”کراچی“ سامراج کی نشانی! محمد عثمان جامعی

0
  • 162
    Shares

سندھ میں چوں کہ سارے مسائل حل ہوچکے ہیں، تعلیم عام ہوگئی ہے، ہر بچہ پڑھ رہا ہے، گھر گھر سے پڑھا لکھا بھٹو نکل رہا ہے، سب کو صاف پانی میسر ہے، گاو¿ں گاو¿ں اسپتال قائم ہوگئے ہیں، عوام کی صحت اتنی اچھی ہوگئی ہے کہ ڈاکٹر فارغ بیٹھے بیٹھے بے زار ہوجاتے ہیں اور فیس بُک پر مریضاو¿ں کو فرینڈ ریکوئسٹس بھیجنے لگتے ہیں، پورے صوبے میں پختہ سڑکیں چمچمارہی ہیں، ماحول اتنا صاف ستھرا ہوگیا ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو کوڑا دکھانے کے لیے دوسرے صوبوں میں لے جاتے ہیں، امن کا وہ دور دورہ ہے کہ مُراد علی شاہ کو لوگ مَن کی مُراد اور شیرشاہ سوری قرار دے رہے ہیں (شیرشاہsorry)، عوام کی خدمت کرکے بے حال ہوجانے والے سندھ کے حکم راں پریشان ہیں کہ اب مزید کریں تو کیا کریں؟ یا تو اگلے انتخابات تک بیٹھے رہیں تصورِ ”جانا“ کیے ہوئےیا پھر بے کار نہ مباش کچھ کیا کر، اُدھیڑاُدھیڑ کے کپڑے سیا کرکے مقولے پر عمل کیا جائے؟ کیوں کہ خالی ہاتھ بیٹھنا ہمارے وزراء کو ذرا پسند نہیں، کچھ نہیں تو وہ ہاتھ صاف کرنے اور ہاتھ دکھانے میں مصروف رہتے ہیں، اس لیے دوسری تجویز پر عمل کا فیصلہ کیا گیا۔ اب سوال یہ تھا کہ مصروفیت کے لیے کیا کیا جائے؟ آخر صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے مسئلے کا حل نکال لیا۔ فرماتے ہیں ”اگر سندھ کے ادیب، دانش ور اور سول سوسائٹی اجازت دے تو کراچی کا نام تبدیل کرکے اس کا تاریخی وثقافتی نام کلاچی رکھا جاسکتا ہے۔ جب بمبئی کا نام تبدیل کرکے ممبئی رکھا جاسکتا ہے اور اس طرح شہروں کے نام دنیا بھر میں تبدیل ہورہے ہیں تو کراچی کا نام کلاچی کیوں نہیں ہوسکتا۔ کراچی کا نام انگریز سام راج کی نشانی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس (تجویز) کی مخالفت وہ کریں گے جو سام راجی قوتوں کے حمایتی ہوں گے۔“

دیکھا آپ نے، اب کراچی کا نام تبدیل کیا جائے نہ کیا جائے کی بحث میں لگ کر صوبائی حکومت اور اس کے مخالفین میں سے کوئی خالی نہیں بیٹھ پائے گا اور وقت گزرتا جائے گا۔

اس تجویز کی مخالفت کرنے والے کیوں کہ سام راجی قوتوں کے حامی قرار پائے ہیں اس لیے ہم تو بھیا اس کی حمایت کرتے ہیں، اور سردارشاہ صاحب کی دانائی کو داد دیتے ہوئے عرض کرتے ہیں:

یوں تو تم شاہ بھی، سید بھی ہو سردار بھی ہو
بے خبر ہم رہے اس درجے کے ہُشیار بھی ہو

بس ہمیں سردار صاحب کی جانب سے اس ضمن میں ممبئی کی مثال دینا اچھا نہیں لگا۔ بلدیہ ممبئی کا بجٹ بھارت کی کئی ریاستوں سے بھی زیادہ ہوتا ہے، وہاں ٹرانسپورٹ کی معیاری اور سستی سہولت عوام کو میسر ہے، ممبئی کا میئر کراچی کے میئر سے کہیں زیادہ بااختیار ہے۔ تو بھیا کیا ضرورت تھی خوامخواہ لوگوں کی توجہ ممبئی کی طرف مبذول کرانے کی۔ شاباش اب جلدی سے اگلا بیان دیجیے کہ جو لوگ کراچی کے لیے ممبئی کے بلدیاتی ادارے جیسے اختیارات اور سہولیات مانگیں وہ نہ صرف سام راجی بل کہ رام راجی قوتوں کے بھی حامی ہوں گے۔ اس طرح لوگوں کی یہ غلط فہمی دور ہوجائے گی کہ آپ کراچی کو ممبئی جیسا بنانے کے موڈ میں ہیں۔

سردار صاحب نے کراچی کا نام بدلنے کے لیے یہ کلیہ دیا ہے کہ انگریز سام راج کا دیا ہوا نام ہے اس لیے بدل دیا جائے۔ بالکل ٹھیک کہا، واہ جی واہ، اسے کہتے ہیں حُب الوطنی، حُریت پسندی، سام راج دشمنی، ثقافت دوستی، یعنی کُل مِلا کے جیالاپن، جسے تاریخی نام بہت پسند ہیں، اسی وجہ سے تو بلاول، بختاور اور آصفہ زرداری بھٹو ہوگئے۔

اب سردار صاحب جیسا سام راج دشمن وزیر ثقافت میسر آیا ہے تو لگے ہاتھوں انگریز سام راج کی دوسری نشانیوں سے بھی نجات نہ حاصل کرلی جائے، جھٹ پٹ میں۔ ویسے ہمیں یقین ہے کہ شاہ صاحب کراچی کو کلانچی کرنے کے بعد مزید سام راجی نشانیاں بھی مٹائیں گے، پھر بھی ہم کچھ نشانیوں کی نشان دہی کیے دیتے ہیں۔

سب سے پہلے تو آئیے انگریزی کی طرف، یہ آپ کی پاکستان پیلپزپارٹی میں جو دو سام راجی نشانیاں ہیں یعنی ”پیپلز“ اور پارٹی انھیں بدل کر تم کوئی اچھا سا رکھ دو اپنی پی پی پی کا نام جیسے پاکستان پپو پنچایت، پیپلز کا حقیقی ترجمہ پپو ہی ہوسکتا ہے، اس سے معصومیت بھی جھلکتی ہے اور کسی بھی عوامی مطالبے پر صاف کہا جاسکتا ہے ”پپو یار تنگ نہ کر۔“ دوسرا مجوزہ نام ہے ”پاپا، پھپھو پریوار“ دل کی بات کہیں تو یہ نام حقیقت کے زیادہ قریب ہے، پھر اس میں عوام کے لیے جو اپنائیت ہے وہ کسی اور نام میں کہاں۔ اس کے بعد آپ سینہ ٹھونک کر کہہ سکیں گے کہ ہم نے تو سام راجی نشانی سے نجات حاصل کرلی اب دوسری جماعتیں بھی اپنے اپنے نام سے سام راجی دھبا مٹا دیں، جیسے ایم کیو ایم پاکستان ”متحدہ قومی ملاکھڑا“ ہوجائے، ایم کیو ایم لندن ”متحدہ قائد محاذ آرائی“ اور پاک سرزمین پارٹی المعروف پی ایس پی ”پاک سرزمین پیا کی سُہاگن“ کے نام کے ساتھ ”موومنٹ“ اور ”پارٹی“ کی سام راجی نشانیوں سے نجات حاصل کرلیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ان پیار کی نشانیوں کا کیا ہوگا جو سام راج میں زمینوں کی صورت بانٹی تھیں؟ اور وہ نہری نظام جو انگریز کی دین ہے؟ ارے ہم بھی کیا بے وقوفی کی بات کر رہے ہیں، سردار صاحب نے صرف ثقافتی نشانات بدلنے کی بات کی ہے مفادات کا ذکر تھوڑی کیا ہے۔

اچھا سردار صاحب! کراچی کے نام کی تبدیلی کی بابت ادیبوں، دانش وروں اور سول سوسائٹی سے ضرور پوچھیے، مگر خوردبین سے دیکھیے گا آپ کو کراچی میں لاتعداد چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑے نظر آئیں گے، یہ اتنے چھوٹے ہیں کہ مردم شماری والے بھی انھیں پورا نہیں گن پاتے، انھیں کراچی والے کہتے ہیں۔ لیاری سے لانڈھی تک بستے یہ لوگوں میں سے کسی نے امن کمیٹی کو جھیلا ہے اور کوئی رابطہ کمیٹی کا مارا ہوا ہے، ویسے تو ان کی کوئی اوقات نہیں، لیکن یوں ہی تاریخ میں جمہوری حکم راں کے طور پر اپنا نام لکھوانا کے لیے ان سے بھی پوچھ لیجیے گا، لیکن احتیاطً دور دور سے پوچھیے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: