شرمین کی بہن اور تیزاب گردی کا شکار مظلومہ: فواد رضا

0
  • 104
    Shares

جب سے شرمین کی بہن کا معاملہ منظرِ عام پر آیا ہے، تب سے میں نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی کہ کیا واقعی ہر معاملے میں فلاسفر بن کر کودنا ضروری ہے، نہیں نا۔۔۔ بس اسی لیے خاموش تھا کہ نہ میرے بولنے اور لکھنے سے شرمین کی بہن ’ہراسمنٹ ‘ کا نشانہ بننے سے بچ جائے گی اور نہ ہی وہ ڈاکٹر اپنی نوکری واپس حاصل کرے گا۔۔

خاموشی کی بھی اپنی ہی ایک زبان ہوتی ہے ‘ سو اس زبان میں اظہار جاری تھا کہ یہ ویڈیو سامنے آگئی۔ اب کیونکہ شرمین کی بہن کے معاملے میں ہم سب فرض کیے بیٹھے ہیں کہ معاملہ ویسے ہی ہوا جیسا کہ بیان کیا گیا اور کسی نے اپنے ذاتی معاملات کو سوشل میڈیا کے ذریعے نپٹانے کی کوشش نہیں کی۔ تو اب ہم اس ویڈیو میں تصور کرلیتے ہیں کہ اس ویڈیو میں خاتون جو بھی الزامات عائد کررہی ہیں, وہ سب صحیح ہیں کیونکہ مذکورہ خاتون تو پہلے ہی تیزاب گردی کا نشانہ بننے کے سبب مظلوم ہیں اور ہم کچھ ایسے خمیر سے اٹھائیں گئے ہیں کہ مظلوم کا ساتھ دینا نہیں چھوڑ سکتے۔

اب سنیں کہ کہا کیا گیا اور ہوگا کیا! شرمین کی بہن سے دوستی کی درخواست کی گئی تو چائے کی پیالی میں کہرام اٹھادیا گیا، میں یہاں دائیں بازو والوں کی طرح یہ ہرگز نہیں کہوں گا کہ’ کیا کبھی اس نے کسی مرد سے دوستی نہیں کی؟ کیونکہ یہ بہرصورت بہن جی کا ذاتی معاملہ ہے اور کسی کی بھی خواب گاہ میں جھانکنا کم از کم مجھے تو قطعی پسند نہیں بلکہ میں تو اپنی خواب گاہ میں بھی خال خال ہی جھانکتا ہوں۔ تو بات یہ ہے کہ دوستی کی درخواست کو کہا گیا ’ہراسمنٹ‘ یعنی جنسی طور پر نشانہ بنانے کی کو شش کی گئی۔

اب واپس چلتے ہیں ویڈیو میں۔۔ متاثرہ خاتون کے مطابق آپ نے طے شدہ رقم نہیں دی (معاشی قتل)، آپ نے گھر کا وعدہ کیا ( نہیں دیا، یعنی بے چھت)، اور سب سے بڑھ کر آپ کی بنائی ہوئی ویڈیو کے سبب وہ مظلوم اپنے گھر سے نکال دی گئی یعنی کے جو رہا سہا سائبان تھا وہ بھی نہیں رہا۔۔

شرمین صاحبہ! جانتی ہیں آپ کی اس دھوکا دہی کا نتیجہ کیا نکلے گا‘ ہر راہ چلتاشخص اس مظلوم کو ’ہراسمنٹ‘ کا نشانہ بنائے گا اور اس کے پاس کوئی آپشن نہیں کہ وہ بٹن دبا کر اس ہراسمنٹ کو ریجکٹ کردے۔ جواب دینا پسند کریں تو ناچیز کا ٹویٹر ہینڈل حاضر ہے۔

Tweeter Handle
https://twitter.com/fawwad_raza
اور رہی بات آپ کی بہن کی، آپ نے دنیا گھوم لی، آسکر لے لیا، لیکن فیس بک کا استعمال پورے خاندان میں کسی نے نہ سیکھا، بھئی اگر آپ کے خاندان میں کسی کو دوستی کی درخواست بھیجنا ہراسمنٹ ہے تو بہن جی سے کہنا تھا نہ کہ ’فرینڈ ریکوئسٹ‘ والا آپشن بند کرکے رکھو۔ آپ لوگ عام لوگ نہیں ہیں۔۔ مشہور شخصیات ہیں‘ کوئی بھی عام سا ڈاکٹر آپ کو ٹریٹ کرے گا تو لامحالہ وہ چاہے گا کہ اس نامور شخصیت سے مستقبل میں کوئی تعلق جڑا رہے، لیکن اس غریب کو کیا پتا تھا کہ اس نے ’غلط خاندان‘ سے پنگا لیا ہے۔

ویسے ویڈیو میں جو مظلوم عورت آپ کے مظالم کی داستاں سنارہی ہے اس سے آپ ہی کے دیے اس بیان کی تو تصدیق ہورہی ہے کہ واقعی ’خاندان‘ غلط ہے، ورنہ شریف اور نجیب خاندانوں میں تو کسی کی طے شدہ اجرت غضب کرجانے کا رواج ہم نے تو آج تک نہیں دیکھا اور وہ بھی ایک ایسی عورت کی اجرت جو کہ تیزاب گردی کا نشانہ بننے کے سبب دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے دور رہنے پر مجبور ہے۔

آخری بات، یہ اکثر ہوتا ہے کہ شہرت کا حامل شخص خود کو عقلِ کل سے ایک درجہ اوپر سمجھنے لگتا ہے، اور وہی سے اس شخص کی بربادی کا آغاز ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی اپنی کامیابی کا تنہا و یکتا مالک نہیں ہوتا اس کے پیچھے کوئی عوامل ہوتے ہیں جو مل کراسے کامیاب بناتے ہیں۔ اگر آپ سمجھ رہی ہیں کہ آپ اور آپ کی بہن نے معاملے کو جیسے سمجھا ویسا ہی تھا ا ور ڈاکٹر ہی مکمل طور پر غلط تھا تو برائے مہربانی آپ جان لیں کہ آپ عقلِ کل بننے کی کوشش نہ کریں کہ وہ بس ایک ہی ذاتِ لافانی ہے، دوسرا کوئی نہیں۔۔۔

باقی اگر آپ کے ’غلط خاندان‘ میں کسی نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ہو تو ذرا معلوم کرلیجئے گا، کس طرح ماؤں کے زیور بکتے ہیں، ارمانوں کا خون ہوتا ہے تب کہیں جاکر ایک بچہ ڈاکٹر بنتا ہے اور صحت کی بنیادی سہولیات بنا ڈاکٹر کےفراہم نہیں کی جاسکتی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: