دل و دماغ کا مکالمہ : مبارک انجم

0
  • 22
    Shares

دل و دماغ کا مکالمہ بھی کیا خوب ہوتا ہے،  یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جس میں ہر فریق دوسرے کی ہی برتری تسلیم کرتے ہوے خود کو ہارا ہوا ہی سمجھے رہتا ہے ـ  دل اور دماغ کی آپس میں بہت خوب نبھ جاتی ہے ، مگر کبھی کبھی پریشانی کا سامنا تب ہوتا ہے جب ان دو کے درمیاں ضمیر دخل اندازی شروع کردیتا ہےـ ـ   آج بھی دل نے دماغ سے فرمائش کرڈالی کہ لکھاری بننا ہے، اور مچلنے لگا کہ فقط لکھاری ہی نہیں بننا، بلکہ مشہور لکھاری بننا ہےـ ـ  ہیرو بننا ہےـ ـ   دماغ نے ہنس کے اسکی فرمائش مان لیـ ـ   اور کھنک کہ بولا ” لکھنا تو تھوڑی سی محنت سے آ جاتا ہے بس یہ طے کر لوکہ لکھنا کیا ہے؟ دل بہت خوش ہوا، اور چہکتے ہوے بولا ” یہ تو تم ہی طے کرو نا کہ کیا بہتر رہے گاـ ـ   دماغ نے ایک لمحہ خاموشی اختیار کی ،  تھوڑا سا عقل سے رجوع کیا پھر کچھ فلسفیانہ لہجہ میں کہنے لگا” سب سے پہلے تو یہ جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کے نارمل پڑھے لکھے طبقہ میں کس چیز کو جلدی اور زیادہ پزیرائی ملتی ہے؟ میرے تجزیہ اور اندازہ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی اور مزھبی مباحثہ،  خصوصاً مخالفین پہ تنقید،  بلکہ دھجیاں اڑانے کو پسند کیا جاتا ھےـ

یہ ایسے موضوع ہیں،  جس میں کسی ایگزیکٹو لیول کے بندے سے لے کر،  ایک رکشہ والے تک،  اور یورپ کے دلدادہ فیشن ایبل سے لے کر مسجد کے مولوی تک سب ھی دلچسپی رکھتے ہیں،  بیس فیصد لوگ ادبی لٹریچر کو پسندکرتے ہیں اور پانچ فیصد لوگ سائنس فنکشن وغیرہ کو جبکہ باقی کے پانچ فیصد اصلاحی تحریروں کو اسی طرح دوسرے پہلو سے دیکھیں تو ان ھی میں سے پچیس فیصد لوگ شاعری پڑھتے ہیں پچیس ہی فیصدلوگ لوگ افسانے اور سٹوریاں بھی پسند کرتے ہیں،  دس فیصد لوگ تصوف اور فلسفہ وغیرہـ ـ  ،  اب تم بتاو تم کیا چاہتے ہو کیا لکھا، جائے؟؟ دل کو اتنے پیچیدہ حساب بھلا کب سمجھ آتے ہیں؟ کنفیوز ہو گیاـ ـ  اور پھر جوش میں بولا “میں تو چاہتا ہوں پیار لکھو، پیار کی داستانیں لکھو، رنگوں، تتلیوں،  جھرنوں کے قصے لکھو، پیار کے گیت لکھو، محبوب کو لکھو،  محبوب سے ملن کے مناظر لکھو، اور بس خوشاں لکھو، ساری دنیا کو بس جنت لکھ دوـ

دماغ سوچنے لگ گیا،  کہ اس بچے کی معصومانہ خواہش پوری کرنی چاہیے، یا وہ مذھبی مناظرے لکھے جائیں جو راتوں رات مشہور کرنے کا سبب بن جاتے ہیں،  یا پھر کسی قبائلی علاقائی یا لسانی تعصب کا نمائدہ بن جانا بہتر ہے جس سے کسی ایک علاقہ کا ہیرو تو فوراً ہی بنا جاسکتا ہےـ ـ  ، یا پھر فتویٰ بازی شروع کر دینی بہتر ہے کہ دو چار فتوے یک دم ہی ہر اپنے پرائے کی زباں پہ میرا نام چڑہانے کا باعث بن سکتے ہیںـ ـ  یا پھر مرد و زن میں سے کسی ایک کا نمائندہ بن کر دوسرے کی دھجیاں اڑانے کا کام کرکے سستی شہرت پائی جائے، یہ چیز بھی ہیرو بنانے میں کمال رکھتی ہےـ ـ  ،  دماغ نے یہ ساری باتیں دل کو بتا دیں، دل کو یہ سب بلکل بھی اچھی نہ لگیں مگر ہیرو بن جانے کی خواہش بھی تو اسی کی تھی نا جو ایسے ہی پوری ھو سکتی تھیـ ـ  اس لئے دھیمے سے انداز میں بولا جو بھتر سمجھتے لکھو، یہ سب ہی لکھ لو، بس مجھے ہیرو بنا دو، چاہے جیسے بھی ـ ـ ،

دل و دماغ کی یہ ساری گفتگو پاس ہی لیٹے ھوے ضمیر صاحب بھی سن رہے تھےـ ـ   ان کا مزاج بھی بہت کمال ہے،  یہ اکثر تو کام ہو جانے کے بعد ہی جاگا کرتے ہیں مگر آج پہلے ہی جاگ اٹھےـ ـ   ضمیر صاحب نے بھاری بھر کم آواز میں دخل اندازی کر دی،  “دیکھو بہئی دوستوـ ـ لکھنا ہی ہے نا تو وہ لکھو جو اللہ کو پسند ہے،  جو انسانیت کو فائدہ پہنچائےـ ـ  محبت تو لکھو مگر وہ محبت جو انسانیت سے ہوـ خود احتسابی لکھوـ ـ   اصلاح لکھو مگر ایسے کہ اس میں کسی کا تمسخر نہ ہو،  کسی کی دل ازاری نہ ہو، کسی کی حق تلفی نہ ہو، ، یاد رکھو آج ہیرو بن بھی گئے تو کس کے ہیرو بنو گے،  ایک نادان اور احمق ہجوم کے؟ کچھ عصبیت کے مارے گروہوں کے؟  ایسے جاھلوں کے ہیرو بن بھی گئے تو کیا فائدہ؟ ؟ کتنے دن رہ سکو گے انکے ہیرو؟ ہیرو بننا ہے نا تو قوموں کے ہیرو بنو! سقراط یاد ہے نا؟ اپنے وقت میں زندہ تک رھنے نہیں دیا گیا تھاـ ـ  مگر آج بھی ہیرو مانا جاتا ہےـ ـ  چلو وہ تو غیر مذہب تھا مسلمانوں میں سے خلفاء راشدین کو ہی دیکھ لوـ ـ   ٹاٹ پہن کر اور روکھی کھا کر بھی رہتی دنیا تک ہیرو بن گئے ـ  آج ترقی یافتہ ترین لوگ بھی اپنے فلاحی نظام عمر لاز کے نام سے رائج کرنے پہ مجبور ہیںـ ـ  چلو وہ تو بہت بلند ہستیاں ہیں اپنے قریب کے دور لے لوگ دیکھ لو” ـ ـ

اشفاق احمد تو ابھی ھم، سے بچھڑے ہیں نا؟ جون ایلیا بھی تو ابھی گزرے ہیںـ ـ  سر سید، اقبال اور حالی بھی تو زیادہپرانے نہیں تھےـ ـ   پھر حسن البناء،  سید قطب، مودودی، نعیم صدیقی اور نیلسن منڈیلا،  ماؤزے تنگ،  یہ سب بھی آج ہی کے زمانہ سے ہیں ـ ـ  ان سب کو دیکھو! یہ لوگ ہجوموں کے نہیں باشعور لوگوں کے ہیرو بنے ہیں ـ ـ  ،  اپنی زندگیا تو بے شک انہوں نے مشکلات میں گزاری ہیں مگر رہتی دنیا تک باشعور لوگوں میں ہیرو ہی مانے جاتے رہیں گےـ ـ   لکھنا ہے نا تو وہی لکھو جو ملک و ملت کے لئے نفع بخش ہو! جو جوانوں کو بزدل اور بےکار نہ بنائےـ ـ  ، بلکہ جوانوں کو ملک و ملت کاسرمایہ بنائےـ ـ   وہ لکھو جو آنے والے وقتوں میں آئندہ نسلوں کے عروج کا باعث بنےـ  جو پوری دنیا میں ملک و قوم کی سربلندی کا سبب ھو سکےـ ـ  اور وہ لکھو جو دنیا میں امن و سکون اور رواداری، مساوات،  اور اعلیٰ ترین اخلاقیات قائم کرنے میں مددگار ہوـ ـ  ـ ـ  اتنا بول کر ضمیر خود تو خاموش ہو گیا، مگر دل و دماغ دونوں کو ہی اس بے چینی میں مبتلا کر گیاـ ـ  جس کا ازالہ میرے بس سے بہت باہر ہےـ ـ  ،

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: