۔۔۔۔۔کے نام پر: محمد عثمان جامعی

1
  • 43
    Shares

جس نے بھی آنر کلنگ (Honor killing) کی اصطلاح کو اردو میں ڈھالتے ہوئے ”غیرت کے نام پر قتل“ کام نام دیا وہ خراج تحسین کا مستحق ہے۔ اگر یہ ترجمہ ”غیرت کے لیے قتل“ کردیا جاتا تو یہ لفظ کی بے حُرمتی اور سچائی کا قتل ہوتا۔ ایسا ہر قتل غیرت میں آکر ہی نہیں کیا جاتا (جس کا جواز ایک الگ بحث ہے)، ایسی بہت سی وارداتیں جائیداد ہتھیانے یا دشمن سے انتقام لے کر سزائے موت سے بچنے کا حربہ ہوتی ہیں، یعنی معاملہ غیرت کا نہیں ہوتا، لیکن جو ہوتا ہے غیرت کے نام پر ہوتا ہے۔ آنرکلنگ کے مترجم نے تو حق ادا کردیا، لیکن اجتماعی طور پر ہم الفاظ اور اصطلاحات کا استیصال کر رہے ہیں، ان کا خون کر رہے ہیں۔ یہ عمل مُدت سے ہورہا ہے، مسلسل ہورہا ہے۔ بس ایک استثنیٰ ہےبڑے فخر اور دعوے کے ساتھ کہا جاتا رہا ہے ”پاکستان اسلام کے نام پر بنا“بالکل ٹھیک، اسلام کے نام پر، اسلام کے لیے نہیں۔

قومی مفاد کا نعرہ لگاتے ہوئے جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی قومی مفاد کے نام ہی پر کیا جاتا ہے۔ کسی سیاسی جماعت کو کچلنا، کسی سیاسی قیادت پر مائنس ون فارمولے کا اطلاق یا آئین کے پُرزے اُڑا کر مارشل لا کا نفاذ، سیاست دانوں کا سیاست سے اخراج پھر این آراو کی مقدس دستاویز کا نزول، یہ سارے تماشے قومی مفاد کے نام پر سجتے ہیں۔

ذوالفقارعلی بھٹو نے سوشلزم کے نام پر اُمیدیں سمیٹیں، خواب جمع کیے، آرزوو¿ں کا سرمایہ اکٹھا کیا، شیخ رشید، معراج محمد خان، ڈاکٹرمبشر حسن جیسے سوشلسٹ دانش وروں اور کارکنوں کو اپنا ہراول دستہ بنایا، لیکن ان کی سیاست اور اقتدار سوشلزم کے لیے نہیں بس اس نظریے کے نام پر تھے، چناں چہ تھوڑی بہت لیپاپوتی کے علاوہ ان کا اقتدار عوام کو نہ اسلامی مساوات دے سکا نہ سوشلزم کا انصاف اور برابری۔ البتہ مزدوروں کے راج کے نام پر صنعتوں اور اداروں میں ہُلڑ ضرور مچتا رہا، غریب غلام کے غلام رہے اور غلام مصطفیٰ کھر اور غلام مصطفی جتوئی جیسے جاگیردار منتخب آقا بن کر حکم رانی کرتے رہے۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد تو یہ نام کا اسلامی سوشلزم بھی بھٹوازم کی مہمل اصطلاح میں بدل کر کہیں غائب ہوگیا۔

بھٹو کے خلاف سیکولر اور مذہبی جماعتوں کی ”تحریک نظام مصطفیٰ“ اسلام کے نام پر چلی۔ جانیں گئیں، گھر اُجڑے، جمہوریت رخصت ہوئی، ضیاءالحق آگیا۔ جنرل ضیاءنے اسلام کے نام پر پوری دہائی کھینچ دی۔ فضا میں خاص و ”آم“ کے پھٹنے کے بعد پتا چلا کہ موصوف اپنی وراثت میں اسلام کے نام پر بس آلام چھوڑ گئے جو اب تک پھٹ رہے ہیں۔

جنھیں ہم مذہبی جماعت کہتے ہیں، جسے مذہب کی سیاست قرار دیتے ہیں، وہ بھی صرف مذہب کے نام پر ہے۔ ایک ٹی وی چینل پر ہلہ بولنے کی ٹھانی گئی تو مذہب سے کام لیا گیا۔ بس پھر کیا تھا مذہبی تنظیمیں اور علماء پنجے جھاڑ کر اس چینل کے پیچھے پڑ گئے۔ لیکن حال ہی میں کیپٹن صفدر نے مقدس ترین ادارے میں ایک مخصوص عقیدے کے حامل افراد کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کا ذکر کیا تو ختم نبوت پر جان فدا کردینے کے شوقین علماءبھی چُپ اور مذہب پر زندگی وارتی تنظیمیں بھی خاموش۔ یہ بھی حقیقت ہے کیپٹن صفدر نے جو کہا وہ خود مذہب کے نام پر کیا جانے والا ایک وار تھا، لیکن یہی بات اگر کسی سیاسی جماعت یا سیاسی ادارے کے بارے میں کی جاتی تو کیا اسی طرح چُپ شاہ کا روزہ رکھ لیا جاتا؟ کبھی نہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ مذہب کے نام پر سیاست ہورہی ہے، مذہب کی خاطر نہیں۔

لفظ جمہوریت کی گردان کرنے والوں کے لیے یہ لفظ صرف ایک نعرہ ہے، ایک پردہ ہے جس کی آڑ میں یہ لوٹ مار کریں، ظلم ڈھائیں، جانوں سے کھیلیں، اور جب انصاف کا کٹہرا بلائے تو یہ نعرہ ڈھال بن جاتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اپنی اپنی جماعت میں انفرادی یا خاندانی آمریت قائم کر رکھی ہے۔ جمہوریت کی علامت قرار پانے والے ذوالفقارعلی بھٹو ہوں یا جمہور کی برتری کا ڈھول پیٹتے نواز شریف، بھاری مینڈیٹ انھیں بادشاہ بنادیتا ہے۔ جسے جمہوریت کے لیے قربانی اور جدوجہد کہہ کر پُکارا جاتا ہے وہ جمہوریت کے نام پر کسی شخصیت کو راج سنگھاسن پر بٹھانے یا اس کے مخالفین کو دھکا دینے کی کوشش ہوتی ہے۔

آپ کو اس ملک میں سیکولرازم یا لبرل ازم کے لیے کوئی باقاعدہ یا سنجیدہ جدوجہد اور تحریک چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی، ملیں گی تو بعض واقعات پر جلائی جانے والی موم بتیاں۔ جو سیکولرازم اور لبرل ازم کا پُھریرا لہراتا نظر آرہا ہے، وہ کبھی فرقہ پرستی کا علم بردار نکلتا ہے کبھی کسی لسانی تعصب کا پرچم بردار۔ مذہب اور مولوی کا مذاق اُڑا کر یہ خواتین وحضرات اپنے فرض سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ ان کے نزدیک نفرت، تعصب، انتہاپسندی اور تشدد صرف مذہب، وہ بھی اسلام کے مرکزی دھارے، سے جُڑے ہیں، باقی سب خیریت ہے۔ سیکولرازم سیاست وامور ریاست کو مذہب سے دور رکھنے کا نام ہے، لیکن ہمارے ”سیکولر“ سیاست دانوں نے مذہب کو استعمال کرنے میں کبھی مضائقہ نہیں سمجھا۔ اور رہے ہمارے لبرل تو ان کی آزادی اسلام سے چھٹکارے کا نام ہے، مذہب، عقیدے اور مسلک سے ”نجات“ کا نہیں۔ یہ صورت حال ہے سیکولرازم اور لبرل ازم کے نام پر۔

یہی سب کچھ انصاف کے نام پر، قانون کے نام پر اور پاکستان کے نام پر ہورہا ہے۔ ہوتا رہے، ہمیں اور آپ کو بس یہ فرق جان لینا چاہیے کہ کیا ”کے لیے“ کیا جارہا ہے اور کیا فقط ”کے نام پر۔“ بہت سی الجھنیں یہ جان کر ہی سلجھ جائیں گی۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: