مسز ریس کی متجسس دنیا: ہیتھرسیلرز ۔۔۔ مترجم: سیدہ صبیح گل

0
  • 136
    Shares

رجعت پسندی اور روشن خیالی کے درمیان فرق کی طرف اشارہ کرتی ہوی ایک تحریر۔
عالمی ادب سے توشہ خاص.   دانش تراجم ۔


میں اپنی ماں کے زیرِ نگرانی ایک ایسے موحول میں پروان چڑھی تھی جہاں کسی بھی شخص کیساتھ گھلنے ملنے پر سخت پابندیاں عائد تھیں میری ماں اکثر اوقات مجھے خبر دار رکھا کرتیں (اور کہتیں “خبردار جو تم نے کبھی بھی کسی سے بات بھی کی”) وہ مایوس کن حد تک زہنی دباؤ کا شکار تھیں اور اسی وجہ سے گھر کی فضا میں بھی عجیب سوگواریت در آئی تھی ہر طرف تنہائی اور تاریکی کا ڈیرہ تھا ہر گزرتا دن ان کے لئے ایک نیا محاز بن کر ابھرتا، میں حیران ہوا کرتی تھی کہ میرے پڑوس میں کیسا مثالی گھرانہ آباد ہے اکثر اوقات میں نے دو لڑکوں کو دیکھا ان کے سیاہ گھنگریالے بال جو اپنے پالتو کتوں کے ساتھ دوڑتے پھرتے نظر آتے تھےاور ان کا باپ اپنے گھوڑے اور کمند کے ساتھ موجود ہوتا میں نے ان کی ماں کو کبھی نہ دیکھا تھا مگر با وجود اس کے بھی یہ مناظر کسی جنت سے کم نہ لگتے تھے اور دل ہی دل میں اس خاندان کا حصہ بننے کی تمنا جاگ اٹھتی تھی۔

ایک دن جب میں ششم جماعت کی طالبہ تھی ایک سیاہ و چمکدار بالوں والی درمیانے قد و کاٹھ کی سجی سنوری خاتون، مسز ریس کو متعارف کروایا گیا۔ مسز ریس نے بتایا کہ وہ بہت جلد ایک ہسپانوی باشگاہ (کلب) کا انعقاد کر رہی ہیں جہاں پر ہسپانوی زبان اور ثقافت سکھائی جائے گی انہوں نے دلچسپی رکھنے والی طلبات کو مدرسے کے بعد کے اوقات کار سے آگاہ کیا۔

میری نگاہیں جو ان کے ہاتھوں میں موجود کچھوے کے شیل سے بنے بریسلیٹ اور انگلیوں میں موجود چمکدار فیروزہ کے نگینوں سے ہی نہ ہٹنے پاتی تھیں۔

اچانک گھنٹی کی آواز سے چونکی، کوئی بھی مسز ریس کے پاس نہ گیا۔  اپنے گھر کی بے جا پابندیوں کے دباؤ کے زیر اثر ہونے کے با وجود بھی آخر کارمیں مسز ریس کے پاس پہنچی اور ان سے باشگاہ کے اوقات کار طلب کیئے۔

‘اگر تمھیں اچھا لگے تو ہم ابھی سے شروع کر دیتے ہیں” مسز ریس مسکرا رہیں تھیں ان کی آنکھوں نے ایسے کلام کیا جیسے کوئی راز ان میں پنہاں ہوں میں بہت خوش تھی۔ میں نے خود کو اچھا محسوس کیا، میں نے محسوس کیا جیسے میں ہسپانوی زبان روانی سے بول رہی ہوں۔ میں نے خود میں زندگی کو محسوس کیا۔ ہم وہیں دلان میں ملے اور اسی دن انہوں نے مجھے پہلا سبق سکھایا جو کہ ایک سوال تھا ‘دوندے استا سو کاسا’ یعنی تمھارا گھر کہاں ہے؟ اور اسطرح مجھے معلوم ہوا کہ مسز ریس اس حویلی میں رہتی تھیں جہاں وہ دو لڑکے اپنے پالتو کتوں کے ساتھ رہتے تھے، میرے خوابوں کا گھر اور کسی کا نہیں بلکہ مسز ریس کا ہی تھا۔ اس دن میں نے اپنی عمر کے متعلق سیکھا، اپنے پسندیدہ کھانے آیس کریم (ہیلادو) کے متعلق سیکھا اور ہر قسم کے کتوں کے بارے میں جانا اور یہ بھی سیکھا کہ اگر میں امورِ خانہ داری اور کھانے پکانے کی مشقیں سیکھنا چاہوں تو کل مدرسے کے بعد سیکھ سکتی ہوں۔ “ہاں ، ہاں، ہاں میں سیکھ سکتی ہوں” مگر مجھے خدشہ تھا کہ میری والدہ مجھے اجازت نہ دیں گی کہ میں پڑوسیوں سے ملوں جلوں۔

میں اپنی ماں کو ہسپانوی باشگاہ کے تحلیل ہونے بعد تمام گرمیوں سے سردیوں تک سمجھاتی رہی کہ مجھے اجازت دے دیں مجھے ہمارے ہمسائیوں کے گھر جانے دیں مجھے ان سے سیکھنا ہے۔ میں اسطرح التجا کرتی جیسے میری زندگی اس پر انحصار کرتی ہو جوکہ کسی حد تک سچ بھی تھا میں راتوں کو اکثر پریشانی کے باعث رو دیا کرتی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسز ریس اپنے لڑکوں اور شوہر کے ہمراہ کہیں چلی جائیں اور میں ان سے ہسپانوی پکوان کے متعلق کچھ بھی نہ سیکھ پاؤں۔

اور پھرکسی حد تک میں انکو رام کرنے میں کامیاب ہوگئی اور ہفتے کی ایک دوپہر میں نے اپنی سواری (سائیکل) پکڑی اور اس چھوٹے سے فارم تک پہنچ گئی جہاں پر پورچ میں جابجا بڑھی ہوئی جنگلی بیلیں پھیلی ہوئی تھیں وہیں پر کانسی کی خوبصورت کنڈی دروازے پر موجود تھی دروازہ بجانے پر مسز ریس نے ہی آرام سے دروازہ کھولا تھا اور مجھے اندر لے لیا۔

ہم نے ان کے نفیس مخملی لال صوفے پر چائے پی اور پھر انہوں نے میرے پاؤں کے ناخونوں کو سرخی مائل رنگ سے رنگا پھر مجھے بتایا کہ کس طرح سے افریقی پھولوں والے پودوں کو پانی دیا جاتا ہے جو کہ تقریباً ہر کمرے کے باہر ہی موجود تھے وہ دوپہر میرے زہن پر اپنے خوبصورت نقش چھوڑ گئی تھی ہم نے اس دن اسپینی روائتی کھانے بنائے جن میں لہسن بھی استعمال ہوا تھا میں نے کھانوں کی تراکیب اور مراحل احتیاط کے ساتھ لکھ لیے تھے “ہمیں لہسن زیادہ نہیں لینا” ہم ہسپانوی زبان میں بات کر رہے تھے میں نے محسوس کیا تھا کہ میں ہسپانوی لب و لہجے کو واضح اور خوبصورت انداز میں بول رہی تھی، ہاں شاید یہی ‘میں’ تھی۔ ۔ میں نے سوچا

اسکے بعد مسز ریس نے اپنا خوبصورت اور بڑا سا بلو فورڈ ٹرک نکالا اور پھر ہم گودام گئے۔ تے جو کہ میرا ہم جماعت بھی تھا وہیں باہر کھیل رہا تھا ہمیں دیکھ کر آگیا مسز ریس نے ایک ہاتھ اسکے سر پر سیاہ گھنگریالے بالوں پر پھیرا اور دوسرا ہاتھ جو فیروزہ کے نگینوں سے آراستہ تھا میری کمر پر پھیرا انہوں نے ہمیں ایک دوسرے کی جانب دھکیلا ‘می نو ویا، می نو ویو’ یہ سب میرے لئے سنسنی خیز اور خطرے کی گھنٹی کی طرح محسوس ہوا۔

تے (اٹاری) بالائی کمرے کی جانب بڑھ گیا مسز ریس نے مجھے بھی اسکے پیچھے جانے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اکسایا ایسے جیسے کہنا چاہ رہی ہوں کہ “جاؤ اپنی زندگی سے ملو” مگر یہ سب کچھ ٹھیک نہیں تھا میں وہاں کسی لڑکے کے بوسے کی چاہت میں نہیں گئی تھی میں تو وہاں میٹھے پکوان سیکھنے کی چاہت میں گئی تھی۔

“آج ہم اسپینی کھانا پکائیں گے “جب میں گھر پہنچی تو میں نے اعلانیہ انداز میں کہا

“تمھارے پاس سے الگ مہک آرہی ہے” ماں نے مجھے گھورتے ہوئے پوچھا

میں الگ ہوں میں بالکل الگ ہوں۔

“نہیں” انہوں نے کہا ” تم جانتی ہو میرے گھر میں لہسن نہیں ہوتے” ماں کو لہسن کی مہک سے نفرت تھی۔ ۔ میرا دل بھی ٹوٹا مجھےنا فرمانی کا احساس بھی ہوا اپنی زہانت پر فخر بھی ہوا اس ایک لمحے میں کیا کچھ محسوس نہ ہوا جب میں نے اپنی ماں کو بتایا کہ مسز ریس نے مجھے لہسن کے پکوان سکھائے میرے ناخن رنگے مجھے زیورات سے آراستہ کیا میرے جوتے چمکائے۔

میں جانتی تھی کہ ہمارے گھر لہسن کبھی آئے گا۔ میں جانتی تھی کہ میں اپنے ناخن کبھی سرخی مائل رنگ پاؤں گی بس یہی ایک موقع ہے رنگنے کا۔ میں جانتی تھی کہ میں کبھی ناچ سکوں گی میں جانتی تھی کہ میں کبھی ہسپانوی زبان اس روانی کے ساتھ بول سکوں گی۔

کرسمس کہ موقع پر تے نے مجھے ایک چاندی کا نیکلس دیا جو اس نے کولمبیا سے ایک فیملی ٹرپ کے دوران خریدا تھا اور وہ نیکلس اس نے مجھے اسکول میں پہنایا تھا۔

میری ماں نے پھر کبھی مجھے مسز ریس کے گھر جانے نہ دیا اور میں ان کو بہت کم کسی نہ کسی موقع پر کسی بہانے دور سے دیکھ لیتی جیسے کبھی کپڑے سکھاتے ہوئےیا کبھی پورچ کے اگلے حصے کی صفائی کرتے ہوئے۔ مگر آج بھی چار دہائیاں اور ان گنت ایام گزر جانے کے با وجود وہ نیکلس میرے پاس ہے، ایک چھوٹا سا چاندی کا بنا آدمی جس پر عجیب نقش و نگار طلسمانی طور پر مجھے زندگی کی طرف مائل کرتے ہیں اور مجھے جینے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ۔ ۔ !!!

بشکریہ ریڈرز دایجسٹ

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: