منشی نامہ : سیاست حاضرہ — عثمان سہیل

0
  • 55
    Shares

قومی سیاسی افق پر بدستور ایک نامعقول ہنگامی منظر نظر آرہا ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنی وفاقی کابینہ کے ممبران کے ہمراہ ایک بار پھر سے لندن میں پائے گئے۔ پنجاب کے وزیراعلی شہباز شریف بھی ولایت پہنچے ہوئے تھے۔ شنید ہے کہ ان سب نے ناجائز اثاثہ جات کے ملزم نوازشریف کیساتھ ملاقات کی اور یہ کہ ملاقات میں کچھ اہم سطح کی تبدیلیون کا منصوبہ بھی زیر بحث آیا۔ یہ اندازہ لگانے کے لیے علم نجوم کی ضرورت نہیں ہے کہ ان دنوں نون لیگی قیادت اعلی سطح پر تبدیلیوں کا کوئی منصوبہ اگر ترتیب دے گی تو بری فوج کے سربراہ کا عہدہ اس میں مرکزی نکتہ ہوگا۔صورتحال یہ ہے کہ اس وقت وزیر اعظم عباسی کو برطرفی اور اسمبلیوں کو تحلیل کا خطرہ بالکل بھی نہیں ہے۔ گویا جمہوریت محفوظ ہے۔ خاکسار کی طرح باخبر قارئین کے لیے یہ اندازہ لگانا زیادہ دشوار نہ ہوگا اگر کوئی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا ہے تو وہ نواز شریف، ان کے اہل خانہ و قریبی رفقا ہیں جیسا کہ اسحٰق ڈار۔ آخر نوازشریف و ہمراہی اسقدر پریشان کیوں ہیں؟ اگر ان کے ہاتھ صاف ہیں جیسا کہ وہ دعوٰی کرتے ہیں تو ان کو پریشانی بلاجواز ہے۔ وہ اور ان کی صاحبزادی بنا کسی حکومتی عہدہ کے سرکاری پروٹوکول میں گاڑیوں کی ایک طویل قطار بنائے کروفر سے عدالت پہنچتے ہیں۔ گرفتاری کا بھی فوری طور پر کوئی خاص خدشہ درپیش نہیں ہے۔ بایں ہمہ اعلی سطح تبدیلیوں کا کوئی بھی منصوبہ، اگر ہے تو ذاتی نوعیت کے خدشات کے بجز اس کی وجہ کچھ نہ ہوگی۔ قفس میں نہ ہوتے ہوئے بھی میاں نواز صاحب کی کیفیت کچھ یوں ہے۔

پھڑکوں تو سر پھٹے ہے نہ پھڑکوں تو جی گھٹے
تنگ اس قدر دیا مجھے صیاد نے قفس
(شیخ ظہور الدیبن حاتم)

خبر گرم ہے کہ پانامہ ہنگامہ کا حصہ دوم جلد ریلیز ہونے والا ہے۔ اس مناسبت سے کرپشن کا کچھ ذکر ہوجائے۔ دیس میں شاید ہی کوئی بالغ انسان ہو جس نے اپنے جائز یا ناجائز کام نکلوانے کیلیے کبھی رشوت نہ دی ہو۔ خاکسار نے پہلی بار ڈومیسائل بنوانے کیلیے ضلع مجسٹریٹ کے ریڈر کو سگریٹ کی ڈبیا بطور رشوت پیش کی جس سے کام میں حائل نادیدہ رکاوٹیں فوری طور پر پسپا ہوگئیں۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی کسی ملک میں مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاری میں ایک بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ اس سے کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ کار کا وقت غیر پیداواری سرگرمیوں میں ضائع ہوتا ہے۔ اس کے مضمرات میں معاشی بڑھاؤ اور سرمایہ سازی میں رکاوٹ، غربت اور روزگار میں کمی شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چین، تائیوان، جنوبی کوریا اور مشرقی ایشیا کے دیگر چند ممالک نے بدعنوانی اور رشوت ستانی کے باوجود معاشی و صنعتی ترقی کی۔ جس کی وجہ مضبوط حکومتیں تھیں اس بات سے قطع نظر کے آمرانہ تھیں۔

بحر کاروبار کے غواص کہتے ہیں کہ اس میں بھی دو باتیں ہیں۔ ایک طرف وہ ممالک ہیں جن میں کرپشن کا شمار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں آپ جان سکتے ہیں کہ کس محکمہ سے کونسا کام نکلوانے کے لیے کتنی رقم خرچ کرنا ہوگی۔ چنانچہ سرمایہ کاراس مد میں رقومات کا اندازہ لگا کر اپنے منصوبے کی لاگت میں شامل کرنے کے بعد نفع کا تخمینہ لگانے کے قابل ہوجاتا ہے۔ دوسری طرف وہ ممالک ہیں جن میں آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ ایک مخصوص کام کے لیے دی جانی والی رشوت کی شرح کیا ہوگی۔ اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بنا پر میں پاکستان کو دوسرے زمرہ میں رکھوں گا۔ یہاں آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ انکم ٹیکس، کسٹم، محکمہ بجلی، بلڈنگ کنڑول اتھارٹی یا لیبر کے محکمہ کو کتنا نذرانہ دینا ہوگا۔

آہ، وطن عزیز میں پرائس کنٹرول نظام کسقدر ناقص ہے۔

About Author

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: