یونگ فراؤ (سفری خاکہ) سلمان باسط

1

حسن اور زیبائی کی تشریح ممکن نہیں۔ اس کا ہر رنگ آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا اورہر ادا دل موہ لینے والی ہوتی ہے۔ دنیا کے حسین ترین ملک سوئٹزرلینڈ کا ایک حسین ترین خطہ انٹرلاکن ہے۔ بارہ نومبر کی صبح ہم بذریعہ ٹرین سینٹ گالن سے انٹر لاکن کے لیے روانہ ہوئے۔ حسنِ فطرت کے اس شہکار کو دیکھنے کے لیے ہمیں طویل سفر کرنا پڑا۔ سنیٹ گالن سے زیورخ ایک گھنٹے کا سفر۔ راستے میں ول اور ونٹر تھور کے خوبصورت شہروں میں ٹرین کا مختصر سا سٹاپ تھا۔ سوئٹزرلینڈ کی قدرتی خوبصورتی خزاں اوڑھ چکی تھی۔ بھورے سرخ زرد اور پیلے رنگ کسی پینٹنگ میں ماہر مصور کے عمدگی سے لگائے گئے سٹروکس کی طرح آنکھوں میں اتر رہے تھے۔ زیورخ ایک بہت بڑا اور خوبصورت شہر ہے لیکن اس وقت ہماری منزلَ مقصود چونکہ اور تھی اس لئے شہر کی خوبصورتی سے نظریں چراتے ہوئے ہم برن جانے والے ٹرین کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔

ہمیں سفر جاری رکھنے کے لیے دوسری ٹرین پکڑنا پڑی۔ یہ ٹرین بھی بے وفا ثابت ہوئی اور ایک گھنٹے کے سفر تک ساتھ نبھانے کے بعد سوئٹزلینڈ کے دارلحکومت برن میں ہم سے پلو چھڑا کر کسی اور سمت مڑ گئی۔ وہاں سے ایک ٹرین ہمیں انٹر لاکن تک لے جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔ انٹر لاکن سوئٹزرلنیڈ کے صوبے سولو تھون کا ایک انتہائی دلکش مقام ہے۔ تھون لیک اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ ریلوے ٹریک کے ساتھ ساتھ چلتی یہ جھیل قدرت کی صناعی کا ایک ایسا نمونہ ہے جس کی مثال ممکن نہیں۔ رنگ بدلتی جھیل اور سفیدی اوڑھے پہاڑ ہمارے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ راستے میں چھوٹے چھوٹے قصبات آتے رہے جن کے مختلف رنگوں کی چھتوں والے مکانات اپنی دلفریب چھب دکھا کر گزرتے وقت کے ساتھ ہوا ہو جاتے اور ہم آگے بڑھ جاتے۔ وقت ایسا ہی ظالم ہے۔ کسی جگہ جی بھر کے ٹھہرنے نہیں دیتا۔ کسی منظر کی دلکشی کو زیادہ دیر تک آنکھوں میں اتارنے کی اجازت نہیں۔ پڑاؤ ممکن ہی نہیں۔ “چلنا چلنا مدام چلنا”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہی زندگی ہے۔ ہم بھی وقت کی ڈور کے ساتھ بندھے آگے بڑھتے رہے۔

معروف افسانہ نگار، شاعرہ اور “برف کی عورت” کی مصنفہ شاہین کاظمی نہ صرف میری میزبان تھیں بلکہ اس سفر میں میری گائیڈ کے فرائض بھی انجام دے رہی تھیں۔ ہر سٹیشن پر ایک ٹرین سے اتر کر دوسری ٹرین میں بھاگ کر سوار ہونا ان کے لیے معمولی بات تھی مگر مجھ ایسے تن آسان اور بھاری بھر کم شخص کے لیے ان کی اس بھاگم بھاگ سرگرمی کا ساتھ دینا ممکن نہ تھا۔ شاہین ہر سٹیشن پرتقریبا” بھاگ کر دوسری ٹرین کا تعاقب کرنے میں منہمک ہو جاتیں۔ میں کوشش کے باوجود بوجوہ ان کی اس بھاگ دوڑ میں شریک نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ کچھ آگے جا کر ٹھہر جاتیں اور مجھے ٹرین چھوٹ جانے کے خوف کا احساس دلاتیں مگر مجھے ٹرین چھوڑ دینا منظور تھا لیکن اس مشقت میں خود کو ڈالنا قبول نہ تھا۔ برف کی عورت پگھلنے لگتی اور چہرے پر ناگواری اور جھنجلاہٹ کے تآثرات آویزاں کیے وہیں رک جاتی۔ میں زمانوں بعد وہاں پہنچتا تو وہ پچھلے تجربات بھول کر پھر سے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو جاتی۔ میں کسی ہیجان کے بغیر اپنی اسی خراماں خراماں چال سے چلتا رہتا۔ یوں کچھوے اور خرگوش کی یہ دوڑ جاری رہتی اور بالآخر کچھوا اور خرگوش دونوں ایک ہی وقت میں ایک ہی گاڑی پکڑنے میں کامیاب رہتے۔ کچھوا فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ خرگوش کی طرف دیکھتا تو خرگوش اپنی تمام تر مستعدی کے باوجود ہار جانے پر خفت کے باعث جھینپ کر نظریں چرا لیتا۔

برن سے انٹر لاکن گرینڈل والڈ اسٹیشن ایک گھنٹہ کی مسافت پر تھا۔ وہاں اتر کر ہم پوسٹ بس کے ذریعے لاؤتر بروونن پہنچے جو یونگ فراؤ کا بیس کیمپ تھا۔ لاؤتر بروونن پہاڑوں میں گھرا ایک خاموش سا قصبہ تھا۔ اس کے نام نے مجھے چونکا دیا۔ لاؤتر بروونن یعنی بلند آہنگ جھرنا۔ عجب موسیقیت سی لئے ہوئے تھا۔

ہمارے اردگرد کا تمام علاقہ برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ قدرت نے ایک فرض شناس ہاؤس کیپر کی طرح ہر منظر کو ایک سفید چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ دھوپ نکلتی تو یہی برف کی چادر آنکھیں چندھیانے لگتی۔ میں اپنی آنکھوں کا سن گلاسز سے دفاع کرتا مگر قدرت کو بے حجابانہ دیکھنے کے لطف سے محروم ہونا مجھے گوارا نہ تھا۔ میں چشمہ اتارتا اور اپنی آنکھوں کے زینوں سے اس حسن کو دل کے تہہ خانے میں اتارنے لگتا۔ میرے پاس وقت کم تھا اور حسن لامحدود تھا۔ آنکھوں کی ڈبیا میں جتنا حسن بھرا جا سکتا تھا، میں بھرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ بدن کو چیر دینے والی سرد ہوا ہڈیوں میں اتر رہی تھی۔ سردی سے بچاؤ کی خاطر کی گئی میری تمام کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔ انسان کے ہاتھوں بنے گرم کپڑے، کوٹ اور اوور کوٹ قدرت کے سامنے بے بس تھے اپنی عاجزی کا اظہار کر رہے تھے۔ میں بار بار اوورٹ کوٹ کے کالر اوپر کرتا، مفلر سے گردن اور سینے کو ڈھانپتا۔ دونوں ہاتھوں کو باہم رگڑتا اور اوور کوٹ کی جیبوں میں ڈالتا مگر برفیلی ہوا رگ و پے میں اترتی رہتی۔ بالآخر میں نے ہتھیار ڈال دیے اور برف سے ڈھکے مناظر کو دیکھنے اور اپنے کیمرے میں قید کرلینے میں مشغول ہو گیا۔

چوٹی تک پہنچنے کے لیے ہمیں چار کیبل کارز کے ذریعے اوپر جانا تھا۔ شدید سردی کے باوجود دنیا بھر سے سیاح اس برف پوش چوٹی کو دیکھنے کے لیے امڈ آئے تھے۔ بلندی کی طرف جاتے ہوئے بھی فطرت قدم قدم پر رخ سے نقاب الٹ رہی تھی۔ سیاحوں کے کیمرے مسلسل کلک کر رہے تھے۔ ڈھلوانوں پر بنے مکانات اور ان کو جانے والے راستے مکمل طور پر برف سے ڈھکے ہوئے تھے۔ برفیلی ہوا سرگوشیوں میں بتا رہی تھی کہ موسمِ گرما میں یہاں کے مکین بھی زندگي کی ہما ہمی میں مگن رہتے تھے مگر اب موسمِ سرما کی حکومت تھی جس کا مطلب صرف اور صرف جمود تھا۔ اس جمود کو توڑتے ہوئے کئی سکئیرز لہو گرم رکھنے کی خاطر بلندی سے انتہائی سرعت کے ساتھ نیچے کی طرف جا رہے تھے۔ ان کے علاوہ حسین رنگوں والے چھاتے لیے بہت سے پیرا گلائیڈرز بھی آسمان کی وسعتوں سے برف کی چادر کی جانب محوِ پرواز تھے۔

تقریباََ دس ہزار فٹ کی بلندی پر فطرت کے حسن کا انداز مبہوت کر دینے والا تھا۔ یونگ فراؤ (jungfraujoch) کا نام بھی بہت دلچسپ تھا۔ کنواری دوشیزہ۔ اس کنواری دوشیزہ کی ہوشربا زیبائی میری آنکھوں کے سامنے تھی اور میں سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا۔ چاروں جانب برف نے اپنی حکمرانی کا سفید جھنڈا نصب کر رکھا تھا۔ لوگ تصویریں بنا رہے تھے اور زندگی کے عسرت زدہ لمحوں کے لیے یہ خزانہ جمع کرنے میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی تصویریں بنائیں۔ میں نے کیمرا آنکھوں پر رکھے رکھے گھمایا تو ایک بہت ہی منفرد منظر نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ سیاحوں کی خاطر ماحول کا نظارہ کرنے کے لیے جگہ کے گرد بنائی گئی ریلنگ پر ایک سیاہ رنگ کا کوا بیٹھا تھا۔ اس سیاہ کوے کے عقب میں مکمل سفیدی تھی۔ ہر طرف سفید برف، کانوں میں سیٹیاں بجاتی، سنسناتی ہوئی سرد ہوا اور اکیلا سیاہ کوا۔ جانے یہ کوا رزق کی تلاش میں یہاں کیسے آ نکلا تھا۔ یہاں تو ایک دانہ تک ملنے کا امکان نہ تھا۔ میں رازقِ کائنات کی فیاضی اور اس کے اس بھید سے نا آشنا تھا مگر اس منظر کو تصویر ضرور کر لیا۔ تاحدِ نظر برف کا سمندر تھا۔ جہاں تک بصارت کام کرتی تھی کوئی اور منظر نظر نہ آتا تھا۔ جہاں بھی نظر جاتی افق پر آسمان اور برف آپس میں گلے ملتے نظر آتے۔ ہم دیر تک برف کی اس حکمرانی سے لطف کشید کرتے رہے۔ پھر وہی ہوا۔ کُوچ کا وقت آپہنچا۔ نقارے پر چوٹ پڑ گئی۔ مجھے اس حسن سے منہ موڑنا پڑا۔ ہم چوٹی پر بنے ہوئے ریستوران کی اندر سرک آئے۔ باہر کی یخ بستگی سے بچ کر ایک کونے میں بیٹھ کر سین وچز اور کافی سے بدن کو کچھ حدت پہنچائی. آخر کار اپنا مختصر اسباب اٹھایا، کنواری دوشیزہ کی جانب الوداعی ہاتھ ہلایا اور بوجھل قدموں کے ساتھ نیچے جانے والی کیبل کار میں سوار ہو گئے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: