے کی کڑی اور کارکنوں پر غیرموثر سمجھتے ہوئے انہیں کسی اندیشے کے قابل نہ گردانا گیا۔

نو اور دس نومبر2017ءکی درمیان بھی ایک ایسی ہی رات گزری جس نے فاروق ستار کو مزید آشکار کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ اور پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین کچھ کہتے رہیں مگر کراچی کی سیاست اور اس کی پس پردہ ڈوریوں پر نظر رکھنے والے آشنا ہیں کہ فاروق ستار کے پی ایس پی سے ایم کیوایم کے اشتراک یا انضمام کا ابہام زدہ فیصلہ کہیں دور اور بہت زور سے آنے والے دباو کا نتیجہ تھا۔ لیکن جب ان کی اپنی جماعت کا جوابی دباو اور ردعمل سامنے آیا اور انھیں لگا کہ وہ تنہا کردیے گئے ہیں، تو انھوں نے بڑی زیرکی سے اس دباو کو طاقت بناکر نہ صرف اپنا فیصلہ بدل ڈالا بل کہ چند گھنٹوں میں خود کو مضبوط، حقیقی معنوں میں ایم کیوایم پاکستان کا سربراہ اور اپنی جماعت کے لیے ناگزیر بھی ثابت کر دکھایا۔ اگرچہ فاروق ستار کے مخالفین ان کے ترک سیاست وقیادت کے اعلان کو ماضی کے ڈراموں کی نقل قرار دے رہے ہیں، لیکن اس پریس کانفرنس کا پورا منظر دیکھنے والے محسوس کرسکتے ہیں کہ یہ جعلی نہیں حقیقی منظر تھا۔ بہ ہر حال وہ پارٹی پر اتنی گرفت نہیں رکھتے کہ رابطہ کمیٹی سے کارکنان تک سب ان کا حکم بجا لائیں۔ ایسا ہوتا تو فاروق ستار اور مصفطیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر راہ نما اور کارکن یوں بے دھڑک اور کھلے عام اختلاف کا اظہار نہ کرتے۔ ہوسکتا ہے فاروق ستار کے ذہن میں قیادت چھوڑنے کا فیصلہ اور اعلان کرتے ہوئے یہ بات ہو کہ پارٹی کے کارکن اور راہ نما انھیں ایسا نہیں کرنے دیں گے، مگر ایسی صورت میں بھی انھوں نے بہت بڑا خطرہ مول لیا۔

فاروق، مصطفیٰ مفاہمت کے خلاف ایم کیوایم سے اٹھنے والی آوازوں کو جماعت میں ٹوٹ پھوٹ کی ابتدا سمجھا گیا، لیکن دراصل یہ آمریت کے سائے سے نکل آنے والی ایم کیوایم کا جمہوری چہرہ تھا۔ علی الاعلان اختلاف کرنے والوں کو جان کا خطرہ نہیں تھا، انھوں نے کُھل کر مخالفانہ رائے دی اور اپنے خدشات ظاہر کیے۔ فاروق ستار نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں غداری سمیت کسی پر کوئی الزام عاید نہیں کیا۔ ان کے لہجے میں دُکھ اور شکایت ضرور تھی لیکن اشتعال نہیں تھا۔ یہ ساری صورت حال بتا رہی ہے کہ آج کی ایم کیوایم اپنی ہم عصر بہت سی جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ جمہوری اور برداشت کے رویے کی حامل ہے۔

مگر سب اچھا نہیں۔ تریاہٹ اور بالک ہٹ جیسی ضد رکھنے والے اصل حکم رانوں نے فاروق ستار اور ایم کیوایم کو ایک بار پھر مہاجر سیاست کی طرف دھکیل دیا ہے۔ مقتدر حلقوں کی ایم کیوایم پاکستان سے ”ڈو مور“ کی حُکمیہ فرمائش، شکوک وشبہات، کارکنوں سے سلوک اور پھر ان حلقوں کا کمال گردانے جانے والے پی ایس پی کے چیئرمین کی طرف سے ایم کیوایم کو دفن کردینے کی باتیں، متحدہ کے کارکنوں اور اردو بولنے والے عوام میں جو ردعمل پیدا کر رہی ہیں اس کا فائدہ صرف ایم کیوایم لندن کو ہوگا۔ فاروق ستار ایک طرف مقتدر قوتوں کے فرمائشی پروگرام اور پی ایس پی کی نوخیز ہونے کے باعث پُرجوش پاکستانیت کا مقابلہ کر رہے ہیں دوسری طرف انھیں ایم کیوایم لندن اور اس کے قائد کی انتہاپسند مہاجر سیاست کا سامنا ہے۔ ایسے میں لگتا ہے کہ اپنا ووٹ بینک بچانے کے لیے وہ پھر ”جئے مہاجر“ کے نعرے کی طرف چلے گئے ہیں۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے مہاجر کی اصطلاح کے ساتھ برادری اور طبقے جیسے الفاظ استعمال کرکے باور کرایا کہ وہ مہاجر قومیت پر اصرار نہیں کرتے، لیکن ساتھ ہی صوبے کا بے محل نعرہ لگا کر یہ بھی بتادیا کہ وہ مہاجر سیاست کی راہ پر کس حد تک جاسکتے ہیں۔ ان کی یہ زبان دوسری طرف سے ایم کیوایم کا نام بدلنے اور لفظ مہاجر کو یکسر ترک کردینے کی تکرار کا ردعمل دکھائی دیتا ہے۔ لیکن کیا یہ زبان شہری سندھ کے باسیوں کے مسائل حل کرسکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو اس برادری کے مطلوبہ حقوق میں سے کوئی ایک حق تو مل ہی گیا ہوتا، مگر مہاجر قومیت کے نعرے نے اردو بولنے والوں کے لیے حالات کو بدتر ہی کیا ہے۔ اس کے بہ جائے ایک ایسی مہاجر برادری کی بات کی جائے جو سندھ اور سندھی قومیت کا حصہ ہے تو کم ازکم سندھی بولنے والوں کے ساتھ ٹکراو سے بچا جا سکتا ہے۔ بہت سے اہل زبان سے اچھی اردو بولنے والے عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں سندھیوں سے کہا ہے کہ وہ سندھ کے اردو، پنجابی اور پشتو بولنے والوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ کسی سندھی قوم پرست راہ نما کا یہ لہجہ لائق تحسین ہے، جس کا جواب ایم کیو ایم پاکستان کو پوری خوش دلی سے دینا چاہیے، لیکن نئے صوبے کا نعرہ لگا کر ایسا کوئی تعلق استوار نہیں کیا جاسکتا جو شہری اور دیہی سندھ کو قریب لاسکے۔

کراچی میں دو روز کے دوران ہونے والے ڈرامائی واقعات اس شہر کی سیاست کو اپنا تابع رکھنے کے خواہش مند سرکاری حلقوں کے لیے یہ پیغام لائے ہیں کہ زور زبردستی اور اسکرپٹ کے ذریعے کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ کراچی کی سیاست کراچی ہی کو کرنے دیجیے، لندن سے فرمان آئیں اور ڈوریاں ہلائی جائیں یا ان کا مرکز پاکستان کا کوئی اور شہر ہو، یاد رہنا چاہیے کہ کراچی سمندر کنارے بستا ہے اور سمندر جو قبول نہیں کرتا لہروں کے ہاتھوں ساحل پر لاپٹختا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: