چینی سوشلزم: عہد بہ عہد (حصہ 2) جاوید اقبال راؤ

0
  • 12
    Shares

چینی سوشلزم۔ فلسفہ اور عمل

1978 کی ایک صبح روزنامہ گؤانگ مِن میں ایک مضمون چھپا جس میں تحریر تھا کہ ’’عمل ہی سچائی کی میزان ہے۔ مارکسزم سمیت تمام نظاموں کو عمل کی دنیا میں اپنی سچائی منوانا ہوگی‘‘۔ اس کے بعد سے چینی عوام نے نے کمر کس لی اور مارکسزم کے نظریات کو عمل کے پیمانے پر تولنے لگے۔ ماؤزے تنگ کے فلسفے کو عمل میں اتارا۔ پھر ساتھ میں نظریہ اور عمل دونوں میں سوچنے سمجھنے اور نئے نظریات کو پرکھنے لگ گئے۔ 1978 کی اس لہر سے سوچ آزاد ہوگئی۔

چین دنیا کا سب سے بڑا گاوں ہے۔ چین کا سوشلزم اپنی اٹھان میں ایک بڑی حقیقت ہے۔ اسے مارکس کے نظریات پر ترویج ضرور ملی لیکن روایاتی معاشرے سے مظلوم کی آواز ثابت ہوا۔ ماؤزے تنگ کا عوامی لائن کا نظریہ بڑا اہم تھا۔ وہ عوام سے سیکھنے اور عوام ہی سے سمجھنے کے قائل تھے۔ چینی سوشلزم کی روح جمہوری ہے۔ یہ ایک طرح سے حقیقی اور بنیادی جمہوریتوں سے آراستہ ہے جس میں موجودہ دور کی شراکت دارانہ ترقی کے ترقیاتی کارکن اور تنظیمات یقین رکھتے ہیں۔ عوامی خدمت اور مظلوم کی حمایت کا یقین چینیوں کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔ پھر تیسری حقیقیت محنت اور جدوجہد ہے۔ ایسی جدّوجہد کسی قوم نے کم ہی کی ہوگی۔ ہر ایک فرد جہدِ مسلسل اور سرجھکا کر کام کرنے کا عادی بن گیا ہے۔

چینی فلسفہ چین میں موجود دور کے عالمی فلسفے کے عین مقابلے کا کام جاری ہے۔ یہ بڑا اہم عمل ہے۔ حققیقت اور حق (سچائی) کی تلاش میں چینیوں نے بڑی عرق ریزی کی ہے۔ ماؤ کے بعد سے بڑی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ ڈینگ زیاؤپنگ حقیقی تبدیلی کا خواہاں تھا۔ اس نے چین کو عملی میدان میں اتار کر تمام دنیا کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار کیا۔ وہ خطرات مُول لینے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ منڈی کو کھول دیا۔ معیشت کو سہارا دیا۔ اس کے نظریات میں پہلی تبدیلی یہ تھی کہ جو کچھ قابلِ عمل اور فائدے بخش ہے، اسی کو اپنا لیا جائے۔ غیر حقیقی دنیا کی بجائے میدان میں مقابلے بازی کی جائے۔ جب ڈینگ زیاؤ پنگ نے اقتدار سنبھالا تو چینی جذبات اورا فسوس کی کیفیات میں تھے۔ زیادہ تر اس خیال کے مالک تھے کہ جو کچھ چیئرمین نے کہا وہی درست ہے۔ اس کے سوا سب کچھ غلط۔۔ اس پر ایک دن روزنامہ گؤانگ مِن میں ایک مضمون چھپا جس میں تحریر تھا کہ ’’عمل ہی سچائی کی میزان ہے۔ مارکسزم سمیت تمام نظاموں کو عمل کی دنیا میں اپنی سچائی منوانا ہوگی‘‘۔ اس کے بعد سے لوگوں نے کر کس لی اور مارکسزم کو عمل کے پیمانے پر تولنے لگے۔ پھر ساتھ میں تھیوری اور عمل دونوں میں سوچنے سمجھنے اور نئے نظریات پرکھنے لگ گئے۔ 1978 کی اس لہر سے سوچ آزاد ہوگئی۔ اب چین میں کمیونزم پر بہت کچھ لکھا اور سوچا جارہا ہے۔ منڈی کا سوشلزم ایک نئی اصطلاح بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ منڈی کا کوئی نظریہ نہیں۔ وہاں سرمایہ دار یا سوشلسٹ، دونوں اپنی پیداوار لاتے ہیں۔ مارکسزم پر نصابی کتابیں تک بدل چکی ہیں۔ 1978 سے قبل آئے چی کی کتاب ’’تاریخی مادّہ پرستی اور جدلیاتی /ڈائیلیکٹیکل مادہ پرستی‘‘ نصابی کتاب شمار ہوتی تھی۔ یہ سٹالن کے اندازِ فکر سے بہت زیادہ متاثر تھی۔ بعد ازاں اس کے مزید ایڈیشن آئے جن میں خاصی تبدیلیاں موجود ہیں۔ عام لکھاری اور مفکرین نے ٹیکسٹ بک پڑھنے کی بجائے مارکس، اینگلز اور لینن کی اصل کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ یوں نئی دنیا کا آغاز ہوگیا۔ تمام ہی موضوعات پر لکھا جارہا ہے۔ اہم موضوعات میں سماجی زندگی، سماجی شعور، علم، حقانیت اور جدوجہد۔ اس کے سوا نئے سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں جن میں فلسفے کی بنیادی ضرورت، جدلیات کا روحانیات کے ساتھ تعلق، جدلیات کا مادّے کا تعلق وغیرہ تمام ہی نئے سرے سے سمجھا اور لکھا جارہا ہے۔ مثالیّت پسندی /آئیڈیلزم اور مادہ پرستی کا بھی خاصا غلغلہ ہے۔ نصابی کتب تک میں مغربی فلسفیانہ بحثیں موجود ہیں جن میں مارکسزم کی بنیادوں پر اعتراضات کا ذکر ہے۔ نئے افکار میں سماجیات اور سماجی کنٹرول، علمیّات، عمل کی فلسفیانہ جہات اور مختلف جدید موضوعات پر بحثیں موجود ہیں۔ نصابی مارکسزم پر چار مختلف پروفیسروں کی کتب موجود ہیں۔ جن میں ایک زیاؤ زینٹاؤ ہیں جو پیپلز یونیورسٹی آف چائنا میں پڑھاتے ہیں۔ انھوں نے مارکس کی ’’عملی مادّہ پرستی‘‘ کو بنیاد بناکر نئی قسم کا مارکسزم اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔

فلسفے پر عمل ماوزے تنگ نے اس قوم کو یکجا کیا۔ چھوٹے سے علاقے میں اس قدر زیادہ تعداد کا رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مشترکہ طور پر یہ قوم ’’فی کس قدرتی وسائل میں غریب ترین‘‘ قوموں میں شمار ہوتی تھی۔ اس لیے اس قوم کو مزدوروں ہی سے نسبت ہوسکتی ہے۔ قوم کو یکجا کرنے اور پھر اسے ترقی دے کر مزید آگے بڑھانے میں ڈینگ زیاوپینگ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کا اندازہ اس کے باعمل ہونے سے لگایا جائے۔ اس شخص نے تمام فلسفوں اور نظریات کو عمل کے میدان میں پرکھنے پر زور دیا۔ ساتھ میں خطرات مول لینے پر ابھارا وگرنہ کمیونزم انسانوں کو روٹی کپڑا اور مکان کی مفت سہولت کا عادی بنا کر سلا دیتا ہے۔ بعد ازاں یہی اندازِ عمل جاری رکھا گیا۔ تآنکہ دنیا نے اپنے سب سے بڑے گاوں کی اہمیت کو تسلیم کرلیا۔ سوشلزم کی یہی بڑی کامیابی شمار ہوگی کہ مزدوروں پر مشتمل سب سے بڑے گاوں نے دنیا کے امیر ترین ممالک کو معیشت میں پیچھے چھوڑ دیا۔ ڈینگ زیاوپینگ کے باعمل اندازِ کار اور ماؤ کی مزدور نوازی نے سیاسی راہ آسان کردی۔ عوامیّت، مزدور نوازی، جہدِ مسلسل، ہم آہنگی، اپنے قائد کی اطاعت میں نظم و ضبط کے علاوہ دنیا بھر کے لیے اپنے دروازے کھول کر اپنی اچھائیوں اور برائیوں سمیت خود کو دنیا کے سامنے پیش کردینے والا گاوں ہی کامیابی کی منزل طے کرسکتا تھا۔ بند معاشرے یکدم کھل کر تباہ ہوجاتے ہیں۔ کوتاہ بین قائدین معذرت خواہی اپنالیتے ہیں اور الٹے پاوں پھریں تو پورس کے ہاتھی ثابت ہوتے ہیں (جیسے گلاسناسٹ کے موجد گورباچوف) اور ضرورت سے زیادہ لمبی چھلانگ لگائیں اور دنیا بھر کو خالی ہاتھ وقت سے پہلے للکار دیں تو چی گویرا کی طرح تنہا مارے جاتے ہیں۔ چین نے کوئی چی گویرا پیدا نہیں کیا۔ ویت نام کا ہوچی منہ چین کا لاڈلا تھا لیکن صرف اپنے علاقے کا گوریلا تھا۔ وہ چند قدم دور جاپان میں سوشلزم کے قیام کے لیے کام کرسکتا تھا لیکن اس نے ایسا بالکل نہیں کیا۔ اس نے آسٹریلیا میں ایسی کوئی جدوجہد نہیں کی۔ ایسے ہی شمالی کوریا کے حکمرانوں نے چین کے ساتھ ہمسائگی کا فائدہ اٹھایا لیکن صرف کوریا میں اپنے علاقوں میں جدّوجہد کی۔ موجودہ دور میں جب ان پر شدید ترین اقتصادی پابندیاں عاید کردی گئیں تب وہ اپنے علاقوں سے میزائلوں کے تجربات کرنے لگے ہیں۔

خود امن کے ساتھ رہنا اور دوسروں کو امن کے ساتھ جہدِ مسلسل پر قائم رکھنا بڑی کامیابی ہے۔ میدانِ عمل میں ہر ایک سچّا ثابت نہیں ہوتا ہے کیونکہ اکثر قومیں عمل کے دوران میں قیادت کے شوق میں اجتماعی ہم آہنگی جلد ہی کھوبیٹھتی ہیں۔ جب مزدورانہ معاشرہ ہو، کام ہی کو مقصد بنا لیا جائے، کسی اخلاقی نظریے کی پیروی ضروری نہ ہو فقط مزدور کی ہی بہتری مقصود ہو، لسانیت کی بنیاد پر کسی سے قریبی تعلق بھی نہ ہو، دنیا کے ساتھ لسانی و تہذیبی مماثلت بھی کم از کم ہو، جہاں نیشن سٹیٹ کے نظریے کے تحت دنیا میں کسی بھی ملک میں گھس جانے پر پابندی بھی ہو اور چین میں کوئی گھس بھی نہ سکے اور ساتھ میں دنیا بھر کو اسقدر بڑی آبادی میں مداخلت/ انٹروینشن سے ڈر لگتا ہو کہ اس قدر بڑی آبادی کو سنبھالنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ تو خود ہی اندازہ لگائیے کہ ’’جو بھی ہے درست ہے، اگر چل رہا ہے / سٹیٹس کو‘‘ ہی دنیا کے لیے مناسب ترین لائحۂ عمل رہ جاتا ہے۔ بھڑوں کے اتنے بڑے چھتّے کو کون ہاتھ لگانے کی ہمّت کرسکتا ہے۔ پھر ایٹمی طاقت جلد حاصل کرلینے کی وجہ سے دنیا بھر نے ویٹو طاقت بھی تسلیم کرلیا تو قوم کے اکٹھا رہنے میں کوئی ہچ باقی ہی نہ رہی۔ جب امریکیوں کو روسیوں سے خطرہ محسوس ہؤا اور انڈیا اس دوران میں روس ہی کا حامی تھا تو چین سے بہتر کوئی دوست ملک نہ تھا۔ اس لیے یورپ اور امریکہ نے پاکستان کو سیڑھی بنایا۔ چین کے ساتھ تعلقات بہتر کیے اور تجارت کے راستے بھی کھول دیے۔ کیا قدرت بھی جہدِ مسلسل کا پھل دینے کو تیار نہ تھی؟ یقیناً دنیاوی کامیابی کے تمام ہی عناصر موجود تھے۔

عقاید و اقدار کی جانب آئیے تو قدیم چین کنفیوشس کے نظریات پر قائم تھا۔ کنفیوشس اچھی نوکرشاہی اور بہترین وزارتی اقدار (بادشاہ کے ماتحت رہ کر خاموشی کے ساتھ کام کرنے کی اقدار) کا اندازِ عمل سکھا کر گیا۔ جسے تمام معاشرے نے صدیوں قبل بے چون و چرا تسلیم کرلیا۔ بعد ازاں سوشلزم نے انقلابی بننے کی کوشش کی لیکن دائیں بائیں بڑھنے اور پھیلنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ تہذیبی انفرادیت نے قدم روک لیے۔ ایک جانب ہندوانہ انڈیا، دوسری جانب مسلمان ممالک، تیسری جانب وسیع و عریض سمندر اور چوتھی جانب روس جس نے چینیوں کو سوشلزم سکھایا تھا۔ اپنے استاد سے اعراض برتا جاسکتا ہے مخالفت مول لی جاسکتی ہے لیکن لڑائی کرنا مشکل ترین اور سب سے آخری آپشن۔ لہٰذا کسی بھی جانب پھیلنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یہ تہذیبی اندازِ عمل کسی دوسری قوم کو اچھا بھی نہیں لگتا تھا۔ روسی پرانے بادشاہ اور امریکہ کو للکارنے والے تھے۔ اس لیے ان کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا مشکل تھا۔ افسرانہ خوبو زیادہ تھی۔ انڈیا میں بھی کسی کو سرجھکانے کی کم ہی عادت تھی۔ جہاں پنڈت اور راجپوت صرف ضد کی بنیاد پر اپنی سب سے بے وقوفانہ بت پرستی کو اکیسویں صدی میں بھی جاری رکھنے پر مصر تھے۔ اس کے مقابلے میں چینی کنفیوشن ازم بڑا عملی مذہب ہے جس میں سرجھکا کر کام کرنا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ جدوجہد نے ہندو معاشرے کا بال بھی بیکا نہیں کیا۔ بھلا بے وقوفی پر اصرار کرنے والے کو کیا سمجھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے چین کی وہاں پھیلنے کی گنجائش نہ تھی۔ ویسے بھی وہاں ماسکو طرز کا سوشلزم بھی موجود تھا۔ چینیوں کے لیے موجود وسائل میں خود کام کرنا اور خود ہی سے ملک کو بہتر بنانا ہی ایک طریقہ تھا۔ چینیوں نے ایسا ہی کیا۔ لگتا ہے کہ ڈینگ زیاؤ پینگ موجودہ دور کا سب سے بڑا کنفیوشس تھا جس نے عمل عمل اور عمل پر زور دیکر چینیوں کومسائل سے نجات دلادی۔ شاید سوشلزم کا ڈنگ انقلابیّت میں مضمر ہے۔ اس سے جان خلاصی ہو اور مزدور کام کرے تو سب کچھ سیدھا ہوسکتا ہے۔

مذہب ایک نظریہ ہے۔ مذہب میں مکمل فلسفہ اور عمل موجود ہوتا ہے۔ مذہب کا نظریہ و عمل مکمل نظام کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس لیے یہ کسی دوسرے نظام سے مکمل طور پر ٹکرا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک مکمل نظام دوسرے مکمل نظام کو مکمل تبدیل کرکے چھوڑتا ہے۔ لیکن معروف معنوں میں کنفیوشس مذہب نہیں تھا۔ سوشلسٹوں نے اسے نشانہ بنانے کی کوشش کی اور قدیم اقدار کو مٹانا چاہا۔ لیکن کنفیوشس عبادت گاہوں کا دین نہیں تھا۔ یہ رویّہ تشکیل دینے کا طریقہ تھا۔ چینیوں کے وسائل کم تھے۔ ان وسائل میں نوّابی ناممکن تھی۔ آبادی زیادہ تھی بلکہ بہت زیادہ۔ اس لیے کوئی بھی لیڈر نہیں بن سکتا تھا۔ اجرت بہت کم تھی اس لیے کسی کے پاس کام کے بعد سستانے کا وقت بھی مشکل سے نکلتا تھا کجا یہ کہ کسی کی خدمت کی جاسکتی۔ حکومت نے تمام زمینیں سرکاری طور پر قابو کرلی تھیں اس لیے کوئی دوسرے کا معاشی غلام نہ تھا۔ کوئی بھی قائدانہ صلاحیّت لے کر ماں کے پیٹ سے بڑا نہیں ہوا تھا۔ سب کو کام کرکے آگے بڑھنا تھا اور کام ہی سے عزت کمانا تھی۔ اس بنا پر کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔ مذہب پر پابندی نے غیرضروری فرقہ وارانہ بحثوں اور علمیّت یا علمی مباحث کا راستہ قدرے بند کردیا تھا۔ اس لئے عقائد کی بحث کی گنجائش نہ تھی اور نہ ہی ایسی کسی جدوجہد کی۔

چین میں قابلِ کاشت زمین فی فرد 1961 میں ایک تہائی ایکڑ کا مالک تھا۔ پاکستان میں ہم اس کم ترین زمین پر 2016 میں بھی نہیں پہنچے۔ امریکیوں کے پاس چھے گنا زیادہ زمین ہے۔ حقیقت کا رنگ چینی بہت پہلے دیکھ چکے تھے۔ اس لیے انھوں نے بہت پہلے مشین سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔ ابھی تو چین مشینوں کے استعمال میں بہت پیچھے ہے۔ فی مزدور پیداوار بہت کم ہے۔ مزدور کی اجرت دو ڈالر فی گھنٹہ ہے جو کہ جاپان میں 30 ڈالر، کوریا میں 15ڈالر ہے۔ اس لحاظ سے چینی مصنوعات ابھی تک سستی ہیں۔ چینیوں کے پاس پانی بھی کم ہے۔ فی کس پانی دنیا کی اوسط سے ایک چوتھائی ہے۔

کنفیوشس اقدار اور مارکسزم چینی کنفیوشس اقدار اور مارکسزم کے باہمی تعامل پر بہت سی تحقیق موجود ہے۔ شروع میں یہ سمجھا جاریا تھا کہ ماؤزے تنگ کنفیوشس کے نظریات اور چینی اخلاقیات کے خلاف تھا۔ وہ روایات کو ترقی کے خلاف سمجھتا تھا۔ جدید لکھاری اس پر کام کررہے ہیں کہ کیسے مارکسزم اور کنفیوشس کی سماجی اخلاقیات کو اکٹھا لے کر چلاجائے۔ چینی اقدار کی نئی جہات کو نئے دور میں سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ساتھ میں مارکسزم کی نئی تعبیرات سامنے آرہی ہیں جس کے ساتھ نیا فلسفہ اور نئی تعبیرات وجود میں آسکتا ہے جن سے عملی مسائل کے نئے حل سمجھ میں آسکتے ہیں۔

چینی فلسفہ امن، ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور جھگڑوں کے علاوہ جنگوں کو ناپسند کرتا ہے۔ اس کے لیے اچھائیوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کو عوام کے ساتھ ایسے برتاؤ کریں جیسے اپنے بچّوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ برداشت اور خاندانی نظام کی جہات کو سمجھا جارہاہے۔

کنفیوشس خود کو استاد کہتا تھا اور تاریخ نے بعد ازاں اسے باعمل استاد کا درجہ ہی دیا۔ کنفیوشس اچھی نوکرشاہی اور بہترین وزارتی اقدار (بادشاہ کے ماتحت رہ کر خاموشی کیساتھ کام کرنے کی اقدار) کا اندازِ عمل سکھا کر گیا۔ کنفیوشس سے پوچھا گیا کہ وہ حکومت میں کیوں شامل نہیں ہوتے تو انھوں نے کہا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے آپ کو اچھا برخوردار یا برادرانہ دوستی کا سا انداز اپنانا چاہیے۔ (یہی وجہ تھی کہ ماؤ جیسا انقلابی اس رویے اور اقدار کے خلاف تھا)۔ لیکن چینی معاشرہ امن پسند اور خاموش ہے اس بنا پر کھل کر لڑائی کرنے سے اجتناب اس کی فطرت ہے۔ کنفیوشس کی تعلیم ہے کہ حکمرانوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے، اخلاقی طور پر اعلیٰ کردار اپنا کر قیادت حاصل کرنی چاہیے نہ کہ زبردستی کے ساتھ۔ صبر و تحمل اور برخوردارانہ انداز میں بھلائی (ضیاؤ) بھی اسی کی تعلیم ہے۔ یہ خاندانی نظام قائم رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ اپنے محلے، ملک اور تمام دنیا کو اپنا ہی خاندان مانتے ہیں اور بادشاہ کو جنت کا شہزادہ اور سرکاری عہدیداروں کو مائی باپ مانتے ہیں۔ خاندان کی دیکھ بھال بھی سیاست شمار ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک عوامی احساسِ ذمہ داری ہے اس لیے عوامی خدمت ہے نہ کہ ذاتی خود غرضی۔ اس لحاظ سے کنفیوشس روایات و اقدار کا حد سے زیادہ قائل تھا۔ اس کے بعد مینی کس اور پھر شونزی نے اقدار کے سسلسلے خصوصاً ’’لی‘‘ کو فروغ دیا۔ ’’لی‘‘ کے علاوہ دوسری قدر ’’ جَن‘‘ ہے۔ یہ دونوں اقدار اہم ہیں جنھیں ڈاکٹر انیس روحانی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کیساتھ ہی اس جہت کی وجہ سے چین و اسلام کی یکجائی اور مغربی(امریکی و یورپی) معاشرے کے بالمقابل جدّوجہد کے لیے تیّاری کی بنیاد کہتے ہیں۔ کنفیوشس کے انداز پر حکمرانی تین بادشاہوں (یاؤ، شُن اور یُو)نے کی۔ ان کی حکمت و تدبر، ضیاؤ (برخوردارانہ بھلائی پر مبنی اندازِ کار) اور جہدِ مسلسل معروف ہے۔ یہ ذمہ دارانہ اور بااعتبار سیاسی روایت کا دور کہا جاتا ہے۔

مارکیٹ، سوشلزم اور چین

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سوشلسٹ مارکیٹ پر مبنی نظام کیسے قائم کیاجاسکتا ہے۔ چین کا نظام ’’مرکزی منصوبہ بندی‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’منصوبہ بند تجاری نظام‘‘ بنا جس کے بعد اب یہ ’’آزاد مارکیٹ کا سوشلزم‘‘ بن چکا ہے۔ اب یہ فلسفیوں کے فرائض میں شامل ہوگیا ہے کہ وہ اس نئی جہت پر کام کریں۔ عمل اور نظریے کو یکجا کریں۔ یہ سوشلسٹ معاشروں میں نئی ترقی کا سبب ہے۔ جہاں سرمایہ دارانہ نظام کے تین خصائص ہیں: (۱) ذاتی ملکیت۔ (۲) آزاد منڈی (۳) سرمائے کی بنیاد پر دولت کی تقسیم۔ وہاں سوشلزم کی بنیاد تین پر ہے۔ (۱) سرمائے کی عوامی ملکیت۔ (۲) منصوبہ بند نظمِ معیشت اور (۳) کام کے مطابق دولت کی تقسیم۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے یہ اندازِ فکر اپنایا کہ مارکس اور لینن کے بنیادی مقاصد کیا تھے اور انکے آخری دور کی تحریریں ہمارے لیے کیا رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ وہ اس نکتے پر پہنچے ہیں کہ سوشلزم کا بنیادی مقصد زیادہ پیداوار دینے والے مزدوروں کی تیاری ہے۔ اسکے علاوہ سوشلزم کے مقاصد میں سماجی ناہمواری اور تفاوت کا خاتمہ، غربت سے چھٹکارا اور سماجی گروہوں کو اجتماعی طور پر غربت سے امارت کی جانب لیاجانا شامل ہیں۔ اس لحاظ سے سوشلزم سرمایہ داری سے بہتر نظام ہے۔ لیکن ان مقاصد کو حاصل کرلینا ایک کارِ دارد ہے۔

مزدور کے لیے قوانین۔ عملدرآمد اور مسائلمزدور کے لیےقوانین بنائے گئے ہیں۔ لیکن یہ قوانین 1993 میں بنائے گئے لیکن 2008 میں قانون میں بڑی تبدیلی کی گئی جس سے مصالحتی کمیٹیوں کے فرائض واضح کئے گئے ہیں۔ زیادہ تر ثالثی اور مصالحتی انداز میں حل پر زور دیتے ہیں۔ ایک سال کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر کیس اجرت، سوشل انشورنس اور نوکری سے ہٹائے جانے کے بارے میں ہوتے ہیں جنہیں LABOR DISPUTE ARBITRATION COMMITTEES (LDAC) ثالثی سے حل کرتی ہیں۔ اگر کیس عدالت میں لے جایا جائے تو چھے ماہ میں فیصلہ ہوجاتا ہے۔ وہاں مزدور کو آسانی ہے کیونکہ آجر کر ثبوت دینا پڑتا ہے۔
مزدوروں کے گروہوں کے کیس زیادہ ہیں۔ لیکن ثالثی کمیٹی انہیں انفرادی طور پر حل کرتی ہے۔ یہ یونین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے وقت ضائع ہوتا ہے۔ سات لاکھ کیسوں میں سے آٹھ ہزار اجتماعی مقدمے تھے۔ لیکن ان سے پونے تین لاکھ مزدوروں کو فائدہ ہؤا۔ اجتماعی مسائل کے حل کے لیے کوئی خاص قانون موجود نہیں۔ مزدوروں کی ہڑتالیں عام ہیں۔ زیادہ تر مقدمے اور ہڑتالیں کم اجرت، اور ٹائم کام وغیرہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ لیکن مزدور یونین پر مزدوروں کو اعتماد کم ہے۔
پاکستانی کمیونسٹ اور چینی کمیونزمپاکستانی کمیونسٹ چینی کمیونسٹ پارٹی کے سخت مخالف ہیں۔ ایک جانب پنجابی سوشلسٹ ہیں کہ وہ چین کو رگیدتے ہیں تو دوسری جانب بلوچی کمیونسٹ کہ چینیوں کو اغواء کرتے ہیں۔

پاکستانی کمیونسٹوں کا خیال ہے کہ چین کا سرمایہ داری کی طرف دوبارہ سفر 1978ء کے بعد شروع ہوا جو کہ ایک غلط الاغلاط تھا۔ انکے خیال میں ریاست سٹالن کے ماڈل پر تعمیر ہوئی تھی اور یوں یہ روز اول سے ہی مسخ شدہ مزدور ریاست تھی۔ لیکن پھر بھی چین میں سرمایہ داری، جاگیر داری کا خاتمہ کیا گیا اور منصوبہ بند معیشت استوار ہوئی۔ جس کے ذریعے اس پسماندہ ملک میں چند دہائیوں میں تیز صنعتی ترقی ہوئی، مضبوط معاشی اور سماجی انفرا اسٹرکچر تعمیر ہوا اور ہنر مند محنت کش طبقہ پیدا ہوا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ اس دیو ہیکل معیشت کے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں نہ ہونے کی وجہ سے بیوروکریسی کی لوٹ مار اور بدانتظامی بھی جاری رہی۔ ۔ افسر شاہی نے اقتدار سے الگ ہو کر مزدور جمہوریت اور سوشلسٹ بین الاقوامیت کے راستے پر گامزن ہونے کی بجائے اپنی مراعات بچانے کے لیے سرمایہ داری کی بحالی کا راستہ اپنایا۔ اب چینی بیوروکریسی خود سرمایہ دار طبقے میں تبدیل ہوگئی۔ چین میں سستی مگر ہنر مند لیبر نے عالمی سرمایہ داری کو وقتی طور پر آکسیجن فراہم کی۔ امارت اور غربت کی سب سے بڑی خلیج آج چین میں موجود ہے۔ کچھ لوگ چینی کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کردار کو ایک سا سمجھتے ہیں۔ انکے خیال میں دونوں پارٹیوں کی قیادت محنت کشوں سے غداری کر کے سرمایہ دارانہ نظام کی علمبردار بن چکی ہیں۔ آج اسی نظام کی محافظ ہیں جس کے خلاف یہ پارٹیاں تعمیر ہوئی تھیں۔ ان کا خیال ہے کہ چینی سرمایہ کاری عوام دشمن ہے اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں چین سامراجی عزائم کے تحت موجود ہے‘‘۔

یہ ایسا عجیب و غریب اندازِ فکر ہے کہ لفظ جمہوریت کو اپنا کر سرمایہ داری کی نفی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دراصل موجودہ کمیونسٹوں کے پاس اقوامِ متحدہ کے دباؤ کی بنا پر جمہوریت سے بھاگنا مشکل ہے۔ اس کے برعکس چینی صدر نے جمہوریت کا متبادل لفظ ڈھونڈ لیاہے۔ جسے شاید آئین میں شامل بھی کرلیا جائے گا۔ چینی بیوروکریسی جسے الزام دیا جاتا ہے، وہ کامیاب کارپوریشنیں چلارہی ہے۔ امریکہ کیساتھ معاملات طے کررہی ہے۔ اہم بین الاقوامی پالیسی پر پاکستان جیسے کمزور اور غریب ممالک کو عالمی دباؤ سے محفوظ بھی رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ برکس کے اتحاد میں بیٹھ کر کئی سوشلسٹ ممالک کو اکٹھا رکھتی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت پاکستان، روس، سابق سوشلسٹ ممالک کو اکٹھا بھی رکھتی ہے۔ معلوم نہیں دنیا میں کیا کچھ کام کرڈالتی ہے۔ نئے عالمی بینک قائم کئے۔ سی پیک کے ذریعے سے امریکی مفادات کو اور سرمایہ دار کو بھاگنے پر مجبور کیا ہے اور خطے میں عملی توازن قائم کیا ہے۔ اسلامی تنظیمات کیساتھ تعلق قائم کرکے دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے وگرنہ سب جانتے ہیں کہ مسلمان بپھر جائیں تو کچھ باقی نہیں بچتا۔

ایسے ہی عالمی سرمایہ داری کو وقتی طور پر آکسیجن فراہم کرنے کا الزام کچھ مناسب نہیں۔ اپنی اشیا بیچنے کے لیے جس مارکیٹ میں جانا پڑتا ہے، وہاںدوسرے کو بھی کچھ فائدہ دینا پڑتا ہے۔ پھر اپنی ہی عوام کیساتھ چلنا عقلمندی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستانی مزدور انجمنیں مار کھاتی ہیں۔ اپنے لوگوں کو ساتھ لیکر چلنے کا فن کوئی چینی کمیونسٹ پارٹی سے سیکھے۔ اس لحاظ سے چینی کمیونزم مناسب طریقے سے آگے بڑھ سکتا ہے اور کسی کو باہر سے بیٹھ کر بغاوت کروانے کا موقع بھی ملنا مشکل ہے۔

پھر یہ بیوروکریسی ایسی عالمی جامعات چلاتی ہے کہ دنیا کو حیران کردیا ہے۔ علم و تحقیق میں تمام دنیا سے آگے ہے۔ پاکستان سے ایسی عالمی جامعات کا تصور بھی محال ہے۔ دنیا کے کسی دوسرے کونے سے اسکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جہاں سنٹرل ایشیاء اور مشرقی یورپ سے سوشلزم کا بستر گول ہوا تو ساتھ ہی سوشلزم کی بطور علم بھی واپسی شروع ہوئی۔ چین میں سوشلزم کو بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے۔ آج کے گئے گزرے دور میں چینی علم کا قانون بھی سوشلزم کی مادہ پرستانہ تعلیم ہی کو مقصد قرار دیتا ہے۔ اگرچہ روحانی تعلیم کا بھی ساتھ میں ذکر کرتا ہے۔ کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو روحانیات سے آج بھی انکار کرے اور خاص طور پر اگر وہ سلطنت کو چلارہاہو۔ عوام کے مختلف طبقات کو روحانی انداز کے سوا چلایا ہی نہیں جاسکتا۔ اگر روحانیات سلطنت کے قانون میں شامل نہ ہو تو کم از کم معاشرے کی حرکیات میں ضرور موجود ہوتی ہیں۔ بے خدا نظام کہیں موجود نہیں رہ سکتا۔ خاص طور پر معاشرے کے کمزور ترین اور بے بس ترین طبقات کو خدا سے لو لگانے کی کہیں زیادہ ضرورت ہوتی ہے جنھیں اپنے روز مرہ کے معاملات کو خدا کے سوا کسی کے پاس نہیں لے جانا ہوتا۔ بھلا سلطنت کے تمام وسائل کے مالک بن کر کوئی کسی کو کیسے ٹال سکتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے چین میں انسانوں کو سنبھالنا ہے جنھیں روحانیات کے بغیر سنبھالنا ناممکن ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہاں سے جاکر ہمارے کمیونسٹوں کو کچھ سیکھنا چاہیے۔

ہمارے سوشلسٹوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے سلطنت کے انداز میں سوشلزم کو برپا ہی نہیں کیا۔ اس لیے انھیں سلطنت کے اسرار و رموز اور عالمی اداروں کی ہیراپھیریوں کی کچھ سمجھ بھی نہیں آسکتی۔ یہ طویل تر محاذ آرائی ہر ایک کو نصیب بھی نہیں ہوتی۔ پاکستان کے کمیونسٹ، پاکستان میں بھی صبر کے ساتھ کام کرتے اور دوسروں کو تسلیم کرکے ساتھ لے کر چلتے تو آج نہ پیپلز پارٹی ڈوبتی اور نہ ہی یہ خود۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہ آج بھی حقائق کی دنیا کی بجائے نظریات ہی کا رونا روتے۔ چینی عمل کے شہسوار تھے اور کام کرکے دکھاگئے۔

اس مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: