کوئی سوچے تو …. مبارک انجم

0
  • 44
    Shares

اسلام کا اگر مختصر ترین مفہوم اگر کوئی جاننا چاہے تو وہ یہ ہے کہ

” نہ تو ظلم کیا جائے، نہ ہی سہا جائے، اور نہ ہی ہونے دیا جائے”

یہ جملہ حضرت عمرفاروق رضی الله تعالی عنہ کا ہے، اور اس کی تصدیق باب علم حضرت علی رضی الله تعالی فرماتے ہیں کہ،
“یہ بات بہت مختصر سہی، مگر اتنی جامع ہے کہ اسکا احاطہ، دین اسلام کے سارے نظام معاشرت، ساری عبادات، سارا نظام انصاف، اور سارے حالات و نظام جنگ و قتال، سب کو اپنے اندر سموئے ھوے ہے،”

اگر ہم ظلم کا مفہوم دیکھیں تو ظلم، کسی بھی حقدار کو اسکے حق سے محروم کرنے کا نام ظلم ہے،یہ ظلم کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور کوئی بھی کرسکتا ہے، امیر غریب کے ساتھ بھی اور غریب امیر کے ساتھ بھی..طاقت ور کمزور کے ساتھ بھی اور کمزور طاقت ور کے ساتھ بھی، اور ظلم کسی کے عمل سے بھی ہوسکتا ہے، لین دین سے بھی، اور گفتگو اور رویوں سے بھی،کائنات سے اسی ظلم کے خاتمہ کے لئے، اس کائنات کے بنانے والے یعنی “مینوفیکچرر ” نے جو نظام دیا ہے، اسکا نام اسلام ہے.

اگر ہم اسلام کی عبادات پہ غور کرتے ہیں تو ہمیں کوئ بھی عبادت محض، عبادت، یعنی پوچا و پرستش، کے طور پہ نہیں ملتی، بلکہ ہر عبادت اپنے اندر بہت سے مقاصد رکھتی نظر اتی ہے، جیسے نماز محض عبادت کے لئے ہی فرض نہیں ہے، بلکہ انسان کی خالق سے قربت بڑھانے کا زریعہ بھی ہے، انسان میں ڈسپلن، اطاعت گزاری، پابندی وقت، معاشرہ کی خبر گیری، بھائی چارہ اور ترجیحات، طے کرنا بھی سکھاتی ہے اور انکی مشق بھی فراھم کرکے ان پر ثابت قدم رہنا بھی سکھاتی ہے، ان سب مقاصد میں سے ایک مقصد الله، (جسکی عبادت کا حق ہم سب مخلوقات پر ہے،) اسکا وہ حق بھی ادا کرنا ہے، اسی طرح، نظام عدل اور نظام معیشت بھی طے ہیں، جن میں فقط انصاف ہے، مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرنے کے آڈرز ہیں، اور کان کے بدلے کان،آنکھ کے بدلے آنکھ، کا قانون ہے، یہ سب محض اسی لئے ہیں کہ کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم نہ ہونے پائے، اسی طرح جہاد و قتال ہیں، جن کے حوالہ سے طرح طرح کی غلط فہمیاں مسلم و غیر مسلم ہر دو معاشروں میں پھیلی ہوئی ہیں، جہاد تو جدوجہد یعنی کوشش کے معانی میں ہے، یعنی خالق کے اس نظام کو جو اسنےکائنات سے ہر طرح کے ظلم کی روک تھام کے لئے بہیج رکھا ہے، اسکو اسکی پوری اور عملی صورت میں رائج کرنے کے لئے کی گئی ہر کوشش، جہاد کہلاتی ہے، اور یہ بھی فرض قرار دی گئی ہے، دوسری چیز قتال ہے، جو کہ اپنی خاص ضرورت کے وقت ہی فرض ہوتا ہے، اور وہ خاص ضرورت، صرف اور صرف کسی طرح کے ظلم کو ہونے سے روکنا ہے، یعنی مسلمان کسی دوسرے انسان کے خلاف ہتھیار صرف ایک ہی صورت میں اٹھا سکتا ہے، اور وہ صورت کسی کا خود اس پر یا کسی دوسرے انسان پرظلم کرنا یا ظلم کرنے کی کوشش کرنا ہے، یعنی اگر کوئی آپکو آپکے کسی حق، جان، مال، یا عزت سے زبردستی محروم کرنا چاہے تو آپ اس سے قتال کر سکتے ہیں، یا آپ پر تو نہیں مگر آپ کے سامنے کسی دوسرے آپ سے متعلقہ یا غیر متعلقہ فرد پر کوئی ظلم کر رہاہو یاکرنا چاہ رہا ہو تو بھی اپ پر فرض ہوتا ہے کہ اسے اس ظلم سے روکنے کے لئے ہتھیار اٹھا لیں…

قتال بھی تب تک ہی فرض رہتا ہے جب تک کئے جانے والا ظلم یا اسکا خطرہ موجود ہو، جیسے ہی ظلم ختم ہوا، اس قتال کی فرضیت بھی ختم ہوجاتی ہے، ایسا ہر گز نہیں ہے کہ، ظلم یااس کی کوشش کرنے والے پر الٹا ظلم کر دیا جائے،یہ ظلم کے بدلہ میں بھی ظلم اسلام میں ممنوع تر ہے، اس ظلم کی حالت کے علاوہ، کسی بھی صورت میں کسی دوسرے کی عزت جان و مال کا دفاع ہر مسلمان پہ فرض ہوتا ہے،، اسی طرح معاشرہ میں روا کسی بھی درجہ کے ظلم کو ختم کرنے کے لئے، کسی بھی طرح کی مطلوبہ طاقت، وسائل اور قوت کا حصول بھی مسلمان پہ فرض کیا گیا ہے، وہ طاقت چاہے، معاشی ہو، تعلیمی ہو، ٹیکنالوجی کی ہو، اسلحہ کی ہو یا جسمانی و افرادی، ایسی ہر طرح کی طاقت کا حصول اسلام نے اپنے ماننے والوں پر لازم کیا ہے، اج اگر مسلمان دنیا بھر میں، کمپسری کا شکار ہیں تو اسکی اصلی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ، مسلمانوں کی اکثریت نے اسلام کے اس حقیقی مطلب ومفہوم کوچھوڑ کر، چند عبادات کو مذھبی رسوم کی طرح اپنانے کو ہی اسلام تسلیم کر لیا ہے اوراسی پہ مطمئن بھی ہو چکے ہیں، ستم ظریفی تو یہ ہوئی ہے کہ سب سے بہتر مسلمانوں اور اسلام کے سب سے زیادہ سمجھنے والے یعنی اسلام کے زیادہ تر علما نے بھی اس حقیقی مفہوم کو چھور کر مختلف ضمنی اور فروعی عوامل کو اپنا مشن بنا رکھا ہے، اور ان ہی میں زندگیاں اور تمام وسائل صرف کر دیتے ہیں اور اسکا نتیجہ یہی نکلنا تھا، اور یہی نکل بھی رہاہے کہ، وہ قوم جس سے کہ ذمہ اسکے مالک نے ظلم کو روکنا لگایا تھا، خود ہی ہرجگہ ظلم کا شکار ہے، اور جہاں ظلم کا شکار نہیں بھی ہے، وہاں عیاشیوں میں پڑ کر خود ظالم یا ظالم کی مددگار بن چکی ہے.

آج بھی اگر کسی خطہ میں وہاں کی مقامی آبادی کے تیسرے حصہ جتنا ایک گرو مسلمانوں کاایسا تیار ہوجائے، جو اسلام کے اصل مفہوم کوسمجھنے اور اس پہ عمل کرنے والا ہو تو یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہاں کی بھاگ دوڑ کسی ظالم یا اسکے مددگار کے پاس رہ سکے، یہی الله کا وعدہ بھی ہے، اور یہی عقل و دانش اور سائنس کی تھیوری بھی ..
تو آئیے ہم مل کر سوچیں، کہ ہم اسلام کو کیسے سوچتے اور تسلیم کرتے ہیں؟

الله سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام کو ٹھیک سے سمجھنے اور پھر اس پہ عمل کر کے اپنے لئے، اپنے ملک و قوم کے لئے اور انسانیت کے لئے فائدہ مند اور محافظ بننے کی توفیق عطا فرمائے…. آمین…

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: