عورت کا مقدمہ: راشد حمزہ

1
  • 6
    Shares

اکیسویں صدی میں جب مغربی دنیا ہم سے ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہے،ہمان سے ہر اعتبار سے سالوں پیچھے رہ گئے ہیں تو ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ۔اپنی ترقی کی رفتار دوگنا تیز کردیں، ہماری ترقی کے سفر کی رفتار تو پہلے سے ہی آدھی ہے کہ ہم نے آبادی کے آدھے حصے کو ہر معاملے میں خود سے دور کر رکھا ہے،ہم اس حصے کو احترام دینے کا درس تو دیتے ہیں لیکن ان کی تعاون کو اپنے ساتھ شامل نہیں کرنا چاہتے، تعاون نہ لینے اور احترام دینے کا ہمارا یہ رویہ ان کو سطحی نظر سے دیکھنے پر مبنی ہے، آبادی کے اس حصے یعنی عورت سے تعاون مانگنا ہم سے برابری کا حق دینے کا مطالبہ بھی کرتا ہے جو ہم نے صدیوں سے قبض کر رکھا ہے اور کسی طور دینے کے لئے تیار نہیں ہو رہے ہیں، کیونکہ ہم ایک طرح سے اس خوف اور خطرے کا شکار نظر آ رہے ہیں کہ کہیں برابر کا حق دینے سے ہمارا وہ مقام متاثر نہ ہوجائے جو پدر سری معاشرے میں ہمیں حاصل ہے، یہ وہی مقام ہے جس کے بارے میں مشہور فلسفی نے کہا تھا کہ “مرد زمینی چراگاہ کا ازلی سانڈ ہے __

اسلام میں آدھی گواہی سے ہمیں کسی طرح یہ بھی یقین ہوگیا ہے کہ ہماری آدھی آبادی یعنی عورت حقیر مخلوق ہے یا باربرداری کے کام آنے والا رذیل و ذلیل جانور ہے،ہم نے احترام کے نام پر عورت کو احترام کم دیا ہے اور استحصال زیادہ کیا ہے بلکہ احترام کے ہمارے اس روئیے کی بنیاد ہی عورت کی حقارت، کمزوری، کوئی تخلیقی نقص یا نابرابری ہے، مشہور واقعہ ہے تئیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ان کی زوجہ ماجدہ مسجد میں نماز پڑھتی تھی عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی تھی اس کی شدید خواہش تھی عورت مسجد نہ ائے لیکن اسلامی غیرت میں عورت کا مسجد میں نماز پڑھنا قابل اعتراض فعل نہیں تھا، اس لئے تئیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والا اپنے وقت کا طاقتور فرد اسلامی اصول کے آگے بے بس تھے، مسلہ ہمارے یہاں یہ ہوا ہے کہ ہم نے اپنے مخصوص رسم و رواج معاشرے کے رجحانات اور میلانات کی وجہ سے پیدا ہونے والے روئیوں جیسے ہم غیرت کہتے ہیں کو اسلام کے قوانین یعنی اسلامی غیرت سے گڈ مڈ کردیئے ہیں اس لئے جب بھی عورت سے ہمیں معاملہ درپیش آتا ہے تو ہمارے فیصلے بھی دوہرے ہوجاتے ہیں،ہم انصاف نہیں کرسکتے بلکہ اکثر ہی ہم منافقت کرتے ہیں __

جب تک ہم اپنے مذہب کے قوانین اور اپنی مردانہ غیرت کے بارے میں تحقیق نہیں کرتے، تقاضائے وقت کا ادراک نہیں کرتے، مذہبی قوانین اور معاشرے کے مزاج میں تعلق دریافت نہیں کرپاتے تب تک ہم عورت سے برابری اور انصاف کا معاملہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے، ھمارے ایک فلسفی نے کہا تھا صنعتی انقلاب نے عورت کے ہاتھ میں پیسے تو تھما دئے لیکن ان کے ہاتھوں کی خوشبو چھین لی، فلسفی کے اس قول پر غور کیجئے تو اس میں بھی عورت سے متعلقہ مردانہ حرص اور مردانہ خودغرضی کا اظہار نمایاں ہے ہمارے مشرقی ذہن کا المیہ بھی یہی ہے __

فلسفی یہ نہیں سوچتا کہ عورت کو برابری کے حقوق دینے سے اور عورت کے ہاتھ صنعتی انقلاب کے ذریعے روپیہ آجانے سے عورت کے بہت سے مسائل حل ہوگئے ہیں اور آج مغرب کی عورت مشرقی عورت کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ ہوچکی ہے، وہ سہولت اور اسانی کیساتھ ارام دہ اور بہتر زندگی گزار رہی ہیں، خواہ ان کے ہاتھوں کی خوشبو مشرقی عورت سے کم ہی کیوں نہ ہوگئی ہے، اور یہ عورت کا مسلہ نہیں مرد کا ہے کیونکہ عورت اپنے ہاتھ میں اپنا حق دیکھنا پسند کرتی ہے نہ کہ مرد کے شوق کی تکمیل کے لئے خوشبو _

ہمارے ہاں ایک عورت کا جنم لینا ہی المیہ سمجھا جاتا ہے، جب ابتداء سے ہی عورت کے ساتھ ہمارا عمومی معاشرتی رویہ اتنا ذلیل اور استحصال پر مبنی ہے تو بعد میں ہم عورت کیساتھ کیسا رویہ اپناتے ہیں سوچ کر ہی شرمندگی ہوتی ہے، مشرقی خاندان میں عورت کی جوانی ان سوچوں میں گزر جاتی ہے کہ ان کی شادی ہوگی بھی کہ نہیں شادی کے بعد انکی زندگی کیسے رہی گی پھر شادی کے بعد اس کی کوشش کی مرکزیت یہ ہوتی ہے کہ شادی کا ادارہ کہیں ٹوٹ نہ جائے اس لئے عورت اپنے مرد یعنی ازلی سانڈ کا ہرقسم ظلم سہہ جاتی ہے __

موجودہ حالات میں عورتوں کے حقوق کے علمبرداروں اور مشرقی روایات و مذہبی قوانین کی تحفظ کے نام پر کھلینے والا ایک مکروہ گروہ جو عورت کو حقیر اور اپنی بالادستی قائم رکھنا چاہتا ہے کے درمیان زبردست فکری تصادم شروع ہوا ہے جو مشرقی عورت کے لئے امید کی ایک کرن ہے،انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اب عورت اور مرد کے مقدمے میں عورت کی زیادہ جانبداری کی جائے، اگر کوئی عورت مرد کو تھپڑ مارتا ہے تو یہ باعث تشویش نہیں ہونا چاہئے باعث تشویش یہ ہونا چاہئے کہ مرد عورت کو تھپڑ مار دے، کیونکہ مرد صدیوں سے عورت کو تھپڑ مارتے آیا ہے _

About Author

راشد حمزہ، سوات یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے وابستہ ہیں، تعلیم و تحقیق، لکھنا پڑھنا، انکے مشاغل ہیں، ایک عرصے سے فکشن لکھتے ہیں،__

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. افتخار محمد on

    بہترین تحریر
    راشد جب تک کسی قوم کی ماں اصر و اغلال کی زنجیروں میں جھکڑی رہے گی اس وقت تک آزاد قوم نہیں پنپ سکتی

Leave A Reply

%d bloggers like this: