تبدیلی آ نہیں گئی تبدیلی آ رہی ہے ۔۔۔۔۔ عماد بزدار

3
  • 366
    Shares

جیسے ایک جنس زدہ ذہن کے مطابق شادی وظیفہ زوجیت کی ادائی کا نام ہے ہمارے آج کل کے جمہوریت پسندوں کی نظر میں جمہوریت بھی صرف الیکشن کا نام ہے۔ جہاں آپ نے اکاؤںٹیبلٹی، ٹرانسپیرینسی، کرپشن اور اداروں کی بحالی کی بات کی فورا آپ کو ایسٹیبلشمنٹ نواز ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔

فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت سے انکار کوئی احمق ہی کر سکتا ہے لیکن اس سے نمٹنے کا جو طریقہ کار ہمارے جمہوریت پسند ہمیں بتاتے ہیں اس کے مطابق خاندانی بادشاہت کی غیر مشروط اطاعت ہے جس سے ہم جیسے “بوٹ پالشیوں” کو ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔۔ چاہے یہ دلیل ہمارے جمہوریت کے سرپرستوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے حقیقت یہی ہے پانامہ جیسی گندگی میں لتھڑی قیادت “مجھے کیوں نکالا” کی دھائی تو دے سکتی ہے کسی جرنیل کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہونے کی ہمت نہیں کر سکتی۔
..
جہاں گڈ گورنینس کے نام پر پھرتیاں، لانگ شوز اور معطلیاں ہوں، جہاں وفاقی وزرا شہزادیوں کے چرنوں میں بیٹھنے کو سعادت سمجھیں وہاں چھڑی والوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے حدود میں رہیں گے، حماقت ہو گی۔۔
.
یہ حقیقت ہے کہ راتوں رات سب کچھ نہیں بدلتا نہ ہمیں اس کی توقع ہے لیکن کم از کم ترجیحات درست رکھنے کی توقع تو رکھی جا سکتی ہے، کچھ نہ کچھ ہوتا ہوا نظر تو آنا چاہیئے۔۔
.
اس تمہید کے بعد میں اصل موضوع کر طرف آتا ہوں۔ پچھلے دنوں مجھے کے پی کے جانے کا اتفاق ہوا۔ میری عمران کی ذات سے وابستہ خوش گمانیوں کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔۔ درمیان میں کئی نشیب و فراز آئے۔ “صاف چلی شفاف چلی” سے روایتی الیکٹیبلز کی دھڑا دھڑ شمولیت پہلا شاک تھا جس کی زد میں میری مثالیت پسند آ گئی۔ زمینی حقائق نے باالآخر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہم کسی مثالی معاشرے میں نہیں رہتے مجبورا بہت سارے سمجھوتے کرنے پڑے..
.
ایسا بھی نہیں کہ عمران کو خامیوں سے پاک صاف فرشتہ سمجھا، یا خان کی ہر ہر حماقت کو جسٹی فائی کیا جہاں غلط لگا تنقید بھی کی۔
.
یوں تو خان سے بہت سارے معاملات سے اختلاف ہے لیکن ان کی ذات سے ذاتی طور پر مجھے جو سب سے بڑا دھچکہ پہنچا وہ عائشہ گلالئی کے الزامات کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ساتھ بٹھا کر عائشہ احد کو پریس کانفرنس کرانا تھا ۔ گلالئی کے الزامات کا کھوکھلا پن بڑا واضح تھا ایسے میں خان سے اس حرکت کی توقع کم از کم میں نہیں رکھ سکتا تھا اس لیئے اس گھٹیا عمل کی توجیح یا تاویل کرنے کے بجائے اسے گھٹیا لکھا اور کہا یہ وہی روایتی حربے ہیں جن سے متنفر ہو کر ہم جیسے لوگ خان کی طرف متوجہ ہوئے۔
.
یہ وہ صورتِ حال تھی جب خان سے وابستہ امیدیں روز بروز دم توڑتی جا رہی تھیں کہ میں کے پی کے پہنچا.. میرے پاس کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں وہاں جا کر مجھے کوئی پل، کوئی فلائی اوور بھی نظر نہیں آیا، نہ میں کسی جی ڈی پی کی چکر میں ڈال کر آپ کو لوگوں کی خوشحالی بارے قائل کرنے لگا۔۔ میں وہاں کے عام آدمی سے ملا، جن جن اداروں سے ان کا روازانہ واسطہ پڑتا ہے ان کے بارے ان کی رائے دریافت کی نتیجتا خان بارے مجھے اپنے رویئے پر نظر ثانی کرنی پڑی۔۔

ایسا بھی نہیں کہ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہوئی نظر آیئں.. جیسے پہلے عرض کیا کہ ہمارے بہت سارے مسائل ہیں، تبدیلی راتوں رات نہیں آتی لیکن کہیں نہ کہیں اس کی بنیاد رکھنی پڑتی ہے، ترجیحآت درست کرنی پڑتی ہیں۔ میں جتنے عام آدمیوں سے ملا، ان کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے میں پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں، کھوٹے سکے ساتھ ملا کر خان نے اس کی بنیاد رکھ دی۔

ہمارے جمہوری استعارے کے پی کے سے واپس آکر یہاں بھاشن دیتے ہیں کہ ہم تو کے پی کے گھوم آئے ہمیں تو کہیں تبدیلی نظر نہیں آئی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معدے سے سوچنے کا کام لیتے ہیں ان سے کچھ بعید نہیں کہ دیکھنے کے لیئے بھی وہ آنکھوں کے بجائے کسی دوسرے عضو کو استعمال کرتے ہونگے… میٹرو ، نیلی پیلی ٹرینیں اور سیمنٹ سریئے سے قوم کو ترقی کی راہ پر ڈالنے والوں کو کیا خبر کہ کسی قوم کی تشکیل کے لیئے تعلیم کتنی اہم ہے، انہیں کیا احساس کہ ماحولیاتی آلودگی کس بلا کا نام ہے اس کے لیئے درخت کتنے ضروری ہیں؟ اپنا روٹین چیک اپ کرانے لندن جانے والوں کو کیا خبر کہ ہسپتالوں میں بے بس مخلوق کی کتنی تذلیل ہوتی ہے؟ بذریعہ پنجاب حکومت غریب ملازمین کی زمین رائے ونڈ محل کے لیئے سستے داموں خریدنے والوں کو کیا خبر کہ پٹواری کو کتنی رشوت دینی پڑتی ہے؟

راہ چلتے گائڈ نے جب یہ بتایا کہ مجھے اپنے ہمسائے کے ٹیچر ہونے کی خبر تب ملی جب پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو میں سمجھ گیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔۔۔

جب ہزارہ ڈیویژن کے ایک محترم دوست نے بتایا کہ میرے قریبی عزیز ڈاکٹر جب رات 8 بجے ہاسپٹل سے عمران کو گالیاں دیتے ہوئے نکلتا ہے تو میں سمجھ گیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔۔۔

جب عمران مخالف ایس ایچ او نے گپ شپ میں ایمانداری سے اعتراف کر لیا کہ پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں معاملات میں 20 سے 25 فیصد بہتری آئی ہے تو میں نے مان لیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔

جب ڈرائور نے گاڑی چلاتے ہوئے پہاڑوں پر موجود درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان درختوں کو ہاتھ لگانے کی جرات کوئی نہیں کر سکتا تو میں سمجھ گیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔۔۔۔
.
چپو چلاتے ہوئے سادہ لوح ملاح نے جب بتایا کہ میری 20 کینال زمین پٹواری کو پیسے دیئے بغیر میرے نام ہو گئی تو مجھے یقین آ گیا کہ تبدیلی آ رہی ہے۔۔۔

اس لئے دسترخوانی کھونٹے سے بندھی دانش کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں۔۔.۔۔۔۔۔۔
تبدیلی واقعی آ رہی ہے۔

About Author

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. بھائی صادق خان آپ شائد خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں میرے بھائی جب سے پاکستان بنا اس وقت کے لحاظ سے یہ تبدیلی اور کام
    اک بہت بڑا کام اور چینج ہے اب عمران خان کوئی پرانے زمانے کا بادشاہ تو ہے نہیں کہ جو رشوت لے یا غلط کام لے تو اس کا سولی پر چڑھا دے
    میرے ان ہی کرپٹ اور چوروں سے کام لے گا البتہ جو ذرا کم چور ہوگا اس سے کام لے رہا ہے
    آپ جیسے لوگ تبصرہ کرتے ہوئے فرشتے بن جاتے ہو
    کسی نے سچ کہا کہ ہم لوگ دوسرون کی غلطی پر بہترین جج اور اپنہ غلطی پر بہترین وکیل ثابت ہوتے ہیں

    • عظیم صاحب لگتا ہے آپ میری بات کو آئرنی سمجھ بیٹھے، اصل میں میرا بھی یہی موقف ہے جو آپ نے بیان کیا ہے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: