سعودی عرب: کیا ہورہا ہے: چوہدری بابر عباس

6
  • 37
    Shares

“قومیں کیوں ناکام ہوتی” ہیں کے مصنف دیرون اسیم اوگلو اینڈ جیمز اے رابنسن 2012 میں انکی پبلش ہونے والی اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں۔

اس وقت جب ہم یہ پیش لفظ لکھ رہے ہیں، شمالی افریقہ اور مشرق وسطی اس انقلاب نسیم کہلانے والی “عرب بہار” سے ہل کر رہ گئے ہیں۔ جس کو بنیادی شعلہ 17 دسمبر 2010 کو ایک چھابڑی والے، محمد ابو عزیزی کی خود کشی پر عوامی غم و غصے سے ملا۔14 جنوری 2011 تک صدر زین العابدین بن علی، جو 1987 سے تیونس پر حکومت کر رہا تھا،تخت سے اتر چکا تھا۔کے باوجود تیونس میں مراعات یافتہ طبقہء علیا کے خلاف عوام کا انقلابی جذبہ شدید سے شدید تر ہوتا جارہا تھا، جو محض تیونس کی سرحدوں تک محدود نہ رہا بلکہ دوسرے مشرق وسطی کے ممالک تک پھیل چکا تھا۔ وہ حسنی مبارک جس نے تیس سال تک ایک مضبوط گرفت کے ساتھ مصر پر حکومت کی تھی، 11 فروری 2011 کو نکالا جا چکا تھا۔ معلوم نہیں جب تک ہم اس پیش لفظ کو مکمل کریں گے، بحرین، لیبیا، شام اور یمنی حکومتوں کا انجام کیا ہو گا۔

رٹز کارلٹن ہو ٹل ریاض میں ہونے والی نظر بندیاں، چار نومبر کا دن سعودی تاریخ میں اہم اور ہنگامہ خیز دن کے طور پر لکھا جائے گا۔ اس روز مملکت کے فرمانروا شاہ سلیمان نے ولی عہد محمد بن سلیمان کی سربراہی میں ایک اینٹی کرپشن کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔جسکے فورا بعد اسی دن ہی ملک کی بہت سی اعلی شاہی،سیاسی اور تجارتی شخصیات کی ہنگامی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ اب تک کی ان گرفتاریوں میں گیارہ شخصیات جو کہ اعلی اور اہم حکومتی عہدوں پر فائز تھیں کا تعلق شاہی خاندان سے ہے۔ اڑتیس کا رتبہ وزیر اور نائب وزیر کا ہے،کے علاوہ ہائی پروفایئلڈ بزنس ٹایکونز شامل ہیں۔

شاہی خاندان میں سب سے اہم شخصیات جنکی گرفتاریاں عمل میں لائ گئیں ان میں، شہزادہ متعب بن عبداللہ کی ہے جو سعودی آرمی (نیشنل گارڈ ) کے وزیر تھے،جو خود سعودی آرمی میں کیپٹن کی حثیت سے شامل ہو کر جنرل کے عہدے تک گئے۔جنکو مستقبل کے کاروبار حکومت میں اہم ذمہ داریوں کے لیے تیار کیا گیا تھا۔مگر اپنے والد عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد وہ اس وزارت تک محدود رہ گئے۔ سعودی آرمی کی تربیت و ترقی میں امیر متعب بن عبداللہ کا بہت اہم کردار ہے۔ ولی العہد امیر محمد بن سلمان کی سربراہی میں جاری اینٹی کرپشن مہم میں ان پر کرپشن کے حوالے سے غبن،گھوسٹ ملازمتیں دینے، اختیار کا ناجائز استعمال اور معاون فوجی سازوسامان کی تیاری کے لیے اپنی کمپنیز کو ٹھیکے دینے، جن میں بلخصوص سعودی افواج کو واکی ٹاکییز کی فراہمی اور بلٹ پروف فوجی گئیرز وغیرہ کی تیاری جنکی مالیت دس بلین ڈالرز ہے، کا الزام ہے۔ پرنس الولید بن طلال فورسیزن جارج فور پیرس ہو ٹل اور کنگڈم ہولڈنگ کمپنی کے پچانوے فیصد کے مالک جو صرف سعودی عرب کے اندر ہی نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ میں بھی ایک طاقتور اور با اثر بزنس ٹائیکون شخصیت ہیں ولی العہد محمد بن سلیمان کے ساتھ ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی ایک سخت ناقد ہیں۔پر رشوت،منی لانڈرنگ اور اثرو رسوخ کا ناجائز استعمال کے الزامات ہیں۔ سعودی عرب کے سب سے بڑے صوبے اور دار الحکومت ریاض کے سابق گورنر امیر ترکی بن عبداللہ جیٹ پائیلٹ اور رائل ائیر فورس میں سابق گروپ کیپٹن جن پر الزام ہے کہ ریاض میٹرو پراجکٹ میں بھاری خرد برد میں ملوث ہیں، شامل ہیں۔

عادل الفقیہ پہلے لیبر منسٹر اور پھر وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی جنکا نام گزشتہ دوسال سے ہر خاص و عام کی زبان پر رہا ہے۔موجودہ ثمر آور معاشی اور لیبر پالیسیوں کے یہ بڑے ماخذ ہیں۔فنانس منسٹر ابراہیم العساف جن پر حرم الشریف مکی کے توسیع منصوبے میں غبن اور اپنی حثیت اور اختیار کے بل پر زمینوں کی ارزاں قیمت پر خریداری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کے علاوہ نیول چیف ایڈمرل عبداللہ سلیمان کو اپنوں عہدوں سے معزول کر کے ملکی تاریخ میں چلنے والی اس پہلی اینٹی کرپشن مہم میں گرفتار کیا گیا ہے۔بن لادن گروپ آف کمپنیز کے سربراہ بکر بن لادن جن کے بارے کہا گیا ہے جدہ میں حکومتی عہدے داروں اور اداروں پر وہ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ حکومتی معاملات میں آڑے آ تے رہے ہیں، جدہ کے اصل حاکم بن چکے ہیں۔ سعودیہ ایتھوپیا اور سویڈن میں پھیلے زراعت اور تونائ کے شعبے کے تاجر محمد العمودی اور MBC سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو متعارف کروانے والے ایک بڑے میڈیا ہاوس کے مالک ولید ابرہیم جو منہ زور قطری چینل الجزیرہ اور سی این این کے مقابلے پر اپنی نوعیت کے واحد سعودی چینل العربیہ کے بھی مالک ہیں۔علاوہ دیگر یہ چند سرکردہ شخصیات ہیں جنکی گرفتاریاں عمل میں لائ گئیں۔

جنگوں کا آغاز تو اپنی مرضی سے ہوتا ہے مگر انکا خاتمہ وقت کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جنگیں ماضی کی ہوں یا آج کی یہ ملکی خزانے پر ہمیشہ ایک بھاری بوجھ ثابت ہوئی ہیں۔وہ سپر پاور جو خود کو کسی ضابطے کی پابند نہیں سمجھتی دنیا کے وسائل تک اسکی رسائی میں کچھ آڑے نہیں اور اسلحہ اور منشیات کے غیر قانونی کاروبار تک کو قومی دفاع اور تحفظ کے لئے جائز کر لیتی ہے۔امریکہ کو اس وقت افغانستان اور اعراق میں چیتھڑے اڑی پوشاک سے اپنی عالمی کھڑپینچی کے ستر کو ڈھانپنا مشکل ہو رہا ہے اور دو دہائیوں کو پہنچنے والی افغان جنگ میں ناکامی سے منہ چھپاتا حیلے بہانوں کی تلاش میں سر گرداں ہے۔

یمن تنازعہ ایسا ہی تھا جیسا اگر آج قابل حل افغانستان پر چڑھ دوڑیں تو جانیے اس کے کیا نتائج برآمد ہو نگے، اور ہمیں کونکر اسے انڈر ایسٹیمیٹ کر نا چاہیے کہ جواب ہمیں افغانستان نے نہیں بلکہ افغانستان میں بیٹھی پراکسی طاقتوں نے دینا ہے۔
یمن کا معاملہ کیونکر مذاکرات کی میز پر حل نہ ہو سکتا تھا ؟ اگرچہ جدید ترین ٹیکنولوجی سے لیس سعودی فورس پہلے مکہ المکرمہ اور چند دن پہلے ریاض ائیر پورٹ پر کیے گئے دونوں حملے ناکام بنا دیئے ہیں۔ مگر نتیجتہً آج ان غیر رسمی جنگجو قبائل کے ہاتھ بلیسٹک مزائل تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ انتہائ تشویش ناک بات ہے۔پہلے عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئ قیمتیں اور پھر اس جنگ کا طویل ہوتا دورانیہ ملکی معیشت پر ایک بھاری بوجھ ثابت ہو رہا ہے؟ اللہ ارض مقدسہ کی حفاظت فرمائے۔ جنوبی محاز پر خانہ جنگی،شام میں روس اور ایران اتحاد کے مقابلے پر امریکہ کے اس جنگ میں اتحادی ہونا، قطر جیسے اہم خلیجی ملک کے ساتھ کشیدگی۔۔۔ سفارتی محاذ جنگی محاذ سے کہیں اہم ہے۔

شہزادہ سلیمان بن محمد بہر حال کراون پرنس بن کئے۔اب انکو ملک کے اندر اور باہر بڑے کٹھن چیلینجیز درپیش ہیں جن سے انکو نبرد آزما ہونا ہے۔جس میں ہچکولے کھاتی ملکی معیشت، سرحدوں پر جاری پراکسی طاقتوں سے جنگ،عرب دنیا کی تقسیم اور کشیدگیاں اور حکومتی ایوانوں جاری کشمکش سر فہرست ہیں۔ایسے میں ہم ولی عہد محمد بن سلیمان کی نیک نیتی پر شک نہیں کرتے۔ملکی عدالتی نظام بھی اپنی ایک اچھی ساکھ رکھتا ہے۔ جسکو ہمارے ہاں کی طرح درجنوں اداروں کی تفتیش و تحقیق اور بیسیوں کمیشنز اور کمیٹیوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم گزشتہ ماہ ایک شہزادے ترکی بن سعود کے ہاتھوں قتل ہو جانے پر قصاص میں شہزادے کا سرقلم کر دیا گیا تھا، مقابلتاً چار نومبر واقعات کے ایک بہت ہی سادہ قضیہ تھا۔

چار نومبر کے واقعات ملک کی بنیادوں کو ہلا دینے والے واقعات ہیں۔ جن میں فریق ملک کی با اثر ترین اور انتہائ طاقتور شخصیات ہیں۔ولید بن طلال جیسی 17 بلین کے ظاہری اساسوں کے مالک بزبس مین، امیر متعب بن عبداللہ دفاعی نظام میں اپنی مضبوط جڑیں رکھنے والے، طاقتور میڈیا ہاوس کے مالک ولید ابراہیم،اور بن لادن گروپ کے سربراہ بکر بن لادن،نہ صرف ملک کے میگا تعمیراتی پرجکٹس بلکہ حرمین شریفین کی توسیع اور مینٹیننس بھی بن لادن گروپ کے بغیر ایک مشکل ترین ٹاسک ہے۔بے شک نظام کی شفافیت کسی بھی ریاست کے اداروں اور حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اور احتساب ضرور ہو نا چاہیے، اس امید کے ساتھ کہ”شفافیت اور سفاکیت کے درمیان پردہ سخت مضبوط رہے گا “۔ “ملوکیت کی چھتری تلے جمہوریت” مملکت کے نظام حکومت کی ایک معروف توجہیہ پیش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے ان تمام درپیش نا مساعد حالات میں کیا نوجوان محمد بن سلیمان مملکت کو ایک ماڈریٹ اسلامی ریاست جہاں کوئ بھی قانون سے افضل نہیں وہ امیر ہو یا وزیر، کا جو مشن لے کر چل رہے ہیں،ایک پولیس سٹیٹ سے عام آدمی کو سیاسی حقوق دلاواتے ہوئے ریاست میں ہاوس آف سعود کو واقعی ایک ہاوس آف کامنز تک لے آئیں گے؟ارض مقدسہ اس بلد الامین کی اللہ حفاظت فرمائے۔

پروفیسر دیرون اسیم اوگلو اور جیمز اے رابنسن کا پیش لفظ تو ختم ہو گیا مگر،بات بحرین،لیبیا،شام اور یمن سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔۔۔۔۔۔!

Leave a Reply

6 تبصرے

  1. جنگوں کا آغاز تو اپنی مرضی سے ہوتا ہے مگر انکا خاتمہ وقت کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔۔

  2. بابر صاھب بہت عمدہ…آپ نےکوزے میں جیسے دریا کو بند کر دیا ہے.یہ وہ سچے اور تلخ حقائق ہیں جن سے قوموں کی تباہی کا سفر شروع ہوتا ہے..

Leave A Reply

%d bloggers like this: