تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ قسط 1

0
  • 64
    Shares

ایک عروسِ نو کی آ بلہ پائی کی سچی، خود نوشت داستان ۔۔۔۔۔ جو بہت سے نشیب و فراز سے گزر کر اب ایک ملکہ کہ طرح اپنی راجدھانی کی حکمران ہے مگر عمرِ گذشتہ کے کچھ روگ اب بھی ہمراہ ہیں جو کہانی لکھنے کا محرک بنے۔۔۔


(پہلی قسط) دلہن بننے کا خواب ہر لڑکی دیکھتی ہے اور جانے انجانے میں اس خواب کے ساتھ وہ اپنے ارمان بھی جوڑ دیتی ہے۔۔۔ آج سب ہی بہت خوش تھے گھر کا ہر فرد بڑھ چڑھ کر کام کررہا تھا کوئی مہمانوں کو بٹھارہا تھا تو کوئی کھانے کی میزوں پر برتن لگوارہا تھا بہنیں رنگ برنگے کپڑے پہنے تتلیوں کی مانند کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر جارہیں تھیں اور میں دلہن بنی سب کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ یہ میرا گھر چند لمحوں کے بعد میرا گھر نہیں رہے گا یہ سوچ بہت تکلیف دہ تھی میرے آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی امی جی کی آواز نے مجھے چونکادیا ایسا محسوس ہورہا تھا انکی آواز دور بہت دور سے آرہی ہو وہ مجھے نصیحت کررہیں تھیں کہ بیٹی اب اس گھر کو بھول جانا آج کے بعد تمھارا سسرال ہی تمھارا گھر ہوگا اس گھر میں ایک بیوہ اور یتیم بچے بھی ہیں تم نے ان کا ہر ممکن خیال رکھنا قرآن و حدیث میں انکا بہت خیال رکھنے کا حکم ہے یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گئیں۔ میں انکی نصیحت پر بہت حیران تھی پھر مجھے روتی ہوئی بہنوں نےباری باری گلے لگایا بھائی اور ماموں نے مجھے پکڑ لیا چند قدموں کے بعد اباجی نے سر پر ہاتھ رکھا اور گاڑی میں بٹھا دیا مجھے لگا کہ جیسے میرے اپنے گھر سے میرا جنازہ اُٹھ رہا ہو۔۔۔۔

میں ایک کھاتے پیتے متوسط گھرانے میں پلی بڑھی تھی گھر میں اللہ کی ہر نعمت کی فراوانی تھی اباجی منہ سے نکلی ہر بات پوری کرتے تھے جبکہ امی جی نے ہمیشہ کہا کہ بیٹی نے پرائے گھر جانا ہے لاڈ و پیار نہ ملا تو مسئلہ بن جائے گا مگر اباجی نے ہمیشہ سنی ان سنی کردی اور آج میں پرائے گھر میں دلہن بنی بیٹھی تھی ہر چیز پرائی تھی مگر اک احساس تھا کہ اب یہ میرا گھر ہے دروازے کی آہٹ سے چونکی تو اسلام علیکم کی آواز سے سمٹ کر رہ گئی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی تھی جلدی سے گھونگھٹ مزید نیچے کرلیا مجازی خدا نے جھٹ گھونگھٹ اُلٹ دیا۔ اپنے تعارف کے ساتھ ہی یہ حکم بھی صادر کردیا کہ میری بڑی بھابھی جو کہ میری ماں کی جگہ ہیں ان کا بھی خیال رکھنا آج سے تمھارا فرض ہے، مجھ سے بڑے پانچ بہن بھائی ہیں سب سے بڑے بھائی کی وفات ہوچکی ہے، بھابھی اور ایک بیٹی تین بیٹے ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں، مجھے ان سے زیادہ پیارا کوئی نہیں۔۔۔۔ ساتھ ہی انھوں نے سگریٹ کی ڈبیا نکالی اور ایک سگریٹ نکالا اُسے سلگایا اور ایک لمبا کش لیا اور میرے منہ پر چھوڑ دیا مجھے سگریٹ سے نفرت تھی اور میرے والد بھی سگریٹ سے نفرت کرتے تھے انھوں نے میری پریشانی بھانپ لی ہنس کر بولے تمھارے والد کو کہہ دیا تھا کہ سگریٹ چھوڑ دیے مگر سگریٹ بھی کسی کے چُھوٹے ہیں۔۔۔۔ مجازی خدا نے یہ کہہ کر اُٹھادیا کہ واش روم چلی جاؤ بعد میں تمھیں دقت نہ ہو جائے اور خود کمرے سے چلے گئے۔

مجھے اکیلے پن سے بہت راحت ملی کمرے کا جائزہ لینا شروع کیا تو چھت میرے سر سے ایک فٹ اونچی تھی ایک طرف کھڑا پنکھا چل رہا تھا چاروں طرف ایک ایک پردہ لگا ہوا تھا پردہ ہٹایا تو معلوم ہوا کہ یہ تو الماری بنی ہوئی ہے دوسرے پردے کے پیچھے کھڑکیاں تھی جو باہر کھلتی تھی اسی طرح تیسرا اور پھر چوتھا پردہ اُٹھایا واش روم کا کہیں نام و نشان نہیں تھا یا اللہ اب میں کیا کروں ہمت کی کمرے کے دروازے سے باہر گئی تو گیلری سی بنی دیکھی مگر پھر وہی ناکامی۔۔۔۔ نیچے صحن میں چارپائیاں ہی چارپائیاں بچھی تھیں کسی بچے نے مجھے دیکھ لیا ساتھ ہی شور مچادیا کہ چچی اُٹھ گئیں چچی اُٹھ گئیں۔ چند لمحے میں کوئی درجن بھر بچے میرے ارد گرد تھے مجبوراً مجھے ان سے پوچھنا پڑا کہ واش روم کہاں ہے میرے سوال پر وہ ہنسنے لگے مجھے لگا جیسے میں نے انھیں کوئی لطیفہ سنا دیا ہو اتنے میں میری نند آگئی سلام و دعا کے بعد اپنی پریشانی چھپاتے ہوئے واش روم کا پوچھا تو وہ بھی ہنسنے لگیں اب میرا صبر لبریز ہورہا تھا کہ مجازی خدا آگئے انھوں نے سب کو جانے کا کہا اور ساتھ ہی پوچھا واش روم سے فارغ ہوگئی ہو میں نے کہا مجھے تو واش روم ملا ہی نہیں، مختصر یہ کہ تین منزلہ عمارت میں ایک واش روم تھا، واش روم کے باہر ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی مجھے دیکھ کر میرا پہلا نمبر لگادیا۔ واش روم کیا تھا ایک بالٹی اور انڈین فلش تھا مگر فلش سسٹم اور شاور کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ نہاتے وقت پانی کم اور میرے آنسو زیادہ تھے اُس وقت میرے دل و دماغ میں ایک بات بیٹھ گئی تھی کہ ماں باپ نے اپنا بوجھ اُتار پھینکا ہے اب یہیں جینا اور مرنا ہے ساتھ ہی یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جو جہیز دیا ہے وہ مجھے خوش کرنے کے لیے دیا ہے یا سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے دیا۔ خیر جب کمرے میں آئی تو ایک لڑکی میرے انتظار میں تھی اس نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ بڑے بھائی جو کہ فوت ہوچکے ہیں انکی بیٹی ہے وہ بچی مجھ سے صرف دو سال چھوٹی تھی مجھے وہ بچی بہت اچھی لگی۔

نہاتے وقت پانی کم اور میرے آنسو زیادہ تھے اُس وقت میرے دل و دماغ میں ایک بات بیٹھ گئی تھی کہ ماں باپ نے اپنا بوجھ اُتار پھینکا ہے اب یہیں جینا اور مرنا ہے۔

ولیمے کے بعد جب میرے گھر والے ہمیں اپنے گھر لیجانے لگے تو معلوم ہوا کہ مجازی خدا کے پاس گاڑی ہے نا بائیک۔۔۔۔۔جب کہ ماں باپ کے گھر امی کی مرسڈیز اور اباجی کی سنی اور بھائیوں کے پاس الگ الگ گاڑیاں تھیں۔۔۔۔ چند دن کے بعد ہی حکم صادر ہوا اب چھت پر سونا ہے پیٹی سے بستر وغیرہ نکال لینا اُس وقت امی جی کا کہا یاد آیا جب میں نے امی کو کہا تھا کہ یہ روئی کے گدیلے اور دریاں کیوں رکھ رہیں ہیں۔ کہنے لگیں تمھیں نہیں معلوم ضرورت پڑ جاتی ہے امی نے یہ نہیں بتایا کہ بیٹی وہاں اے سی نہیں ہوگا چھت پر سونا پڑے گا سچ پوچھیں تو تارے گنتے گنتے صبح ہوجاتی تھی مگر نیند نہ آتی کھلے آسمان میں سونے کا تجربہ کبھی نہیں کیا تھا اگر تجربہ ہوتا تو شائید۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ماحول کا فرق ایسا تھا جیسے زمین اور آسمان کا فرق ہو مگر پھر بھی سوچ لیا تھا کہ اب ساس سسر اور سسرال ہی میرا گھر ہے میرا مجازی خدا ہی میرے لیے سب کچھ ہے مجازی خدا مجھ سے دس سال بڑے تھے غصے کے تیز تھے ذرا سی بات پر عینک اُتارکر دیکھتے تو میرے جسم کا خون جمنے لگتا ٹانگیں کانپنے لگتیں۔۔۔ ہر وقت ان کو خوش کرنے کی ترکیبیں سوچتی رہتی بیکنگ سے لیکر طرح طرح کے کھانے اور سویٹ ڈشز بنائیں مگر بے سود کسی طرح بھی خوش نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔ کپڑے دھونا کھانا بنانا سسر جی کو وضو کرانے سے لیکر ساس صاحبہ کی چٹیا بنانے کی ذمہ داری میری ہی تھی بڑی بھابھی میرے میاں سے دس سال بڑی تھیں سب پر رعب تھا میری تو مجال نہیں تھی کہ انکی بات کو نا مانوں۔ میرا ہر نیا کپڑا بھابھی یا انکی بیٹی پہنتی بعد میں میں پہنتی تھی۔ جب میں سوچتی کہ اللہ پاک ثواب دے گا تو مجھے بہت خوشی ہوتی تھی۔

جاری ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: