ہاکی کا کھیل کب پاکستان میں واپس آئے گا: مہر عصمت اللہ

1
  • 38
    Shares

ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں ایشا کپ 2017 ہوا جس میں آٹھ ٹیمیں تھیں ، چار چار ٹیموں کے دو پول بنے، پاکستان کے پول میں انڈیا ، بنگلہ دیش اور کوریا تھے، پاکستان نے ٹورنامنٹ کا پہلا میچ بنگلا دیش کے خلاف کھیلا جو 0- 7سے جیتا۔ پول کا دوسرا میچ جاپان سے 2-2 سے برابر ہوااور تیسرا میچ انڈیا کے خلاف 3-1 گولوں سے ہارے، اس میچ کے بعد انڈیا کے گورے کوچ نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم پاکستان سے جیت گئے لیکن ہم اس سے مطمین نہیں ہیں، اس سے زیادہ گول کرنے تھے ہم نے۔ ان تین میچوں کے بعد ایک پول میں سے دو ٹیموں نے سپر فور کے مرحلے میں جانا تھا، پواہنٹ بورڈ پے جاپان اور پاکستان کے نمبر برابر تھے لیکن گول زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سپرفور گروپ میں شامل ہو گیا۔

سپر فور میں پاکستان کا پہلا میچ ملایشیا سے ہوا، پاکستان کو میچ جیتنا چاہے تھا لیکن میچ 3 کے مقابلے 2 سے ہار گئے۔ دوسرا میچ کوریا سے ہوا اس میں 1-1 سے میچ برابر رہا، تیسرا میچ انڈیا سے 4 کے مقابلے 0 گولوں سے ہار گئے۔ تیسری پوزیشن کا میچ کوریا سے ہوا جس میں پاکستان اچھا کھیلنے میں کامیاب ہوا اور 3 کے مقابلے 6 گولوں سے پاکستان وکٹری سٹینڈ پے اپنی پوزیشن بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ سات میچوں میں سے 2 میچ جیتے 3 ہارے اور 2 برابر ہوئے۔

اب بات کرتے ہیں پاکستان اس ٹورنامنٹ کو کھیلا کیسے ۔ ایک نہایت سینیر کھلاڑی وقاص اکبر کو خاص طور پر آخری وقت  میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا، لیکن وہاں جا کر پتا کوچیز کو شاہد اس بات کو اندازہ ہو گیا کہ وقاص اس ٹیم میں مس فٹ ہے، جس کی وجہ سی وقاص کو میچ پلان کا حصہ نہیں بنایا گیا، کسی کھلاڑی کو آرام دینے کے لیے دو منٹ کے لیے باہر بلایا جاتا تو اس کی جگہ وقاص اکبر یا مبشر یا ایک کھلاڑی اور تھا اس کو ڈالا جاتا لیکن ان کھلاڑیوں کو میچ کا حصہ نہیں بنیا گیا نہ ان کو میچ کھیلنے دیا گیا۔ اس کے بعد ایک اور جونیر کھلاڑی عتیق کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ، اس کا یہ پہلا ٹورنامنٹ تھا، جونیراور ناتجربہ کار ہونے کے ناطے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے تھے۔

پاکستان اپنے میچز میں13 کھلاڑیوں کے پلان سے کھیلتا رہا، اور جن ٹیموں کے ساتھ ہمارا مقابلہ تھا وہ ٹیمیں 18 کھلاڑیوں کو استعمال کرتیں تھیں ۔ ہماری 13 کھلاڑیوں کی فٹنس دوسری ٹیموں کے 18  سپر فٹ کھلاڑیوں سے مقابلا کرتی تھی۔ ہماری ٹیم کی فٹنس 2 مہنے کی تھیں اور دوسری ٹیموں کے فٹنس کم از کم 5 سالوں کی تھی۔

اگر ہم اپنے پیچھلے 10 سالوں کی ہاکی دیکھیں تو پتا چلے گا کہ ٹیم مسلسل ناکامیوں اور دیگر مشکلات کا شکار ہے۔ ایشا کپ سے پہلے جو وڑلڈ کپ کوالیفاینگ راونڈ کھیلا وہ شاہد پاکستان کی ہسٹری کا سب سے بُرا ٹورنامنٹ تھا جس میں  پاکستان کی ٹیم انڈیا سے 7،7 گولوں سے ہاری۔ لیکن اس کے بعد یہ والا ٹورنامنٹ پاکستان ٹیم اتنا بُرا اثر لینے کے بعد بہت اچھا کھیلی، یہ بات زہن میں رکھنا ضروری ے کہ ہمارا مقابلہ کن سے کس وقت ہو رہا ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جو 3 مہنے کا ٹرینگ کیمپ لگایا تھا ٹورنامنٹ سے پہلے یہ بہت اچھا اقدام تھا، اس کو جتنا سرایا جائے کم ہے لیکن جن کے ساتھ ایشیا کپ میں ہمارا مقابلہ تھا  ان کا کیمپ تقریبا پچھلے 5 سالوں سے بریک نہیں ہوا ، وہ کھلاڑی مسلسل ٹرینگ میں ہیں۔ اب ہم اپنا مقصد دیکھتے ہیں کہ ہم تیاری ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے کے لیے کرتے ہیں یا ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے۔ ہمارا جن ٹیموں سے مقابلہ ہے ان کے مقابلے میں 10٪ بھی تیاری ہم نہیں کرتے لیکن امیدیں ہم ٹورنامنٹ جیتنے کی رکھتے ہیں یعنی ہم معجزہ پے بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں۔

اگر تو ٹورنامنٹ جیتنا ہے تو تیاری دوسرے ٹیموں سے زیادہ کرنی ہے ، فیڈریشن کچھ اس طرح کے حالات بنانے کی کوشش کرے کہ ہمارے وہ کھلاڑی جو ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں پورا سال ٹرینگ میں رہیں ۔ اب یہاں سوال پیدا ہو گا کہ گورنامنٹ اتنے فنڈز نہیں دیتی کہ سال کا کیمپ لگایا جائے اور فیڈریشن ہاکی کھلاڑیوں کے کیمپ کے اخراجات نہیں برداست کر سکتی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگلے 50 سال تک گورنامنٹ نے مطلوبا فنڈز نہیں دینے تو ہم اگلے 50 سال تک ایسے ہی ہاکی میں رہیں گئے ؟ فیڈریشن کو خود فنڈز جنریٹ کرنا ہوں گے اور فیڈریشن یہ کام بہت آسانی سے کر سکتی ے کیوں کہ اس میں اوپر سے لے کر نیچے تک اولیمپین کام کر رہیں  ہیں۔

ایشا کپ میں ٹورنامنٹ میں دوسری ٹیموں کا میچ پلان کچھ ایسا ہوتا تھا کہ فاروڈ لاہن کے 3،4 کھلاڑی اکھٹے چینج کر کے میچ میں آتے ہیں اپنے دہیے ہوئے پلان کے مطابق اپنا 100 فیصد زور لگا کے ہماری کھلاڑیوں کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں اگلے 3 منٹ کے بعد 3 کھلاڑی ان کھلاڑیوں سے چینج کر کے میچ میں آتے ہیں اور مل کے میچ کا نقشہ تبدیل کر دتے ہیں ، پہلے 3 کھلاڑی کچھ دیر آرام کر کے کوچ سے نیا پلان لے کے دوبارہ واپس آتے ہیں اور ہماری ٹیم گھومتی رہتی ہے، ہمارے پاس کل 5 فاردڈ ہیں وہ کس کے ساتھ چینج کریں، 1 کھلاڑی چینج ہوتا ہے ، نیا میچ پلان ہم صرف ہاف ٹاہم میں ہی دی سکتے ہیں میچ میں پاکستان کی طرف سے فاروڈ کی اکٹھی 3 تبدیلیاں اس پورے ٹورنامنٹ میں نہیں ہو سکیں۔

(برصغیر میں جب انگریزوں کی حکومت آئی تو مسلمانوں کو انگلش زبان سیکھنا ضروری تھی ، کیوں کہ اگر مقابلہ کرنا تھا تو نئی زبان کو سیکھنا ضروری تھا، مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد نے اس پرعمل نہیں کیا  اس کے بعد کے واقعات سب جانتے ہیں کیا ہوا بلکل اس طرح ماڈرن ہاکی ، ماڈرن پلان وقت کا تقاضہ ہے)

گیم پلان بنا کے کھیلنا ہو گا کیوں کہ ہمارا مقابلہ ان کے ساتھ ہے جو ماڈرن گیم پلان بنا کے کھیلتی ہے، ماڈرن پلان کو آپ مزید ماڈرن پلان بنا کے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہر ٹیم کے خلاف نیا پلان ، ایک گیم میں بہت سے پلان ۔ ایک ہے لاٹھی سے سب کو ہاکنا اب ممکن نہیں رہا۔

ہاکی ٹیم میں کھیلنے والے تمام کھلاڑی بہت اچھے ہیں، تمام کھلاڑیوں کے اندر ہمت اور جزبہ ہے ٹیلنٹ ہے کسی بھی دوسرے ملک کے کھلاڑیوں سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں بلکہ تمام سے زیادہ صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب اب ناکافی ہے ، کیوں کہ جس کے ساتھ مقابلہ ہے وہ ہر حوالے سے بہت آگے جا چکے ہیں۔پاکستان ہاکی کے حوالے سے ٹیلنٹٹ ملک ہے ، ہاکی کا کنگ ہے ، کمال کے کھلاڑی پیدا ہوے ہیں پاکستان کی سرزمین پے۔ امریکہ کہ یونیورسٹی میں باڈی ڈاج کو لے کے شہباز سینیر کو پڑھایا جاتا ہے۔ پاکستان کے لوگوں میں باڈی ڈاج کے ٹیلنٹ کواگر جدید تقاضوں سے ٹرینگ کروائی جائے تو پاکستان ٹیم پوری دنیا میں ناقابلے شکشت ٹیم بن سکتی ہے ۔

موجودہ دور میں کھلاڑیوں کے ساتھ کوچز کی تعلیم پر بھی بہت زیادہ توجہ دی جائے۔ پڑھے لکھے کوچز تیار کیے جاہیں۔ ماڈرن کوچز تیار کیں جاہیں، ہمارے اولمپین اور ساتھ جدید کوچز دونوں مل کے ہاکی پر کام کریں تو کمال ہو سکتا ہے۔ پیچھے ہٹنے کا کوئی چانس نہیں ہے ، اگر تو یہ سوچا جائے ک دو چار ٹورنامنٹ ہار کے ہم ہاکی چھوڑ دہیں گیں اور بُری کارکردگی کی وجہ سے ٹیمیں بنانا چھوڑ دیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے، پاکستان سے ہاکی کبھی ختم نہیں ہونے والی ۔ تو اب ہاکی کے لیے صیح محنت شروع کریں۔ کھلاڑی ہمارے ہر حوالے سے اچھے ہیں اب کوچز کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ کیسے کھیلاتے ہیں۔ اس حقیقت کو مانیں کہ جن کے ساتھ مقابلہ ہے وہ ہاکی کو لے کر بہت زیادہ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ جب کی ہماری ہاکی کی تعلیم ابھی تک پرانے زمانے کی ہے ،

پرانے وقتوں میں ایم اے بہت بڑی تعلیم ہوا کرتی تھی ، ہمارے استاد ایم اے پڑھ کےنئی نسل کو تیار کیا کرتے تھے۔ جیسے جیسے دینا میں تعلیم بڑھتی گئی پی ایچ ڈی آگئی ، اب ہمارا مقابلا پی ایچ ڈی لوگوں سے ہے ہمارے ایم اے والے استاد ہمارے لڑکوں کی تیاری کروا کے پی ایچ ڈی والوں سے مقابلہ کروانا چاہ رہے ہیں ۔ پرانے کھلاڑیوں نے پرانی ہاکی پرانے دور کے مطابق کھلی ہے ، جیسے پی ایچ ڈی والے سٹوڈینٹ کو پی ایچ ڈی پاس کر جانے والا استاد ہی پڑھاتا ہے اسی طرح جدید ہاکی کو جدید کوچ جس  کا علم موجودہ دور کی پی ایچ ڈی سے زیادہ ہو گا اگر کھلاڑیوں کو میچ کی تیاری کروائے گا تو مقابلہ بنے گا۔ ہمارے پاس پرانے سینیر ایم اے پاس بہت ہے قابلِ احترام کوچز ہیں، لیکن ضرورت کسی اور چیز کی ہے، نیے کوچز تیار کریں اور ان کو سینیر کوچز کے ساتھ مل کے ٹیم بنانے کو ملے، ہنر اور تعلیم اکٹھی ہو، ہماری ہاکی ناقابلِ شکشت ہو گی۔ خود پے یقین کریں، ہاکی میں جو ہماری خاصیت ہے جو کھلاڑی ہمارے پیدا ہوئے ہیں ، شہباز سینیر ، سہیل عباس ، حسن سردار اور دوسر تمام جن روکنا کو دینا کی تمام ٹیمیوں کے لیے ناممکن کام تھا بلکل اسی طرح کے کھلاڑی ابھی بھی ہماری پاس ملک پاکستان میں ہیں،  تعلیم اور اپنے مقابلے والی ٹیموں کو دیکھ کر تیاری کریں ، ہاکی میں تعلیم آ گی تو ہاکی واپس پاکستان کے پاس آ جائے گی۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ہاکی کے ساتھ عوام اور حکومت کا سلوک دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں ہم انڈیا سے سیمی فائنل ہارے۔ حیرت ہے یہی قوم اور عوام جو کرکٹ کو سر پر سوار رکھے ہوئے تھی۔ زرا شرم اور حیاء محسوس نہیں کی اس نے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: