سیاہ کار ——– عماد بزدار

0

اپنے دوست شاذان کو اوطاق میں گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز شاہد اس بات پر خوش تھا کہ با لآخر اس کی قبائلی علاقے کو قریب سے دیکھنے کی خواہش پوری ہو گئی۔ شاذان تو عرصے سے کہہ رہا تھا لیکن ہر دفعہ چھٹیوں پر کوئی نہ کوئی کام یا مصروفیت آڑے آجاتی تھی جس کی وجہ سے اسے اپنا یہ فیصلہ بار بار مؤخر کرنا پڑتا تھا۔
.
پلاؤ  بلوچی سجی اور کاک کھانے کے بعد ترخا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے قبائلی سیٹ اپ کو سمجھنے کے لئے لوگوں کی مصروفیات، مشاغل اور ذرائع معاش بارے شاہد, شاذان اور میرھان کی گفتگو جاری تھی۔ابھی کچھ ہی دیر پہلے انکل بالاچ یہ کہہ کر اندر چلے گئے کہ تم نوجوان اپنی گپ شپ جاری رکھو میں جا کر سوتا ہوں۔
.
کل کے حوالے سے پروگرام ترتیب دیا جا رہا تھا کہاں کہاں جانا ہے کس کس سے ملنا ہے کہ اچانک رات کے اس پہر فضا گولیوں کی تڑ تڑاہٹ سے گونج اٹھی. شاہد کے چہرے پر خوف اور پریشانی کے آثار دیکھ کر میرھان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کریں یہ یہاں کے لئے معمول کی بات ہے ۔ ۔ ۔ ابھی پتا کرتے ہیں کہ کیا مسئلہ ہے؟؟
پھر شاذان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا ادا! لگتا ہے “نازوانیوں” (قبیلے کا نام) کے گھروں کے قریب سے فائرنگ ہو رہی ہے. شاہد کو تسلی دے کر میرھان اور شاذان اندر سے بندوقیں اٹھا لائے اور باہر نکل گئے.
.
تقریبا 15 سے 20 منٹ تک مسلسل فائرنگ ہوتی رہی پھر گولیوں کی آواز آنا بند ہو گئی اور پھر شاہد کو یوں لگا جیسے بہت سارے لوگ زور زور سے بول رہے ہوں…گھنٹے بعد دونوں بھائیوں کی واپسی ہوئی ۔
.
ان کے آنے پر تمام قصہ معلوم ہوا کہ مراد کی بیوی ماہ رخ کو “عاشقانیوں’ کے شاہ علی کے ساتھ کالی قرار دے دیا گیا۔ مراد کے بقول اس کی آنکھ اس کے چھ ماہ کے بیٹے کے رونے پر کھلی تو دیکھا ماہ رخ ساتھ والی چارپائی سے غائب ہے۔ بندوق اٹھا کر گھر سے باہر نکل آیا تو دیکھا کہ ماہ رخ کھیتوں کی طرف جا رہی ہے. دوسری طرف سے اسے شاہ علی آتے ہوئے نظر آئے۔ اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی وہیں اس نے شاہو کو گالی دے کر اس پر فائرنگ شروع کر دی۔ چونکہ جوار کی فصل تیار کھڑی تھی ماہ رخ دوڑ کر کھیتوں میں چھپ گئی۔ شاہ علی نے چھلانگ لگا کر درخت کی آڑ لی اور جوابی فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی فائرنگ اور فصلوں کی آڑ لیکر شاہ علی عرف شاہو بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ البتہ ماہ رخ کا کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں ہے.”

“تو اب کیا ہوگا؟” شاہد کا سوال تھا
“ہونا کیا ہے؟ بلوچ غیرت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا”۔ میرھان نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔ ۔ “اگر تو “کالا کالی” گولیوں کی زد میں آ جاتے تو مسئلہ اس وقت حل ہو چکا ہوتا اب جبکہ دونوں بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تو “فیصلہ” تک سیاہ کار سامنے نہیں آ سکتا اگر نظر آئے تو مار دیا جائے گا ۔ ۔خیر اس وقت آپ آرام کریں سفر بھی کیا اور رات بھی کافی ہو چکی ہے. اس پر مزید کل بات کریں گے ۔” میرھان تو یہ کہہ کر اندر چلا گیا شاہد اور شاذان بھی اپنے بستروں پر آکر لیٹ گئے ۔

اسی “سیاہ کاری” رسم بارے سوچتے سوچتے شاہد کی آنکھ لگ گئی ۔ ۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی. ناشتے سے فارغ ہو کر شاذان نے باہر چلنے کو کہا ۔ ۔ ۔ اوطاق سے باہر دیوار کے سائے میں چھوٹے چھوٹے پتھروں پر شاذان کے رشتے دار اور قبیلے کے دوسرے لوگ بیٹھے تھے ۔ موضوعِ بحث رات والا واقعہ تھا، دونوں بھی سلام کر کے وہیں بیٹھ گئے.
.
عاشقانی (قبیلہ) سیاہی ماننے کو تیار نہیں ۔ ۔ ۔ محفل میں موجود ایک شخص نے کہا ۔ ۔
۔”کیا مطلب؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” گھنی داڑھی مونچھوں والے دوسرے بندے نے ناگواری سے پوچھا؟ باں بقول ان کے شاہو کہتا ہے وہ کل صبح کچھ بھیڑ بکریاں بیچنے کی غرض سے دوسرے علاقے لے گیا واپسی میں اسے دیر ہو گئی “نازوانیوں” کے گھروں کے نیچے سے گزرتے ہوئے وہ اپنے گھر جا رہا تھا کہ اچانک اسے مراد کی گالی سنائی دی ورنہ وہ تو راستے سے گزر رہا تھا.
.
“سیاہی یہہ واہی اے ایں” ایک دفعہ مرد نے کہہ دیا تو دنیا کی کوئی طاقت اسے سفید نہیں بنا سکتی ۔ ۔ کیا یہ بات بھی اب عاشقانیوں کو بتانے کی ضرورت پڑ گئی ؟ کیا بلوچ اپنی صدیوں پرانی رسم و رواج اور ناموس و غیرت کو پسِ پشت ڈال دیں؟” گھنی داڑھی مونچھوں والے نے تندو تیز لہجے میں جواب دیا ۔ ۔
.
شاہد کے لئے یہ سب حیرت انگیز تھا کہ ثبوت و تحقیق کے بجائے اس عمل کو اس لئے جائز قرار دیا جا رہا کہ یہ رسم صدیوں سے رائج ہے.

“سنا ہے مراد کی بیوی فصلوں میں چھپ کر بیٹھ گئی اور موقع پا کر ماسی تاجو کے گھر پہنچ گئی اور اسے خدا رسول کا واسطہ دے کر اپنی جان بچانے کی درخواست کی؟” دوسرے کونے سے ایک اور آواز شاہد کے کانوں میں ٹکرائی.” اچھا؟ تو اب کہاں ہے؟ کسی نے پوچھا. “ماسی تاجو نے راتوں رات اسے سردار پیرو کے گھر پہنچا دیا” دوسرے نے جواب دیا
.
کافی دیر تک ایسی باتیں ہوتی رہیں کہ دن کے کھانے کا وقت ہو گیا سب لوگ اٹھ کر جانے لگے . شاہد اور شاذان بھی اندر آ گئے. اندر آتے ہی شاہد نے سوال داغ دیا ۔ ۔ لیکن یار اس جھگڑے کاحتمی نتیجہ کیا نکلے گا؟
.
“.سب سے پہلے تو شاہ علی کو سیاہی تسلیم کرنی پڑے گی اس کے بعد جرگہ فیصلہ کرے گا ۔ ۔ تب تک شاہو باہر نہیں آ سکتا اور ماہ رخ سردار کے گھر رہے گی. ” اور اس کا شیر خوار بچہ اسے پہنچادیا گیا؟”
“نہیں تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو اب ماہ رخ کو” “نہیں ملے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
“کیا مطلب؟ بالفرض ماں سے کوئی گناہ سرزد ہوا بھی تو اس کی سزا اُس معصوم بچے کو کیوں دی جائے گی.” ۔ ۔ ۔
“یہی کچھ ہوتا آ رہا ہے یار ۔ ۔ ۔ پہلے بھی یہی کچھ” ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ غیرت رسم و رواج کی پابندی کے نام پر بلوچ کے لیئے سمجھوتہ کرنا مشکل ہوتا ہے”..
.
ابھی اندر گیا تو امی، جسے ماسی تاجو نے بتایا کہ ماہ رخ قسمیں اٹھا رہی تھی کہ وہ ضرورتا گھر سے باہر نکلی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے اوپر الزام جان کے خوف اور بچے کی جدائی پر کتنی دفعہ وہ بے ہوش ہوگئی اور بار بار یہی کہے جا رہی کہ پتہ نہیں اسے کس ناکردہ گناہ کی سزا ملی ۔ ۔ 18 سال کی تو ہے ابھی ۔ ۔ ۔اس کی شادی کو بھی بمشکل ڈیڑھ سال ہو گیا..میں نے تو سنا ہے سردار کے بیٹے بھی بد کردار ہیں پتہ نہیں اس کی عزت بھی وہاں محفوظ رہے گی کہ نہیں.”

” توجب شاہ علی سیاہی تسلیم کرے گا اس کے بعد “فیصلے میں کیا ہوگا؟ کیا اُن کے بڑے آ کر اِن سے معافی مانگیں گے؟؟شاہد نے اگلا سوال داغ دیا”.
.
” فیصلے میں معززین مل بیٹھیں گے اور “ہتک” “(پیسے) طے کریں گے جو شاہ علی ماہ رخ کے والد کو دینے کا پابند ہو گا.”
.
حیرت زدہ شاہد پوچھنے لگا ۔ ۔ کیا مطلب کس بات کے پیسے لئےجائیں گے؟؟
.”جی بس…”
.اور ماہ رخ کب تک سردار کے گھر رہے گی؟؟”
جب فیصلے کے پیسے شاہو ماہ رخ کے والد کو ادا” کرے گا تو پھر مراد کی مرضی جہاں ماہ رخ کو بیچ دے ۔ ۔”
.
اب شاہد کو 1000 وولٹ کا جھٹکا لگا ۔ ۔ “۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔ ۔ ۔ کہ پہلے لڑکی کے والد کو پیسوں کی ادائیگی ہو گی اس کے بعد شوہر اپنی اسی بیوی کو بیچ دے گا ۔ ؟”
.
” جی ۔ ۔ ۔ والد کا پیسے ملنے کے بعد بیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہو گا. اس کے بعد شوہر کی مرضی ہوتی ہے جہاں بیچ دے یا مفت میں کسی کے حوالے کرے… کسی بوڑھے سے یا جوان سے. میں نے تو سنا تھا کہ 60 سالہ چاچا ہوران کب سے پیسے اکٹھا کر رہا ہے کہ کوئی لڑکی کالی ہو تووہ بھی اپنا گھر بسا لے.”

..” حیرت ہے تم کس آسانی سے مجھے یہ بتا رہے ہو ۔ ۔ ۔ تمھارے لئے جیسے یہ سب کچھ معمول کی بات ہے ۔ ۔ یار تم جیسے پڑھے لکھے بندے نے بھی ایسے قبیح رسموں پر منطقی طور پر سوچنے کی کوشش نہیں کی؟؟ یار ! آنکھوں اور ذہن پر رسم و رواج کی پٹی باندھ کر تم لوگ کس قدر خود پرستی کا شکار ہو ۔ ۔ ۔ مجھے ہر وقت سناتے رہتے ہو کہ تم شہری بابوؤں کو کیا پتا غیرت کیا چیز ہوتی ہے؟تم لوگوں کی بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں جب چاہیں میک اپ کر کے شاپنگ پر جاتی ہیں. پکنک مناتی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں.” .
.
“آج یہاں آئے مجھے دوسرا دن ہے ہر بندہ غیرت غیرت کی رٹ لگائے بیٹھا ہے. ایسی لنگڑی غیرت سے ہم شہری بابو بے غیرت ہی اچھے جس غیرت کے نام پر پہلے لڑکی کا باپ پیسے بنائے پھر اس کا خاوند اس کے آرزوؤں کا خون کر کے کسی 60 سالہ بابے کے کھونٹے باندھ کر اپنے دام کھرے کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دلال بھی کسی طوائف کو دو جگہ بیچ کر پیسے نہیں کماتا ……پھر بھی غیرت کے جملہ حقوق تم لوگوں کے نام محفوظ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔افسوس ۔ ۔”

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: