آئین سٹائین کا نظریہ اور آزاد عدلیہ: ابن فاضل

0

گلو بٹ، لالو پرشاد، نصیبو لعل اور آئن سٹائن سے تو سب واقف ہیں نا۔ سب کی سب مشہور شخصیات ہیں، وہ الگ بات ہے کہ آئن سٹائن صاحب کی شہرت کچھ مثبت اور تھوڑی زیادہ ہے۔ لیکن باتیں ان کی بھی خیر جمہور شرفاء کی سمجھ میں نہیں آتیں، جن میں سے ایک ہم بھی ہیں۔ (بھلے آپ ہمیں شرفاء میں نہ شامل کریں جمہور میں تو کر ہی سکتے ہیں )البتہ زیادہ پڑھے لکھے اور پروفیسر قسم کے لوگ ان صاحب کے نظریات کو لیکر بڑی واہ واہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی نیا فیشن ہو کہ نہ سمجھ آنے والی بات پر زور سے واہ واہ کی جائے۔ تاکہ خود کی واہ واہ ہو۔

قابل خرگوشوی ایک روز بتا رہے تھے کہ حضرت آئن سٹائن صاحب نے فرمایا کہ مادہ بھی توانائی کی ایک شکل ہے۔ مادہ کو کسی طریقے سے توانائی،اور توانائی کو مادے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ (یاد رہے کہ یہاں مادہ سے مراد ٹھوس، مائع گیس والا مادہ ہے۔ ورنہ ہماری مادائیں یعنی بیگمات تو پہلے سے ہی توانائی کی ایک شکل ہیں اور بھی حدت والی توانائی). کس طریقے سے یہ ان کو بھی نہیں پتہ تھا۔ ہاں ان کو اتنا ضرور جانتے تھے کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم وغیرہ اسی اصول کے تحت کام بلکہ کام تمام کرتے ہیں۔ خیر، انہوں نے تو یہاں تک بتا دیا ہے کہ کتنے مادے سے کتنی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ ایک مناسب سائز کے چوہے کو اگر توانائی میں تبدیل کر دیا جائے تو ہمارے چاند کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے کافی ہے۔

سائنسدانوں کا ایسا ماننا ہے کہ اس نظریہ سے کام لیتے ہوئے کبھی ہم اس قابل ہو جائیں گے کہ اشیاء اور انسانوں ایک جگہ سے دوسری جگہ انتہائی تیز رفتاری سے منتقل کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر پاکستان سے امریکہ جانے کیلیے آدھے سیکنڈ سے کم وقت درکار ہو گا۔ بلکہ اور بھی آسانی کیلیے یوں سمجھ لیں کہ انسان ادھر سے اپلوڈ ہوا اور اگلے لمحہ امریکہ میں ڈاؤن لوڈ۔ بس ابھی صرف اتنا سا مسئلہ رہ گیا ہے کہ یہ ہوگا کیسے۔ مگر آپ فکر نہ کریں سائنسدان بہت ڈھیٹ ہوتے ہیں ایک دفعہ کسی بات کے پیچھے پڑ گئے تو پھر پڑ گئے۔
یا ہم نہیں یا گردشِ افلاک نہیں ہے

امید ہے آئندہ دو چار سال یا چالیس پچاس سال یا زیادہ سے زیادہ ہزار دو ہزارسال تک اس مسئلہ کا حل نکال لیں گے۔ پھر دیکھنا آپ کے مزے ہی مزے۔ ویسے پھر بھی اس میں کچھ قباحتیں ہیں۔ مثال کے طور پر انکو یہ خطرہ ہے کہ اگر اپلوڈ یا ڈاون لوڈ کرنے والی مشین میں کچھ خرابی ہوگئی تو ایسا ہو سکتا ہے کہ یہاں سے نصیبو لعل اپلوڈ کیا اور ادھر سے اللہ دتہ لونے والا ڈاونلوڈ ہو جائے۔ یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ادھر سے سالم آدمی اپلوڈ کیا اور راستے میں سگنل کی کمزوری کے باعث ایک ٹانگ یا ایک بازو والا بندہ ڈاؤنلوڈ ہوا۔ ورنہ کم سے کم یہ تو ہو ہی سکتا ہے کہ صاحب اور ٹامی سیر کے لئے امریکہ سے آسٹریلیا کے لئے اپلوڈ ہوئے۔ اور آسٹریلیا میں بس اتنے فرق سے ڈاؤنلوڈ ہوئے کہ ٹامی کی دم صاحب کو لگی ہو اور صاحب کی ٹائی،ٹامی کو۔ ہم پاکستانیوں کیلیے البتہ ایک دو مسائل فالتو ہو سکتے ہیں مثلاً ایک اعلیٰ سرکاری وفد برطانیہ جانے کے لئے مشین میں ڈالا، ابھی آدھا اپلوڈ ہوا تھا کہ بجلی چلی گئی۔ اب سوچیں کہ ادھر آدھے آدھے وزراء پھر رہے ہوں ملکہ الزبتھ کے ساتھ۔ اسی طرح میاں بیوی اور دو بچے کراچی کیلیے مشین میں ڈالے۔ اور وہاں اتریں دوبیویاں ایک میاں اور ایک بچہ۔ ویسے یہاں تک تو پھر خیریت رہے گی، ہاں البتہ اگر دو میاں ایک بیوی اور ایک بچہ کر دیا پھر گڑ بڑ زیادہ ہے۔

لیکن اس سارے قضیے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی سائینسدانوں نے چینی ماہرین کے ساتھ ملکر کر اس مسئلے کا مکمل اور بے عیب حل نکال لیا ہے۔ انہوں نےاس میدان میں اس قدر زبردست پیش رفت کی نہ صرف ایک دو انسان اور چند اشیاء بلکہ پوری کی پوری ریل گاڑی بشمول تمام سواریاں اس طریقہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا کرے گی۔اور وہ بھی پانچ مختلف مقامات پر دن میں کئی مرتبہ۔ ارے بھئی حیران نہ ہوں۔ دیکھیں نا مالٹا ریل منصوبہ پر معزز عدالت نے حکم صادر فرمایا کہ پانچ جگہ پر ریل کی پیدا کردہ دھمک سے آثارِ قدیمہ کی بقا کو خطرہ ہے۔ لہذا ان مقامات پر دو دو سو میٹر دونوں اطراف ریلوے لائن نہیں بچھائی جا سکتی۔ اب اگر ان کو اس بات کا یقینی علم نہ ہوتا کہ پاکستانی سائنس دانوں نے چینی ماہرین کے ساتھ مل کر ایسی کوئی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے کہ ریل مع سواریاں بغیر پٹری اور ستونوں کے ان پانچ مقامات پر ریلوے لائن کے اگلے حصے پر منتقل ہوسکتی ہے تو وہ ایسا حکم کیوں دیتے۔ وہ یقیناََ کہتے کہ سارے منصوبہ پر فی الفور کام روک دیا جائے جب تک کہ اس مسئلہ کا حل تلاش نہیں کر لیا جاتا، یا کوئی متبادل راستہ کا انتخاب نہیں کرلیا جاتا جس میں کہ آثار قدیمہ دو سو میٹر دور ہوتے۔ اب میں تو یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ معزز عدلیہ کے جج صاحبان اسقدر بے رحم اور بے حس ہیں کہ وہ بغیر ایسی کسی ٹیکنالوجی کے علم کے قوم کا ایک سو ساٹھ ارب روپیہ کسی ایسے منصوبہ کی نذر ہونے دیتے جو قانون کی نگاہ میں قابلِ تکمیل نہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں تو ہو جائیں تیار ہتکِ عزت کے مقدمہ کیلئے۔…!!!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: