میری زہرہ جبینیں “تجھے زمین پر اتارا گیا ہے میرے لئے” — شکور پٹھان

0
  • 162
    Shares

ساحر کی بات سے کون انکار کرسکتا ہے۔ اور ساحر ہی کیا، بہت پہلے اقبال بھی کہہ گئے تھے کہ

” وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ”

قدرت کے کارخانے میں کوئی چیز بے وجہ نہیں۔ خالق نے آدم کے ساتھ ہی حوا کو بھی تخلیق کیا اور آدم کو دنیا میں بھی اکیلا نہیں بھیجا۔۔۔ حوا نہ ہوتی تو آدم اس سنسان بیابان میں شاید ایک پل بھی نہ جی پاتا۔
حیرت ہوتی ہے ان پر جو عورت سے تعلق کو ایک اجنبی روپ دیتے ہیں۔ جو دنیا کے سامنے یہ مانتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ کبھی ان کا بھی تعلق کسی عورت سے رہا ہے یا کبھی کسی عورت کی چاہ رہی ہے۔ یہ وہ ہیں جو کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں، یا پھر کسی فنی خرابی کا شکار ہیں۔ اور اگر کبھی کوئی تعلق رہا بھی ہو تو اسے گناہ کی طرح چھپاتے ہیں۔

خیر مجھے اوروں سے کیا مطلب۔ مجھے یہ کہنے میں ذرہ برابر باک نہیں کہ ہر دور میں عورت میری زندگی میں شامل رہی اور آج بھی کئی عورتیں میری زندگی کا حصہ ہیں۔ یہ اگر نہ ہوتیں تو یہ جیون بڑا ہی کٹھن ہوتا۔ جگر کی بات دل کو لگتی ہے

اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گذرے
تو پھر یہ کیسے کٹے زندگی کہاں گذرے

گولڈن گرلز
الحمدللّٰہ میری زندگی میں زہرہ جبینوں اور مہ جبینوں کی کمی نہیں رہی۔ ان سب کے قصے بیان کرنے بیٹھوں تو ایک کتاب بھی پوری نہ پڑے۔ آئیے میں آپ کو میری زندگی میں آنے والی ان ہستیوں سے ملواؤں جن کی یادیں اور جنکی باتیں چراغ کی طرح آج بھی یادوں کے جھروکوں میں روشن ہیں۔

بائی (میری دادی)
ماں کی گود سے اترنے کے بعد جو عورت میری زندگی میں بہت زیادہ دخیل رہی وہ میری دادی تھیں۔ ہمارے امی ابا، چچا، پھوپھی انہیں بائی کہتے تھے۔ “بائی ” بہت سے نچلے درجے کی سوچ رکھنے والوں کے نزدیک ایک خاص طبقے کے لئے مخصوص ہے جبکہ ہم کوکنیوں، مر اٹھوں، گجراتیوں، میمنوں اور پارسیوں میں یہ انتہائی احترام اور محبت کا نام ہے جس سے کسی خاتون کو پکارا جا سکتا ہے۔

بائی کی باتیں میں کئی موقعوں پر بیان کرچکا ہوں۔ یہ ہرگز نہیں تھا کہ میں بائی سے بہت محبت کرتا تھا یا ان کا بہت فرمانبردار تھا۔ میری تو کبھی ان سے بنتی ہی نہیں تھی۔ میں تو انہیں ایک سخت گیر ڈکٹیٹر سمجھتا تھا۔ جو مجھے میرے دوستوں کے سامںے کوفت اور شرمندگی میں مبتلا کردیتی تھیں۔ اب یہی دیکھئے کہ مجھے بہار کالونی کی ایک کھنڈر نما عمارت میں بنے اسکول میں داخل کردیا گیا۔ اسکول کا پہلا دن تھا، ابھی بمشکل بارہ ہی بجے تھے کہ بائی میری جماعت کے دروازے پر آکھڑی ہوئیں اور ماسٹر سے پوچھا کہ ہمارے بچے کی چھٹی کب ہوگی۔ ماسٹر نے بتایا کہ ساڑھے بارہ بجے سب بچوں کی چھٹی ہوجائے گی۔
“ارے بچہ صبح سے بھوکا ہے، تم اتنی دیر سے چھٹی دوگے؟”
“اماں، اس اسکول کے یہی اوقات ہیں ”
“نہیں پڑھانا ہمیں ایسی جگہ اپنے بچے کو”
اور دادی مجھے اسکول سے اٹھا لائیں اور قریب کی مسجد کے مدرسے میں بھیج دیا جہاں یسرنا القرآن کے ساتھ اردو اور گنتی بھی سکھائی جاتی تھی اور بائی کے نزدیک اس عمر میں اتنی پڑھائی بہت تھی۔ مدرسے میں ساڑھے دس بجے چھٹی ہوجاتی تھی اور یہ بائی کے نزدیک سب سے اطمینان بخش بات تھی۔

وہ ہماری تنگ دستی اور عسرت کے دن تھے۔ ہم چار بہن بھائی تھے، دادی اور دوچچا بھی اسی ایک کمرے کے گھر میں رہتے تھے جس کے ساتھ ایک دالان اور ایک صحن بھی تھا۔ بہرحال کچھ دنوں بعد امی ابا اور ہم بچے بہت دور کورنگی رہنے چلے گئے۔ بڑے چچا پہلے ہی بحرین جا چکے تھے۔ چھوٹے چچا اور بائی بہار کالونی میں ہی رہ گئے۔ تیسری جماعت کے بعد ایک دن ابا نے میرے کپڑے ایک گھڑی میں باندھے، امی نے سینے سے لگا کر بار بار میرا چہرا اور ماتھا چوما اور روتے ہوئے رخصت کیا۔ ابا مجھے بائی کے پاس لے آئے تاکہ ان کی دیکھ بھال کرسکوں اور وہ میری نگرانی کرسکیں کہ میں پڑھائی میں نکما تھا۔ اس میں میری نالائقی کا کم اور لاپروائی کا دخل زیادہ تھا۔
دادی جب کبھی کورنگی آتیں توہمارے گھر میں جیسے رونق سی ہوجاتی اور میں ان کے آس پاس گھومتا رہتا لیکن اب جب میں ان کے پاس رہنے آگیا تو دادی سے میری ان بن رہنے لگی۔

وجہ یہ تھی کی دادی اپنے بابو (مجھے) کو نالائق نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے مجھے گورنمنٹ بوائز پرائمری اینڈ سیکنڈری اسکول بہار کالونی میں تو نہیں ڈالاکہ وہ گھر سے بہت دور تھا اور جب میں دوسری جماعت میں وہاں پڑھتا تھا تو اسکول جاتے ہوئے گدھا گاڑی کے نیچے آگیا تھا (جی ہاں گدھا گاڑی۔۔۔ ایں سعادت بزور بازو نیست) اور اب بائی مجھے اس خطرناک راستے پر بھیجنے کے لئے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ مسلم گرلز اینڈ بوائز اسکول گھر سے قریب تھا چنانچہ وہاں داخل کردیا گیا۔

صبح چچا نے اسکول کا رستہ دکھایا۔ دوپہر چھٹی سے پہلے دادی نے پھر “کچی پہلی” والی تاریخ دہرائی اور چھٹی سے پہلے اسکول پہنچ گئیں۔ اب بتائیے یہ ہے ناں غصہ ہونے والی بات۔ ساتھ کے لڑکے لڑکیاں مسکرا کر دادی اور اس کے پوتے کو دیکھ رہے تھے۔ میں سخت بھنا یا ہوا تھا۔
اس بار دادی اس لئے آئی تھیں کہ میں واپسی میں کہیں راستے میں نہ کھو جاؤں۔
بس یہی باتیں تھیں جو میرے اور بائی کے درمیان ” چپقلش” کا باعث بنتیں۔ میں کورنگی میں مادرپدر آزاد، سارادن گلیوں میں آوارہ گردی کرتا رہتا، یہاں دادی نے میرے کھیلنے اور پڑھنے کے اوقات مقرر کردئیے. میں آزاد پنچھی بنا رہنا چاہتا تھا اور وہ مجھے انسان بنانے پر تلی ہوئی تھیں۔
اور بائی کی اس سخت گیری کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ‘ بابو ‘جو تیسری جماعت کے ششماہی امتحان میں فیل ہوگیا تھا اور سالانہ میں بمشکل “ترقی” پاس ہوا تھا، چوتھی جماعت کے ششماہی اور سالانہ امتحانات میں اوّل آیا۔ میری عزت اچانک میرے دوستوں اور عم زادوں کی نظر میں بڑھ گئی۔ اب میں گلیوں میں ننگے پیر آوارہ پھرنے والا بابو نہیں تھا بلکہ صاف ستھرے کپڑوں اور چمکدار جوتوں میں اسکول جانے والا اور تمیز دار ‘شکور’ بنتا جارہا تھا۔ چچا بحرین سے میرے لئے خاص طور پر پیسے بھیجتے اور میں گو کہ بہار کالونی میں رہتا، لیکن ٹھاٹ سے رہتا۔

بائی کے ہاتھ میں قدرت نے ایک خاص لذت دے رکھی تھی۔ اور یہ بات میری امی میں بھی تھی کہ وہ چاہے دال سبزی بنائیں یا گوشت قیمہ، ہر چیز بڑی مزیدار بنتی۔ بائی کے ہاتھ جیسا قیمہ آلو میں نے شاید ہی بعد میں کبھی کھایا ہو اور آج بھی میری مرغوب ترین ڈِش یہی ہے۔
چوتھی کلاس کے بعد میں کورنگی واپس آگیالیکن اب میں ایک بدلا ہوا انسان تھا۔ محلے میں میری وقعت دوسرے لڑکوں سے زیادہ تھی گویا میں بہار کالونی سے نہیں انگلستان سے پڑھ کر آیا ہوں۔
جب انسان کی شہرت بن جائے تو پھر اسےقائم بھی رکھنا پڑھتا ہے اور الحمدللّٰہ اسکول میں کامیابی کا یہ سلسلہ میٹرک تک جاری رہا، نویں جماعت سے انٹرمیڈیٹ تک میں پھر دادی کے پاس رہا۔ اب بھی دادی کا وہی فوجی ڈسپلن برقرار تھا لیکن اب میرے ٹھاٹ بہت بڑھ گئے تھے۔ میں بڑے چچا کا لاڈلا تھا۔ میرے لئے بحرین سے قیمتی چیزیں آتیں۔ دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا تو پارکر پین انعام میں ملا۔ نویں میں مجھے اہنی پہلی گھڑی ” فیورلیوبا” ملی تھی۔ میرے پاس ٹیبل ٹینس کا بہترین ریکٹ ہوتا اور شیو بنانے کے لئے ولکنسن بلیڈ، فلپس کا شیور، اولڈاسپائس اور Tabac کے آفٹر شیو ہوتے۔ ایگل ارتھ کی قمیضیں اور بہترین قسم کے پرفیوم ہوتے۔
بائی سے میری جھڑپیں پھر بھی چلتی رہتیں۔ کبھی اسکول یا کالج سے آتے ہوئے دیر ہوجاتی تو واپسی پر انہیں بس اسٹاپ پر کھڑا پاتا۔ اب بھلا یہ بھی کوئی محبت ہے، جوان جہان لڑکے کا تماشہ بنانا؟؟

چھوٹے چچا تعلیم کے لئے امریکہ چلے گئے اور بائی اب ہمارے ہاں آگئیں۔ کالج ختم کرکے ایک سال چھوٹی موٹی نوکریاں کرتا رہا کہ چچا نے بحرین بلالیا۔ چچا نے ایک دوست کے پاس بھیجا کہ میرے لئے ٹکٹ کا انتظام کردیں۔ یہ کراچی کی ایک الیکٹرانک فرم کے مالک تھے اور میں ان کے ہاں ملازم رہ چکا تھا۔ میں نے بتایا کہ چچا نے کہا ہے کہ آپ ٹکٹ لے دیں گے۔
“میاں یوں کرو کہ Mackinon & Mckenzie کے آفس جاؤ اور پتہ کرو کہ اگلا شپ کب بحرین جارہا ہے۔ ” میرے سابق مالک کے یہ الفاظ سن کر مجھ پر منوں اوس پڑگئی۔ میں تو اپنے آپ کوہوائی جہاز میں اڑتا دیکھ رہا تھا۔

بحرین کا ٹکٹ نوسو روپے کا تھا۔ ہوائی جہاز کا ٹکٹ گیارہ سو کا تھا۔ بحری جہاز سے پانچ دن اور ہوائی جہاز سے صرف دوگھنٹے۔۔۔ دادی نے میرے سابق مالک کو چند مغلظات سنائیں اور مجھ سے کہا کہ باقی کے پیسے مجھ سے لو اور ہوائی جہاز سے جاؤ۔ وہ اپنے بابو کو بحری جہاز کی پانچ دن کی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
بائی کی کہانی تو بہت لمبی ہے اور ابھی دوسری مہ جبینوں اور زہرہ جبینوں کے قصے باقی ہیں۔
بائی کب اور کیسے رخصت ہوئیں یہ داستان میں پہلے سنا چکا ہوں۔ مختصرا یہ کہ میں ہندوستان میں تھا کہ ان کے جانے کی خبر ملی۔ اب اسے دہرا کر آپ کا اور اپنا جی بھاری نہیں کرنا چاہتا۔

ابو چاچا کی دادی
یہ دراصل ابو چاچا کی والدہ تھیں لیکن ہم انہیں ابو چاچا والی دادی کے بجائے ابو چاچا کی دادی کہتے تھے۔
ابو چاچا کی کہانی بھی میں بیان کرچکا ہوں۔ یہ بھی بہار کالونی میں رہتے تھے اور ہمارے عزیز تھے۔ ان کی والدہ بہت ضعیف تھیں اور بیمار رہتی تھیں۔ جب میں پہلی جماعت میں داخل کیا گیا تھا تو ابو چاچا کی بہن کا بیٹا بھی میرے ساتھ اسکول میں داخل ہوا۔ اس کے والدین شرف آباد میں رہتے تھے لیکن اسے اپنی نانی کی دیکھ بھال کے لئے یہاں رکھا گیا تھا۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور اسے واپس شرف آباد جانا پڑگیا۔
اب یہ میری ڈیوٹی لگی کہ چھٹی کے بعد کھانا کھاکر ابو چاچا کے گھر جاؤں اور شام کو ابو چاچا کی واپسی کے بعد گھر آؤں۔
دادی بہت نحیف تھیں۔ مجھے یاد نہیں وہ کھانا وغیرہ کیسے پکا لیتی تھیں، یا شاید ابو چاچا صبح ان کے لئے پکا کر چلے جاتے ہوں۔

میں گھر کا سودا سلف وغیرہ لے آتا جس کے صلے میں دادی مجھے ایک یا دو پیسہ انعام دیتیں جو ان دنوں بڑی قدر رکھتے تھے۔ میں گھر سے سلیٹ، قاعدہ اور کہانی کی کتابیں ساتھ لے جاتا، دادی اکثر نقاہت کے مارے اونگھتی رہتیں یا پھر میں کبھی کبھار پانی یا ان کے دوائیں وغیرہ انہیں دیتا یا سہارا دے کر غسل خانے تک چھوڑ آتا۔
وہ سوتی رہتیں اور میں اپنا اسکول کا کام کرتا یا کہانیاں پڑھتا۔ ان دنوں لفظ “بوریت” ایجاد نہیں ہوا تھا۔ گھر میں نہ تو ریڈیو تھا، ٹیلیویژن کا اس وقت نام بھی نہیں سنا تھا، انٹرنیٹ کا تو شاید کسی نے خواب بھی نہ دیکھا ہو۔ لیکن ہمارا وقت بڑے آرام اور سکون سے کٹ جاتا۔ کہانیاں پڑھنے کے علاوہ آس پاس کے بچوں کے ساتھ سو طرح کے کھیل کھیلتے۔
دادی زیادہ دن نہیں رہیں۔ ابو چاچا اکیلے ہوگئے۔ کچھ دن بعد امی نے ایک رشتہ دار کی بیٹی سے ان کی شادی کرادی۔ ابو چاچا کی زندگی کے ایک باب پر میں نے بہت پہلے کچھ لکھا تھا۔ وہ ایک الگ قصہ ہے۔

ریاض کی دادی
اسی بہار کالونی والے مکان کے مالک کانپور کے مہاجر تھے۔ یہ دو بھائی تھے جن کے گھر ساتھ ساتھ تھے اور تین مکان کرایہ پر آٹھائے ہوئے تھے۔ یہ پانچوں مکان ساتھ ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ ہمارے مالک مکان تو فوت ہوگئے تھے ان کی بیوہ اور بیٹا ریاض تھے اور ان کی والدہ ان کے ساتھ تھیں۔ ہم بھی انہیں دادی کہتے تھے لیکن دوسری دادیوں میں امتیاز کرنے کے لئے وہ ریاض کی دادی کہلاتی تھیں۔

یہ دادی حج کے لئے گئیں اور واپس آئیں تو ان کی آنکھیں جاتی رہیں وہ لیکن ایسی صابر وشاکر کہ اسے اپنی خوش بختی سمجھتیں کہ دنیا کا سب سے خوبصورت نظارہ دیکھ لیا، اچھا ہوا آنکھیں چلی گئیں اب اور دیکھنے کو کیا رہ گیا ہے۔
دادی ساری دن چوکی پر نماز اور تسبیح میں مشغول رہتیں۔ یہی چوکی ان کا بستر تھی۔ سرہانےقصص الانبیاء، بی بی نیک پروین کی کہانی چند ایک دعاؤں اور نعتوں کی کتابیں رہتیں جنہیں وہ ہم بچوں کو پکڑ کر سنا کرتیں۔ ان کے اپنے پوتے چونکہ سارادن ان کے سامنے ہوتے اس لئے دادی کی آواز سن کر یہاں وہاں ہوجاتے۔ دادی کبھی صحن میں کھیلتے ہوئے میری آواز سنتیں تو بلا لیتیں۔ وہ کوئی کام نہیں کہتیں بس ایک فرمائش کرتیں کہ ‘ بھیا اس میں سے فلاں نعت سنا دو”
اور میں نے وہ قصہ تو بتایا ہوگا کہ مجھ سے ‘میں سو جاؤں یا مصطفے کہتے کہتے” سنانے کی فرمائش کی اور میں نے سبق سنانے کے انداز میں فرفر سنا دیا۔ کہنے لگیں “ارے بھیا ایسے نہیں ذرا اچھی طرح سے اور محبت سے سناؤ” اور پھر خود ہی اپنی پرسوز آواز اور دل میں اترنے والی لے میں نعت پڑھی۔ ان کی بے نور آنکھوں کے گوشے آنسوؤں سے نم ہورہے تھے۔
میری سمجھ میں یہ سب کچھ نہیں آتا تھا کہ یہ کس کے لئے روتی ہیں۔

کیسی عجیب عورتیں میری زندگی میں آئی تھیں۔

بوا
یہ میری پھوپھی کی ساس تھیں۔ پھوپھی کا گھر سوسائٹی کے علاقے میں تھا۔ یہ ایک بھرا پرا مشترکہ گھرانہ تھا۔ پھوپھا کے دو بھائیوں کے خاندان کے علاوہ ان کے والد اور والدہ بھی ساتھ رہتے تھے۔
دبلے پتلے سے دادا نہایت دبنگ شخصیت تھے۔ گھر میں کسی کی مجال نہیں کہ ان کے سامنے اونچی آواز میں بول سکے۔ میں ان سے دور دور ہی رہتا۔ انہیں ہماری مادری زبان کوکنی میں اردو کی ملاوٹ پسند نہیں تھی۔ ان کا خاندان شاید کراچی میں ہماری برادری کا آخری خاندان ہے جہاں اب تک ‘ کوکنی’ بولی جاتی ہے۔

لیکن بوا ان کی الٹ اور بہت ہی شفیق اور نرم طبیعت تھیں۔ گوری چٹی اور ذرا بھاری جسم کی بوا بھی اپنے پوتوں سے نالاں رہتی تھیں جو سارا دن شرارتوں اور لڑنے جھگڑنے میں مشغول رہتے۔ میں ان کے گھر ہوتا تو اپنی ضرورتوں کے لئے مجھے آواز دیتیں۔ بوا کا گھرانہ متمول گھرانہ تھا یا کم ازکم ہم بہار کالونی والوں کے مقابلے میں وہ خاصے خوشحال تھے۔
بوا مجھ سے کچھ منگواتیں تو دوپیسے یا ایک آنہ میرے ہاتھ پر رکھتیں۔ لیکن مجھے ہاتھ چھونے نہ دیتیں کہ ہمارے شافعی مسلک میں اگر غیر محرم سے ہاتھ چھو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اب چاہے بوا دادی ہی سہی اور میں بارہ چودہ سال کا ہی سہی، غیر محرم تو غیر محرم ہوتا ہےاور بار بار وضو کون بنائے۔ اور انہیں تو عادت ہی ہر وقت باوضو رہنے کی تھی۔

میں نے کہا ناں۔ عجیب عورتیں تھیں۔

ملیر والی دادی
میرے ابا کی عادت تھی کہ اپنے بچے کھچے بزرگوں کے پاس ضرور جاتے اور ان کی دعائیں لیتے (میں نے بھی اس رسم کو نبھانے کی کوشش کی)۔ گھر میں کوئی شادی غمی کا موقع ہوتا تو بزرگوں کو کئی دن پہلے لے آتے اور شادی کے کئی دن بعد تک وہ ہمارے ہاں رہتے۔ ُ
ملیر والی دادی ہمارے ابا کی چچی تھیں۔ دادا قاضی تھے اور نکاح پڑھاتے تھے۔
ملیر میں ان کا چھوٹا سا لیکن صاف ستھرا اور سلیقے سے سجا ہوا گھر تھا جس کے صحن میں مرغیاں کڑکڑاتی پھر تیں۔
اور آج شاید بہت سے نہیں جانتے کہ اس زمانے میں ساری زچگیاں ہسپتالوں میں نہیں ہوتی تھیں۔ گھروں پر بھی دایہ زچگیاں بڑی آسانی سے سرانجام دیتیں۔
ہم کورنگی آگئے تھے اور یہاں بالکل اکیلے تھے۔ ہمارے گھر میں نئے مہمان کی آمد متوقع تھی اور یہ کام گھر پر ہی ہونے والا تھا۔
ملیر والی دادی کئی دن پہلے سے ہمارے ہاں آگئی تھیں اور نئے مہمان کی ولادت کے بعد بھی کئی دن ہمارے ہاں رکی رہیں۔
مجھے ان کا چہرہ یاد ہے، پان سے سرخ ہونٹ لیکن بھوری سی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ہوتی۔ اور کچھ دنوں بعد ان کے گھر والے سوسائٹی میں دادی کے گھر کے قریب ہی آگئے تھے۔ میں ان کے گھر کے قریب سے گذرتے ہوئے ان کے ہاں جھانک جاتا۔ وہ گھر میں بنی ہوئی کوئی چیز مجھے اصرار کرکے کھلاتیں یا کسی برتن میں ڈال کر میری دادی کے لئے روانہ کرتیں۔
ملیر والی دادی کی خوبصورتی ان کی اولاد میں بھی تھی اور ان کے منجھلے بیٹے کو محلے بھر میں ‘ دلیپ” پکارا جاتا تھا کہ ان میں اور دلیپ کمار میں حیرت انگیز مشابہت تھی۔ اور یہ بیٹے اپنی ماں پر گئے تھے۔

ایسی خوبصورت عورتیں بھی میری زندگی میں رہی ہیں۔

سولجربازار والی نانی
یہ میری امی کی پھوپھی تھیں، امی انہیں پھپھو ماں کہہ کرپکارتی تھیں اور کراچی میں یہ ان کا میکہ تھا کہ ان کے ماں باپ اور بہن بھائی سارے ہندوستان میں رہ گئے تھے۔
یہ نانی بھی ہر خاص موقع پر ہمارے ہاں ٹھہر تیں۔ میں جب بھی چھٹی ہر آتا ان کے لئے ساڑھی یا کوئی چھوٹی موٹی چیز ضرور لاتا اور کم از کم ایک بار ان سے ملنے ضرور جاتا اور میری یہی بات ان کو بھاتی۔
نانا ایڈوکیٹ تھےاور خاندان خوشحال تھا۔ نانی اکثر مشکل موقعوں پر خاموشی سے ہماری مدد کرتیں۔
میری شادی کے دنوں میں وہ ہمارے ہاں ٹھہری ہوئی تھیں اور مہندی کے موقع پر میرے بالکل برابر کرسی ڈال کر بیٹھی تھیں کہ میری ہونے والی سالیاں مجھے بے جا تنگ نہ کریں۔
مجھ سے بہت ہنسی مذاق کرتیں میری باتوں پر ان کا ساڑھی کا پلو منہ میں ٹھونس کر ہنسنا آج بھی یاد ہے۔
اب نہ کوئی دادی رہیں نہ نانی۔۔ اب تو خود نانا بن گئے، انشاءاللہ دادا بھی بن جائیں گے۔ لیکن شاید ویسے نہ بن سکیں جیسے میرے یہ بزرگ تھے۔

میری زندگی میں آنے والی ان عورتوں سے مجھے کیا ملا۔
یہ ساری کتھا میں نے یہی بتانے کے لئے چھیڑ رکھی ہے۔ 

یقین جانئیے یہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ مانو ایک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے۔ زندگی میں ایسے ایسے مقام آئےاور یوں لگا کہ بس اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ ایسی ایسی مشکلیں آئیں کہ کوئی رستہ سجھائی نہ دیتا تھا۔ یوں لگتا کہ سامنے بس ایک دیوار ہے۔ لیکن پھر نجانے کہاں سے راستہ یوں نکل آتا ہے کہ لگتا ہے کہ کچھ تھا ہی نہیں۔ ایک نہیں دسیوں ایسے واقعات ہیں۔

یقیناً یہ مالک کا کرم ہے لیکن کیا میں بہت پارسا اور خدا ترس ہوں جو وہ مجھ پر اتنا مہربان ہے۔ اب میں کسی کو کیا بتاؤں کہ جب اپنی جانب دیکھتا ہوں تو مجھ سے بڑا گناہگار دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔
انسان جو کچھ لیتا ہے اور جو کچھ دیتا ہے وہ دعائیں اور بددعائیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ماں باپ تو دعا کے علاوہ کچھ دیتے ہی نہیں لیکن یہ میری زہرہ جبینیں، میری گولڈن گرلز ہیں جو شاید میری مشکل کے وقت اللہ سے کہتی ہیں کہ پیارے اللہ، یہ ہمارا دوست رہا ہے۔ اس کا خیال رکھنا۔

فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ

تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

ارحمنا یا ارحم الراحمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: