میں ”بنت حوا “صدیوں سے بے امان ہوں۔۔۔۔ #ہیش ٹیگ۔۔۔۔می ٹو: فارینہ الماس

0
  • 33
    Shares

ہالی ووڈ پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر خواتین اداکاراؤں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور یہاں تک کہ انہیں آبروریزی تک کا شکار بنانے کے واقعات کا کھلنا تھا کہ جیسے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر انکشافات کا ایک بھونچال تھا جو تھمتے ہی نہیں بن رہا تھا۔ ایک ایسا عالمی فلم پروڈیوسر جس کی فلمیں کم از کم 81 مرتبہ آسکر ایوارڈ حا صل کر چکی ہیں، پر صحافی خواتین، فلم اداکاراؤں اور گلوکاروں سمیت ماڈلز اور فیشن ڈیزائنرز تک جن میں کیتھرین کنڈل، ایشلے جڈ، جیسیکا بارتھ اور انجلینا جولی بھی شامل ہیں نے اسی نوعیت کے ڈھیروں الزامات عائد کئے۔ یہ قصہ تو شاید خواتین کی استحصالی کا ایک ایسا قصہ ہے جو دنیا بھر میں موجود ہر فیشن انڈسٹری اور فلم و ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ خواتین کا مقدر بنتا ہے خواہ وہ ہندوستان کی انڈسٹری ہو یا پاکستان کی،برطانیہ کی ہو یا امریکہ کی۔ لیکن اس میں کسی حد تک قصور وار خود عورت کو بھی ٹھہرایا جانا چاہئے کیونکہ اس کے اندر موجود گلیمر اور ناموری کے حصول کی تمنا ہی بنیادی طور پر اسے بے حرمتی کی اس نہج تک لے جانے کی وجہ بنتی ہے جہاں عزت جیسا گوہر نایاب ہاتھ سے جانا بھی ایک معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔گویا، بعض حالات میں اس سلوک میں خود اسکی اپنی رضا بھی شامل ہوتی ہے جسے وہ بلندی کے مقام کے حصول کے لئے ناگزیر گردانتی ہے۔ لیکن کچھ خواتین بے خبری میں بھی اس بدسلوکی کا شکار بن جاتی ہیں۔

می ٹو کے انکشافات کے مچائے گئے تہلکے کا زور کچھ اور بڑھا تو بات برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں اور قانون سازوں کے کردار تک بھی جا پہنچی۔ وہاں بھی اراکین کی ایک خاص تعداد ایسے جرم میں ملوث پائی گئی۔ بات کچھ اور کھلی تو سوئیڈش وزیر خارجہ مارگریٹ ولسڑام نے بھی می ٹو مہم کا حصہ بنتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں بھی یورپی رہنماؤں کی ایک اہم میٹنگ میں جنسی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

اس طرح وہ خواتین جو ایک مدت سے اس ہراسانی کا بوجھ اپنے اندر دبائے بیٹھی تھیں انہیں جرات اور ہمت میسر آنے لگی اور وہ خود سے ہونے والے مرد کے اس ناروا سلوک کے خلاف زبان کھولنے لگیں۔ اور ہیش ٹیگ ”می ٹو“ استعمال کر کے اپنی ذاتی کہانیوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرنے لگیں۔ گویا یہ ایسے گھمبیر اور شدید مسئلے کی ایک آگاہی مہم بنتی چلی گئی جس میں پاکستان کی خواتین نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔

پاکستان جیسے ملک میں جنسی ہراسانی کا یہ فعل ایک لڑکی کو کم سنی ہی میں سہنا پڑتا ہے جہاں چھوٹی بچیوں کو کبھی ان کے اسکول کا رکشہ یا وین ڈرائیور حیلے بہانوں سے چھونے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی کس اسٹور یا دکان کا مالک یا کوئی چھابڑی فروش اس کے جنسی حصوں کو مس کر کے اس مکروہ لذت کا ادراک کرتا ہے۔ یہاں گھروں کے باہر آتے جاتے سائیکل یا موٹر سائیکل سوار مرد بھی گھر کے دروازے پر بیٹھی بچیوں کو ورغلانے یا بہکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہ بہکنے کی بجائے خوف کی شدت سے گنگ ہو جاتی ہیں۔ یہاں گھروں کے اندر بھی موجود مردوں میں سے کون کب کس وقت شیطان بن جائے کچھ اندازہ نہیں ہو پاتا۔ کبھی کوئی خالو، چچا، تایا تو کبھی سوتیلا باپ یا بھائی انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنانے لگتا ہے اور اب تو یہ بھی بعید نہیں کہ سگا باپ یا بھائی ہی اس فعل کا مرتکب پایا جائے۔

اداکارائیں یا گلوکارائیں تو خود سے ہونے والے اس غیر انسانی سلوک کو بیان کر کے آج اپنا نفسیاتی یا جذباتی اظہار کر رہی ہیں جس سے کسی کو سزا ہو یا نہ ہو ان کے من کا بوجھ ضرور ہلکا ہو رہا ہے لیکن آگہی کی اس مہم میں ایسے گھریلو استحصال کا شکار خواتین، علم و شعور اور آگہی کی اس صدی میں بھی کسی کو اپنے یہ زخم دکھلانے کا کبھی بھی حوصلہ جتا نہ پائیں گی۔ وہ آج بھی اپنے گھر کے مردوں کے نقاب نوچ کر انہیں زمانے بھر میں رسوا کر ڈالنے کو معیوب گردانتی ہیں۔ یا شاید انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ انہیں جنسی طور پر ہراساں کرنے والے کو سزا دلوا کر وہ معاشرے میں بہتری کی ایک امید بن سکتی ہیں۔ ان کی یہ خاموشی ہی مردوں کے اس جرم کو تحفظ مہیا کرتی آئی ہے۔

جنسی ہراسانی وہ نہیں جس کا شکوہ شرمین عبید چنائے کی بے باک اور بااعتماد بہن کو لاحق ہے۔وہ جو اپنی جرائت اور نڈر پن کا مظاہرہ کھلے بندوں کرتے ہوئے، مرد کی اس کی زندگی میں محض اک بے معلوم سے دخل کی بھی تاب نہ لاتے ہوئے اس سے ایسا بدلہ لے کہ اسے گھر کا چھوڑے نہ گھاٹ کا۔یہاں اصل جنسی ہراسانی وہ ہے جو دو وقت کی روٹی کی خاطر ایک گھریلو ملازمہ کو اپنے مالک کے ہاتھوں اٹھانا پڑتی ہے۔ ایک اسٹور پر بیٹھی یا سفری گاڑیوں کی ہوسٹس بنی بے بس و لاچار لڑکی کو بس کے مسافروں کی نظروں،ان کے اچھالے گئے لغو اور واہیات لفظوں اور فقروں میں سہنا پڑتی ہے۔ یا گھر گھر جا کر مختلف مصنوعات کی تشہیر کرتی وہ لڑکیاں اس کا شکار ہوتی ہیں،جن کا گھر کے بد فعل مرد دروازوں پر کھڑے اپنی غلیظ نظروں اور مکار چہروں پر پھیلی حریص مسکراہٹ سے استقبال کرتے نظر آتے ہیں۔ آج بھی بسوں، ویگنوں میں سفر کرتی خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔دفاتر میں بیٹھے باس اپنی ملازم خواتین پر نظر غلط ڈالتے ہیں۔ ایسی خواتین کس طرح کے ذہنی و نفسیاتی کرب سے گزرتی ہیں اس کا اندازہ لگانا بھی محال ہے۔ وہ کس طور روز جیتی اور روز مرتی ہیں ان کے درد کی گہرائی کو محسوس کرنا بہت دشوار ہے۔ لیکن عجب عالم ہے کہ ایسی جنسی ترغیبات و جنسی پیش قدمیوں، جنسی استدعا اور جنسی تذلیل کی صورتیں وقت کے ساتھ شعور آنے کے باوجود بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔

یہاں بہت سرعت سے بڑھاوا پانے والی جنسی ہراسانی کی اگر انتہائی بدنما اور مکروہ شکل دیکھنا ہو تو اعلیٰ درجے پر تعلیم کی ترسیل کرتے اداروں کی صورتحال پر اک نگاہ ڈال لیجئے۔ پنجاب یونیورسٹی ہو یا قائد اعظم یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی ہے یا خیبر میڈیکل کالج و کراچی یونیورسٹی یہ اور ایسے سبھی اداروں میں بڑھتے ہوئے ہراسانی کے واقعات میں ایک چوکیدار سے لے کر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد اور ڈین تک ملوث پایا جاتا ہے۔ محض خیبر پختونخواہ میں ہی پچھلے سات ماہ میں یونیورسٹیاں ایسے تقریباً ایک سو واقعات میں ملوث پائی گئیں۔ طالبات کے ساتھ ساتھ خواتین پروفیسرز بھی اس ہراسانی کا شکار ہوئیں۔ اکثر اوقات ایسے واقعات یا تو رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے یا انہیں دبا دیا جاتا ہے۔ سندھ یونیورسٹی میں کچھ عرصہ قبل گرلز ہاسٹل میں پنکھے سے لٹکی نائلہ رند کی بے کس لاش آج بھی آنکھوں کے سامنے جھولتی محسوس ہوتی ہے۔ اور حال ہی میں سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹٰوٹ آف لینگویج اینڈ لٹریچر میں ماسٹرز کرتی طالبات رمشا میمن اور نسیم ڈیپر کی چیف جسٹس کو کی جانے والی التجائیں بھی تو ابھی ہماری سماعتوں سے محو نہیں ہوئیں۔ یہاں عورت کو آگے بڑھنے،اپنا آپ منوانے کوئی اعلیٰ مقام پانے سے لے کر تعلیم حاصل کرنے،ڈگری پانے یا پی ایچ ڈی کا تھیسز تک لکھنے کے لئے مرد اساتذہ کو راضی کرنا بہت ناگزیر ہے۔یہ ان اساتذہ کی کہانی ہے جنہیں عموماً روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے۔وہ جو اک ایسے پیشے سے وابستہ ہیں جسے پیغمبرانہ درجے کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ان کا اس قسم کے انسانیت سوز واقعے میں ملوث پایا جانا کچھ ایسا ہے کہ انسانی علم و فہم و فراست حتیٰ کہ انسان کی انسانیت ہی سے اعتبار اٹھ جائے۔ لیکن کمال تحیر کا باعث ہے ان اداروں کے سربراہان کی مجرمانہ پردہ پوشی اور شرمین عبید کے بےکار و بے حقیقت واویلے میں الجھے دانشوران کی گہری خاموشی۔

الغرض، عورت برسوں سے، کئی قرنوں سے یا شاید انگنت تہذیبوں سے ہی، گلی کوچوں، سڑکوں، بازاروں، درسگاہوں، یہاں تک کہ خود اپنے گھروں ہی میں ہراساں کی جا رہی ہے۔ محسوس تو کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اس کی پہلی ہراسانی ہابیل و قابیل ہی کی ہوس کے ہاتھوں ہوئی۔۔۔انسانی تاریخ بدلتی رہی اور اس کے ساتھ ساتھ تہذیب بھی پینترے بدلتی اور نئی اطوار میں ڈھلتی رہی۔۔۔۔۔ لیکن بہت سا انسانی علم و آگاہی بھی ایسی کوئی تہذیب مرتب نہ کر پایا جس میں عورت کو ایک انسان سمجھا جاتا۔یہاں آج بھی ہوس کے ناخنوں سے عورت کی چیتھڑا کھال اڑسی پڑی ہے۔آج بھی بھیڑیے آزاد ہیں اور شکار بے امان۔۔۔

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: