بے عنوان: دعا عظیمی

0
  • 6
    Shares

نیلے پانیوں پہ پھیلےسبز منظر پلکوں سےجدا نہی ہوتے آنکھوں کو  سنہرے خوابوں کی تعبیریں نہی ملتیں کئ ادھوری نظموں کے عنوان نہی ہوتے حنا آفندی  نے اپنی ادھوری نظم کو پورا کیا، احتشام اس کی آواز کے سحر میں کتنی دیر تک ڈوبا رہا۔ اس کی ریشمی زلفیں پھسل کر بار بار اسکے عارض کو چھو رہی تھیں جبکہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار انہیں کسی مشتاق کھلاڑی کی طرح سمیٹ رہی تھی۔  یہ انکی دوسری ملاقات تھی جانے کیوں اسے وہ مختلف اور الگ تھلگ نظر آی جیسے زمانے کی تیزی نے اسکے نقش ونگار زخمی نہ کیے ہوں۔  اسے وہ اچھی لگی کہ واقعی اس میں اچھی لگنے والی ہر بات تھی ، وہ اپنی لکھی ہوی کسی نظم کی طرح سندر تھی، سنو کوی بات کرو خاموشی کے ایک لمبے وقفے کو توڑنے کی ہمت بالاخر اسے ایک مرد ہونے کے حوالے سے اپنی زمہ داری لگا، اسکی بات سن کر لڑکی کے ہونٹ تبسم سے بھیگ گے، پھر کچھ سوچتے ہوی بولی کیا تم نے کبھی لفطوں کو چڑیوں کی طرح محبت کے پانیوں میں نہاتے ہوے دیکھا ہے؟ لڑکے نے اپنی یاداشت پرزور ڈالا اور دلچسپی سے بولا نہی میں نے حرفوں اور لفظوں کو ہمیشہ خشک اور چپ چاپ ہی پایا لیکن مجھے لگتا ہے تمہارا مشاہدہ مجھ سے بہتر ہے میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی تمہاری طرح انکو محسوس کروں ، اچھا اس کا ایک طریقہ ہے جب تم تھک جاو تو بنسری کے سرچھیڑنا انکی لے میں کھو جانا تمہارے من مندر میں رنگ اتریں گے محبت کی کوملتا پھوٹے گی اورلفظوں کی رنگین چڑیاں اس پانی میں نہاییں گی وہ شانتی سے مسکرای اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوی  تب سے لے کےآج تک وہ  محبت کی بانسری کی لے میں رنگین چڑیوں اور محبت کی کوملتا سے پھوٹنے والے پانی کو محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا وہ لفظوں کی جادوگرنی تو پھر نہی ملی نمکین پانیوں کا حوض خوابوں میں رنگین چڑیوں کے نہانے کا منتظر تھا

اپنے والد کی بے وقت موت نے احتشام علی پر سنجیدگی کی بوجھل چادر ڈال دی تھی۔  دھوپ ان کے آنگن سے ہوتی ہوی ان کی انکھوں میں چبھنے لگی ، بیوہ ماں اورچھوٹے بہن بھایوں کی زمہ داری کا بوجھ اس نے اس جانفشانی سے نبھایا کہ اسے خود اپنی ہوش نہ رہی۔  آچانک اس شاعرہ کی بے عنوان نظموں نے اس کی خاموشیوں کو ہلایا جیسے سوے ہوےپتوں کو ہواچھیڑ دے، وہ عجیب لکھاری تھی اکثر بے عنوان نظمیں شایع کرنے کے لیے بھیج دیتی اور وہ اپنی مرضی کے عنوان دے کر انہیں اشاعت کے لیے بھیج دیتا جواب میں سلیقے سے شکریہ کا پیام مل جایا کرتا۔  مگر اب تو اس ملاقات کے بعد نہ اسکی کوی نظم موصول ہوی نہ اتہ نہ پتہ۔  اس سے پہلے بھی وہ ایک اداس شخص تھا جس کی زندگی میں بہار کبھی مہکی نہی تھی، بابا کی بے وقت موت نے اس سےخوشی کے سر تال چھین لیے تھے۔

بہت دنوں تک وہ اسکی باتوں کی پراسرارخوشبو کے جنگل میں بھیگتا رہا ،سوچتا رہا کھوجتا رہا پہلے توخوشی  کسی طلسم کی طرح سرشاری میں بدلی بہت دنوں تک کیفیت طاری رہی پھر من بوجھل ہو کے بھاری ہوگیا دوسری جانب کوی اشارہ تھا ہی نہی جیسے وجود ایک دم ٹین کے ڈبے کی طرح بےجان اورخالی ہوگیا بھک کر کے سب اڑگیا۔   ہرچیز بے مقصد اور ویران لگنے لگی رت بدلی اور شدت سے خوایش جاگی کہ قرب ہو اورخوشیوں کی پریاں اس کے اطراف رقص کریں کوی ہو جسکا لمس اسے جنت عطا کرے۔   اندر کے شور سےگھبرا کے احتشام علی کو کسی پرسکون گوشے کی تلاش ہوی اسکا دھیان بابا کی قبر کی طرف گیا اس سے پہلے بھی بارہا اسے بہت سے مسایل کا حل وہاں سے مل جایا کرتا تھا۔ اس نے بایک کا رخ قبرستان کی طرف کیا۔  زہن محبت موت ہونے اور کھونے کی گتھی سلجھانے میں محو تھا ۔ سورج غروب ہونے میں ابھی وقت تھا کہ مشک کافور اور اگر بتیوں کی مخصوص اداسی بھری باس نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔  فاتحہ پڑھنے کے بعداسے لگا کہ زندگی اور موت باہم گلے ملی ہوں اآہٹ پہ نظر اٹھی تو جھپکنا بھول گی تیسری رو میں دایں طرف کچھ فاصلے پروہی تھی سوز کی کالی چادر اوڑھے ایک  پھول سی بچی کا ہاتھ تھامے ایک قبر پر پھول بکھیرتے ہوے حنا آفندی  مجسم کھڑی تھی،انسو اسکے گالوں پہ تواتر سے بہہ رہے تھےاحتشام علی ایک غیر شعوری احساس سے مجبور اس کے قریب ہوتاگیا قبر پہ احمد آفندی  کا کتبہ تھا، اوہ اسکا مطلب حنا آفندی  کی نظموں کا عنوان کھو چکا تھا، ہمدردی کی ایک گہری لہر اٹھیی اوراسکا دل چاہا کہ اسکی بے عنوان زندگی کو اپنے نام کا عنوان دےڈالے۔ ہمدردی اور محبت کیا ایک ہی جزبے کے دو رخ ہیں احتشام علی نے سوچا نہی تھا، دونوں بہت ذورآور لگے وہ اس سمے یہاں اور رکنا نہی چاہتا تھا، مبادا وہ اے دیکھ کر خوش نہ ہو، خشک اور گیلی مٹی کی ڈھیریوں میں سوے لوگوں کو سلام کرتے وہ بیرونی دروازے سے نکل چکا تھا،سوز کے حاشیے میں نکھری زندگی اسے پیاری لگی، اس نے اہنا دل ماں کے سامنے کھول کے رکھ دیا۔ ماں کی عدت ذدہ انکھوں میں نمی اتری ، مایں اپنی اولاد کے لیےدکھ منتخب نہی کیا کرتیں اولاد کے معاملے میں ماں کے دل سے ذیادہ کون خود غرض ہو سکتا ہے، ماں کو یہ سمجھنے میں تھوڑی سی دیر لگی دکھ اورخوشی باہم مل چکی تھیں، دکھ سکھ بانٹ لینے سے دکھ سکھ کم ہو جاتے ہیں ہاں ہو جاتے ہیں ماں کی انکھوں میں ممتا کا سمندر تھا، شام کا سورج ہونٹوں پہ نیم مسکراہٹ سجاے رخصتی چاہتا تھا،

اگلے سال فلوریکلچر کے تحت گل داودی کی نمایش دیکھنے سے پہلے حناآفندی  حنا احتشام بن چکی تھی طویل نظموں کو من چاہا عنوان ملنےلگا تھا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: