سموگ : کاش ہم چڑیا گھر کے جانور ہوتے — ابن فاضل

0
  • 130
    Shares

سموگ کا چرچا ہے۔ بنیادی طور پر یہ الفاظ ‘سموک’ اور’ فوگ’ کا مجموعہ ہے۔ فوگ یعنی دھند تب بنتی ہے جب خاص تناسب کے گرد اور آبی بخارات کے آمیزے کو ایک مخصوص درجہ حرارت تک ٹھنڈا کر دیا جائے . اور اگر اس آمیزے میں کاربن کے ذرات اور سلفر ڈائی آکسائیڈ گیس بھی شامل ہو جائیں تو یہ سموگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ انتہائی زہریلی گیس ہے۔ یہ پانی کے ساتھ ملکر سلفیورس ایسڈ بناتی ہے۔ جو سورج کی روشنی کی موجودگی میں ہوا کی آکسیجن کے ساتھ تعامل کر کے گندھک کے تیزاب میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس گندھک کے تیزاب کے ننھے بخارات کاربن اور گرد کے ذروں پر چپک جاتے ہیں اور یوں یہ ایک انتہائی مہلک بلکہ قاتل مرکب سموگ کی شکل ڈھال لیتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ فضا میں یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ اور کاربن آتی کہاں سے ہے۔ اور لاہور اور گردونواح پر اس کی خصوصی نظرِ کرم کیوں ہے۔ اور پھر یہ پچھلے ایک دو سال سے کیوں اسقدر بڑا مسئلہ بن گیا ہے جبکہ اس سے پہلے ہم نے کبھی اس کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ تو عزیزان گرامی ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ پاکستان میں جو پتھر کا کوئلہ کوئٹہ مچھ اور اس کے گردونواح میں پایا جاتا ہے اس میں سلفر کی مقدار دو سے چار فیصد ہے۔ اور اوسطاً تین فیصد۔ گویا ایک ٹن کوئلہ جلانے پر تیس کلو سلفر ساتھ جلتی ہے۔جس سے ساٹھ کلو سلفر ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے اور آخر کار تقریباً بانوے کلو گرام گندھک کا تیزاب پاک وطن کی فضاؤں میں بکھر جاتا ہے۔اسی طرح سموگ کادوسرا بڑا جزو کاربن کے ذرات بھی کوئلہ جلانے سے وافر مقدار میں فضا میں شامل ہو جاتے ہیں جو کسی اور ایندھن یعنی گیس، ڈیزل یا مٹی کے تیل وغیرہ سے میسر نہیں آتے۔ آج سے تین چار سال پہلے تک وطنِ عزیز میں سوئی گیس کی فراوانی تھی سو یہ کوئلہ بہت کم مقدار میں صرف اینٹوں کے بھٹوں اور کچھ دور دراز فیکٹریوں کے بوائلرز وغیرہ میں جلایا جاتا۔جس سے نکلنے والی گیسیں اور کاربن کے ذرات اتنی مقدار نہیں ہوتے تھے کہ وہ سموگ بنا سکیں۔ جب کہ باقی صنعتیں قدرتی گیس بطور ایندھن استعمال کرتی تھیں۔

پھر سی این جی کا دور آیا اور آپ اور ہم نے دیکھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں قدرتی گیس تقریبا ختم ہو گئی۔ مجبوراً صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی رک گئی۔اس موڑ پر حکومت نے صنعتکاروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اب صنعتکاروں کے پاس دو ہی راستے بچے تھے یا تو اپنی اربوں روپے کی سرمایہ کاری کو مٹی میں ملنے دیتے یا اپنے لئے متبادل ایندھن کا انتظام کرتے۔ اور ظاہر ہے کہ صنعتکاروں نے متبادل ایندھن کے طور پر کوئلہ کا استعمال شروع کر دیا۔

غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف لاہور اور اسکے گردونواح میں سریا بنانے والی ایک ہزار کے قریب فیکٹریاں ہیں۔ ان کو سٹیل ری رولنگ ملز کہا جاتا ہے۔ ان فیکٹریوں کی پیداواری استعداد تیس سے دوسو ٹن سریا فی مل روزانہ ہے۔ اگر ہم اوسطاً پچاس ٹن بھی تصور کریں تو لاہور اور اس کے ارد گرد پچاس ہزار ٹن سریا روزانہ بنتا ہے۔ ایک ٹن سریا کی پیداوار کے لئے سو کلو گرام کوئلہ جلانا پڑتا ہے۔ گویا پانچ ہزار ٹن کوئلہ روزانہ۔ اور اگر صرف ایک فیصد بھی کوئلہ کاربن ذرات کی شکل میں فضا میں جاتا تو پچاس ٹن کاربن ذرات روزانہ لاہور کی فضاؤں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح دو سو ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ روزانہ بھی۔ اور گرد مالٹا ریل منصوبہ کی وجہ سے پہلے ہی وافر ہے۔ جیسے ہی درجہ حرارت میں کچھ کمی واقع ہوئی یہ سب مل کر سموگ کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ ہے اس سموگ کی اصل وجہ۔

پچھلے کچھ عرصہ سے حکومت نے محکمہ ماحولیات پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ صنعتکاروں کو پابند کریں کہ وہ کوئلہ براہِ راست جلانے کی بجائے گیسی فائرز میں جلائیں۔ اور براہِ راست جلانا مقصود ہی ہو تو مناسب ڈسٹ کولیکٹر اور سکربرز لگائیں۔تاکہ کاربن کے ذرات فضا میں نہ جائیں۔ لیکن بد قسمتی سے اس معاملہ کو بھی محکمہ نے رشوت کا ذریعہ بنالیا ہے۔ نتیجتاً صرف بیس سے پچیس فیصد صنعتوں نے گیسی فائرز اور سکربرز لگائے ہیں اور باقی سب نے محکمہ کے ملازمین کا ماہانہ۔ دوسرے نمبر پر جو گیسی فائرز اور سکربرز لگے وہ بھی انتہائی ناقص معیار کے جو آلودگی کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اور تیسرے نمبر پر ان سب انتظامات میں سلفر ڈائی آکسائیڈ کو روکنے کا کوئی نسخہ شامل نہیں۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ کو دھویں سے نکالنے کے لیے پیک سکربرز لگائے جانے چاہییں جن میں ہمہ وقت چونے کے پانی کا سپرے ہوتا ہو۔

اب جب مسئلہ حد سے بڑھا ہے اور سموگ نے شہر بھر پر اپنے بے رحم پنجے گاڑ دیے ہیں تو محکمہ ماحولیات نے حکمرانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بہت سی چھوٹی صنعتوں کو جبری طور پر کچھ عرصہ کے لئے بند کر دیا ہے۔جو کہ بذات خود ایک احمقانہ اور ظالمانہ اقدام ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملہ کو انتہائی سنجیدگی سے لے اس کے مختصر المدتی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرے۔ اپنے اداروں جیسے نیسپاک وغیرہ کی ذمہ داری لگائے کہ ڈسٹ کولیکٹر اور سکربرز کے جدید ڈیزائن صنعتکاروں کو مہیا کرے۔ اور انتہائی سخت جانچ کا نظام وضع کرے جس کے تحت قابل اور ایماندار انسپکٹرز باقاعدگی سے صنعتوں کے دورے کر کے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کو یقینی بنائیں۔ سول سوسائٹی کو بھی چاہئے کہ مسئلہ کی سنگینی کا درست اندازہ کرتے ہوئے حکومت پر راست اقدامات کے لئے اپنا دباؤ ڈالے۔

ابھی ٹی وی پر ایک رپورٹ دیکھی کہ سموگ کے اثرات سے بچاو کے لئے چڑیا گھر کے جانوروں کے لئے کئی خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان جانوروں کے ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ انہوں نے سموگ کے خلاف قوت مدافعت میں اضافہ کیلیے ان کی خوراک بہتر کی ہے۔ ان کو فالتو وٹامنز اور منرلز دے رہے ہیں اور میں سوچ رہا تھا کہ کاش میرے ہموطن بھی چڑیا گھر کے جانور ہوتے کم سے کم حکومت کچھ تو کرتی ان کے لئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: