’روایت‘ کی تفہیم کے مختلف مناہج: محمد عثمان رمزی

1

روایت اپنی ذات میں کیا چیز ہے؟ روایت اپنی تفصیلات میں کس مرکز کے گرد گھومتی ہے؟ روایت کی تفہیم کی کسوٹی کیا ہے؟ کیا روایت کوئی تسلسل ہے یا عدم تسلسل کا دوسرا نام روایت ہے؟ روایت انسانی شعور اور وجود کو متاثر کرتی ہے یا اس سے متاثر ہوتی ہے؟ روایت فکر ہے عمل ہے یا پھر انسانی رویہ؟ روایت راہ ہے راہنما ہے یا پھر منزل؟ روایت بوسیدگی ہے پژمردگی ہے یا پھر تازگی؟ یہ اور اس طرح کے بے شمار سوالات روایت کی تفہیم سے جڑے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات مختلف انداز میں دیے گئے ہیں۔ روایت کو مختلف لوگوں نے مختلف انداز سے سمجھا اور بیان کیا ہے یہاں پر ہم چار مختلف مناہج پر گفتگو کریں گے جو روایت کی تفہیم میں الگ حثیت کے حامل ہیں۔

روایت کے لیے انگریزی زبان میں (Tradition) کا لفظ بولا جاتا ہے جو کہ اس کا مبہم اور غیر مطمئن ترجمہ ہے۔ عام طور پر روایت کا لفظ سنتے ہی  ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی پرانا خیال یا فرسودہ عمل ہے جو روایت کے عنوان سے معروف ہے۔۔اور اسی طرح روایت کو زندہ کرنے کی بات کی جائے تو یہی خیال گزرتا ہے کہ کسی پرانےرویہ کو اجاگر کیا جائے۔ جدید دور میں  روایت یا ٹریڈیشن کے لفظ  سے زیادہ کلچر کے لفظ کو پسند کیا جاتا ہے ایسا اس لیے ہے کہ ٹریڈیشن کے لیے آپ کو کوئی اتھارٹی کا حوالہ دینا ہوتا ہے جبکہ کلچر میں اتھارٹی نہیں ہوتی آج کے ما بعد جدیدیت کے دور میں اس لیے کلچر کا لفظ زیادہ معروف ہے۔

کلچر میں سوچ غیر اہم ہوتی ہے۔ میں یہ اس وجہ سے کر رہا ہوں کہ سب کر رہے ہیں اور اس میں کوئی مخصوص شخص یا مستند حوالہ ذمہ دار نہیں ہوتا۔ اس میں کسی اتھارٹی کی طرف سےکسی بھی عمل کی لیجٹمیسی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ روایت تہذیبی سطح پر اپنے اندر ایک تجربہ اور حکمت رکھتی ہے اور علمی سطح پر ایک مستند حوالہ رکھتی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹریڈیشن کا مطلب ہے کسی ایسی چیز کی اندھی تقلید جو کہ عقلی نہ ہو بلکہ محض پریکٹس میں ہو۔ یہ  روایت کی عمومی تفہیم ہے جبکہ حقیقت میں روایت اس سے بہت مختلف ہے۔ بغیر سوچےسمجھے کسی چیز کو محض روایت کے نام پر قبول کرنا اور اس کی حتمیت پر اصرار کرنا روایت پرستی کہلاتا ہے۔

روایت پرستی کا مطلب روایت نہیں ہے اور اسی طرح روایت پسندی کا مطلب روایت پرستی نہیں ہے۔ اس لیے کہ روایت پسندی میں کسی مخصوص ہییت پر اصرار نہیں کیا جاتا  بلکہ اس میں روایت کی روح کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

قدیم نقلی روایت (Tradition as Reporting)

قدیم نقلی روایت سے مراد یہ ہے کہ اسلام کے تکمیلی ظہور کے بعد جب وحی کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا اور آسمان سے انسان کا رابطہ کٹ گیا تو اس کے بعد آنجناب حضرت محمد ﷺ کے قول، فعل اور تقریر کوکسی بھی درپیش معاملہ میں راہنمائی کے لیے بطور سند نقل کر دیا جاتا اور اس نقل شدہ ذخیرے کو آج ہم حدیث کے عنوان سے جانتے ہیں۔ اس کو انگریزی میں “Reporting tradition” کہا جاتا ہے۔ اس میں جو کچھ نقل کیا جا رہا ہوتا ہے اس نقل کو روایت اور نقل کرنے والے کو راوی کہا جاتا ہے۔راوی اپنی روایت کو نقل کرتے ہوئے سند کے طور پر اس روایت کے ذرائع اور اتصال بھی بیان کرتا ہے۔ نقل کرنے کی یہ روایت فطری بھی ہے اور انسانی علم میں قابل فخر سرمایہ بھی۔ مسلمانوں نے اس عظیم روایت کو بام عروج پر پہنچایا۔ روایت کا یہ مفہوم نہایت محدود اور ایک مخصوص علمی دائرے میں منحصر ہے۔ اس لیے ہم اس پر زیادہ گفتگو نہیں کریں گے اور اس روایت کی زبان عربی ہے۔

قدیم روایت پرستی (Tradition as Dogmatism)

سادہ اور سپاٹ مزاج عربوں میں پروان چڑھنے والا مذہب اسلام نہایت ہی سادہ، پاک و صاف ،عمومی اور سریع الفہم اصولوں پر مبنی تھا جس کا مقصد عقائد اور اعمال کی پاکیزگی تھا لیکن جب اسلام جغرافیائی حدیں عبور کر کے دوسری اقوام و ملل تک پہنچا تو مختلف نفسیاتی، معاشرتی، علاقائی، اور علمی عوامل اس پر اثرانداز ہوئے اور یونانی فکر پر مشتمل فلسفیانہ مباحث بھی اس میں در آئے اور اس طرح اسلام میں حقیقت کی تعبیر اور تشریح کے مسئلہ پیدا ہوا جس  سے مسلم الہیات نے جنم لیا۔ علم الکلام کی آفرینش کے رد عمل میں علماء کی ایک جماعت نے غیر کلامی رویہ کو فروغ دینا شروع کر دیا۔ اور وہ قران و حدیث کے ظاہری مفاہیم کو فوقیت دیتے تھے۔ ان علماء کو traditionist روایت پرست کہا جاتا ہے۔

معتزلہ نے کلامی مسائل میں مذہبی عقائد کی  عقلی توجیہہ اور تاویل اور صداقتوں کے تعین میں عقل کے کردار کی اہمیت کو ابھارا تو انہوں نے معتزلہ کی سختی کے ساتھ مخالفت کی۔بلکہ ابوا لحسن اشعری نے جب معتزلہ کو انہی کے فلسفیانہ اسلوب اور عقلی انداز میں جواب دینا شروع کیا تو ان اصول پسند متشدد مدرسی علماء نے امام اشعری پر بھی سخت تنقید کی اور یہ دلیل پیش کی کہ یہ الہیاتی مسائل اور کلامی مباحث غیر اسلامی ہیں اس لیے کہ جس چیز کے متعلق آپ ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا اس پر بحث کرنا خلاف سنت ہے اور اگر یہ ضروری ہوتا تو آپﷺ ان سے متعلق ہدایات فرماتے اور وہ روایات میں موجود ہوتا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ اسلامی احکام میں عقل و فراست کا استعمال بدعت اور ضلالت ہے۔ امام اشعری نے اپنی کتاب ” الرسالہ فی استحسان الخوض فی علم اکلام” میں ان کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے اور اس پر بحث کی ہے کہ یہ روایت پرست خود اپنے اصول ہی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اگر آپ ﷺ نے ان مسائل سے متعلق کوئی حکم نہیں دیا تو ان کو ممنوع بھی تو نہیں قرار دیا اور اگر یہ روایت پرست خود سے اسے ممنوع قرار دیتے ہیں تو یہ دراصل خود اس بدعت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

ان traditionists کو اہل حدیث یا اصحاب حدیث بھی کہا جاتا تھا جبکہ “نویں صدی کے روایت پرستوں نے اپنے لیے اہل السنہ کی اصطلاح کو ترجیح دی ” [1] لیکن یہ بات ملحوظ  رہے کہ اہل حدیث محدثین کے مترادف نہیں ہے محدثین علم حدیث کے علماء یا ماہرین کو کہا جاتا ہے جو کہ ضروری نہیں کہ روایت پرست بھی ہوں اور اصحاب حدیث یہ حدیث اور روایات سے متعلق ایک خاص رویہ رکھنے والے لوگوں کے لیے معروف تھا۔ اور آج کے دور میں بھی اس لفظ کا مدلول حدیث سے متعلق ایک خاص رویہ اور رائے رکھنے والی جماعت ہے۔ اس دور میں آٹھویں صدی میں اس کا آغاز ہوا اور  دسویں صدی کے بعد یہ ناپید ہونا شروع ہوگئے لیکن آج کے دور میں بھی اسلامی تہذیب، کلچر، قانون اور معاشرے کے بارے میں ان جیسی جامد ،ناقابل تغیر اور انتہاپسندانہ رائے رکھنے والے لوگ موجود ہیں جو کہ روایت کو اس کی صورت میں محبوس رکھنا چاہتے ہیں۔

بغداد کے بعض روایت پرست بعد میں فقہ کے حنبلی مکتب فکر کی صورت میں سامنے آئے خود امام احمد بن حنبل کا شمار بھی اپنے وقت کے  ایک عظیم Traditionist عالم کے طور پر ہوتا ہے۔ ان کے استاد سفیان بن عییینہ اور یحییٰ بن سعید القتان [2]بھی بڑے روایت پرست کے طور پر جانے جاتے تھے۔

قدیم روایت پرست اپنی مذہبی اور اخلاقی شناخت  کو ایک خاص وقتی ساخت یا مثالی دور نبوی  کی صورت میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ ان روایت پسندوں کی کچھ نمایاں خصوصیات یہ تھیں

مسلسل سنجیدگی: ٹریڈیشنسٹ کی ایک ظاہری علامت یہ تھی کہ وہ اپنے چہروں پر مسلسل اور غیر منقطع سنجیدگی قائم رکھتے تھے۔ کسی قسم کی تفریح، مسکرانا اور خوشی کا کوئی بھی اظہار ان کے نزدیک مکروہ اور قابل نفرت عمل تھا۔ قہقہ اور مسکرانا ان روایت پرستوں کے ہاں انتہائی قبیح فعل تھا۔ معروف روایت پرست یوسف ابن اثبات (810م) کے بارے میں معروف تھا کہ وہ تیس برسوں میں کبھی مسکرائے نہیں اور چالیس سال تک انہوں نے کسی سے مذاق نہیں کیا۔ بشر الحافی (841م ) نے مسکرانا اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ کہیں وہ اس حالت میں مر نہ جائے (جو کہ بدترین موت تھی) عبد الوھاب (865م ) نامی ایک حنبلی زاہد نے جب اپنے بیٹے کو اس کی ماں کے ساتھ ہنستے ہوئے دیکھا تو کہا کہ “کیا قرآن کا ماہر اس طرح ہنستا ہے؟”

وہ خدا ترسی کی حالت کو برقرار رکھنے کے لیے سنگین حد تک خود پر جبر کرتے تھے۔ ان کے زھاد اپنی اس خاص شناخت کی وجہ سے اس وقت کے متصوفین اور معتزلی زاہدوں سے الگ نظر آتے تھے۔

پاکیزہ گروہ بندی کا احساس: ان روایت پرستوں میں گروہ بندی کی پاکیزگی کا احساس بھی کافی گہرا تھا۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ نیک اور پاکیزہ لوگ جو روایت کی اس خاص تعبیر سے متفق ہیں وہ اخلاقی اور پاکیزہ احساس اجتماعیت سے بھرپور ہوں۔واٹ منٹگمری کا کہنا ہے کہ ان میں برادری کا یہ احساس عرب کے قبائلی مزاج کی وجہ سے تھا [3]۔ وہ مسلمانوں کی جماعت کی رکنیت پر بہت مصر اور حساس تھے۔مارشل ہوڈسن نے مسلم برادری کی اس رکنیت کو “مخصوص طیارے کی طرف سفر” سے تعبیر کیا ہے کہ صرف اس طیارے میں سچائی اور اس کی توثیق، پاکیزگی اور اس کا حصول ممکن ہے۔ ان کا خیال تھا یہ رکنیت ان کا جلاوطنی اور دوسرے آلام سے حفاظت فراہم کر سکتی ہے۔ اور یہ رکنیت ان کے وجود کا اخلاقی جواز بھی مہیا کرے گا۔

غیر متعلق خیال: یہ روایت پرست غیر متعلق خیال کی نفی اور ذہنی یکسوئی پر اصرار کرتے تھے۔ذہنی یکسوئی ایک اصول کی حیثیت سے ان روایت پرستوں کے حلقے میں کارفرما تھی۔ وہ ہر اس خیال اور فکر کو جھٹک دینا چاہتے تھے جو ان کے طے کردہ اسلامی تصور سے مختلف ہو۔ یہ ان کا پسندیدہ اور منفرد اصول تھا جس کو وہ  نہ صرف مذہبی مناظروں اور مکالموں میں استعمال کرتے تھے بلکہ اپنے نکتہ نظر کی تبلیغ اور ترویج میں بھی اس کا سہارا لیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اچھے اور معتبر مسلمان کو، جس چیز کا اس کے مذہب سے تعلق نہ ہو اسے چھوڑ دینا چاہیے ورنہ وہ ذہنی خلفشار میں مبتلا ہو گا۔ روایت پرستوں کے ہاں “غیر متعلق خیال یا چیز” سے مراد عام طور پر تعقل، بےجا تجسس، اور (Speculative Theology)  لی جاتی تھا۔ ایک روایت پرست کا قصہ معروف ہے کہ اس نے ایک گھر کے متعلق پوچھ لیا کہ یہ کب تعمیر ہوا تھا اور پھر اسے احساس ہوا کہ یہ تو غیر متعلق سوال ہے اس کی پاداش میں اس نے خود کو ایک ماہ روزہ رکھنے کی سزا دی۔

قدیم آفاقی روایت (Tradition as Perennial Wisdom) 

اس روایت کی زبان علامتیت ہے۔ان کے اظہار میں ایک ندرت ہے ایک ولولہ ہے ایک گہرا لگاؤ ہے۔ اس روایت میں  تمثیلی اسلوب کی جاذبیت موجود ہے۔ان کے ہاں عقل سے زیادہ روحانی تجربہ اہمیت کا حامل ہے۔

حقیقت زمان ومکان کی ابتداء ہی میں انسانی وجود اور شعور پر منکشف کر دی گئی تھی اور آج تک وہ انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ تمام منتظم ادیان، تہذیبی روایات، مابعد الطبیعاتی اسالیب، اور اساطیراسی جوہر حقیقت سے منصہ شہود پر آئے لیکن گردش ایام نے اس پر گرد ڈال دی ہے اور اس کا کچھ حصہ چرخ جدید میں مخفی ہو گیا ہے۔ ہمیں قدیم جوہری اصولوں کی مدد سے اس متاع عزیز کو دریافت کرنا ہے جو کہ نوع انسانی کا آفاقی سرمایہ ہے۔ قدیم آفاقی روایت کا احیا بیسویں صدی میں رینے گینوں، آنند کمار سوامی اور فرتھ جوف شوان نے کیا۔ روایت وہ آفاقی قالب ہے جس میں ڈھلنا انسان کا مقصد حیات ہے

یہاں روایت سے مراد کوئی ثقافت، تہذیب سماج، اقدار یا رواج نہیں ہے بلکہ یہ ایک مدامی حکمت ہے جس کا اظہار نہ صرف تمام بڑی مذہبی روایات بشمول ہندومت، بدھ مت، تاؤمت، کنفیشزم، یہودیت، عیسائیت، اور اسلام میں ہوتا ہے بلکہ مختلف مابعد الطبیعاتی نظام بھی اس حکمت سے بھرپور ہیں۔ یہ وہ امر ربانی ہے جو تاریخ کے بدلتے موسموں میں آفاقی روایت کے گلدستہ کو سچ کی تازگی بخشتا رہتا ہے۔ خارجی عامیانہ اور کلامی اختلافات یہاں پر داخلی، حکمیاتی اور علامتی مفاہیم میں حل ہوتے ہیں۔ اسی لیے فرتجوف شواں مذاہب کی حقیقت اور صورت میں افقی لکیر کھینچتا ہے اور مذاہب کو ظاہری اور باطنی پہلوؤں میں تقسیم کرتا ہے۔ شواں حقیقت کی اقالیم میں تفریق کے لیے esoteric اور exoteric جیسی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ اور یہ تقسیم خالص روحانی ہے جس کے ذریعے سے مذہب کی وحدت اور کثرت کا ازلی مسئلہ حل کیا جاتا ہے۔ ہسٹن سمتھ جو کہ اس روایت کے نہایت ہی معتبر ترجمانوں میں سے ایک ہیں انہوں نے فرتجوف شوں کی معروٖف کتاب

(The Transcendent Unity of Religions) کے تعارفی حصے میں لکھا ہے کہ “the issue of unity and diversity in religion is converted into one of spiritual types: esoteric and exoteric. The esoteric minority consists of men and women who realize that they have their roots in the Absolute.”[4]

سچ خارجی کلامی تکثریت سے ماورا اور واحد ہے اور اس کا عرفان وجدانی طور پر کسی بھی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے۔اس روایت میں مذہب کے لیے سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اس کا مابعد الطبیعاتی عنصر زندہ رہے جیسے ہی مذہب کی مابعد الطبیعاتی حیثیت ماند پڑنے لگتی ہے تو اس کا وجود خطرے میں پڑھ جاتا ہے۔اس کے بغیر یہ جذباتیت کا مغلوبہ اور تصوراتی ڈھانچہ بن کے رہ جاتا ہے۔ حق کی تلاش اور جستجو اس روایت میں کوئی خاص معانی نہیں رکھتی اس لیے کہ حق روز اول سے عیاں ہے اوروہ  انسانی اور تہذیبی شعور کے مختلف قدیم روایتی دھاروں میں ظہور پذیر رہا ہے۔ اور آج بھی انہی نقوش میں پنہاں ہے۔

فکری ارتقاء یہاں قابل تحسین یا مطلوب نہیں ہے اگر وہ جوہر اصلی سے منسلک نہ ہو۔اس فکر میں جدید علمی مناہج کا رد کیا جاتا ہے جو کہ قدیم اساسی راہنمائی سے غیر متعلق ہیں۔ ادراک کے نئے شعوری سانچے میں اب یہ چیز ڈھل رہی ہے کہ یہ روایت جدیدیت کی علمی تفہیم ہے۔ اس نے جدیدیت پر علمی تنقید کر کے روایت (Tradition) کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

Rene Guenon & Frithjof Schuon

“رینے گینوں کا دعوی ہے کہ جدید علوم، قدیم روایتی علوم کے زوال یافتہ نشانات ہیں” [5]

اس روایت کے امین علامتی فراست کے قائل ہیں۔ یہ روایت حقیقت کا ایک ناقابل اظہارعلم ہے۔ حقیقت اپنے جوہر میں ایک ہی ہے لیکن اس کا بیان زمان و مکان کے حصار میں مختلف ہوتا ہے۔ اس روایت کے مطابق حقیقت کا اظہار علامتوں (Symbols) کے ذریعے ہوتا ہے اور علامتوں سے مراد (Conventional signs) نہں ہیں بلکہ علامتیت (Inherent in the nature of things)[6] وہ اشیاء کی فطرت میں ودیعت ہے اور اس کے ذریعے سے ایک مرتبہ حقیقت،دوسرے مرتبہ حقیقت کے ساتھ مماثل ہوتا ہے۔ رینے گینوں نے اس علامتیت (Symbolism) کی اہمیت پر اپنی تحریروں میں بہت زور دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جدید مغرب علامتیت کے پیرائے میں سوچنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔

اس روایت میں دل کو موہ لینے والی ایک خاص طرح کی سحر انگیزی( Enchantment)  اور مسرت بخش فسوں کاری اور مسحورکن غوطہ زنی کا عنصر موجود ہے جو انسان کو وقت کی موجودہ بندش اور منطقے سے آزاد رکھتا ہے۔ ہم آہنگی اور الفت کی استغراقی کیفیت اس روایت کا خاصہ ہے۔

اس روایت میں وجود کے مختلف مراتب (Levels of Being) ہیں اور ان میں مکمل پم آہنگی ہے۔ اپنے مقام وجود سے شناسائی نہایت ضروری ہے علم و جہالت عقل و وحی مادی و روحانی ، خاکی و افلاکی، طبعی و مابعد الطبیعی، انسان اور خدا ہر شیے کواگر اس کے مرتبہ وجود میں رکھ کر دیکھیں گے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ جب تک کوئی شیے اپنے مرتبہ وجود میں رہتی تو توازن برقرار رہتا ہے۔ جیسا ہی مادہ روح کو یا عقل خدائی کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتی ہے تو مراتب وجود میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے اور چیزیں الجھنا اور بکھرنا شروع ہو جاتی ہیں۔ وحدت کثرت میں اور کثرت شعور میں ڈھلنے لگتی ہے اور وجود و شعور میں ایک نا ختم ہونے والی کشکمش شروع ہو جاتی ہے۔

اس روایت کا ایک عنصر غرابت بھی ہے کہ عام لوگ ان سے واقف نہیں ہیں جس سطح پر کھڑے ہو کر اور جس علمی مزاج کو قائم رکھتے ہوئے  اورجس  فکری گیرائی اور روحانی گہرائی میں ڈوب کر وہ بات کرتے ہیں لوگوں کا عمومی مزاج اس سطح اور مقام سے شناسا نہیں ہے۔ اردو زبان میں حسن عسکری کی تحریروں میں  سب سے پہلے اس فکر کا تعارف ہوا اور پھر سراج منیر نے اس روایت کی تفہیم اور تبیین میں اپنا زندگی کا حصہ بنایاس اور آج اردو زبان کو سمجھنے والوں میں  بے شمار لوگ ہیں جو اس روایت سے وابستہ ہیں اور ان میں سے ایک ممتاز نام ڈاکٹر سہیل عمر کا ہے جنہوں نےترجمہ اور طباعت کے ذریعہ اس روایت کی ترویج میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔استدلالی قوت اور تنقیحی مزاج اس روایت کا حصہ ہے۔ان کے استدلال سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کے استدلال میں ایک آفاقیت موجود ہے جو جدید ذہن کواس دانش کی طرف کھینچتی ہے

قدیم مکالماتی/استدلالی روایت (Tradition as Discursivity)

اس روایت کی زبان مکالمہ ہے۔اس روایت کے حاملین کے اظہار میں ایک بہاو ہے ایک جدت ہے ایک تازگی ہے۔معقول، مدلل اور پیچیدہ روایت میں روایت محض تسلسل کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں عدم تسلسل بھی روایت کا حصۃ ہے بلکہ لازمی حصہ ہے۔ اس روایت میں ٹریڈیشن کو تنقیدی نکتہ گاہ سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ تنقید ہی وہ مرکز ہے جو روایت کی حیات کاضامن ہے۔تنقید ہی وہ دائرہ ہے جو روایت کی تنظیف کا ذریعہ بنتا ہے۔اس میں روایت کےہیئتی تحفظ سے زیادہ اس کی تعمیر پر توجہ دی جاتی ہے۔یہ روایت فکر سے زیادہ ایک رویہ ہے ایسا رویہ جس میں فکر تنقیدی مراحل سے گزر کر پروان چھڑتی ہے۔۔روایت اپنےجوہر میں واحد اور اپنے اظہار میں منتشر ہے یہ اپنی روح میں مقفل اور مسجع اور اپنے بدن میں مکسر اور مجتمع ہے۔ یہ روایت وجدانی نہیں بلکہ تعقل کی جاودانی پر یقین رکھتی ہے۔ یہ روایت حقیقت کی تلاش میں بے خود ہے۔ اس روایت کی شان یہ ہے کہ اس میں علم بوسیدہ نہیں ہوتا حقائق پرانے نہیں ہوتے اقدار لاتعلق نہیں ہوتیں۔ منزل اور حتمیت کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے بلکہ  راستہ ہی اس کی منزل ہے۔ جستجو ہی اس کا مقصد ہے۔

Talal Asad

طلال اسد کی تفہیم کے مطابق تڑیڈیشن ایجاد نہیں بلکہ منتقل ہوتا ہے

“I understand tradition to be given not invented.”[7]

اس کے مطابق روایت اپنے بنیادی جوہر میں ناقابل تغیر ہوتی ہےروایت کا ایک حصہ “essential”  اور دوسرا “contingent” ہوتا ہے۔ہمیشہ پہلے کی حفاظت اور دوسرے کی اصلاح ہوتی ہے۔ بدلتے وقت کے ساتھ صورت کے تجزیہ اور تزکیہ کے ذریعہ روایت کی روح کی حفاظت کی جاتی ہے۔اس روایت میں تطہیر کا بہترین طریقہ(Genealogical  perspective)  نسبی تناظر ہے۔کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنیولوجی اور ٹریڈیشن میں مشترک زمین نہ ہونے کی وجہ سے مفاہمت ممکن نہیں اس لیے کہ ٹریڈیشن کوئی نہ کوئی بنیاد رکھتا ہے اور جنیولوجی ہر طرح کی بنیاد کو اکھاڑ پھینکتی ہے۔ اس تصور کا رد کرتے ہوئے طلال اسد کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ جنیولوجی کی غلط تفہیم کا نتیجہ ہے۔جنیولوجی ہر طرح کی بنیاد کومنہدم نہیں کرتی بلکہ اس کی اساس “امروز” ہوتی ہے۔

“Genealogical critique is not a rejection of all grounding; its ground is “today,” the place from which one thinks on the difference between time present and time past, and aspires to future time.”[8]

روایت کا پیچ دار استدلالی پہلو بنیادی طور پر لسانی عمل سے منسلک ہے زبان کی حرکیات حقائق کی تشکیل میں چونکہ اہم کردار ادا کرتی ہیں اور انسانی تخیل بھی کسی حد تک اپنی تشکیل میں اس کا پابند ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے روایت بھی اپنے ماقبل تشکیل تصور (prior conceptualization) کو اسی کے ذریعہ ممکن بناتی اور منتقل کرتی ہے۔ اور یہی پیچ دار استدلالی تناظر ہی ہے جس کے ذریعہ کوئی شخص یہ سیکھتا ہے کہ اشیاء کا الفاظ کے ساتھ کیا ربط ہے حقائق میں الفاظ کس طرح منعکس ہوتے ہیں یا الفاظ میں حقائق کس طرح  جگہ بناتے ہیں۔ اور کس طرح حیات کی دھنک میں رنگ بھرا جاتا ہے۔روایت میں  شعور کس طرح ارتقاء پذیر ہوتا ہے اور وجود کی نمود کس طرح ڈھلتی ہے اور احساس مخصوص زاویوں میں کس طرح پروان چڑھتا ہے۔

“The discursive aspect of tradition is primarily a matter of linguistic acts passed down the generations as part of a form of life, a process in which one learns/relearns “how to do things with words,” sometimes reflectively and sometimes unthinkingly, and learns/relearns how to comport one’s body and how to feel in particular contexts.”

اس روایت میں زبان کے ساتھ تعقل کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ ڈسکرسو ٹریڈیشن میں تعقل حقائق کی تشکیل پر کافی حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔ عقلی مباحث اس روایت کا امتیاز اور مطمح نظر ہے۔ یہی وہ پل ہے جو عالم اور معلوم آپس میں جوڑتا ہے۔

“Reason proceeds discursively through language and like a bridge, joins two banks knower and known.”[9]

وٹگنسٹائن کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہم کسی ٹریڈیشن کے عنوان سے سیکھتے ہیں یا اپناتے ہیں وہ کوئی لگے بندھے اصول یا کسی دروس کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک طرز وجود ہے اور ہستی کی سر مستی ہے جس میں انسان بہہ رہا ہوتا ہے۔ اور نہ ہی وہ کوئی ایسا مخصوص دھاگہ ہے جسے جب کوئی چاہے اپنی پسند کے مطابق جن لے یا چھوڑ دے بلکہ وہ دوسرے کو اپنے اندر سمونے اور محسوس کرنے کی وسعت کا نام ہے۔

“But a mode of being, not a thread one can pick up or drop whenever one feels like it but a capacity for experiencing another in a way that can’t be renounced.”[10]

یہاں روایت محض نظریہ سازی یا تجریدیت کی علامت نہیں ہےبلکہ روایت عملیت پسندی اور تجربیت کی اہمیت سے پھرپور پے۔ اسی تجربہ کی بنیاد پر اس ٹریڈیشن کی ماضی میں بنیادیں تلاش کی جاتی ہیں اور اس کی مستقبل سے مطابقت پیدا کی جاتی ہے۔ خاص طرح کے عملی اظہار اور اس کی تکرار اس روایت کے حاملین میں مخصوص میلانات کو جنم دیتی ہے اور اس کے اندر(Sensibilities) خاص جزبے سے متاثر ہونے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

Tradition stresses embodied, critical learning rather than abstract theorization.[11]

اس روایت کے علمبرداروں کے نزدیک سوال کے جواب سے زیادہ اس پر غورو خوض اہم ہے۔ تفکیر کا یہ عمل ہی علمی روایت کی روح ہے۔ یہاں سوال کا جواب بھی ایک سوال ہوتا ہے۔ یہاں کسی سوال پر سوالیہ نشان اور کسی جواب پر فل سٹاپ نہیں لگایا جاتا۔

اس روایت میں حقیقت کا محض بیان نہیں ہوتا بلکہ اس کی توجیہ، اس کا تجزیہ، اس کی تعلیل ، اس کی تمثیل،، اس کا تنوع، اس کی توضیح اور اس کی تنقیح بھی ہوتی ہے۔ اس میں متن علم کے ابلاغ سے زیادہ اس پر بحث و تمحیث کو فوقیت دی جاتی ہے۔ سوالات کے مختلف دھارے، اعتراضات کے مختلف ڈھانڈے، جوابات کے رنگ برنگے دھاگے، مل کر ہمیں راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔۔بے ہنگم فکری دھاگوں کا ایک مجموعی تسلسل ہمیں ایک مظبوط رسی عنایت کرتا ہے

یہاں سلسلہ بحث ہی وہ فلٹر ہے جو فکر کی تطہیر کرتا ہے اور اس قدیم علمی روایت میں فکری ارتقاء نہ صرف مطلوب بلکہ قابل تحسین بھی ہے۔آج کے دور میں اس روایت کو قائم رکھنے والے یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح ماقبل جدیدیت کی اسلامی ابحاث آج کے دور سے متعلق ہوتی ہیں اور کس طرح ان میں  تطبیق دی جا سکتی ہے اور کس طرح جدید اور قدیم میں ہم اہنگی تلاش کی جا سکتی ہے۔آج اسلام اور مغرب کے مستند اور مشترک حوالوں کی  تلاش اس  روایت کا مطمح نظر ہے۔یہ روایت اسلام اور مغرب کے مقام انقطاع اورمقام اتصال کی  فراہمی کے لیے سنجیدہ کوشش ہے۔


[1] Christopher Melchert, “THE PIETY OF THE HADITH FOLK” International Journal of Middle East Studies, Vol. 34, No. 3 (Aug., 2002), pp. 425-439
Published by: Cambridge University Press
Stable URL: http://www.jstor.org/stable/3879670 .
Accessed: 30/03/2011 20:11,P, 248.

 [2] Architects of Civilisation : Ibn Ḥanbal July 2014 Aḥmad Ibn Ḥanbal – TRADITIONALIST and FAQĪH Karim D. Crow & Mohd Fariz Zainal Abdullah.

[3] Christopher Melchert, “THE PIETY OF THE HADITH FOLK” International Journal of Middle East Studies, Vol. 34, No. 3 (Aug., 2002), pp. 425-439
Published by: Cambridge University Press
Stable URL: http://www.jstor.org/stable/3879670 .
Accessed: 30/03/2011 20:11,p, 249.

 [4]  Schuon Frithjof, The Transcendent Unity of Religions, Quest Books Theosophical Publishing House (Wheaton, Illinois + Chennai (Madras), India, 2005) P.25.

[5] روایت کا ایک ترجمان: رینے گینوں، فکریات مترجم ڈاکٹر تحسین فراقی، مجلس ترقی ادب لاہور، ص 150

[6] Eaton Gai, The Richest Vein: Eastern Tradition and Modern Thought, Suhail Academy Lahore Pakistan, 2004), P .186.

[7] Asad, Talal, “Thinking About Tradition, Religion, and Politics in Egypt Today” http://criticalinquiry.uchicago.edu/thinking_about_tradition_religion_and_politics_in_egypt_today/#_ftnref2

[8] Asad, Talal, “Thinking About Tradition, Religion, and Politics in Egypt Today” http://criticalinquiry.uchicago.edu/thinking_about_tradition_religion_and_politics_in_egypt_today/#_ftnref2

[9] Schuon Frithjof, The Transcendent Unity of Religions, Quest Books Theosophical Publishing House (Wheaton, Illinois + Chennai (Madras), India, 2005) P.24.

[10] Asad, Talal, “Thinking About Tradition, Religion, and Politics in Egypt Today”
http://criticalinquiry.uchicago.edu/thinking_about_tradition_religion_and_politics_in_egypt_today/#_ftnref2

[11] Asad, Talal, “Thinking About Tradition, Religion, and Politics in Egypt Today” http://criticalinquiry.uchicago.edu/thinking_about_tradition_religion_and_politics_in_egypt_today/#_ftnref2

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: