جال ہم رنگ زمیں: مراد علوی

1
  • 45
    Shares

اگر مولوی عبدالحق کی تبصرے نظر نواز ہوئے ہوں تو وہ بال کی کھال اتارنے کا حقیقی منظر پیش کرتے ہیں۔ میں ایک ایسا منظر نذر کر رہا ہوں۔ چند روز پہلے اہل سخن کے محفل میں بیٹھنے کا موقع نصیب ہوا جہاں ہر نوع کے صاحابان تشریف فرما تھے۔ موضوع ایسا تھا کہ جس کا مذہب کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں تھا لیکن مذہب چوں کہ بازیچہ اطفال بن چکا ہے، اس لیے مذہب کو تختہ مشق بنانا عجب نہیں لگتا۔ چناچہ محفل میں ایک ایسے صاحب بھی آئے ہوئے تھے جس کا زبان اور مذہب کے ساتھ علمی اعتبار سے کوئی تعلق نظر نہیں آرہا تھا، ادب پر انھوں نے کوئی خاص بات نہیں فرمائی البتہ مذہب پر خوب نشتر برسائے۔ ستم ظریفی یہ کہ اپنی شناخت بطور مذہبی سکالر کے کروارہے تھے۔ آپ نے ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو مذہب کے ساتھ کھلواڑ کرتے وقت اپنے آپ کو اسلامی سکالر بھی باور کراتے ہیں۔ یعنی کسی طریقے سے مولویوں کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم انھوں نے بھی یہی کیا، پہلے اپنے آپ کو مولوی ثابت کردیا کہ میں نے مدرسہ میں پڑھا ہے اور پھر مدارس پر خاک بسر اعتراضات شروع کردئے۔ مذہب کے بارے میں ان کی گفتگو یہ حثیت نہیں رکھتی کہ اس پر گفتگو کی جائے لیکن مدرسہ پر ایک اعتراض یہ کیا کہ وہاں اب بھی چار عناصر کی بات کی جاتی، جبکہ اب تو عناصر بہت زیادہ ہیں۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ مدارس پسماندہ ہیں۔ اب اتنے طفلانہ بات قابل تجزیہ نہیں ہے۔ مدرسہ میں تجرباتی سائنس نہیں پڑھائی جاتی بلکہ فلسفہ کی ابتداء اسی سے کی جاتی ہے کہ ماقبل سقراط دور میں کتنے عناصر متصور کئے جاتے ہیں۔ اسی قبیل کے دیگر اعتراضات بھی تھے جن کو سمجھانے کے لئے نیاز فتح پوری کا مدرسہ میں عملی تجربہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ نیاز صاحب جیسے مذہبی سکالر اور ان کے مدرسے سے تعلق رکھنے والوں کی ذہنی سطح اس کے بغیر معلوم نہیں ہوسکے گا۔

نیاز صاحب نے ایک دفعہ ”نگار” اپنے آپ کو مولوی ثابت کرنے کے لئے مدرسہ کے بارے میں دلچسپ واقعات لکھے، جن کو یہاں مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کی تنقید کے ساتھ نقل کیا جارہا ہے، نیاز صاحب لکھتے ہیں: میں اپنے وطن فتح پور کے عربی مدرسے میں پڑھتا تھا۔ شرع عقائد نسفی کا سبق پڑھتا تھا۔ اس میں مسئلہ یہ آیا کہ یزید پر لعنت ناروا ہے۔ اس پر نیاز موصوف نے کچھ سوال اٹھایا اور استاد کو بحث و تکرار سے ناراض کردیا تو پھر موصوف کے والد ماجد ان کو مدرسے لے کر گئے اور بحث کی۔ جو چیز سننے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس بحث میں موصوف کے والد ماجد نے حضرت استاد نے فرمایا کہ “آپ کو خبر نہیں کہ شرع عقائد نسفی امویین کے عہد کی کتاب ہے جو علویین کے شدید دشمن تھے۔ اس لئے لعن یزید کے مسئلہ کو اس قدر اہتمام سے بیان کیا گیا ہے”۔ نیاز صاحب نے اپنے والد کا یہ ارشاد ان کے علم و فضل کی توثیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس لئے انھیں خود خبر نہیں تھی کہ شرع عقئاد نسفی کی تصنیف اور امویین کے عہد میں چھ سو برس کا فاصلہ ہے”۔

اسی طرح اپنے استاد کے ساتھ اپنی ایک بحث انھوں نے یہ سنائی کہ حدیث کی کتاب “مشکوۃ شریف” کے درس میں انھوں نے اپنے استاد سے پوچھا کہ یہ حدیث کے ساتھ اتنی لمبی چوڑی سندِ حدیث درج کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ خواہ مخواہ وقت اور کاغذ دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ مگر یہ سوال بتاتا ہے کہ موصوف نے مشکوٰۃ شریف دیکھی بھی نہیں ہے، کیوں کہ مشکوٰۃ میں سند درج نہیں ہوتی۔ اس سے آگے مشکوٰۃ پر اعتراضات بھی کئے ہیں حال آں کہ انھوں نے اس کتاب کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔

ان علامہ صاحب کے تجربات بھی کچھ اس قسم کے تھے۔ ایسے مذہبی سکالرز پر میں کیا عرض کروں۔ ایسے لوگوں پر مولانا مودودی نے ”تنقیحات” میں اس پر بہترین تبصرہ کیا ہے:

مذہبی مسائل پر جب یہ حضرات اظہار خیال کرتے ہیں تو ان کی باتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے تقریر فرمارہے ہیں۔ نہ ان کے مقدمات درست ہوتے ہیں، نہ منطقی اسلوب پر ان کو ترتیب دیتے ہیں اور نہ صحیح نتائج اخد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ کلام کرتے وقت خود اپنی پوزیشن بھی متعین نہیں کرتے۔ ایک ہی سلسلئہ کلام میں مختلف حثیتیں اختیار کرجاتے ہیں۔ ابھی ایک حثیت سے بول رہے تھے کہ دفعتہََ ایک دوسری حثیت اختیار کرلی اور اپنی پچھلی حثیت کے خلاف بولنے لگے۔ سُستی فکر (Lose-thinking) ان کے مذہبی ارشادات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ مذہب کے سوا دوسرے جس مسئلے پر بھی بولیں گے تو ہوشیار اور چوکنے ہوکر بولیں گے، کیوں کہ وہاں اگر کسی قسم کی بے ضابتگی ہوگئ تو جانتے ہیں کہ اہل علم کی نگاہ میں کوئی وقعت باقی نہ رہے گی۔ لیکن مذہب چونکہ ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اور اس کو وہ اتنا وزن ہی نہیں دیتے کہ اس پر کلام کرتے وقت اپنے دماغ پر زور دینا ضروری سمجھیں، اس لیے وہ یہاں بالکل بے فکری کے ساتھ ڈھیلی ڈھالی گفگتو فرماتے ہیں، گویا کھانا کھا کر آرام کرسی پر دراز ہیں، اور محض تفریح کے طورپر بول رہے ہیں جس میں ضوابطِ کلام کو ملحوظ رکھنے کی کوئی حاجت ہی نہیں۔

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: