بس محلّے میں رہنا سیکھ لیجیے! محمد عثمان جامعی

0
  • 31
    Shares

کہتے ہیں ”کَل کا مورخ لکھے گا“ اور پھر اپنی رائے کل کے مفروضہ مورخ پر تھوپ دی جاتی ہے۔ ویسے ماضی کے مورخ کون سا قابل اعتبار تھے کہ مستقبل کے مورخ سے پورے سچ کی امید باندھی جائے، اور پھر کیا وہ ہمیں اس قابل بھی سمجھے گا کہ ہم پر غور کرے اور لکھے؟ البتہ ہمیں یہ خدشہ ضرور ہے کہ اگلی صدی کا مورخ اور محقق پاکستان کی بابت پورے یقین نہیں تو شک وشبہے کے ساتھ یہ ضرور تحریر کرے گا کہ اس ملک میں سنی شیعہ فرقوں، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مسالک، اور مذہبی اور سیکولر لبرل مکاتب فکر کی پیدائش سماجی میڈیا پر ہوئی، یہ اسی ڈیجیٹل دنیا میں پروان چڑھے اور یہیں جنگ وجدال اور جہاد میں مصروف ہوکر اپنے اپنے عقیدے اور نظریے کی ”خدمت“ کرتے رہے۔

میں یہ بات ازراہِ تفنن یا بہ طور طنز نہیں کہہ رہا۔ موبائل فون اور کمپیوٹر کے حرفی سانچوں پر کھٹ کھٹ کرتی اور دھیمی سی سرسراہٹ کے ساتھ چلتی تیرتی انگلیاں انٹرنیٹ کے افق پر جو لفظ اچھالتی ہیں وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ آپ کسی ماہر سے رابطہ کرکے سماجی رابطوں کی سائٹس پر بہ ظاہر مٹادیا جانے والا اپنا ہر عکس، سطر اور پیغام بازیافت کرسکتے ہیں۔ کتاب، اخبار، رسالے یہ کاغذی پیکر تو بس ایک چنگاری کی مار ہیں، وڈیو اور آڈیو کیسٹس، سی ڈیز، یوایس بیایک پَل میں آگ اور پانی کا نوالہ بن سکتی ہیں، جسے بڑے مان اور ناز سے نوشتہ دیوار کہا جاتا ہے، وہ کوچی کے ایک پھیرے سے سفیدی اور سیاہی میں ہمیشہ کے لیے نابود ہوجاتا ہے یا دیوار کی خستگی کا شکار، لیکن انٹرنیٹ وہ بلا ہے جس کی پہنچ سمت ہی نہیں وقت کے فاصلوں میں بھی بہت دور تک ہے۔ ایسے میں مستقبل کے تاریخ داں کے لیے ماضی کی دریافت کا موثر ترین ذریعہ یہی شعبہ ابلاغ ہوگا، خاص کر پاکستان، جہاں کاغذ اپنی وقت اور اہمیت تیزی سے کھو رہا ہے، تصانیف پرانی کتابوں کے بازاروں کے لیے لکھی جارہی ہیں اور اخبار عارضی دسترخوان بنانے کے لیے چھاپے جا رہے ہیں، کی تاریخ اور حقائق شاید اسی وسیلے سے سفر کرسکیں، امکان یا اندیشہ ہے ہمارا چہرہ اور ہماری زندگی کی کتاب فیس بک بنے گی۔

اب کَل کی نسلیں کیسے جانیں گی کہ یہ پاکستانیوں کا اصل چہرہ نہیں، یہ ان کی سچی کہانی نہیں۔
یہ فرقے، مسالک، مکاتب پہلے بھی تھے، فکر اور عقیدے کے اختلافات صدیوں کا سفر کرکے ہم تک پہنچے ہیں، سیکڑوں صفحات کی کتابیں ایک دوسرے کے رد میں لکھی گئیں، کتابچوں میں مخالف عقیدے پر سوال اٹھائے گئے، مناظروں کے دنگل ہوتے رہے، مساجد اور امام بارگاہوں کے لاو¿ڈاسپیکر تندوتیز لہجے میں طنز، اشارے، کنائے کی تلخ زبان سے فضا کو آلودہ کرتے رہے، لیکن ہمارے گاو¿ں، قصبے اور شہر کچھ افسوس ناک واقعات سے قطع نظر میدان جنگ نہ بن سکے۔

اتنی آتش بازی اور اتنا تیل مل کر بھی آگ نہ لگاسکے تو اس کی وجہ بس اتنی ہے کہ گلی محلوں کی سماجی زندگی نے ہمیں ساتھ رہنا سکھا دیا تھا۔ دیواریں کفر اور کافر کے نعروں سے سیاہ ہوگئیں، ایک دوسرے کی مخالفت میں بلند آہنگ نعروں سے آسمان میں شگاف پڑ گیا، بہت آگ لگی، بہت خون بہا، لیکن محلوں کی زندگی کا آہنگ برقرار رہا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی کسی کو سر راہ روک کر اسے اس کے فرقے کی کسی کتاب میں لکھی کوئی قابل اعتراض عبارت دکھا رہا ہو، نہ یوں ہوا کہ کسی کے دروازے پر جاکر اس کے مسلک پر اعتراضات کے تیر برسائے جارہے ہوں۔ ان گلیوں میں سیکولر مذہب سے بے نیازی کے ساتھ جیتے رہے، اور مذہبی رجحان کے حامل فکر آخرت میں مگن زندگی کرتے رہے۔ مذہب اور نظریے کی بحثیں چائے خانوں اور ڈرائنگ رومز میں چائے کی پیالی کی طرح گرم سے ٹھنڈی ہوکر بھاپ بنی اُڑتی رہیں۔ چہرے سُرخ ضرور ہوئے لیکن صورت حال لُہو کی سُرخی میں نہ ڈھلی۔ واضح کردوں کہ میں بات پاکستانی سماج اور عام آدمی کی کر رہا ہوں، شمار میں صفر کی تعداد بھی نہ رکھنے والے ان افراد اور تنظیموں کا ذکر نہیں جن کی سیاست، معیشت اور عقیدت کا محور تشدد اور فرقہ بازی ہے۔

آج بھی ایسا ہی ہے۔ ان گلی محلوں چوک چوباروں پر آپ کو مذہب، فرقے، نظریے کے نام پر شاذ ہی کوئی تصادم یا ٹکراو دیکھنے کو ملے گا کہ طاق طاق رواداری اور باہمی احترام کے چراغ روشن ہیں۔ ان رویوں نے لحاظ، مروت، باہمی شناسائی سے جنم لیا اور ذاتی تعلقات کی گود میں پروان چڑھے۔ ادھر سماجی میڈیا دوستی کے نام پر اجنبیت اور ناآشنائی کی دنیا ہے۔ سو ایک دوسرے کے جذبات کی پروا کیوں ہو۔ آزادی اظہار کے نام پر اپنے اپنے سچ کی قے کرتے رہیے اور ماحول میں بساند بھرتے رہیے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس قربت کا ذریعہ ہیں، تعلقات کی ڈور ہیں، لیکن ہم نے انھیں نفرت اور تعصب کی توپوں میں بدل ڈالا ہے۔ کاش ہم ان سائٹس کو بھی گلی محلہ جانیں اور یہاں بسنے والوں کو اپنا سمجھیں۔ یہ اپنائیت ہی رویوں میں اعتدال اور توازن لاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: