ترکی میری نظر سے: عمار یاسر (قسط 3)

1
  • 43
    Shares

“توپ کاپی” میوزیم سے نکل کر بلیو ماسک کی جانب چلے تو پاس میں ہی ایک مسجد تھی، بلیو ماسک اور اس مسجد میں بیک وقت اذان ہورہی تھی، طریقہ یہ تھا کہ پہلے بلیو ماسک سے اذان کا کلمہ بلند ہوتا اور اس کے بعد اس قریبی مسجد سے وہی کلمہ دہرایا جاتا۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا جو دیکھنے میں آرہا تھا۔

چونکہ استنبول کو مساجد کا شہر بھی کہا جاتا ہے اور ان میں سے کچھ مساجد آمنے سامنے یا بہت کم فاصلے پر واقع ہیں۔ ایسی مساجد کی اذان میں تداخل نہ ہو، لہذا وہاں اذانِ دوگانہ یا مقامی زبان میں جفت اذان کی روایت جاری ہے۔اس میں یہ ہوتا ہے کہ ایک مسجد کا مؤذن اذان کا کوئی کلمہ ادا کرتا ہے، اور جیسے ہی وہ خاموش ہوتا ہے اُس کے مقابل کی مسجد کا مؤذن اُسی کلمے کو دہراتا ہے۔ اس طرح بغیر تداخل کے دونوں قریبی مساجد کی اذانیں روانی سے ہو جاتی ہیں۔ لیکن اس طرح کی اذان نسبتاً طویل اور اوسطاً آٹھ سے دس منٹوں پر محیط ہوتی ہے۔

مسجد کے بیرونی احاطے کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوں تو اندرونی احاطے میں داخل ہونے سے پہلے بائیں جانب وضو گاہ اور عقبی طرف بیت الخلاء بنائے گئے ہیں۔

“جامع مسجد سلطان احمد “: (Sultanahmet Camii) فن معماری کی شاندار مثال سترہویں صدی کے اوائل میں عثمانی خلیفہ احمد اول کے حکم پر معمار “محمد آغا” نے تعمیر کی تھی۔ اسے بیرونی دیواروں کے نیلے رنگ کے باعث نیلی مسجد کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سلطان محمد فاتح کی تعمیر کردہ اصلی مسجد 1509ء کے زلزلے میں بری طرح متاثر ہوئی جس کے بعد اسے مرمت کے مراحل سے گزارا گیا۔ 1557ء اور 1754ءکے زلزلوں نے ایک مرتبہ پھر مسجد کو متاثر کیا اور دوبارہ اس کی مرمت کی گئی۔ لیکن 22 مئی 1766ء کو آنے والے زلزلے میں یہ مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اس کا مرکزی گنبد گر گیا اور دیواروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ موجودہ مسجد سلطان مصطفیٰ ثالث کے حکم پر 1771ء میں تعمیر کی گئی جو قدیم مسجد سے بالکل مختلف انداز میں تعمیر کی گئی۔ مسجد کا صحن، مرکزی داخلی دروازہ اور میناروں کے نچلے حصے ہی اولین تعمیرات کا حصہ ہیں جن پر 1771ء میں دوبارہ مسجد تعمیر کی گئی۔

مسجد کے باغ میں سلطان محمد فاتح اور ان کی اہلیہ گل بہار خاتون کی قبریں ہیں۔ ان دونوں کی تربت کو بھی زلزلے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ ان دونوں کے علاوہ مسجد کے احاطے میں سلطان محمد فاتح کی والدہ نقشِ دل سلطانہ کی قبر بھی موجود ہے جبکہ کئی سرکاری عہدیداروں کی قبریں بھی یہیں ہیں۔

یہ ترکی کی واحد مسجد ہے جس کے چھ مینار ہیں۔ جب تعمیر مکمل ہونے پر سلطان کو اس کا علم ہوا تو اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ اُس وقت صرف مسجد حرام کے میناروں کی تعداد چھ تھی لیکن کیونکہ مسجد کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اس لیے مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ مسجد حرام میں ایک مینار کا اضافہ کرکے اُس کے میناروں کی تعداد سات کر دی گئی۔ مسجد کے مرکزی کمرے پر کئی گنبد ہیں جن کے درمیان میں مرکزی گنبد واقع ہے جس کا قطر 33 میٹر اور بلندی 43 میٹر ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے میں زیریں دیواروں کو ہاتھوں سے تیار کردہ 20 ہزار ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے جو ازنک میں تیار کی گئیں۔ دیوار کے بالائی حصوں پر رنگ کیا گیا ہے۔ مسجد میں شیشے کی 200 سے زائد کھڑکیاں موجود ہیں تاکہ قدرتی روشنی اور ہوا کا گذر رہے۔ مسجد کے اندر اپنے وقت کے عظیم ترین خطاط سید قاسم غباری نے قرآن مجید کی آیات کی خطاطی کی) سید قاسم غباری دیاربکری عثمانی خطاط تھے۔ سید قاسم کا تعلق دیار بکر سے تھا۔ سید قاسم کی خطاطی سوائے سلطان احمد مسجد کے کہیں اور محفوظ نہیں رہ سکی)۔ مسجد کے طرز تعمیر کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ نماز جمعہ کے موقع پر جب امام خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو مسجد کے ہر کونے اور ہر جگہ سے امام کو با آسانی دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ مسجد کے ہر مینار پر تین چھجے ہیں اور کچھ عرصہ قبل تک مؤذن اس مینار پر چڑھ کر پانچوں وقت نماز کے لیے اہل ایمان کو پکارتے تھے۔ آج کل اس کی جگہ جدید صوتی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔

مسجد کے مرکزی ہال کے عقبی حصے میں دونوں جانب خواتین کے نماز پڑھنے کے لیے حصہ رکھا گیا ہے۔ ایک خاص حد سے آگے خواتین کا جانا ممنوع ہے۔

مسجد سے نکلے تو ظہرانے کے لیے ایمی نونو کے علاقے میں عمر فاروق بھائی کے پسندیدہ ریستوران کی جانب چل دیے۔ بھوک کی شدت کی وجہ سے آیا صوفیہ بھی نہ دیکھا کہ پہلے کچھ کھا لیا جائے۔ ایمی نونو کا علاقہ سلطان احمد سے تقریباً 2 کلومیٹر کی مسافت پر ہے جو ہم نے گپ شپ کرتے،راہ چلتے لوگوں میں ایک پاکستانی سے ملاقات کرتے عبور کیا۔ میرے لیے یہ پہلا باقاعدہ “ترکش کھانا” تھا، مختلف کھانے منگوانے کی بجائے ہم نے “پلیٹر” منگوالیا جس میں اوپر 4 کاغذی روٹیاں اور اس کے نیچے کباب،چکن اور بیف کے ٹکڑے، بینگن کے قتلے، زیتون کے تیل لگے نان کے ٹکڑے، ٹماٹر اور سلاد، پنیر اور دہی شامل تھی جبکہ خلاف توقع نچلی تہہ جو کہ چاول کی ہونی چاہیے تھی، وہ ماش کی دال کی تھی۔ کھانے کے ساتھ پورا انصاف کرنے کے بعد باسفورس کی سیر کے لیے ایمی نونو کے ہی علاقے میں سمندر کی جانب پہنچے۔

کنارے پر ایک “کروز” لگا ہوا تھا جس میں 12 لیرا کے عوض بیٹھنے کی دعوت دی جا رہی تھی۔ “کروز” پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ باسفورس کی سیر کروائی جاتی ہے۔ دو منزلہ کروز کا نچلے حصے میں اطراف میں شیشے لگا کر بند کردیا گیا تھا تاکہ سرد موسم یا بارش میں محفوظ رہا جاسکے، جبکہ اوپری منزل بنا چھت کے تھی اور کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ ہم جب کروز پر سوار ہوئے تو ٹھنڈی ہوا اور بارش دونوں میں تیزی آگئی تھی، لیکن کچھ ہی دیر بعد جب بارش کا زور ٹوٹا تو میں اوپر چلا گیا۔ ٹھنڈا موسم، خوبصورت لوگوں کے سنگ، آبنائے فاسفورس کا سحر، کناروں پر بنی عمارات کی خوبصورتی،سرسبز و شاداب درختوں سے گھری پہاڑیاں، اس سب نے ایک وجد کی سی کیفیت طاری کی ہوئے تھی۔

باسفورس ایک آبنائے ہے جو ترکی کے یورپی حصے “رومیلیا“اور ایشیائی حصے” اناطولیہ ” کو جدا کرکے یورپ اور ایشیا کے درمیان سرحد قائم کرتی ہے۔ اس آبنائے کوآبنائے استنبول بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لئے استعمال ہونے والی دنیا کی سب سے تنگ آبنائے ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ مرمرہ سے ملاتی ہے۔

آبنائے باسفورس پر گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے اس وقت تین پل ہیں۔ ان پلوں سے منسوب کچھ دلچسپ چیزیں جو سننے کو ملیں ان میں سے کچھ یہ ہیں کہ باسفورس پر پہلے پل کی تعمیر 30 اکتوبر 1973ء کو مکمل ہوئی۔ پل کی تعمیر پراس وقت 200 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئی۔ بین البراعظمی “استنبول یوریشیا میراتھن” کے شرکا بھی اسی پل کے ذریعے آبنائے باسفورس پار کرتے ہیں۔ یہ دوڑ ہر سال اکتوبر میں منعقد ہوتی ہے جس کا آغاز استنبول کے ایشیائی حصے سے ہوتا ہے اور یورپی حصے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس دوران پل کو گاڑیوں کے لیے بند کر دیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں پل سے کود کر خودکشی کرنے کا رحجان بھی موجود ہے اوراب تک 500 سے زائد افراد پل سے کود کر اپنی جان دے چکے ہیں۔ باسفورس پل سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ 80 ہزار گاڑیاں گذرتی ہیں۔ اس پل کو استعمال کرنے کے لیے محصول دینا پڑتا ہے اور اس عمل کے لیے پل کی ایشیائی جانب ٹول پلازہ واقع ہے۔ محصول صرف یورپ سے ایشیا کی جانب آنے پر ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ مخالف سمت میں جانے پر کوئی محصول نہیں۔

استنبولی باشندے اسے صرف Boğaz کہتے ہیں جبکہ Boğaziçi کی اصطلاح آبنائے کے ساتھ ساتھ واقع استنبول کے علاقوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

یہ آبنائے تقریباً 30کلومیٹر طویل ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی شمالی داخلی راستے پر 3 ہزار 700 میٹر ہے اور کم از کم چوڑائی کنڈیلی اور اشیان کے مقام پر 700 میٹر اور اینادولوحسان اور رومیلی حسان کے مقام پر 750 میٹر ہے۔آبنائے کی گہرائی 36 سے 124 میٹر ہے۔ آبنائے کے ساحل انتہائی گنجان آباد ہیں اور ترکی کے امیر خاندان یہاں رہائش پذیر ہیں۔

باسفورس میں دوران سیر آپ واپسی پر ساحل پر بنی ایک بڑی سفید عمارت دیکھتے ہیں جو کہ “ملٹری اکیڈمی” ہے۔ اسی طرح ایک دو پرانے قلعے اور سلطان کا ایک محل بھی کنارے پر بنا ہوا ہے۔

مغرب سے کچھ دیر قبل کروز سے اتر کر مشہور گرینڈ بازار کا رخ کیا۔

تاریخی گرینڈ بازار کا شمار دنیا کے قدیم ترین بازاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد 1455 میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں رکھی گئی۔ گرینڈ بازار میں اکسٹھ گلیاں اورتقریباً 3600 دکانیں ہیں- مختلف اشیاء کی دوکانوں والے اس صدیوں پرانے خریدو فروخت کے مرکز کی خاص بات یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے کم وبیش ہر طرح کی اشیاء خریدوفروخت کے لیے موجود ہیں۔

میرا تو چونکہ یہ پہلا دن تھا اس لیے “ونڈو شاپنگ” پر ہی اکتفا کیا۔گرینڈ بازار کی ہر دکان “مال” سے بھری ہوئی ہے۔ اگر آپ یہاں سے کچھ خریدنا چاہتے ہیں تو “مول تول” لازمی کیجیے گا۔ دنیا بھر میں بازاروں میں یہی دستور ہے کہ آپ مول تول کر کے چیز لیں گے تو نسبتا ً سستی پڑے گی۔

گرینڈ بازار سے نکلے تو عمر بھائی نے مشورہ دیا کہ “تاکسیم سکوائر” کی جانب چلتے ہیں۔ یہ اللہ کا بندہ ایک ہی دن میں پورا استنبول گھمانے پر تُلا ہوا تھا۔ عمر کو شاید اندازہ ہوگیا کہ اب ٹانگیں جواب دے رہی ہیں لہذا قریبی میٹرو سٹیشن کی جانب چلے جہاں سے “تاکسیم” کے لیے ٹرین پکڑنا تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس سفرنامہ کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس سفرنامہ کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں


عمار یاسر پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور دیس دیس سفر کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ حال ہی میں ترکی اور قطر کا سیاحتی دورہ کر کے آئے ہیں اور اپنے سفر نامے کو قلمبند کر رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سفر نامہ ہے جو دانش کے قارئین کی نذر ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اس قسط کی ابتدا جس طریقے سے ہوئی مجھے تو لگتا تھا یاسر صاحب ساری نمازیں پڑھا کر ہی اس آگے چلیں گے مگر شکر ہوا ان پلوں اور آبنائے باسفورس کا جس سےگزرکرآگےچل دیے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: