ترکی میری نظر سے: عمار یاسر (دوسری قسط)

0
  • 1.5K
    Shares

گزشتہ سے پیوستہ: دن بھر کے سفر اور تھکاوٹ کے بعد پرسکون نیند سےفجر کے وقت آپ کی آنکھ اگر جامع مسجد سلطان احمد (بلیو ماسک) کی پُرسوز آذان کی آواز سے کھلے تو اُس احساس کو آپ ہمیشہ دل و دماغ میں زندہ رکھنا چاہیں گے۔ اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا، گہری نیند سے فجر کی اذان نے ایسا بیدار کیا کہ پھر آنکھ نہ لگ سکی۔

ناشتہ کرنے کی جگہ ہوٹل کی آخری منزل پر تھی اور اس سے اوپر چھت، جہاں سے مسجد سلطان احمد اورحاجیہ صوفیہ کے مینار، اور باسفورس میں تیرتے بحری جہازوں کا نظارہ کرنا دل کو لبھاتا تھا۔ اپنا ناشتہ لیے ٹیرس پر آگیا، ہلکی ہلکی پھوار اور ٹھنڈی ہوا موسم کو ٹھنڈا رکھے ہوئے تھی جبکہ دور آسمان پر بادلوں اور سورج میں کشمکش جاری تھی کہ آج یا تو بارش ہوگی یا سورج اپنی تمازت کے ساتھ استنبول کے حسن کو مزید نکھارے گا۔

ہوٹل کی چھت سے مسجد سلطان احمد کا منظر

عمر فاروق کے ساتھ صبح 10 بجے بلیو ماسک کے سامنے ملنے کا وقت طے تھا۔ موصوف بتا چکے تھے کہ”پاکستان سے ایک اور دوست سپین جاتے جاتے استنبول دیکھنے رکے ہیں، وہ بھی ساتھ ہی ہوں گے”۔ ہوٹل سے باہر نکلا تو موسم کی سختی دیکھ کر مناسب سمجھا کہ ایک عدد چھتری خرید لی جائے، وگرنہ موسم کی یک دم تبدیلی مزاج پر بھاری بھی پڑ سکتی ہے۔

کاندھے پر بیگ لٹکائے ایک ہاتھ میں خود کو بارش سے بچانے کے لیے چھتری تھامے “بلیو ماسک” کے سامنے پہنچا۔

ٹھیک دس سال قبل اکتوبر 2007 کی وہ صبح اچانک سے یاد داشت کے دریچوں سے نکل کر دماغ کی سکرین پر حاوی ہوئی جب لاہور سے لیبیا جاتے ہوئے استنبول میں ایک دن کا قیام “ترکش ائرلائن” کی طرف سے تحفے کی صورت میں ملا تھا۔ دس سال قبل کا بائیس سالہ لڑکا اُس وقت تو بس “بلیو ماسک” اور آج کل کا “ایمی نونو ” ہی دیکھ سکا تھا۔ لیکن آج مسجد کے سامنے خوبصورتی مزید نکھر چکی تھی اور ہر چیز بدلی بدلی محسوس ہورہی تھی۔ مسجد کے سامنے بنے بنچوں کے سامنے ایک پاکستانی چھتری تھامے آتے جاتے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو دیکھتے غالباً کسی کے انتظار میں تھے۔ میں ابھی عمر فاروق کا انتظار اور مسجد کے میناروں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ وہ صاحب پاس آئے اور نام پوچھا، معلوم ہوا کہ ہم دونوں ہی عمر فاروق کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ یہ فیاض قرطبی تھے جو اسپین میں عرصہ دراز سے کاروبار کر رہے تھے۔ اور اب پاکستان سے سرزمین اندلس واپسی پر 2 دن کے لیے استنبول رکے تھے۔

میوزیم کا داخلی دروازہ جس کے اوپر کلمہ طیبہ اور دائیں بائیں فارسی میں اشعار درج ہیں

فیاض ایک چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا ہیں، ہر میدان کے حوالے سے مختلف آئیڈیاز کی دکان شاید انھی کے دم سے آباد ہے اور سوشل میڈیا پر تو بہت ہی متحرک ہیں۔ آن لائن بزنس، چھوٹے موٹے کاروبار، یہ اگر کوئی محدود آمدنی میں کرنا چاہے تو فیاض بھائی کے پاس ان جیسوں کے لیے بیسیوں کارآمد مشورے موجود ہوتے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات کے بعد آپ ان کی دوستی کو بہترین تعلق سمجھنے لگتے ہیں۔

عمر فاروق ترکی حکومت کی جانب سے 7 سال قبل سکالر شپ پر تعلیم حاصل کرنے آئے تھے اور “انٹرنیشنل ریلیشنز” میں “بی ایس” کرنے کے بعد UNIW میں ملازمت کررہے ہیں۔ نارووال سے تعلق رکھنے والے دھیمے مزاج، لبوں پر دوستانہ تبسم، بے قابو ہوتا “پیٹ” اور ٹھیٹھ پنجابی کے انداز میں بات کرنا انھی کا خاصہ ہے۔ کہتے ہیں کہ “میں اردو میں زیادہ بات کروں تو جبڑے درد کرنے لگتے ہیں”، حالانکہ اردو پر اچھا عبور رکھتے ہیں۔ چونکہ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے تو ہر ایک جو اِن کے جاننے والوں میں سے ترکی جاتا ہے، یہی امید لے کر جاتا ہے کہ عمر بھائی انھی کے لیے ترکی میں موجود ہیں۔

میں ایک اہم نقطے کی وضاحت کرتا چلوں کہ بیرون ملک جو ہمارے یار دوست رہتے ہیں، تو وہ لوگ بھی روزی روٹی کے چکر میں مگن ہوتے ہیں، کیونکہ پیٹ کا جہنم ہر کسی کو بے چین کیے رکھتا ہے۔ اگر کبھی اتفاق سے آپ کا وہاں جانے کا پروگرام بن بھی جائے تو راہنمائی لینے کی حد تک اس دوست کی خدمات حاصل کیجیے، اِلّا یہ کہ وہ اپنا وقت آپ کو دینے کی پیشکش کریں۔ اگر آپ بہت زیادہ امیدیں باندھ کر جائیں گے، اور آپ کا دوست اپنی مصروفیات کے پیش نظر آپ کی توقعات کے مطابق آپ کو وقت نہ دے سکا تو بلاوجہ آپ پریشانی بھی اٹھائیں گے اور تعلق میں گرمی سردی کا خدشہ بھی رہے گا۔

میوزیم کے اندرونی دروازے کا منظر

گپ شپ کرتے، چھتریاں ہاتھوں میں تھامے، آتے جاتے لوگوں کو دیکھتے ہم بھی “توپ کاپی میوزیم” کی طرف چل دیے۔ میوزیم کے باہری احاطے میں ٹکٹ گھر کے باہر لوگ لائنوں میں لگے ٹکٹ خرید رہے تھے۔ بوتھ کے قریب پہنچنے پرسامنے لگے بورڈ کو پڑھ کر انکشاف ہوا کہ اگر مختلف میوزیم دیکھنے کے لیے الگ الگ ٹکٹ خریدا جائے تو سودا مہنگا ثابت ہوگا۔ کیونکہ کسی میوزیم کی ٹکٹ 40 لیرا تو کسی کی 25 لیرا تھی۔ اس لیے سیاحوں کی سہولت کے لیے ایک کارڈ متعارف کروایا گیا تھا جس کی قیمت 85 لیرا یعنی تقریباً 2500 روپے رکھی گئی تھی۔ اس کارڈ کے دو فوائد ہیں:

پہلا یہ کہ آپ اس کارڈ کی بدولت 5 دنوں میں “توپ کاپی میوزیم اور حریم، حاجیہ صوفیہ میوزیم، حاجیہ آئرین، استنبول آرکیالوجیکل میوزیم، استنبول موسیک میوزیم، اسلامی تاریخ، سائنس اور ٹیکنالوجی میوزیم، چوہرا میوزیم، گلاتا میولیوی ہاؤس میوزیم، رومیلی حصار میوزیم اور فاتح میوزیم دیکھ سکتے ہیں۔ جبکہ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو ہر میوزیم کے داخلی دروازے پر سیاح بکثرت نظر آئیں گے۔ یہ کارڈ آپ کو لائن میں کھڑے رہنے کی کوفت سے بچاتے ہوئے سیدھا اندر لےجانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

باہمی مشورے کے بعد ہم نے 85 لیرا کے کارڈز خریدے اور میوزیم کے داخلی دروازے کی جانب چل دیے۔

“توپ کاپی میوزیم” کے داخلی دروازے پر کلمہ طیبہ کنندہ تھا، جبکہ دروازے کے دونوں جانب فارسی عبارت میں مختلف اشعار کنندہ تھے۔ محل کے اندر بھی جابجا مختلف دیوارں پر عثمانی، فارسی اور عربی زبانوں میں شاعری اور خطاطی کی گئی تھی۔

توپ کاپی محل یورپی اور غیر مسلم سیاحوں میں تو مسلمانوں کے بادشاہوں کے محل کے طور پر جبکہ مسلمانوں میں اس کی عقیدت کی وجہ اس کے اندر رکھے وہ تبرکات ہیں جو مختلف انبیاء اور رسول پاک اور صحابہ کرام سے منسوب ہیں۔
محل کے مختلف حصے ہیں جن میں سے ایک حصہ وہ ہے جہاں تین چار کمروں میں تبرکات شوکیسوں میں رکھے گئے ہیں ان کی ویڈیو اور تصاویر بنانے پر پابندی ہے البتہ میوزیم کے باہر بنائی گئی کتابوں کی دکان پر ان تبرکات کی تصاویر پر مبنی مختلف کتب موجود ہیں جو عربی انگلش ترکش زبانوں میں ہیں۔

توپ کاپی میوزیم کے باہر لگا ہوا بورڈ جس پر رعایتی کارڈ کی تشہیر کی گئی ہے

جیسے ہی محل کے اس حصہ میں پہنچیں تو آپ کے کانوں سے تلاوت قران پاک کی مسحورکن آوازآپ کی سماعتوں میں رس گھولتی ہے۔ عمر فاروق بھائی نے ہماری راہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تلاوت کوئی ریکارڈنگ نہیں بلکہ میوزیم کے اوقات میں مختلف قرائے کرام سامنے ایک کمرے کے چبوترے پر بیٹھ کر مسلسل یہ تلاوت جاری رکھتے ہیں جس کو اسپیکرز کے زریعہ مختلف کمروں میں سنایا جا رہا تھا۔

تبرکات میں ایک طرف حضرت موسی علیہ السلام کا عصا ء، حضرت یعقوب علیہ السلام کا عمامہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیالہ اور حضرت داؤد علیہ السلام کی تلوار شوکیسوں میں سجی تھیں اور ساتھ حجر اسود پر چڑھائے جانے والا چاندی کا خول اورخانہ کعبہ کے دو پرنالے وغیرہ بھی ایک طرف رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ان کا کرتا مبارک ا ور دیگر اشیا رکھی گئی ہیں۔ گھومتے ہوئے جب آپ دوسرے ہال میں پہنچتے ہیں تو وہاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کرتا مبارک، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی چادر اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پگڑی اور کاسہ رکھا گیا ہے۔ باہر کی جانب جاتے ہوئے آخری کمرے میں وہ قاری صاحب تلاوت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کی آواز داخل ہوتے ہی آپ کو سنائی دیتی ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ کو تصاویر اور ویڈیو بنانے کی اجازت ہوتی ہے۔

محل کے دوسرے حصہ میں کونسل ہال بنا ہوا ہے جہاں سلطان مہمانوں سے ملتے تھے۔ ہال کی دیواروں پر منقش ٹائلوں سے کام کیا گیا ہے۔محل کے مغربی کنارہ پر ایک چبوترہ بنا ہوا تھا جہاں سے آبنائے باسفورس نظر آرہاتھا یہاں سلطان رمضان کے روزے افطار کرتا تھا۔
اس مقام سے نیچے سمندر کا خوبصورت نظارہ دیکھا جا سکتا ہےاور باسفورس کے پار والے استنبول کو دیکھا جا سکتا ہے جو براعظم ایشیا میں واقع ہے اور جہاں ہم کھڑے تھے یہ حصہ یورپ میں تصور کیا جاتا ہے اسی بنیاد پر ترکی کئی دہائیوں سے یورپی یونین کی رکنیت کےلئے کوشش کر رہا ہے اور یورپی یونین کی شرائط بھی پوری کرچکا لیکن ابھی تک ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت حاصل نہیں ہوئی۔ وجہ کوئی بھی ہو لیکن یہ بات مسلّم ہے کہ عیسائی دنیا کبھی نہیں چاہے گی کہ ایک ترقی یافتہ اسلامی ملک ان کی صفوں کے درمیان آکھڑا ہو اور ان کے جائز و ناجائز فیصلوں کی توثیق و مخالفت کرے۔

فیاض اور عمر فاروق کے ساتھ خوشگوار موڈ میں

شاہی محل کے دوسرے حصہ میں حرم واقع ہے جو شاہی خاندان کی خواتین کے مختص تھا اس کا راستہ بالکل جدا ہے اور یہ مکمل طور چاروں طرف سے ڈھکا ہوا ہے اس کے صدر دروازہ پر قرآنی آیت تحریر ہے کہ “اے ایمان والو! بغیراجازت نبی کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو، یہاں تک کہ تمھیں اجازت دے دی جائے”۔
حرم کے اندر مہمان خانہ اور ضیافت خانے کے علاوہ ملکہ اور ملکہ کی والدہ کےلئے الگ الگ حصہ بنے ہوئے ہیں دیواروں پر عثمانی رسم الخط سے خطاطی ہوئی ہے۔پرانے دور میں چونکہ دن میں قدرتی روشنی پر ہی گزارہ کیا جاتا تھا اور محل کے اس حصے میں روشنی پہنچانے کے لیے چھتوں پر چھوٹے چھوٹے گنبدوں میں شیشے کے ٹکڑے لگائے تھے جن سے آج بھی سورج کی روشنی چھن چھن کر کمروں اوربرآمدوں کو روشن کیے ہوئے ہے۔

میوزیم کے اندر قاری قرآن دوران تلاوت

اسی اثناء میں “بلیو ماسک” سے ظہر کی اذان رب کی کبریائی کا اعلان ہواجو اس کے ماننے والوں کو اپنی جانب دعوت دے رہی تھی۔ اذان کی انتہائی پُرسوز، کانوں میں رس گھولتے،دل کے تاروں کو بے چین کرتی آواز ہمیں اپنے آپ مسجد کی جانب کھینچ رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس سفرنامہ کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں


عمار یاسر پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور دیس دیس سفر کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ حال ہی میں ترکی اور قطر کا سیاحتی دورہ کر کے آئے ہیں اور اپنے سفر نامے کو قلمبند کر رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سفر نامہ ہے جو دانش کے قارئین کی نذر ہے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: