پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست : واجد رضا اصفہانی

1
  • 30
    Shares

 بلی تھیلی سے باہر آگئی۔

 ایم کیو ایم ختم ہوگئی۔

مہاجر نام کی سیاست کاخاتمہ ہوگیا۔

کراچی والوں کو منزل مل گئی۔

اب کراچی خوش حالی کی جانب بڑھے گا۔

اس طرح کی کئی باتیں ہیں جو سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہی ہیں، وجہ ایم کیوایم پاکستان کے قائد فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی مشترکہ پریس کانفرنس تھی جو انہوں نے ملک و قوم کے”وسیع تر مفاد” میں کی، بظاہر تو اس پریس کانفرنس میں کراچی کے دوسابق مئیر نے ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کا اعلان کیا جس کا مقصد الیکشن 2018 میں مل کر حصہ لینا تھا، لیکن اپنے طور پر ان دونوں لیڈران نے اپنی سابقہ جماعت ایم کیو ایم کے نام سے تائب ہونے کااعلان کیا۔ مصطفیٰ کمال جو پہلے ہی ایم کیوایم کو خیر باد کہ چکے تھے پریس کانفرنس میں کمانڈنگ پوزیشن پر دکھائی دیے۔ سیاسی طور پر ان کا قد چاہے فاروق ستار سے کم ہو لیکن لگتا ہے اس بار میزبانی کے فرائض انہیں سوپنے گئے تھے۔ کل تک ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنے اور الزامات کی بھرمار کرنے والوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر عوام بھی حیران ہوئے، ذرائع بتاتے ہیں کہ سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق ہورہا ہے۔

اس پروجیکٹ پر کام برسوں سے جاری تھا اور ابھی اس پر مزید کام ہونا ہے، اس اسٹوری کو جاننے کے لیے ہمیں ماضی کے جھروکوں میں جھانکا ہوگا، آج سے تقریبا 40 برس قبل مہاجر نام پر سیاست کرنے والی طلبا تنظیم جو کچھ عرصے میں ایک منظم جماعت میں ڈھلی، اسے کامیابی کے چند برس بعد ہی نظر لگ گئی، 80 کی دہائی میں سندھ کے شہری علاقوں میں چھا جانے والی مہاجر قومی موومنٹ جب پورے ملک میں قدم جمانے کی کوشش کرنے لگی تو اس ہی وقت سے اس تنظیم کو توڑنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ 1990میں جب ایم کیو ایم کی طاقت کانشہ کنٹرول سے باہر ہونے لگا، تو اسٹیبلشمنٹ کو آفاق احمد اور عامر خان کی صورت میں دو ایسے کردار مل گئے جس سے وہ اس تنظیم میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوگئی، ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن شروع ہوااور اسے توڑنے کی پوری کوشش کی گئی، 1992 سے 1999کے دوران کراچی میں ایم کیوایم سے وابستہ افراد پر زمین تنگ کردی گئی، دوسری طرف بھی ہتھیار اٹھائے گئے نتیجہ سوائے قتل وغارت گری کے کچھ نہ نکل سکا، سینکڑوں لوگ مارے گئے، نہ کوئی ہارا نہ جیتا، بس مائوں کی گودیں اجڑ گئیں، لاشیں ملک کے کونے کونے میں گئیں یوں ایم کیوایم کے خلاف نفرت کا آغاز ہوا۔ وقت گذرا اور ملک جمہوریت سے آمریت کی آغوش میں چلاگیا، جب پوری دنیا نیو میلنئیم کا جشن منارہی تھی، ہمارے ملک میں آمریت اپنی پنجے گاڑ چکی تھی، جنرل پرویزمشرف کے دور میں ایم کیوایم کو ایک بار پھر قومی دھارے میں واپس لانے کی کوشش کی گئی، لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ ایم کیو ایم کو تقسیم کرنے کا وہ خفیہ جال تھا جس میں خود ایم کیو ایم کے رہنما اور ان کے کارکنان پھنستے چلے گئے، یہ جال 15 برس تک بچھا رہا، 1992 میں آپریشن کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو یہ سمجھ میں آگیا تھا کہ طاقت کے زور پر ایم کیوایم کو ختم نہیں کیا جا سکتا لہذا جرائم میں چھوٹ اور کرپشن پر آنکھیں بند کرکے انہیں ہر کام میں آزادی دے دی گئی۔ 12مئی کا واقعہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے، اسٹیبلیشمنٹ ان کے جرائم اور کرپشن پر ایکشن لینے کے بجائے رجسڑ کے رجسٹر بھرتی رہی، 2007سے اس میں تیزی آگئی چائنا کٹنگ سے مال بنانے کا بھرپورآغاز ہوا اور قتل و غارت گری کا بازار بھی سج گیا، بھتہ، اغوا برائے تاوان، چوری، ڈکیتی غرض جس طرح سے کراچی اور اس کے باسیوں کو لوٹا جا سکتا تھا لوٹا گیا، وکیلوں کو زندہ جلایا گیا، ایک دن میں فائرنگ سے 40 افراد تک مارے گئے بلکہ کچھ مہینے تو ایسے تھے جس میں مرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں چلی جاتی تھی لیکن کوئی آہنی ہاتھ ایکشن میں نظر نہیں آتا تھا۔

یہ وہ دور تھا جب پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم میں خوب چھنتی تھی، دونوں تنظیموں کے مسلح جتھے بے لگام ہوگئے تھے، اس زمانے میں بھی سیکیورٹی فوسرز ملک میں موجود تھیں، لیکن کوئی ان دہشت گردوں کو لگام نہیں ڈال رہا تھا، وجہ دوسیاسی جماعتوں کا گٹھ جوڑ تھا جس میں رحمان ملک پل کا کردار اداکررہے تھے، دس برس میں ایم کیو ایم کے 90 فیصد رہنما اور کارکنان جب اس گندگی میں گردن تک دھنس گئے تو پھر وہ رجسٹرز نکالے گئے جس میں ان کےجرائم کی تفصیلات نام کے ساتھ درج تھیں، ان میں بلدیہ فیکٹری میں آتش زدگی جس میں ڈھائی سو سے زائد معصوم جانیں لقمہ اجل بن گئیں جیسے واقعات اور ان میں ملوث افراد کے نام بھی تھے۔ 1992میں ناکامی کے بعد اس تنظیم پر دوسرا وار مصطفیٰ کمال کے ذریعے کیا گیا، وہی مصطفیٰ کمال جو کراچی کے جب مئیر تھے تو ان کی مرضی کے بغیر یہاں پرندہ پر نہیں مارسکتا تھا لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان سے اور دیگر رہنمائوں سے ایک دن پارٹی کے بانی ناراض ہوگئے تو 90 پر کارکنان کے ہاتھوں انہیں سرعام جوتے پڑوائے گئے، یہ بات مصطفیٰ کمال کو دل پر لگی وہ جو ایک وقت پر اس شہر کے بے تاج بادشاہ تھے وقتی طور پر تو اس بےعزتی کو پی گئے لیکن ایم کیوایم کو توڑنے کےلیے اسی وقت سے کوششیں شروع کردیں۔ مصطفیٰ کمال کو اس ہی وقت ایسٹیبلشمنٹ نے گود لے لیا، لیکن چونکہ ڈائریکٹر اسی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جو آفاق احمد اور عامر خان کو لے آیا تھا لہذا فلم میں دوسرے ہیرو کے لیے انیس قائم خانی کا کردار تخلیق کیا گیا، اس بار پارٹ 2 میں جان ڈالنے کے لیے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کو ایک واشنگ مشین دی گئی جس میں وہ کریکٹرزکو دھوکر فلم میں شامل کرتے رہتے۔ لیکن افسوس پہلی فلم کی طرح اس کا سیکوئل بھی نہ چل سکا تو اسٹیبلشمنٹ سر جوڑ کر بیٹھ گئی، تقریبا ایک برس میں سوائے چند رہنمائوں اور”مخصوص” کارکنان کو دبائو میں لے کر پی ایس پی میں دھکیلنے کے بعد بھی یہ جماعت عوام میں اپنے قدم نہ جماسکی، اور یہ پاک سرزمین پارٹی کے بجائے”پکڑ ساتھی پارٹی” بن گئی۔

اس فلم کو چلانے کے لیے آخر کار اسٹیبلشمنٹ بڑے کرداروں کو اس میں کھینچ کے لےآئی، تقریبا ایک برس قبل ان بڑے کرداروں کے رہنما فاروق ستارکو جو اسکرپٹ تھمایا گیا تھا، وہ اسے پوری طرح یاد کرکےنومبر کو کراچی پریس کلب پہنچ گئے اورپورا اسکرپٹ طوطے کی طرح رٹ دیا۔ اس اسکرپٹ سے ملتا جلتا اسکرپٹ فاررق ستار تقریبا ایک برس قبل اسی سیٹ پر پڑھ چکے تھے جہاں وہ 8 نومبر کو موجود تھے لیکن اس بار انہیں وہ حمایت حاصل نہیں تھی جو انہیں 22 اگست کو حاصل تھی، کراچی کے عوام یا سندھ کے شہری عوام جو تقریبا 30 برس سے ایک ہی جماعت کو سب سے زیادہ ووٹ دیتے ہیں وہ اب اتنے باشعور ہوگئے ہیں کہ ان کرداروں سے مرعوب نہیں ہوں گے، وہ اگلے الیکشن میں کسے ووٹ دیں یہ ابھی تک وہ طے نہیں کرسکیں ہیں، پیپلز پارٹی اور مذہبی جماعتوں کو یہ پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں، رہ گئی پاکستان تحریک انصاف تو اس کی کراچی کی قیادت شہر میں وہ قدم نہ جما سکی جس کی اسے اشد ضرورت تھی، پی ٹی آئی کا سحر عمران خان کی وجہ سے جہاں پورے پاکستان میں قائم ہے وہاں کراچی والے اتنا متاثر نہیں ہوئے ہیں، اس کی وجہ عمران خان کی خود اپنی شخصیت ہے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان دوران کرکٹ کیرئیر کراچی والوں کے دل میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے، کراچی والے آج بھی جاوید میانداد کو 280 رنز پر ناٹ آئوٹ بلانے پر انہیں معاف نہیں کرسکے ہیں، لہذا کراچی میں ایم کیو ایم کے بانی کو مائنس کرنے کے باوجود شہر قائد میں سیاسی خلا بدستور برقرار ہے۔

یہ سیاسی خلا کیسے پر ہوگا یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات کریں گے، ابھی بات کرتے اسٹیبلشمنٹ کی جو فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ ایم کیوایم کو 25 برس بعد تقسیم کرنے میں کامیاب ہوگئی لیکن پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔ 

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. جب اسٹیبلشمنٹ متحدہ کے بانی سے کھل کر بات کرے گی تو ثابت ہوجاے گا کہ الطاف حسین سے زیادہ اس ملک کا وفادار کوئ نہیں ہے ایسا کرناہوگا

Leave A Reply

%d bloggers like this: