اہل دانش سے مکالمہ: سلمان عابد کا کتاب ’دانش سے مکالمہ‘ پہ تبصرہ

0
  • 64
    Shares

معاشرہ بنیادی طور پر اہل علم اور فکری مباحث کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے اور ایک بہتر، مہذہب ، منصفانہ اور  پرامن معاشرے کی طرف پیش قدمی بھی کرتا ہے۔ یہ سفر اہل علم و دانش کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ یہ ہی وہ طبقہ ہوتا ہے جو لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے کر جاتا ہے۔  معاشرے میں الجھنیں یا الجھاؤ اہل دانش اپنی فکری صلاحیتوں سے  سلجھاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایسے معاشرے جو علم، فکر، دلیل، فلسفہ اور تحقیق کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں، ان میں اہل علم و دانش کے طبقہ کو بڑی پزیرائی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں  حقیقی اہل دانش بھی سماجی اور سیاسی تنہائی کا شکار ہیں۔

وہ طبقہ جسے ہم طاقت ور، فیصلہ ساز، پالیسی ساز یا حکمران طبقہ کہتے ہیں وہ اپنے سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی، انتظامی  جو بھی نظام  چلانا چاہتے ہیں، وہ اہل دانش کی فکری صلاحیتوں سے استفادہ کر کے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے جیسے معاشروں کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اہل علم ان بالادست طبقات میں  علمی رسائی نہیں رکھتے۔ کیونکہ یہاں رائج حکمرانی کا نظام  علم اور فکر سے زیادہ  طاقت، اختیار، دولت، شہرت اور دھونس و دھاندلی کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں ہر مکتبہ فکر کے اہل دانش نے جو علم پیدا کیا، حاصل کیا یا اس میں کوئی نئی جدت پیدا کی، وہ پس پشت ہی رہے ہیں ۔ اسی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ علمی اور فکری بنیادوں پر آگے بڑھنے سے گریز کرتا ہے ۔

میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ یہاں اہل دانش نہیں  بلکہ اصل مسئلہ ان کی سماج سمیت ریاستی و حکومتی اور ادارہ جاتی نظام میں قبولیت کا ہے۔ جو لوگ طاقت ور یا اہل اقتدار تک رسائی رکھتے ہیں، وہ سمجھوتے کی سیاست کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہیں۔ اور مفاداتی سیاست کے تابع رہ کر کام کرتے ہیں۔ جبکہ حقیقی اہل دانش پیچھے رہ جاتا ہے یا اسے پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل بھی اپنے بہت سے اہل علم و فکری دانش سے جڑے  افراد اوران کے علم سے بے خبر ہے۔ ایسے میں پاکستان کے معروف مصنف اور دانش ورسجاول خان رانجھا نے ممتاز اہل علم و فکر سے ایک مکالمہ کی بنیاد پر کتاب مرتب کی ہے ۔ کتاب کا نام ’’دانش سے مکالمہ‘‘ ہے۔ یہ کتاب ہمارے دوست شاہد اعوان نے اسلام آباد سے ایمل مطبوعات سے شائع کی ہے۔

سجاول خان رانجھا اس سے قبل بھی کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان میں گہر کی تلاش، کرب کی راہ گزر، اگر صبح طلوع ہوئی، جو سفر نامہ کی صورت میں ہے، جبکہ اپنے آپ کی تلاش اور خو شناسی سماجی سائنس سے متعلق ہے۔ ان کی حالیہ کتاب جو اہل علم سے مکالمہ کی صورت میں ہے ان میں پروفیسر رفیق اختر، شمس الدین عظیمی ، عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر ممتاز احمد، طارق جان، بیرسٹر ظفر اللہ خان، ڈاکٹر انور نسیم، ڈاکٹر انیلہ کمال، ڈاکٹر اعتزاز احمد، ڈاکٹر خالد مسعود، سید منور حسن، ڈاکٹر سہیل حسن، خورشید احمد ندیم، سلطان بشیر محمود، افتخار عارف، ڈاکٹر انوار احمد، پرفیسر عبدالجبار شاکر، عبدالصمد اور فرزانہ باری شامل ہیں۔ یہ وہ اہل علم ہیں جو مختلف شعبہ جات میں اپنی علمی اور فکری صلاحیتوں میں بڑا مقام رکھتے ہیں۔ کتاب کا دیباچہ ڈاکٹر نجیبہ عارف نے لکھا ہے۔ یہ لوگ  دائیں اور بائیں بازو کے نظریات کے ساتھ علمی اور فکری محاز پر سرگرم عمل ہیں۔ ان میں سیاست ، مذہب، تصوف، ادب صحافت اور فکر و فلسفہ سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات شامل ہیں جو اپنے اپنے شعبہ میں اختصاص رکھتے ہیں اوراس بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نجیبہ عارف نے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’ہر زندگی خواہ وہ فرد کی ہو یا قوم کی، وقت کے ایک خاص دورانیے کے بعد ایک خاص دھڑے پر چلنے کی عادی ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ یہ ہی انداز زیست اس کے لیے تقدس حاصل کرلیتا ہے ۔ اس تقدس کی چھان پھٹک ضروری ہوتی ہے تاکہ اصل کو فرح سے، اہم کو غیر اہم سے اور اصول کو فضول سے دور رکھا جاسکے۔ سجاول خان رانجھا نے ان مکالمات میں یہ ہی فریضہ انجام دینے کی کوشش کی ہے۔‘‘ بقول سجاول خان رانجھا کے ’’ ہمیں کیا ہوا اورکیا ہورہا ہے‘‘ مسلسل بے چین رکھنے والا سوال ہے، جس کا جواب ہم نے پاکستان کے سرکردہ اہل فکر ونظر سے بصورت مکالمہ جاننے کی کوشش کی ہے ۔ ان شخصیات کا مختلف شعبہ حیات میں  نام اور مقام ہے۔ وسیع مطالعہ اور تجربے کے علاوہ ذہن کی کشادگی ان کا نمایاں وصف ہے ۔ چنانچہ آپ کو ان کی باتوں میں مختلف زاویوں سے افکار تازہ کی چاشنی اور روشنی ملے گی  اور اس کا سرا ملے گا کہ ہمارے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔‘‘ اسی طرح بقول شاہد اعوان کے ’’دانش سے مکالمہ کرنے کا حوصلہ اور صلاحیت بذات خود دانش مندی کی متقاضی ہے۔ اچھا سوال آدھا جواب تو ہوتا ہی ہے، اچھے جواب کے امکان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ سجاول صاحب نے ہیر کی تلاش میں رانجھا کی طرح ہی آبلہ پائی کی ہے ۔‘‘

دانش سے مکالمہ کرنے کا حوصلہ اور صلاحیت بذات خود دانش مندی کی متقاضی ہے۔ اچھا سوال آدھا جواب تو ہوتا ہی ہے، اچھے جواب کے امکان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

اس کتاب میں ان اہل دانش سے بالخصوص جن مسائل پر گفتگو  کی کوشش کی گئی ہے ان میں مظلوم عورت یا مرد، تصوف میں سترہ کلاسیں، انسانیت سے محبت کا علمبردار، روایت سے جدیدت تک، جمود میں حرکت کی تلاش، شعور، ارتقا اور مسلم افکار، منفی غلبہ کا خدشہ، علم سے پردے کھلتے ہیں، میری پہچان میرا پاکستان، پابندی اور تبدیلی کا مخمصہ، اسلامی نظام کا الجھاؤ، تقلید سے ارتقا تک، کثیر جماعتی نظام بنائے فساد، رسم و رواج، پوجا پاٹ اور اسلام، ٹکراؤ کی راہ سے گریز، قائد اعظم کا سیکولر پاکستان، میری جدوجہد میرا مشن، علم کے راہبرو راہرو، محنت سے عظمت کا سفر جیسے معاملات شامل ہیں ۔ معروف دانشور خورشید احمد ندیم کے بقول ’’میرے نزدیک معاشرے کی تعمیر میں پہلا کام ہی اہل دانش کا ہوتا ہے۔ مغرب میں یہ ہی ہوا ہے۔ پہلے احیائے علوم کی مہم آتی ہے، نشاۃ ثانیہ کی بات آتی ہے، اصلاحات کی بات ہوتی ہے، کوئی اصلاح مذہب کی تحریک اٹھتی ہے۔ اس کے بعد کچھ طور طریقوں، کچھ قدروں پر قوم کے ہاں اتفاق پیدا ہوتا ہے۔ پھر مختلف شعبوں میں اس کے تحت قیادت ابھرتی ہے۔ سماج میں بھی سیاست میں بھی قوم میں بھی۔ ہمارے ہاں وہ پہلا مرحلہ ہی نہیں گزرا ۔ یہاں دانشورانہ قیادت اتنی دیوالیہ رہی ہے کہ اس نے لوگوں کو کوئی وژن نہیں دیا، جو دیا ہے وہ غیر عملی تھا۔ اس نے بجائے نتیجہ خیز بنانے کے ہمیں مزید پستی کی طرف دکھیل دیا ہے۔‘‘

معروف ادیب اور دانشور ڈاکٹر انوار احمد کے بقول ’’رفتہ رفتہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ معاشرے میں بیٹیاں کسی وجہ سے امتیاز کا شکار ہوتی ہیں۔ انہیں خوف اور ناامیدی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ جب میں 1976میں یونیورسٹی میں آیا، تو جیسے میری دوبیٹیاں تھیں، اسی طرح طالبات کے ساتھ میرا رویہ تھا۔ اب ان میں سے بعض بڑی ہوگئیں، بعض ریٹائرڈ ہوگئیں۔ انہوں نے زندگی کے مختلف ادوار دیکھے، میں دعوی نہیں کرتا کہ میں نے ان کی زندگی میں سہولتیں پیدا کیں، لیکن دلاسہ ضرور دیا اور انہیں کہا کہ دیکھئے، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اپنے دل میں امید کا دیا روشن رکھیں، ہمیں تکلیفیں تو آئیں گی، بہت ساری بے رحمیاں ہیں، نامساعد چیزیں ہیں، لوگوں کے بدلتے ہوئے رویے ہیں، لیکن آپ اپنے دل میں امید کا دیا جلائے رکھتی ہیں اور استقامت کا اور حافظ کا مصرعہ پڑھتی رہتی ہیں کہ ’’اگر اس طرح نہیں رہا تو اس طرح بھی نہیں رہے گا۔‘‘

سید منور حسن کے بقول ’’معاشروں کی بقا نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے ہے لیکن جب نظام تعلیم ہی غلام بنانے والا ہو، ذہنوں پر پردہ ڈالنے والا ہو، سوچ و فکر کی لہروں کو روکنے والا ہو اور جس معاشرے کے اندر مادہ پرستی کے طوفان کو کچھ قدرتی اور کچھ مصنوعی طور پر اٹھانے کی کوشش ہو رہی ہو اور لوگوں کے پیش نظر مادی ترقی اور کرپشن ہی نشان منزل قرار پائی ہو، اس معاشرے کو یوں تو دوش نہیں دیا جاسکتا کہ اس کی فکر کے اندر کجی پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ چاروں طرف سے ہماری نسلوں کو غلام رکھنے کے اہتمامات ہیں۔‘‘

یہ ایک اچھی کتا ب ہے جو نئی نسل کے لوگوں کو بالخصوص پڑھنی چاہیے اور سمجھنا چاہیے کے ان کے اردگرد جو مسائل ہیں ان کا فکری بنیاد کیا ہے اور اس سے کیسے باہر نکلا جاسکتا ہے۔

کتاب ایمل مطبوعات کے روایتی اعلی معیار کے ساتھ شایع ہوئی ہے۔ قیمت 600 روپے۔

کتاب کے حصول کے لیے اس لنک پہ رابطہ یا اس پیج پہ میسج کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: