درخواست برائے دوستی اور مصنوعی نزاکت والی بہن: سحرش عثمان

0
  • 42
    Shares

کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ جب ایک انتہائی معزز انکل نے فرینڈ ریکوسٹ بھیجی۔ ہم نے حسب عادت اگنور کردی۔ انہوں نے پھر سے پوچھا۔ ہم سدا کے ڈھیٹ۔۔۔ ان کی انگریزی کو بھی اگنور کردیا ہم نے جو انباکس میں بول چکے تھے وہ۔ سوچیں آپ ذرا۔۔۔ انگریزی کو اور انگریز کو اگنور کرنا کیسا جرم ہے۔ اور ہم ہمیشہ سے فسادی سوچ کے حامل۔ خیر ایک دن ہم سولہ سترہ چلیں اٹھارہ بیس کہہ لیجئے سنگھار کئے۔۔ آئے ہائے نہیں سلیولیس نہیں پہنتے ہم۔

تو ہم تیر و تفنگ سے لیس کسی کے ولیمے پہ سیڑھی پہ بیٹھے انتہائی نزاکت والا پوز لئے فوٹو بنوا رہے تھے کہ وہی انگریزی والے انکل اماں سے کہنے لگے۔ آپ کی بیٹی بہت ایروگینٹ ہیں۔ اماں کو چونکہ یہ پہلے سے ہی پتا تھا۔ لہذا اماں نے سیاچن کی ساری برف آہ میں بھر کے ہمارے اپنی پھپھیوؤں پر چلے جانے کے عظیم تاریخی سانحے پر اسپیچ کا اسٹارٹ لیا ہی تھا کہ ہم نے پوچھا۔ یہ عظیم انکشاف انکل پر کیونکر ہوا؟ کہنے لگے آپ فیس بک پر ایڈ نہیں کرتیں۔ اس سے پیشتر کہ ہم فیس بک کو سوشل میڈیا کو حقیقی تعلقات سے الگ بتاتے اماں کی گھوری نے زیر لب چپکو سڑیل لیچڑ شکایتی کہنے تک پابند کردیا۔۔۔ ہائے آنٹی شرمین جتنی انوویٹو نہ ہوئی میں۔ اسی لئے ابھی تک آسکر نہیں ملا۔ جینوئن ایکٹنگ سے کیا ہوتا ہے۔ آسکر کے لئے اوور ایکٹنگ کرنا پڑتی ہے۔ اتنی انیویٹو ہوتی تو ہراسمنٹ کا الزام لگا کر ولیمہ پر آئی وی ساری آنٹیوں سے نستعلیق پنجابی میں گفتگو سنواتی۔ اور یہ تو آپ سب ہی کو پتا ہوگا غصے میں بھی نستعلیق رہنے والا پنجابی ابھی تک ایجاد ہی نہیں ہوا۔ لیکن افسوس آنٹی شرمین کی بہن بھی وقت پر بیمار نہ ہوئی۔ آنٹی آپ کو پتا ہے یہ میرے بنیادی خواتینی حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے آپ نے۔ میرے فیمینزم کا استحصال کیا ہے آپ نے۔ جب آپ ایک معصوم لڑکی کی مدد کرنے کے لئے بہن کو بیمار نہیں کروا سکتیں تو مجھ جیسی ہزاروں لاکھوں لڑکیوں کو حقوق کیسے دلوائیں گئ؟ کیا کہا؟ میں ذاتی زندگی اور پروفیشنل لائف کو مِنگل کر رہی ہوں۔ تو شروع کس نے کیا تھا ؟

وہ ڈاکٹر بھی انسان ہی تھا۔ جس نے آپکی بہن کو ریکویسٹ بھیجی۔ ہو سکتا ہے اس نے ڈاکٹر کی حثیت سے نہیں انسان کی حیثیت سے بھیجی ہو ریکویسٹ۔ اور اگر پرسنل ڈیٹا یوز کرنے کی فضول سی بات کرنا چاہ رہی ہیں تو خاتون جس ملک کی خواتین کے تیزاب زدہ چہرے دکھا دکھا کر بینک اکاؤنٹس بھر چکی ہیں نا۔ اسی ملک میں دنیا کا سب گھٹیا ڈیٹا ٹرانسفر ہوا تھا پولیو ویکسنیشن کی آڑ میں۔ آپ کے آشناؤں کی خاطر۔ اور قسم لے لیں جو یہ آشنا اردو اخباروں والا کہا ہو۔ یہ تو بس یونہی برسبیل تذکرہ کہہ دیا۔ وگرنہ آپ کے آشناؤں کے سکینڈلز سے ہمیں کیا لینا دینا؟

غضب خدا کا میں کل عالم کو مضبوطی پر لیکچر دیتی پھروں۔ اور میری ہی بہن سارے زمانے میں چھوئی موئی بنی مصنوعی نزاکتوں کے ڈھونڈرے پیٹتی رہے تو مجھے لوگوں سے پہلے اپنا آپ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمارا تو مدعا یہ ہے کہ آپ کی بہن اتنی نازک ہیں کہ فرینڈ ریکوسٹ آنے سے ہراس ہوجاتی ہیں تو یقین کیجئے آپ سے بڑا کوئی نالائق نہیں۔ میری بہن یونیورسٹی جاتی ہے۔ اس سے اگر وہاں کوئی بدتمیزی کرے اور وہ خود کچھ کرنے کی بجائے مجھے شکایت لگائے اس “بدتمیزی” کی تو اس بدتمیز سے نمٹنے سے کہیں پہلے میں اپنی بہن کی طبیعت صاف کروں گی اتنی ڈرپوک خاتون میری بہن نہیں ہوسکتی۔

غضب خدا کا میں کل عالم کو مضبوطی پر لیکچر دیتی پھروں۔ اور میری ہی بہن سارے زمانے میں چھوئی موئی بنی مصنوعی نزاکتوں کے ڈھونڈرے پیٹتی رہے تو مجھے لوگوں سے پہلے اپنا آپ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ وومن ایمپاورمنٹ اپنے آپ سے اپنے ارد گرد سے شروع ہوتی ہے۔ ورنہ آپ میں اور اس مولوی میں کوئی فرق نہیں جو کہتا ہے گلابو کے میک اپ کو پوائنٹ آؤٹ مت کریں کیونکہ “اونوں سجدا ای بوہت اے”

تو خاتون آپ اپنی اداوں پر خود ہی غور کرلیں کچھ۔۔۔ ایویں کسی پرائیوٹ پریکٹس والے ڈاکٹر نے کرلیا تو برا مان جائیں گی۔

اور ہاں سات سو پچاس فرینڈ ریکیوسٹس پینڈنگ پڑی ہیں۔ میری غربت کہتی اپنے خیالات میں انقلاب لے آؤں۔۔ اور مجھے نیشنلٹیز بھی نہیں چاہئیں بس ذرا ٹریولر سول ہوں۔۔۔ میں نے سنا ہے نیاگرا جم جاتی ہے دسمبر جنوری میں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: