اس موگ‘‘ Smog کا ڈر اور صبح کے غمخوار: آصف محمود

0
  • 12
    Shares

جاڑا آتا ہے تو گاؤں کی یاد ساتھ آتی ہے، مرغ سحر کی اذان سے آپ جاگ جاتے ہیں، صحن میں نکل کر دیکھتے ہیں تو دھند سفید بادلوں کی طرح اڑتی پھرتی ہے، آپ گھر سے باہر آتے اور کھیتوں کھلیانوں پر نظر ڈالتے ہیں لیکن کینو کے باغ کو جانے والی پگڈنڈی کے نکتہ آغاز کے سوا کچھ دکھائی نہیں آتا، گھر کے صحن سے مرغ کی اذان کے ساتھ اب کٹ کٹ کٹاک کی موسیقی بھی بلند ہونا شروع ہو جاتی ہے اور گھر کے سامنے بوڑھے درخت کی دھند میں ڈوبی شاخوں سے چڑیوں کی شوخ چہچہا ہٹ آپ کو زندگی کا احساس دلاتی ہے۔ آپ یخ بستہ دھند کی کسی آوارہ ٹکڑی کو اپنی طرف آتے دیکھ کر گہرا سانس لیتے ہیں اور اسے اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ جن لوگوں نے گاؤں کی یہ پرستان صبحیں دیکھ رکھی ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سورہ رحمان کی تفسیر بن کر دھرتی پر اترتی ہیں: اور تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

کفران نعمت بھی دیکھیے، دھند کی جگہ اب ’’سموگ‘‘ ہے جو ہم پر اتر رہی ہے۔سموگ شہر کو لپیٹ میں لیٹی ہے تو گاؤں کی وہ دھند میں لپٹی صبحیں اور شامیں یاد آتی ہیں۔کہاں وہ دھند کہ سانس معطر ہو جاتی تھی، کہاں یہ ’’سموگ‘‘ کہ دم گھٹ جاتا ہے۔ہماری ہوس نے ہم نے موسموں کا حسن بھی چھین لیا۔ کوڑھ مغز حکمران اپنی عوام کو خود تو کچھ دے نہ سکے وہ نعمتیں بھی چھین لیں جو قدرت نے اپنے بندوں کو دے رکھی ہیں۔
ہم نے درخت کاٹنا شروع کر دیے، جنگل کے جنگل کاٹ کر اہل ہوس نے ڈرائنگ رومز کی تزئین و آرائش کر لی۔ قیمتی لکڑی کو یہ طبقہ دیمک بن کر چاٹ گیا۔زرخیز زمینوں میں ہم نے ہاوسنگ کالونیاں بنا لیں، پانی کی شفاف ندیوں میں ان کالونیوں کا سیوریج ڈال دیا گیا۔باقی شہروں کو تو چھوڑیے اسلام آباد کو اس کا میئر لاحق ہو چکا ہے۔ ایسی سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے اس بے رحم اور سفاک انسان نے درخت کٹوا پھینکے جس سڑک پر آج تک کسی نے ٹریفک کا رش نہیں دیکھا۔یہ سڑک عملا دو رویہ ہے اور اس کے بیچ میں گرین بیلٹ ہے۔ریڈ زون کے پہلو میں واقع سڑک کو چوڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟یہ وہ سوال ہے جس کا کسی کے پاس جواب نہیں۔

ٹرکوں پر اب لکڑی لاد کر جب ان کے انجن سٹارٹ ہوتے ہیں تو سوچتا ہوں یہ لکڑی کس کے گھر جا رہی ہے؟ ان قیمتی درختوں پر کس کی اوباش نظر تھی؟ اور کیا ان کو کاٹے جانے کی کہانی بھی بس اتنی تو نہیں کہ کسی صاحب منصب کا اس لکڑی پر دل آ گیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر برادر م علیم عباسی نے انکشاف کیا کہ میئر اسلام آباد نے خود کو خود ہی ایک عدد پلاٹ الاٹ کر دیا ہے۔تو کیا یہ لکڑی اس پلاٹ پر کھڑے ہونے والے محل کی آرائش میں استعمال ہونی ہے؟یہ بربریت سپریم کورٹ تک پہنچی تو عدالت نے سوال اٹھایا: ’’ کیا سی ڈی اے کا کام ماحول تباہ کرنا ہے اور کیا سی ڈی اے میں کوئی شرم و حیاء نہیں‘‘؟ یاد رہے کہ سی ڈی اے کا چیئر مین بھی یہی شخص ہے جو نامعلوم خدمات کی بنیاد پر میئر اسلام آباد بنا دیا گیا۔ٹھیکیدار قسم کی کاروباری سوچ کے لوگ جب صاحب منصب بنا دیے جائیں تو ایسے ہی حادثات جنم لیتے ہیں۔

اسلام آباد سے مری کی طرف جائیں تو دل ڈوبنے لگتا ہے۔ دائیں جانب تا حد نظر جنگل کاٹے جا چکے ہیں اور ہاوسنگ سوسائٹیوں کا آزار اتر آیا ہے۔کسی میں جرات نہیں ان سوسائٹیوں کو اس قتل عام سے روکے۔ ان کے آگے ریاست کی بے بسی کی کہانی سب کو معلوم ہے، لیکن قصہ وہی ہے کہ شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے۔مارگلہ کے پہاڑ ہم دیوانوں کی محبت ہیں کہ ان کی پگڈنڈیوں پر، ان کے درختوں کے چھاؤں میں، ان کے طویل اور خاموش راستوں پر اپنی جوانی کے سندر ایام جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔اگلے روز بچوں کو لے کر مارگلہ آیا اور طے پایا کہ جیت اس کی ہو گی جو زیادہ تتلیاں ڈھونڈے گا۔ تتلیاں تو کم نظر آئیں لیکن جا بجا کوڑے کے ڈھیر میئر اسلام آباد کو خراج عقیدت پیش کرتے نظر آئے۔سیاحوں کی جہالت بھی کچھ کم نہیں، اوجھری بھرتے ہیں اورکوڑا وہیں چھوڑ جاتے ہیں لیکن سی ڈی اے کا عملہ کہاں ہے؟کیا اس کا کام صرف مال مفت کے امکانات پیدا کرنا ہے؟سپریم کورٹ نے ٹھیک ہی تو کہا یہ کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ہے یا کیپیٹل ڈسٹرکشن اتھارٹی؟سوال یہ ہے کیا اسلام آباد میئر اسلام آباد کو مالِ غنیمت میں دے دیا گیا ہے کہ جاؤ بابو عیش کرو تم میاں صاحب کے وفادار ہواور میاں صاحب نے مارگلہ کے دامن میں پھیلی ساری جاگیر تمہیں بخش دی؟

کول پراجیکٹس دنیا بھر میں بند ہو رہے ہیں، ہمارے کمالات دیکھیے ہم اپنے ہاں انہیں لگائے جا رہے ہیں۔اور لگا بھی کہاں رہے ہیں؟ ساہیوال جیسے زرعی اور زرخیز علاقے میں تا کہ ماحول کے ساتھ ساتھ زراعے کا بھی بیڑہ غرق ہو جائے۔لوگوں کو ٹی بی ہوتی ہے تو ہوتی رہے، لوگ دمے سے مرتے رہیں تو مرتے ہیں، پھیپھڑوں میں زہر اترتا ہے تو اترتا رہے تجربہ کاروں کی تجربہ کاریوں پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس سے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

درخت ہم نے کاٹ پھینکے، مافیا طاقتور ہے، فارسٹ آفیسر قتل ہو جائے تو ٹاک شو یا بریکنگ نیوز تو کیا اندر کے صفحات پر بھی کوئی خبر شائع نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ نکلا کٹاؤ سے مٹی پھسل پھسل کر دریاؤں میں شامل ہوتی گئی اور پانی کا بہاؤ کم ہوتا گیا۔صرف تربیلا ڈیم میں پانی کے ساتھ ہر روز پانچ لاکھ ٹن مٹی آ رہی ہے۔تربیلا میں پانی کا ذخیرہ کرنی کی صلاحیت 9.6 ملین ایکڑ فٹ تھی جس میں سے 3.6 ملین ایکڑ فٹ پر مٹی جمع ہو چکی ہے اور اس کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 6 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے۔یہی حال رہا تو کچھ عرصہ بعد اس ڈیم میں صرف مٹی ہو گی۔دریائے جہلم اور دریائے کابل میں پانی کا بہاؤ تاریخ میں کبھی اتنا کم نہیں ہوا تھاجتنا اس وقت کم ہو چکا ہے۔جہلم میں اوسطا دس ہزار کیوسک پانی ہوتا تھا اب چھ ہزار رہ گیا اور کابل کی حالت یہ ہے کہ اس میں سات ہزار کیو سک پانی ہوتا تھا تو کم ہو کر سولہ سو کیوسک رہ گیا ہے۔ لیکن باوجود اس کے کہ پانی کم ہو رہا ہے ہمارے کمالات دیکھیے کہ ہم اس کو بھی ذخیرہ نہیں کر پا رہے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان دستیاب پانی کا کتنے فی صد ذخیرہ کر پاتا ہے؟آپ چاہیں تو سر پیٹ لیں اس کا جواب ہے کہ صرف دس فی صد۔ہر سال ہمارا29 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔بی بی سی کے مطابق اس ضائع ہونے والے پانی کی قیمت 21 ارب ڈالر ہے۔ہم یہ نقصان بڑے مزے سے برداشت کر رہے ہیں لیکن ہم ایک کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکے۔کیا کبھی ہم نے سوچا اس ڈیم کو کس نے اور کیوں متنازعہ بنایا؟یہ محض داخلی سیاست کا شاخسانہ ہے یا اس میں کچھ اور طاقتوں کے کمالات بھی ہیں؟ہم تو اس پر کھل کر ایک مکالمہ ہی نہیں کر سکے کہ عام آدمی یہ تو جان سکے کہ یہ منصوبہ کیا ہے اور اس کے مخالفین کسی کے اشارے پر ناچ رہے ہیں یا ان کے موقف میں کچھ وزن ہے۔ایک زمانے میں اپنے طور پر میں نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی اور مرحوم حاجی عدیل اور واپڈا کے چیئر مین جناب شمس الملک سے اس موضوع پر تفصیلی بات کی تھی۔ہو سکتا ہے میں غلط سمجھا ہوں،لیکن میرا تاثر یہ تھا کہ شمس الملک دلیل کی بنیاد پر بات کر رہے تھے اور کالاباغ ڈیم کے حق میں تھے جب کہ مرحوم حاجی عدیل اس کے مخالف تھے مگر ان پاس دلیل کم اور نفرت کا عنصر زیادہ تھا۔

خیر چھوڑیے ان معاملات کو، یہ سنجیدہ چیزیں ہیں۔اس وقت حکومت کی توجہ کچھ اور اہم امور پر ہے تو جناب ٹی وی آن کیجیے، نواز شریف کی مدح میں وزرائے کرام کے قصیدے سنیے اور سر دھنیے۔اور ہاں، سموگ سے مت ڈریے، یہ تو تجربہ کاروں کے قدموں کی دھول ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: