صدائے جرس؛ دانش نامہ: محمد خان قلندر

1

دیار وطن اور دیار غیر میں جس تواتر اور تسلسل سے زمینی حقائق کے بالکل بر عکس نُون لیگ کے زُعماء بزعم خود ابلاغ عامہ میں گمراہ کن خبریں چھپوا رہے ہیں اور ملکی حالات دگرگوں ہونے کا تآثر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ قابل توجہ بھی ہے اور قابل غور بھی ہے.

آج کئی جید اخباری ہستیوں کی نیوز لائن سے یہ خبر لگوائی گئی کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی  سعودی عرب میں مقتدر ہستیوں سے کوئی خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں. یہ بھی بتایا گیا کہ ترکی کے سربراہ بھی خاموش سفارتی ذرائع سے کوئی تعاون بہم پہنچا رہے ہیں ۔

پاکستان کے وزیراعظم ، پنجاب کے وزیراعلی، وفاقی وزرا بشمول زیر تفتیش وزیر خزانہ کی لندن یاترا میں سابقہ اور  نااہل وزیر اعظم سے میٹنگ کو بھی اس انداز سے پیش کیا جا رہا ہے. جیسے ریاستی اداروں نے ان کو نواز شریف سے اپنے ریاست کے خلاف سخت رویے، رد عمل اور تنقید میں کچھ نرمی، لچک اور مصالحت اپنانے کی درخواست کرنے کے لئے بھیجا ہے. جسے شرف قبولیت نہیں بخشا گیا.

نیب کورٹ میں چارجز فریم ہونے کے معاملے کو سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ایک پاکستان کے شہری کوجو لندن میں اسی جائیداد میں مقیم ہے اسے ایک سُپر ہیرو کے طور پروجیکٹ کیا جا رہا ہے جبکہ اسی کے ذرائع آمدن کے بارے مقدمات زیر سماعت ہیں. ساتھ ہی وہ اربوں روپے کی ترسیلات زر کے غیر قانونی ہونے کے الزامات میں ملوث ہے_

یہ سب غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کس لئے کی جا رہی ہے..؟  ملک میں سیاسی تناؤ اور انتشار کو کس مقصد کے لئے بڑھاوا دیا جا رہا ہے ؟

کیا میاں نواز شریف اپنے نوآموز اور نادان مشیروں کی وجہ سے جس مصیبت میں خود اور اپنے خاندان کو الجھا بیٹھے ہیں انہی ناپختہ ذہن لوگوں سے مشاورت سے مزید دلدل میں دھنسنا چاہتے ہیں؟

یہ اصل مخمصہ اور المیہ ہے کہ میاں بردران کا طرز حکومت تو اس بات کا غماز ہے کہ یہ بری طرح اپنی ذات کے اسیر ہیں. اس سے آگے انہیں زمینی حقائق یا اعداد و شمار سے کچھ سروکار نہیں رہا ہے.

پنجاب دس کروڑ سے زائد آبادی کا صوبہ ہے لیکن اس کے نظم و نسق کو شہباز شریف اکیلے ہی چلاتے ہیں.  کسی بھی چھوٹے یا بڑے معاملے میں کہیں پر بھی مقامی حکومتی اہل کار از خود کوئی  بھی ایکشن لینے کے مجاز نہیں،  جب تک  وزیراعلی کے اس معاملے کا نوٹس لینے کی سند جاری نہیں ہو جاتی۔

تمام حکومتی مشینیری عضو معطل ہے۔ جب تک خادم اعلی حکم جاری نہ کریں یہ حرکت میں نہیں آ سکتی، پنجاب میں وفاقی حکومت کے پراجیکٹس بھی چھوٹے میاں صاحب کے زیر نگرانی ہیں، بلکہ مواصلات، توانائی، بجلی اور تعمیرات کی وفاقی وزارتیں بھی ان کے زیر تسلط ہیں_

مرکز میں بڑے میاں صاحب کی ساری توجہ میگا پراجیکٹس پر مرتکز رہی تھی اور اب نااہل ہونے کے بعد بھی وہ ان سے متعلق فعال ہیں. شاہد خاقان عباسی روزانہ کی بنیاد پر ان کے زیر اطاعت ہونے اور رہنے کی نوید سناتے ہیں_

………………………………………………………………………………

ان حالات میں عوام کی ماہوسی کا بڑھنا تو قدرتی امر ہے. لیکن نون لیگ باجماعت ملک کے دیوالیہ ہونے کا نوحہ پڑھ کے لوگوں کے ذہنی انتشار اور پژ مردگی میں.اضافہ کر کے ریاستی اداروں کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی کا ماحول پیدا کرکے ملک کی کون سی خدمت انجام دے رہی ہے.
………………………………………………………………………………..

نُون لیگ کے میاں برادران  کے علاوہ ملکی معاملات چلانے میں کسی بھی ادارے کا کوئی کردار تو کجا نام کا شائبہ بھی نظر نہی آ سکتا بجز اسحاق ڈار، مریم نواز اور حمزہ شہباز دیگر سب وزراء  اور حکومتی عہدہ دار بشمول گورنرز او.ر نیم خود مختار محکموں کے سربراہان سب کا کام صرف اور صرف شریف خاندان کی مدح سرائی ہے.

پانامہ کیس میں شروع سے اب تک سپریم کورٹ، جے آئی ٹی، نیب عدالت میں مقدمات میں پیشی اور عدالتی کاروائی میں شمولیت کو ملک و قوم پر احسان کرنے کے مصداق پروجیکٹ کیا جا رہا ہے. مریم نواز کے پاس کوئی حکومتی یا پارٹی کا عہدہ ہی نہی لیکن اسے سربراہ حکومت کا پروٹوکول دیا جاتا ہے، اور کیا ہی شاہانہ طرز تخاطب سے وہ اظہار خیال کرتی ہیں_

موجودہ دور میں مرکزی اور پنجاب کابینہ کے ہوئے اجلاس انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں. بجٹ کی منظوری کے علاوہ شائد ہی کوئی قومی اہمیت، خارجہ امور اور قومی سلامتی کا مسئلہ مرکزی کابینہ میں زیر غور آیا ہو یا جس پر کسی نوعیت کی کچھ بحث ہو سکی ہو..

پنجاب میں تو شہباز شریف ہی مطلق العنان پوری حکومت ہیں، صوبائی اسمبلی اور وزراء کا ہونا بھی ان کے رہین منت ہے. مرکز میں بھی یہی حال ہے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نواز شریف بطور وزیراعظم چند بار جلوہ افروز ہوئے تھے لیکن معزول ہونے پر ان کی تصویریں اسمبلی حال کی سجاوٹ بنائی گئی ہیں_

ان حالات میں عوام کی مایوسی کا بڑھنا قدرتی امر ہے  لیکن نُون لیگ باجماعت ملک کے دیوالیہ ہونے کا نوحہ پڑھ کے لوگوں کے ذہنی انتشار اور پژمردگی میں اضافہ کر کے، اور ریاستی اداروں سے مسلسل محاذ آرائی کا ماحول پیدا کرنے سے کون سی قومی خدمت سرانجام دے رہی ہے؟  یہ عقدہ حل کرنے میں میڈیا پے موجود سارے دانشور بھی ناکام نظر آتے ہیں_

اس ہنگام میں نام نہاد اپوزیشن اب سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہے پارلیمنٹ سے موجودہ ترامیم پاس کرانے میں جس بےحسی کا مظاہرہ ساری حزب اختلاف نے کیا وہ بے حد شرمناک ہے رہا ہے. جس طرح نُون لیگ نے آسانی سے نواز شریف کی ذات کے لئے قانون تبدیل کر لیا یہ بظاہر اس کی مخالف پارٹیوں کے منہ پر طمانچہ ہے_

پارلیمنٹ کی برتری پر لیکچر دینے والے اس کی بطور ادارہ تکریم کے طلبگار اگر اپنے کردار پر نظرڈالیں تو ضرور خفت محسوس کریں گے…!!!

کیا ایسے ارکان پر مشتمل ادارے کو عدلیہ اور قومی سلامتی کے فعال اداروں پر انگشت نمائی کرنی چاہئے؟   یہ اب عوام کو سوچنا ہے…

اطلاعات اور معلومات تک رسائی اور ابلاغ عامہ کی ترقی یافتہ اس دور میں بھی،  اگر ہم اس پروپیگینڈے اور ہتھکنڈوں کے شکار رہنا چاہتے ہیں  یا اپنی  نالائقی کو دوسروں کی سازش قرار دیتے ہیں تو ہمارا مرض لاعلاج ہے___

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: