کہیں دیر ہوگئی تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فارینہ الماس

0
  • 36
    Shares

احمد سعید ایک ایسا تخلیق کار، جس کے شجرہء نسب میں چودہ نسلوں کا تعلق فن مصوری جیسے تخلیقی فن سے رہا۔ گویا فن اس کی گھٹی میں ہی شامل تھا۔ وہ خود بھی محض اپنے آباءکے کارناموں پر ہی فخر کرنے پر اکتفا کئے ہوئے نہ تھا، بلکہ فن مصوری میں کمال مہارت رکھتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور میں ہونے والی ایک تصویری نمائش میں رکھی گئی اس کی ایک اعلیٰ تخلیق کو ورلڈ بینک جیسے ادارے نے خریدا۔ ایک ایسا پر فکر نوجوان، جس نے نیشنل کالج آف آرٹ سے اپنے فن کی باقاعدہ ڈگری حاصل کر رکھی تھی، محض پانچ ہزار کے تنازعے پر اپنے ہی دوست کا قاتل کس طور بن گیا۔ یہ سوال انتہائی تجسس آمیز تھا۔ ایک تخلیق کار کیسے اتنا سنگ دل ہو سکتا ہے کہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے دلکش رنگوں کی دھنک پر یکدم کسی بے گناہ کے لہو کا گاڑھا سیال انڈیل دے۔ وہ تو خود اپنی ذات کے سکھ دکھ بھلا کر، انسانوں کے تلخ اور وحشت آمیز رویوں پر کڑھتے کڑھتے اپنے وجود تک کی نفی کرتا رہتا ہے۔ وہ تو تمام عمر اپنے فن کے ذریعے، انسان اور انسانیت کی بقاءکے لئے بہترین قدروں کی دریافت و بازیافت میں جتا رہتا ہے۔

احمد کا بیان ناصرف قتل کی وجہ بیان کرتا ہے بلکہ NCA کے ماحول کی حقیقت بھی عیاں کرتا ہے جہاں جدیدیت کو مغربیت کے غیر متمدن عناصر سے جدا کئے بغیر اپنا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی جاتی ہے۔اس ماحول میں طلبہ و طالبات میں چرس سے بھرے سگریٹ پینے کا رحجان اب پرانا ہو چکا ہے۔

احمد کا دوست نوال جاوید خود بھی این سی اے کا ہی فارغ التحصیل آرکیٹیکٹ تھا۔ اور احمد کو دیئے ہوئے پانچ ہزار کی واپسی کے جھگڑے میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔ احمد کا بیان ناصرف قتل کی اصل وجہ بیان کرتا ہے بلکہ ایک ایسی درسگاہ کی حقیقت بھی عیاں کرتا ہے جہاں جدیدیت کو مغربیت کے غیر متمدن عناصر سے جدا کئے بغیر اپنا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی جاتی ہے۔ جہاں نت نئے مغربی رنگ و ڈھنگ سے مرعوبیت کا رواج عام ہے۔ بقول احمد سعید وہ یہ قتل کرنے کا کبھی بھی ارادہ نہ رکھتا تھا۔ لیکن یہ قتل اس سے ”نشے“ کی حالت میں سرزد ہوا۔ اس کا ماننا ہے کہ نشے کی یہ لت اسے کالج میں ہی پڑی کیونکہ وہاں ایسا ماحول تخلیق ہو چکا ہے جس میں وہ طالب علم جو ہیروئن یا چرس کا نشہ نہ کرتا ہو اسے بدذوق ہی نہیں بلکہ پسماندہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسے اس ماحول میں قبول نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ادارے کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس صورت وہ ادارے میں خود کو معاشرتی و سماجی تنہائی کا شکار تصور کرتا ہے۔ ایک بے رحم حقیقت یہ بھی تھی کہ اس قتل کی تفتیش کے دوران جن بارہ طلبہ و طالبات کو شامل کیا گیا وہ سب بھی نشے کی لت میں مبتلا پائے گئے۔ ہمارے معاشرے میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ فنون لطیفہ سے وابستگی اور اس کے تخلیقی اظہار کے لئے کسی نہ کسی شے کا نشہ بہت ضروری ہے۔ یہ تاثر پھیلانے والوں کے تصور میں نشہ اس تخلیقی صلاحیت کو نکھارتا ہے۔ این سی اے کے ماحول میں ایسے عناصر کا پایا جانا کوئی آج کی بات نہیں۔ یہاں طلبہ و طالبات میں چرس سے بھرے سگریٹ پینے کا رحجان اب پرانا ہو چکا ہے۔

لیکن بات صرف اسی ایک کالج تک ہوتی تو شاید قابل گرفت ہوتی۔ صورتحال کچھ ایسی گھمبیر ہو چکی ہے کہ یہ سلسلہ پاکستان کے دیگر بڑے تعلیمی اداروں، جن میں اکثریت نجی اداروں کی ہے، تک پھیل چکا ہے۔ یہاں چرس اور دیگر منشیات کا استعمال کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76 لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں جس میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں۔ اور بڑی تعداد 24 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ جن میں اکثریت یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات کی ہے۔ انتہائی تکلیف دہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسا رحجان اب یونیورسٹیوں اور کالجوں کے علاوہ اسکولوں تک بھی جا پہنچا ہے۔ طالبعلموں میں نشے کی یہ شرح 43سے 53 فیصد تک ہے۔

عموماً نشے کی ترسیل میں ہاسٹل کا عملہ، گیٹ کے چوکیدار اور ہیلپرز یا کیفے ٹیریا کا عملہ ملوث پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اداروں کے گردونواح میں موجود دکانوں یا ہوٹلوں میں بھی اس کی دستیابی ممکن ہوتی ہے۔ ان لوگوں کو ہیروئن کا کاروبار کرنے والی پوری مافیا کی پشت پناہی میسر ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ پہلے ایک ایسے ہی واقعے میں ایک یونیورسٹی کے گارڈ کے ملوث پائے جانے پر اسے جیل بھی بھیجا گیا اور ملازمت سے بھی فارغ کر دیا گیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد وہ دوبارہ اسی گیٹ پر ڈیوٹی کرتا پایا گیا۔

کچھ ملزمان کو اسی سلسلے میں جب حراست میں لیا گیا تو یہ حقیقت کھلی کہ ان گرفتار شدہ افراد میں خود پولیس ہی کے کچھ افراد بھی شامل تھے۔ ان کے انکشافات سے معلوم ہوا کہ میڈیکل کالجوں تک کے ہاسٹل بھی اس زہر سے پاک نہیں۔ یہاں کھانسی کے شربتوں کی بوتلوں میں بھری شراب کے علاوہ دیگر منشیات کی دستیابی بھی ممکن ہے۔

یونیورسٹیوں کالجوں کی لڑکیوں کو ایک خاص قسم کی چیونگم فراہم کی جاتی ہے جس میں نشہ موجود ہوتا ہے اور اس کا نام ” فلیتو“ ہے جو تھائی لینڈ اور یورپ سے برآمد کی جاتی ہے۔ اس چیونگم کی قیمت ہزار سے پندرہ سو کے درمیان ہوتی ہے۔ نشے کا انجکشن دوہزار سے پانچ ہزار تک کی قیمت پر اور ہیروئن کی پڑیا پانچ سے بیس ہزار تک کی قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں۔ چرس کے سگریٹ بھی ایسی ہی قیمتوں پر بیچے جاتے ہیں۔ گویا یہ نشہ اپنی بھاری قیمتوں کے سبب ذیادہ تر امیر گھرانوں کے لڑکوں اور لڑکیوں تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ اس لئے اس کی دستیابی کو بڑے اداروں تک پہنچانا ممکن بنایا جاتا ہے۔ نوجوان اس کا استعمال نائٹ پارٹیوں میں بھی کھلے عام کرتے ہیں۔ نچلے طبقے میں تو شاید اسے دکھوں سے نجات کا زریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بیروزگاری، مفلسی، گھریلو پریشانیاں اور بیماریاں اس کا سبب بنتی ہیں۔ لیکن اونچے طبقے سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان اسے محض ایک فیشن کے طور پراپناتے ہیں۔ امیر ذادے اسے اپنے پیسے اور اثرورسوخ کے دکھاوے کے طور پر یا مغربیت کے ناز انداز اپنانے کے فخر میں استعمال کرتے ہیں۔
اس طبقے کے والدین کی بے حسی بھی ان کی اولاد کو اس لت میں مبتلا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ دولت و جائیداد بنانے کی دھن میں مگن والدین کو لگتا ہے کہ ان کی اولاد کے سبھی مسائل کا حل صرف ان کی دولت میں ہی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لئے وقت نکال پاتے ہیں اور نہ ہی ان سے ان کے مسائل سسننا گوارہ کرتے ہیں۔

امریکہ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال اڑھائی لاکھ افراد منشیات کے استعمال کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ تعداد اس تعداد سے کئی گنا ذیادہ ہے جو دہشت گردی کا شکار ہوتی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا یہ سامان خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں منشیات کی کاشت اور ترسیل جاری ہے۔ تقریباً اڑھائی تین لاکھ خاندان پوست کی کاشت سے منسلک ہیں۔ اس بارڈر سے یہ زہر پاکستان میں سپلائی ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایک پورا مافیا اس سے منسلک ہے اور ہر درجے پر سیاسی شخصیات کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے۔ پاکستان میں موجود بڑے کاروبار سے منسلک افغانی پٹھان بھی اس کاروبار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے شاپنگ مالز میں کروڑوں کی جائیداد کے مالک بن جاتے ہیں۔ ایک دکاندار جو کچھ ہی عرصہ قبل ایک نسبتاً چھوٹے بازار میں دکانداری کرتا تھا اور اب ایک بڑے پلازے میں کروڑوں کی دکان کا ملک بن چکا تھا کے انکشاف سے معلوم پڑا کہ افیم کی ایک خاص مقدار افغانستان کے بارڈر سے پاکستان لانے میں کامیابی ہی کی بدولت وہ اس دکان کی خریداری کے قابل بنا۔ یعنی دکان کی قیمت ادا کرنے کے لئے اسے محض ایک ہی پھیرے کا سہارا لینا پڑا۔

طالبان کی آمدنی کا ایک برا ذریعہ ایسی ہی تجارت ہے 2012 تک طالبان کی منشیات سے حاصل شدہ آمدنی تقریباً 70 کروڑ ڈالر کے قریب تھی۔ افغانستان کی حکومت اور فوج سمیت نیٹو فورسز یہاں تک کہ پاکستانی ادارے بھی آج تک اس سپلائی کو روکنے میں ناکام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو روکنا ہے تو منشیات فروشی کو روکنا ازحد ضروری ہے۔ لیکن اس دھندے سے ہی ملک میں دیگر کئی دھندے چل رہے ہیں۔ جن میں سیاستدانوں کا دھندہ سر فہرست ہے۔ لہذا یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کی پشت پناہی کرنے والے، ملک کا قانون بنانے اور قانون کو چلانے والوں سے کہیں ذیادہ طاقتور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی اس صورتحال پر ایوان بالا تک میں سوالات اٹھائے گئے لیکن اس کے تدارک کی عملی کاوشوں کی سبیل فی الحال کہیں نظر نہیں آئی۔

ایسی بے حسی کی صورتحال کے پیش نظر معاشرتی سطح پر بیداری کی اہمیت بہت ذیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی ذمے داری والدین پر لاگو ہوتی ہے۔ والدین ہی اپنے بچوں کو اس جہنم نما زندگی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ ان کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار میں ان کی مدد کریں۔ انہیں وقت دیں اور ان کے مسائل سننے اور حل کرنے کی طرف راغب ہوں۔ انہیں جدیدیت اور مغربیت کا فرق سمجھائیں۔ ان پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں بلکہ دوستانہ طریقے سے انہیں اتنی جرات اور ہمت عطا کریں کہ وہ خود سے اپنے اچھے برے میں فرق کرنا سیکھ سکیں۔ وہ پر اعتمادی سے مثبت سرگرمیوں کو اپنائیں۔ وہ خود پر بیتنے والی ہر بات اپنے والدین سے شیئر کر سکیں۔ یہ والدین ہی کا فرض ہے کہ وہ نا صرف اپنی اولاد سے وابستہ ہر شخص پر کڑی نظر رکھیں بلکہ خود کو ان کی تمام تر سرگرمیوں سے بھی آگاہ رکھیں۔

یاد رکھیئے بدن کو نشے کا عادی بنانا تو شاید بہت آسان ہے لیکن اس سے چھٹکارے کی تدابیر بہت گھمبیر اور صبر آزما۔ ایک مدت درکار ہوتی ہے اس سے پیچھا چھڑانے میں لیکن اس کے بعد بھی آپ اپنے بچوں کا عمر بھر پہلے جیسا اعتماد بحال نہیں کر پائیں گے۔ ان کی ذات اور شخصیت کے پرزے جوڑتے جوڑتے شاید آپ خود بھی ٹوٹ جائیں گے۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: