شرمین چنائے کی بہن اور لبرلز کے فتوے: ثمینہ رشید

1
  • 210
    Shares

چائے کی ایک پیالی میں اٹھنے والے طوفان کے بارے میں جس ردّعمل کا انتظار لوگوں کو رائٹ ونگ کی جانب سے متوقع تھا لبرلز کے ایک بڑے دانشور کی جانب سے وہ پڑھ کر شاید نہیں یقینا لوگوں کی اکثریت حیران ہے۔

ایک واقعے کے بارے میں جب ایک لکھاری اپنا موقف لکھتا ہے تو اسکے زہن میں یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے (اور ہونا بھی چاہئے) کہ وہ کیا لکھنا چاہ رہا ہے۔ کم از کم ہر لکھاری کو یہ تو معلوم ہی ہوتا ہے کہ واقعے کے متعلق اس کی حتمی رائے مخالفت میں ہے یا موافقت میں اور کس بنیاد پر ہے۔

لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین چنائے کی بہن کے متعلق واقعے پر لبرلز کے نمائندہ ایک لکھاری یہ بیان کرنے سے تو قاصر نظر آئے کہ دراصل شرمین کے “ہراسمنٹ ” کے الزام کو واقعی ہراسانی کہا جاسکتا ہے یا نہیں۔ لیکن اس الزام کے نتیجے میں، متعلقہ ڈاکٹر کی ملازمت سے برطرفی کو انہوں نے درست قرار دے دیا۔

اس لئے بات کو آگے بڑھانے سے پہلے چند سوالات کے جوابات کا واضح ہونا ضروری ہے کہ ہراسمنٹ اصل میں ہے کیا؟

ہراسمنٹ کی اصطلاح بہت پرانی نہیں۔ پچھلی چند دہائیوں میں جیسے جیسے خواتین معاشرے میں فعال ہونے لگیں اس معاملے میں شعور بڑھا اور اس موضوع پر کھل کر بات ہوئی۔ انہیں تحفظ دینے کے لئے قوانین بنائے گئے۔ اور اگر اس ضمن میں صرف برطانیہ کی مثال لیں تو اس قسم کا پہلا قانون پبلک ایکٹ 1986 میں بنا۔ اور آگے چل کر 1997 اور پھر 2010 میں مزید کچھ قوانین بنائے گئے۔ ان قوانین کے حساب سے :-

دھمکی آمیز، نامناسب زبان (مثلا” گالی دینا) یا توہین آمیز الفاظ کا استعمال جو کہ متعلقہ فرد دیکھ اور سن سکتا ہو ہراسمنٹ کے ضمن میں آتا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ قانون، خواتین کا پیچھا کرنے والے، آوازیں کسنے اور نامناسب الفاظ و انداز کو اختیار کرنے والے لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا۔ بعد میں ہراسمنٹ کے دائرے میں دھمکی آمیز الفاظ اور بیانات کے ہونے کی وجوہات کو بھی قانون کے دائرے میں شامل کیا گیا۔ اسمیں مذہب، جنس، رنگ ونسل، زاتی وجوہات (کسی اجنبی یا منگیتر/ سابقہ شوہر کی جانب سے بھی دھمکی یا بدسلوکی وغیرہ)، ملازم سے دھمکی آمیز یا ناروا سلوک تاکہ وہ ملازمت چھوڑدے یا کسی کو ملازمت یا پروموشن دینے کے لئے جنسی حوالے سے دباؤ، غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقے سے کسی فرد پر کسی خاص کام کو کرنے یا نہ کرنے پر آمادہ یا باز رکھنا وغیرہ کو شامل کیا گیا۔ اور اب یہ قانون ایمپلائمنٹ لاء کا بھی ایک حصہ ہے تاکہ خصوصا خواتین کو ملازمت کے حصول یا دوران ملازمت ہر قسم کی ہراساں کئے جانے سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

ہراسمنٹ کی اس تعریف اور دائرۂ کار کے حوالے سے کسی اجنبی یا آپ کا وقتی شناسا جیسے آپ کے ڈاکٹر کی جانب سے فیس بک پہ فرینڈ ریکوئسٹ آنا کیا “ہراسمنٹ” ہے؟
خصوصا جب مریض ایک پبلک فیگر ہو اس کی سوشل میڈیا پروفائل نہ صرف پبلک ہو بلکہ اس پہ ہزاروں فالوؤرز بھی ہوں۔ تو اس بات پہ قطعی دو رائے نہیں کہ پاکستانی قوانین کے یا کسی جنرل لاء کی تعریف میں فیس بک پہ فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے کو کسی طور بھی “ہراسمنٹ ” میں شامل کہا یا سمجھا جائے۔ چہ جائیکہ شرمین کی طرف سے اس عمل کو ریپ کے مترادف قرار دے دیا جائے۔

ایک ڈاکٹر کے پاس ایمرجنسی میں ہسپتال میں ایک مریضہ آتی ہے جو کہ نہ صرف خود پبلک میں جانا پہچانا نام ہے بلکہ ایک آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی خاتون کی بہن بھی ہیں۔ اب اگر ڈاکٹر اس مریض کا علاج کرتا ہے اور اگلے دن انہیں “فیس بک فرینڈ ریکوئسٹ”۔ بھیج دیتا ہے۔
تو کیا واقعی یہ ہراسمنٹ ہے؟
جی نہیں یہ ہراسمنٹ نہیں۔

کیا ڈاکٹر نے اس مقصد کے لئے شرمین کی بہن کی معلومات ہسپتال کے سسٹم سے لی؟
اگر ڈاکٹر نے اس مقصد کے لئے ہسپتال سے واقعی معلومات چرائی ہوتی تو شرمین کی بہن کو مندرجہ زیل صورتحال کا سامنہ ہوسکتا تھا:-
ان کو براہ راست فون پہ زاتی مقصد کےلئے رابطہ کیا جاتا۔ کوئی دھمکی وغیرہ دی جاتی۔
ان کے فون نمبر کے زریعے واٹس ایپ میسیج کیا جاتا جو بغیر فون نمبر ممکن نہیں ہوتا۔
ان کے گھر کے ایڈریس پر کرئی کوئی تحفہ یا نامناسب قسم کا خط بھجوایا جاتا۔
ان کے فون نمبر پہ نامناسب میسیج کئے جاتے۔
یا ان کے پتے پر براہ راست ڈاکٹر صاحب پہنچ گئے ہوتے۔ ان کی گاڑی کا پیچھا کرنے کی کوشش کی ہو۔
یا ڈاکٹر نے مریض کی زاتی معلومات کو پبلک میں مشتہر کردیا ہو وغیرہ۔

کیا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی؟
ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی نہ ہونا ثابت کرنے میں صرف ایک دلیل کافی ہے۔ ہم میں سے سب لوگ فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے بھی ہیں قبول بھی کرتے ہیں۔ خصوصا اگر کوئی پبلک فیگر ہو اور جس کے اندازا و افکار سے آپ متاثر بھی ہوں۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں انہیں فیس بک فرینڈ شپ کی درخواست بھیجنا “ہراسمنٹ ” نہیں کہلاتا۔
ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی نہ ہونے کی مثال کو یوں سمجھ لیں کہ ایک رائٹر جس کی کتاب آپ پڑھتے رہے ہوں وہ آپ کو پسند بھی ہوں لیکن آپ کے زہن میں یہ خیال نہ آیا ہو کہ انہیں فیس بک پہ سرچ کیا جائے۔ اچانک ایک دن وہ کسی کام سے آپ کے دفتر پہنچ جائیں۔ آپ ان کا کام بخوبی کریں اور گھر جاکر آپ اس مشہور شخصیت کے بارے میں گوگل کریں یا فیس بک سرچ کریں اور پھر فرینڈ ریکوئسٹ بھیج دیں۔

نہ ا اسمیں کسی غلط نیت کا دخل ہےنہ اخلاقیات کا۔ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کو اس پورے واقعے میں ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
خصوصا جب ان کی بہن سوشل میڈیا پہ ایکٹو ہوں۔
ان کا اکاؤنٹ پبلک ہو مطلب کوئی بھی انہیں فرینڈ ریکویسٹ کرسکتا ہو۔
وہ خود سپورٹس کے حوالے سے ویب سائیٹ بھی چلا رہی ہوں۔

اس پورے مسئلے میں اس کو بہت زیادہ منفی انداز سے دیکھا بھی جائے تو ڈاکٹر نے اخلاقیات کی کیا خلاف ورزی کی؟ محض ایک نام جاننے کی؟ جو پہلے ہی پبلک ہے شرمین کی بہنوں کے نام، ان کی ہزاروں تصویریں گوگل پر میسر ہیں ان کے بارے میں بہت سی معلومات “عوامی” سطح پر میسر ہے۔ تو شرمین عبید کیا غیر اخلاقی ثابت کریں گی اس پورے قصے میں اور کیسے؟

سب سے انتہائی قدم ہسپتال کی انتظامیہ نے اٹھایا گیا ہے ڈاکٹر کو جاب سے نکال کر۔ ڈاکٹر کے حوالے سے ان کے فرینڈ کا علی معین نوازش کو بھیجا گیا خط اب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ جس میں نہ صرف ڈاکٹر کو ہسپتال کی جاب سے نکالے جانے کی تصدیق کی گئی ہے بلکہ ڈاکٹر کی جسطرح ہسپتال اور دنیا بھر میں تذلیل کی گئی ہے اسکے حوالے سے بھی زکرِ ہے۔ ڈاکٹر نہ صرف شادی شدہ اور چار بچوں کے والد ہیں بلکہ اس پورے معاملے پر سخت رنجیدہ اور دل برداشتہ بھی۔ کہ ملک کی ایک سیلیبریٹی اور پاور فل خاندان کی نمائندہ شرمین عبید نے کس طرح اس کی تذلیل اور تحقیر کی۔ محض ایک فیس بک فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے پر۔

علی معین نوازش نے شرمین کے اس پورے معاملے میں “اوورایکٹنگ اور اوور ری-ایکٹنگ” پر سخت مذمت کی ہے۔

ہسپتال کی انتظامیہ کے اتنی جلد بازی میں اٹھائے گئے قدم سے ثابت ہوتا ہے کہ بجائے اپنے ملازمین کے تحفظ کے، انہوں نے ایک “مشہور” اور “باعزت” خاندان کے پریشر میں آکے یہ قدم اٹھایا۔

دنیا بھر میں ملازمین کو ایمپلائمنٹ قوانین کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے۔ ان کے ادارے بغیر “گراس مس کنڈکٹ” یعنی اضابطۂ اخلاق کی انتہائی خلاف ورزی تک ملازم کو فارغ نہیں کرسکتے۔ اوریہ بات ادارے کو ثابت کرنا پڑتی ہے کہ نوکری کرنے والے نے کونسے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے جس کا زکرِ اس کے جاب کانٹریکٹ میں موجود ہو اور جس کی سزا بھی جاب کے مکمل ختم ہونے پر منتج ہو۔ اس سلسلے میں تحقیقات کے ساتھ ساتھ میٹنگز کرنے کے بعد ملازم کو الزامات کا بتا کر صفائی کا موقع دیا جاتاہے۔ اگر آغا خان جیسے بین القوامی طور پر مشہور ادارے نے محض ایک خاندان کے پریشر میں آکر یہ حرکت کی ہے تو یہ کورٹ میں چیلنج کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اس بات کا امکان قطعی نہیں کہ فیسبک ریکوئسٹ” بھیجنے کو گراس مس کنڈکٹ” یا ضابطۂ اخلاق کی انتہائی درجے کی خلاف ورزی میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

اس سارے معاملے کے قانونی اور اخلاقی پہلو کو دیکھ کر اگر ایک لبرل، دانشور اور لکھاری یہ لکھے کہ:-
اسے نہیں پتہ کہ یہ معاملہ ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں،
اگر لکھاری اس بات پہ بھی قاری کو کنفیوزن میں رکھے کہ “کہ پتہ نہیں اگر ڈاکٹر نے واقعی کسی قسم کی اخلاقی اور قانونی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں”۔
اگر لکھاری ڈاکٹر کی نیت کے بارے میں بھی لکھے کہ ” کوئی نہیں جانتا کہ یہ ریکوئسٹ سیلیبریٹی کی بہن ہونے کی وجہ سے بھیجی گئی ہے یا ڈاکٹر کی نیت خراب تھی۔
یہ ہراسانی کا معاملہ ہو نہ ہو۔
لیکن طبی مقاصد کے لئے دی گئی معلومات کو زاتی استعمال کے لئے استعمال کرنا (جوکہ اس معاملے میں قطعی طور پر ثابت بھی نہیں ہوتا)۔
اور اس کی بنیاد پہ ڈاکٹر کی برطرفی ایک درست فیصلہ دکھائی دیتا ہے۔”

تو یہ پڑھنے کے بعد مجھے ایک لبرل اور مذہب کی اندھی تقلید کرنے والے میں کوئی فرق نہیں دکھائی۔
اکثر لبرلز کا شکوہ یہی ہوتا ہے کہ مذہبی علماء ایک منٹ میں محض سنی سنائی باتوں یا اندازوں کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو مجرم قرار دے دیتے ہیں اور ان کے خلاف فتوی جاری کردیتے ہیں وغیرہ۔

ڈاکٹر کی حرکت کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی ثابت کئے بنا برطرفی کے فیصلے کو درست قرار دینا  کسی لبرل کے فتوے سے کم نہیں۔

اب اس پورے معاملے میں “لبرل دانشور” بناء کسی بات پر یقینی نقطۂ نظر کے، بناء ڈاکٹر کی حرکت کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی ثابت کئے ڈاکٹر کی برطرفی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہیں۔
اور میری نظر میں یہ نقطۂ نظر اور حتمی فیصلہ کسی لبرل کے فتوے سے کم نہیں۔

جس میں جرم کی متعین تعریف پہ بھی کنفیوزن، جرم کے ہونے نہ ہونے پر بھی کنفیوژن لیکن برطرفی کے فیصلے کو درست قرار دینے پہ پھر بھی مصر نظر آنا۔
یہ سب تو وہ تاریک روئیے ہیں جن کے بارے میں ہر متوازن نظریہ رکھنے والا مسلمان خائف نظر آتا ہے۔ اور اسی کو بنیاد بنا کر لبرلز ہمارے معاشرے میں مذہبی روئیے اور علماء کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اب خود اسی روئیے کا مظاہرہ کرنے کے مطلب صاف ظاہر ہے کہ انتہاء پسند مذہبیت کے پیروکار ہوں یا لبرلز۔ ان کے سوچنے کے طریقۂ کار میں قطعی کوئی فرق نہیں کہ دونوں ہی کسی معاملے کو منطقی طور پر ثابت کرنے سے قاصر ہوتے ہوئے بھی اپنے نقطۂ نظر کو درست کردانتے رہتے ہیں۔

خصوصا جب حقوقِ نسواں اور شخصی آزادی کا دلکش نعرہ اس لبرل ازم کی بنیاد ہو جس میں شراب پینا یا نہ پینا فرد کا مسئلہ ہو۔ جس میں عورت (خصوصاً ) یا مرد کا لباس، کسی سے ملنا جلنا یا بات کرنا یا اس سے آگے تک کا بھی کوئی عمل ہو اس پر روک ٹوک نا مناسب اور شخصی آزادی میں رکاوٹ خیال کی جاتی ہو وہاں فیس بک پہ فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے پر ایک ڈاکٹر کی برطرفی کر جائز قرار دینے کو یہ لبرل ازم کے اس دائرے میں کہاں فٹ کریں گے؟

حقیقت تو یہ ہے کہ شرمین عبید اور عائشہ گلالئی جیسی عورتوں کے اس طرح ہراسمنٹ کے قانون کو اپنے ذاتی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنے سے خواتین کا جو نقصان ہو رہا ہے وہ ناقابلِ تلافی ہے۔ عورت کارڈ کے اس استعمال نے اصل مظلوم خواتین کے ساتھ جو ظلم کیا ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ انہوں نے نہ صرف اس معاشرے میں ہراسمنٹ کے لفظ کو مذاق بنادیا ہے بلکہ ایسی تمام عورتوں کے مقدمے کی بنیاد کو ہی کمزور کردیا ہے۔

دراصل اس سارے معاملے میں جس کے ساتھ حقیقتاً زیادتی ہوئی وہ ڈاکٹر ہے-
کیونکہ ڈاکٹر کا فرینڈ بک ریکوئسٹ بھیجنا ہراسمنٹ بالکل نہیں شمار ہوتا لیکن شرمین عبید چنائے کا غرور اور تکبر میں ڈوبا ٹوئیٹ، سوشل میڈیا کے پبلک فورم پر ڈاکٹر کے خلاف کی گئی ان کی الزام تراشی، کردار کشی کی مہم، ایک فیس بک ریکوئسٹ بھیجنے پر ڈاکٹر کے لئے لکھے گئے ان کے جملے، تزلیل بھرے الفاظ و انداز، ریپ جیسے نامناسب لفظ کے استعمال کو کیا نام دینا چاہئے؟

دوستو آپ سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ پھر اوپر دی ہوئی ہراسمنٹ کی تعریف پڑھئیے، شرمین عبید چنائے کا طرزعمل جانچیئے اور خود فیصلہ کیجئیے کہ اصل “ہراسمنٹ” کا زمہ دار دراصل ہے کون؟

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. کچھ مصروفیت کی وجہ سے آج آپ کی تحریر پڑھ سکا ۔ اس موضوع پر جاندار اور مکمل تحریر

Leave A Reply

%d bloggers like this: