اقبال کی دانش اور سوز و ساز رومی : حبیبہ طلعت

1
  • 97
    Shares

یکم نومبر دانش فورم کے پہلے منعقدہ پروگرام میں محترم احمد جاوید صاحب کے اہم موضوع پر اظہار خیال سے بہرہ مند ہونے کا موقع ملا. یوں اسی ایک منفرد زاویئے پر اپنی ایک تحریر کو منطبق کرتے ہوئے قاری، اقبال کی دانش اور سوز و ساز رومی کے گداز پر استوار کرنا چاہا ہے. اگرچہ اس سے پہلے ہی فکر اقبال پر رومی کے اثرات کی بابت بہت سا تحقیقی کام بہت سے اہل علم و دانشور کر ہی چکے ہیں.


ایک علمی و ادبی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے باعث’ لب ہر آتی ہے دعا بن کے تمنا میری’ سے شروع ہونے والا ترنم کا سفر، ذوق و شوق کو نکھارتا گیا. تاہم فکر،. کسی قدر منحرف ہوتے ہوئے اقبال کے شاہین تک محدود نہ رہ سکی بلکہ بڑھتے بڑھتے طائر خیال اقبال کی دانش کے ساتھ ساتھ سوز و ساز رومی یعنی فلسفہء عشق تک پرواز سیکھ گیا. شاعری سے عشق اور اقبال کا فلسفہء عشق _ کہاں کہاں بندہ لڑکھڑا جاتا ہے اور کہاں کہاں معنی و مفہوم کا طلسم نگر۔۔۔ عشق کی تلاش و جستجو میں مضطرب دیوانے کو مست کر سکتا ہے. جب یہ سادہ کلام بھی بہت سے مفاہیم
پیش کرتا ہو.

قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنایا
راز اس کی نگاہ سے چھُپایا
بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھُلتا نہیں بھید زندگی کا
حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے

عموما شاعری کو منطق اور فلسفہ کے بالمقابل جمالیات کے اظہار تک محدود تصور کیا جاتا ہے. گویا شاعری کی صنف کسی فرد کی حسی کیفیات کا اظہار کرتی ہے. اقبال نے مروجہ اسلوب سے ھٹ کر اسے اپنے لئے کچھ مقصود رکھا اپنے افکار کی تبلیغ کے لئے بخوبی استعمال کیا_
خود اقبال کا کہنا ہے کہ
“میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا…….
فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی.
ہاں! مقاصد خاص رکھتا ہوں جن کے بیان کے لئے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کر لیا ہے ورنہ
نہ بینی خیر ارزاں مرد فرووست
کہ برہمن تہمت شعر و سخن است
اقبال

لیکن جب بھی بات ہو اقبال کے کلام یا ان کے مرشد مولانا جلال الدین رومی رح کی تو کلام کو بھی خود پر ناز ہونے لگتا ہے، جذب و جنوں، شوق آرزو، سوزو سازسے نکلا مستی اور سر مستی کا تال میل جس قدر عشق کے سروں میں ڈھال کر ایک نغمہء جاں فزا بنا دیا گیا اسی کے مضراب نے مزید کتنے ہی دلوں کو ایک نئی جستجو سے ہم آھنگ کر دیا۔۔
عشق کی گرمی سے ہے معرکہء کائنات
علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات
اقبال

اقبال نے فلسفہ تک چھان مارا اور عقل و دانش کی گتھیاں بھی سلجھائیں_ مگر اقبال کا اقبال بلند ہوا جب مکتب کی کرامت کے بعد کسی کے فیض نظر نے منتخب کر لیا_ کیا ہے یہ عشق؟ کہ ایک مرد دانا کو جنوں سے آشنا کر دیا گیا۔ ہندوستان سے اٹھا کر قونیہ کے امام عشق سے ملا دیا شہر عشق کا راستہ سجھا دیا_ وہ شہر عشق جہاں دیوانگان عشق کا قبیلہ، سبز گنبد میں مقیم سردار عشق، محبوب خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو درود وسلام و صلوة عشق پیش کرتا ہے_

اقبال نے متعدد مواقع پر خود رومی کے افکار اور اثرات سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا ہے حتی کہ خود کو مرید ہندی اور رومی کو پیر و مرشد قرار دیا ہے.

باز برخوانم ز فیضِ پیر روم
دفترِ سر بستہ اسرارِ علوم
جانِ او از شعلہ ہا سرمایہ دار
من فروغِ یک نفس مثلِ شرار
پیرِ رومی خاک را اکسیر کرد
از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد
موجم و در بحرِ او منزل کنم
تا در ِتابندہ¿ حاصل کنم
من کہ مستی ہا زصہبایش کنم
زندگانی از نفس ہائیش کنم

جیسا کہ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ ہر مہذب قوم زندگی اور اب اسکے رموز و اقاف اور جملہ امور اور کائنات کے عقدہ ہائے سربستہ کو حل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتی ہے، اسی تفکر کا نتیجہ چند خیالات یا نظریات کا مجموعہ ہوتا ہے، جو قوموں کا فلسفہ کہلاتے ہیں، بات زیست کی ہو تو روح، عقل اور اجسام کے گرد ہی مباحثے پهیلتے اور سکڑتے ہیں_ اسی روش اور سلسلے میں ہی ایک دراز قامت دو عطاؤں عشق اور عقل کی تقابلی اور باہم متصل حیثیتوں کو کلام اقبال رح کے تناظر میں جاننے کی ادنی ٰسعی رہی ہے ۔ اقبال اعلیٰ تعلیم یافتہ مفکر جنہوں نے امت کی بیماریوں کی بخوبی تشخیص کی اور مختلف فلسفہء ہائے تفکر پیش کئے ۔۔ خودی کا فلسفہ جو فرد کی شخصی تعمیر میں ایک تراش خراش کے مصداق ہے ۔۔ اقبال کا فلسفہء عشق بے حد منفرد ہے ۔۔۔مشرق و مغرب کے تمام فلاسفہ پر دسترس رکھنے کے باوجود عقل کی اجارہ داری کو متعدد مواقع پر چیلنج کرتے ہیں اور عشق کو رہرو منزل بنانے پر زور دیتے ہیں ۔۔۔۔۔

ﻣﻦ ﺑﻨﺪﮦ ﺍٓﺯﺍﺩﻡ ﻋﺸﻖ ﺍﺳﺖ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻦ
ﻋﺸﻖ ﺍﺳﺖ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻦ ﻋﻘﻞ ﺍﺳﺖ ﻏﻼﻡ ﻣﻦ

ﻣﯿﮟ ﺍٓﺯﺍﺩ ﺑﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ، ﻋﺸﻖ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻣﺎﻡ ﮨﮯ
ﻋِﺸﻖ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻣﺎﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﻞ ﻣﯿﺮﯼ ﻏُﻼﻡ ﮨﮯ

ﮨﻨﮕﺎﻣﮧٔ ﺍﯾﮟ ﻣﺤﻔﻞ ﺍﺯ ﮔﺮﺩﺵ ﺟﺎﻡ ﻣﻦ
ﺍﯾﮟ ﮐُﻮﮐﺐ ﺷﺎﻡ ﻣﻦ ﺍﯾﮟ ﻣﺎﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻦ

ﺍﺱ ﻣﺤﻔﻞ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﺎﻡ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﺵ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﻭﺭ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ

ﺟﺎﮞ ﺩﺭ ﻋﺪﻡ ﺍٓﺳﻮﺩﮦ ﺑﮯ ﺫﻭﻕ ﺗﻤﻨﺎ ﺑﻮﺩ
ﻣﺴﺘﺎﻧﮧ ﻧﻮﺍﮨﺎﺯﺩ ﺩﺭ ﺣﻠﻘﮧ ﺩﺍﻡ ﻣﻦ

ﺭﻭﺡ ﻋﺪﻡ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﺯﻭ ﻭ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﮯ ﺫﻭﻕ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ
ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺎﻟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺎﻧﮯ ﺳﺎﺯ ﻭ ﻧﻐﻤﮯ ﭼِﮭﮍﮮ

ﺍﮮ ﻋﺎﻟﻢِ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺑُﻮ ﺍﯾﮟ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﺎ ﺗﺎ ﭼﻨﺪ
ﻣﺮﮒ ﺍﺳﺖ ﺩﻭﺍﻡ ﺗﻮ ﻋﺸﻖ ﺍﺳﺖ ﺩﻭﺍﻡ ﻣﻦ

ﺍﮮ ﺟﮩﺎﻥ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻣﯿﺮﯼ ﺻُﺤﺒﺖ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ
ﺗُﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﺕ ﺍٓﺟﺎﻧﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﺑﻘﺎئے ﺩﻭﺍﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ.

پیدا بضمیرم او پنہاں بضمیرم او
ایں است مقام او دریاب مقام من

وہ میرے باطن میں پوشیدہ بھی ہے ظاہر بھی ہے
یہ تو اُس کا مقام ہے، اب میرا مقام دریافت کر

اقبال کے ہاں ، سوز و ساز رومی مسلسل گداز عشق پیش کرتا نظر آئے گا. عقل کے مقابل عشق کے جذبہ کو برتر مان لینا خود صاحب دانش پر فیضان نظر وکرم کی دلیل ہے. جبکہ اقبال اس زمانے کے مروجہ علوم سے بخوبی آشنا رہے.

کہا جاتا ہے کہ
“دنیامیں دو طرح کے شاعر ہوتے ہیں۔ پہلی قسم کے شعرا وہ ہوتے ہیں جوشاعری کے اسرار ورموز سیکھتے ہیں پھر موضوعات کی تلاش میں بھٹکتے ہیں اور بالآخر لفظوں کی تراش خراش کرکے انھیں اوزان و بحور کے تانے بانے بن کے قرطاس کی زینت بناتے ہیں اور دوسری طرح کے شاعر وہ ہوتے ہیں جنھیں ایسے کسی تردد کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔
لفظ ان کے ذہن کی سطح پر اس طرح اُترتے ہیں جیسے بارش کا پانی روانی سے آگرتا ہے ۔ ایسے شاعروں کا نام صدیوں تک زمانہ یاد رکھتا ہے ۔ بلاشبہ فارسی زبان میں جلال الدین رومی کا شمار بھی ایسے ہی شعرا میں ہوتا ہے ۔جن کا کلام سالوں کی گرد اُڑنے کے بعد بھی دھندلا نہیں ہوا بلکہ جن کے اشعار کو پڑھ کے دلوں کے آئینے شفاف تر ہوجاتے ہیں اور روحوں کی کثافتیں دور ہو جاتی ہیں ۔ مولانا رومی کا کلام شاعری کے محاسن سے پُرہے ۔ اُن کے کلام میں تغزل بھی ہے ، موسیقیت بھی، غنائیت بھی ہے اور سادگی بھی، سوزو گداز بھی ہے ، عشق کی وارفتگی بھی، داخلیت بھی ہے اور خارجیت بھی، وحدت کا اظہاربھی ہے اور عشقِ نبوی صﷺ کا پرچار بھی، لفظوں کی پُرکاری بھی ہے، لفظی صناعی بھی، پیکر تراشی کا فن بھی ہے اور حیات و کائنات کے مسائل کا بیان بھی، واقعت نگاری ہو یا قصہ گوئی ، وعظ و نصیحت ہو یا درسِ اخوت و مساوات ، ہر فن میں طاق ہیں ۔اُن کے اشعار معنویت کا گہرا دریا ہیں اور تصوف کی نئی جہتوں کے عکاس۔

اُنھوں نے تصوف کی لگی بندھی راہوں پر چلنے کی بجائے نئے خیالات کو رواج دیا۔زبان کی شستگی اور بیان کی سادگی نے انھیں اپنے دور کے شعرا میں بھی ممتاز رکھااور بعد میں آنے والے شعراء کو بھی متاثر کیا۔”

صحبتِ صالح تُرا صالح کُند
صحبتِ طالح تُرا طالح کند
دور شُو از احتلاطِ یارِ بد
یارِ بد بتر بُوَد از مارِ بد
مار بد تنہا ھ،یں برجان زند
یارِ بد برجان و بر ایمان زند
مثنوی مولانا روم

” رومی کے نزدیک اصل عشق، عشق حقیقی ہے. وہ عشق جو پائیدار ہے. اس میں نجات ہے. ظاہری حسن سے عشق میں ذلت و رسوائی ہے. مولانا روم ظاہری حسن کے مظاہر پر عشق کی نا پائیداری کا ذکر کرتے ہیں کہ
عشقہانے کر پئے رنگ و بود
عشق نبود عاقبت ننگے بود

مزید برآں مولانا رومی کے نزدیک عشق کی تشریح میں عقل ناکام رہتی ہے. عشق و عاشقی کی شرح و مفہوم خود عشق ہی بیان کر سکتا ہے. گویا اس مقام پر مولانا عقل کو عشق کے مقابلے میں محدود کم تر قرار دیتے ہیں. ان کے نزدیک عشق، عقل سے برتر ہے.”

عقل در سرحش چو خردر کل بخفت
شرح عشق و عاشقی بم عشق کفت
رومی

ہم خو گرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومی
اقبال

“اقبال نے جس قدر مولانا رومی کا اثر قبول کیا ہے ۔ اس قدر مشرق و مغرب کے کسی بھی مفکر یا شاعر کا اثر قبول نہیں کیا۔ انہیں غیر معمولی عقیدت اور داخلی ربط ہے۔ اقبال نے بال جبرائیل کی نظم مریدِ ہندی اور مرشد رومی میں خود کو مرید اور مولانا کو مرشد قرار دیا ہے۔”

اقبال اور رومی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’ اگر رومی نے اقبال کی فکر کو چار چاند لگائے ہیں تو اقبال نے بھی رومی کے افکار ِ عالیہ کو بڑی عقیدت سے دنیا میں متعارف کروایا ہے۔ اقبال نے مولانا رومی سے استفادہ ہی نہیں کیا بلکہ ایک دبستان فکر رومی کی بنیادی رکھی ۔ اقبال اور رومی کے ہاں بہت سے نظریات مشترک ہیں ۔ اقبال کا نظریہ خودی جو اقبال کے کمال کی وجہ سے اس کا اپنا بن گیا۔ اس کے بنیادی تصورات بھی رومی کے ہاں ملتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال جن کے بارے میں مولانا محمد علی جوہر نے مولانا عبدالماجد دریا ہادی کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ:
’’خدا کی رحمت ہو اقبال پر تعلیم مولانا رومی کا اتمام کر رہا ہے‘‘
ہم خو گرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے رومی
اقبال

مثنوی مولانا روم اور کلیات اقبال کے سرسری جائزے کے بعد مثلث کا تیسرا سرا یعنی فرد جو سماج میں اپنے ماحول میں جس قدر علم کی کھوج میں سرگرداں ہے اقبال کا فسلفہء عشق اس فرد کی کرداری تعمیر اور شخصیت کی استواری میں اکسیر کا کام سر انجام دے سکتا ہے. کیونکہ سماج میں علمی مواقع یا ادبی شخصیات سے مستفید ہونے کے بعد فرد. اپنی ذات کے تذکیہ کی بدولت ہی حقیقی طور سے کامیاب ہو سکتا ہے اور یہ تقویت اسے عشق ہی دے گا

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں
کبھی سوزو ساز رومی،.کبھی پیچ و تاب رازی
اقبال

اس کے علاوہ.اقبال کا مرد مومن نطشے کے فوق البشر کی طرح روحانی و اخلاقی صفات سے عاری نہیں ہے بلکہ اقبال کا مرد مومن کارگہہء حیات میں اخلاقی صفات سے متصف ہے ساتھ ہی جبر و قدر کے دقیق باب میں بھی عمل اور جہد مسلسل پر یقین رکھتا ہے. یہ جہد مسلسل جو اسے رضائے حقیقی کی تلاش میں گامزن رکھتی ہے..

اقبال کے مطابق ،جہاں عقل سے کهوج، وہاں عشق کا مروج لفظ محبت اسکی عرفہ تلاش ہے، جو بعد ازاں عقل کو کہیں لایعنی تو کہیں سربستہ تہوں کے پار دیکهنے والی عمق النظری عطا کر دیتی ہے. عقل سے اضطراب ہے_ دیگر کے ساتھ ایک مضطرب نس محبت کی، عشق حقیقی کی منازل پر معرفت کا درجہ، جو تیقن کے ساتھ عقل کی کمال جمالیت ہے کو پہنچ جاتا ہے، پھر تسلیم و رضا پر جا منتہی ہوا۔۔۔ اس سفر میں کوئی یہ کہہ کہ ;محبت ایک پل ہے تمہارے اور ہر شے کے بیچ;رومی ہوا، کوئی محبت کی عرفہ صفت اطاعت پر ابراہیم ہوا، کوئی حب دین میں ہاشمی خانوادے کا سر پیش کر کے حسین کہلایا، تو کوئی حب یار میں یار غار کہلایا_ کوئی ابن خلف کی ادنی ملکیت سے سیدنا بلال ہو گیا. اور کہیں عشق مصطفوی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اقبال مند ہوا.۔ گویا ہر ایک کی لگن، جستجو اور سوز کے مطابق مالک کی عطا اور منزلوں کا فہم و ادراک انکو لازوال بنا گیا_

عشق کا جذبہ ایک بے مول جذبہ نہیں ہے. کہ یہ کسی بھی جستجو، کام، مقصد حتی کہ خدمت کے لئے محرک بن سکتا ہے. بلند مقاصد کے لئے پرجوش و کامران رکھنے، کسی غلطی پر نادم ہونے اور رضا کے لئے مزید کوشاں ہونے پر آمادہ و مائل رکھتا ہے. جو جس قدر کندن ہوا، اسی قدر بالتوفیق و مشیت درجہ پایا، بین نوعین، ہو مجازی یا حقیقی.۔۔۔۔کہ من میں آگن لگے تو جانے حدت عشق، دل کی گداز بستی میں هو چشم تر تو جانے کسک اور احساس کی شدت حاصل ہوتی ہے جو مقصود فطرت اور رمز مسلمانی ہے_

لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہ
چھپاتے پھرتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے
نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیاء گر کی
وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے
اقبال

………………

واوین میں اخذ شدہ اقتباسات اور
حوالہ.جات؛
1- مید ہندی اور پیر رومی… از ڈاکٹر فرقان حمید
2 اقبال اور رومی…..مفتی امجد علی
3کلیات اقبال….از علامہ اقبال
4-وکی پیڈیا.

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: