دانش فورم: ایک قدم آگے ۔ میاں ارشد فاروق

0

دانش کے مشاورتی بورڈ ممبر اور ممتاز کالم نگار اور دانشور سلمان عابد اپنے ایک حالیہ شایع ہونے والے مضمون میں لکھتے ہیں

” معاشرہ بنیادی طور پر اہل علم اور فکری مباحث کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے اور ایک بہتر، مہذہب، منصفانہ اور  پرامن معاشرے کی طرف پیش قدمی بھی کرتا ہے۔ یہ سفر اہل علم و دانش کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ یہ ہی وہ طبقہ ہوتا ہے جو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے کر جاتا ہے۔  معاشرے میں الجھنیں یا الجھاؤ اہل دانش اپنی فکری صلاحیتوں سے  سلجھاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایسے معاشرے جو علم، فکر، دلیل، فلسفہ اور تحقیق کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں، ان میں اہل علم و دانش کے طبقہ کو بڑی پزیرائی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں حقیقی اہل دانش بھی سماجی اور سیاسی تنہائی کا شکار ہیں۔

وہ طبقہ جسے ہم طاقت ور، فیصلہ ساز، پالیسی ساز یا حکمران طبقہ کہتے ہیں وہ اپنے سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی، انتظامی  جو بھی نظام  چلانا چاہتے ہیں، وہ اہل دانش کی فکری صلاحیتوں سے استفادہ کر کے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے جیسے معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اہل علم ان بالادست طبقات میں  علمی رسائی نہیں رکھتے۔ کیونکہ یہاں رائج حکمرانی کا نظام  علم اور فکر سے زیادہ  طاقت، اختیار، دولت، شہرت اور دھونس و دھاندلی کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں ہر مکتبہ فکر کے اہل دانش نے جو علم پیدا کیا، حاصل کیا یا اس میں کوئی نئی جدت پیدا کی، وہ پس پشت ہی رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ علمی اور فکری بنیادوں پر آگے بڑھنے سے گریز کرتا ہے”

کچھ ایسی ہی فکر کے ساتھ کچھ عرصہ قبل چند ہم خیال دوستوں کے ساتھ دانش daanish.pk  ویب سایٹ لانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا بنیادی مقصد انتہاوں سے گریز کرتے ہوے خالص علمی اور فکری بنیادوں پر سوچ کے ارتقا کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔ یہ تجربہ بعض دوستوں کے اندیشوں سے بھر پور تعاون کے باوجود ہماری توقعات سے زیادہ کامیاب رہا اور ہمیں ملک اور بیرون ملک دونوں اطراف سے پذیرائی اور تعاون حاصل ہوا۔

دانش کی کور ٹیم شروع ہی سے پرعزم تھی کہ ہم اسے محض ویب سایٹ تک محدود نہ کریں گے بلکہ اسے ایک تعمیری تحقیقی اور تخلیقی تجربہ گاہ بنایں گے۔

الحمدللہ دانش نے ایک قدم آگے آ کر دانش فورم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس میں ابتدا میں لاہور اور اسلام آباد سے دانش وروں لکھاریوں اور شاعروں کے ساتھ مختلف پروگرام منعقد کراے جاییں گے جس میں اکیڈیمیا سے طلبا کو خاص طور پر دعوت دی جاے گی۔

اس سلسلے کا پہلا پروگرام اسلام آباد میں یکم نومبر 2017 کو منعقد ہوا جس میں محترم احمد جاوید صاحب کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ارشاد کلیمی، صدر دانش فورم، بورڈ ممبرز آغا نور محمد اور عزیز ابن الحسن شریک ھوئے۔ میزبانی شاہد اعوان، میمیجنگ ایڈیٹر نے کی اور میں لاھور سے شرکت کیلیے حاضر ہوا۔ دیگران میں عاصم بخشی، ڈاکٹر ندیم شفیق ،پی ٹی آئی علما ونگ کے مفتی سعید اور مختلف طبقہ ہاے فکر کے افراد و طلبہ و طالبات شامل تھے۔

احمد جاوید صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں اور انسے ہم نے انکے فکری ارتقا کے بارے میں جاننا چاہا۔ یہ نشست ہر حاضر کیلیے ایک ناقابل فراموش یادگار تھی۔ انہوں نے بات کا آغاز نوجوانوں کے جذبات سے بھرپور مغالطوں سے کیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ کسی درویش کی صحبت ان مغالطوں سے کیسے محفوظ کرتی ہے۔ سلیم احمد کے ساتھ اپنے تعلق خاطر سے شروع ہونے والے من کے سفر کی بات کی اور بتایا کہ کس طرح سلیم احمد نے انکے شاعری سے متعلق مغالطوں کو ایک ہی نشست میں اڑا کے رکھ دیا۔ سلیم احمد کے بارے جس احترام و محبت سے انہوں نے بات کی اس سے ان دونوں کے تعلق کی گہرائی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیم احمد کے ساتھ انکے تعلق کا عالم یہ تھا کہ دیگر لوگوں کے ساتھ تعلق بھی سلیم احمد ہی کی وجہ سے بنتے بگڑتے تھے گویا اگر کسی شخص کے ساتھ سلیم احمد کو محبت تھی تو ہمیں بھی تھی اور اگر سلیم احمد انکو کسی وجہ سے نظر انداز کرتے تو ہم بھی اس سے کوئی تعلق نہ رکھتے۔ پھر نہ جانے کیسے انہوں نے بات کو موڑا اور ایک اور صاحب علم ہستی مولانا ایوب دہلوی صاحب کی طرف بات لے گیے جنکے ساتھ تعلق میں انہوں نے نہ صرف بہت کچھ حاصل کیا بلکہ انکی اپنی شخصیت سازی میں انکا بے تحاشہ اثرمحسوس ہوا۔ مکمل روداد دانش پہ جلد شایع کردی جاے گی۔

تقریب کی ریکارڈنگ کا پہلا حصہ:

دانش سے وابسطہ مختلف دوستوں خصوصا راؤ جاوید ، زاہد خاں اور مقامی یونیورسٹیوں سے آئے طالب علم نوجوانوں سے خوب گپ لگی۔ رات اسلام آباد کے ایک ترک ہوٹل میں ایک قازقستانی باورچی کے ہاتھوں کی بنی ہوی لحمجون ڈش، ڈونر کبابوں اور اِک مِک ( ایک ترکش ڈش) کا لطف الگ ہی تھا۔

دانش فورم کی آئیندہ نشست لاہور میں ہو گی جہاں انشااللہ راقم آپکا میزبان ہو گا۔

اس نشست کی چار حصوں پہ مشتمل وڈیو کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: