ٹیکنالوجی کی مدح میں: اینڈریو او ہیگن. ترجمہ: محمد آصف

1
  • 26
    Shares

کسی بھی دوسرے آدمی کی طرح میں بھی اپنے غیر تکنیکی اور سادہ ماضی کے رومانس میں مبتلا ہوں۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سمارٹ فونز خدا کی ایک بہت بڑی دین ہے۔

میں جب بھی کوئی اداس یا دکھی کہانی لکھنے لگتا ہوں تو میری بیٹی ہمیشہ ہی اپنی آنکھیں گھمانی لگتی ہے۔ میں اُسے کہتا ہوں بتاو کہ تم اکیلی سکول کیسےچلی جایا کرتی ہو (جدید دور) اور وہ مجھے کہتی ہے کہ آپ کسی تالاب میں کیسے اکیلے نہا لیتےتھے جو مینڈکوں سے بھرا پڑا ہوتا تھا (پرانا دور)۔

تمہیں معلوم ہے بیٹی؟ یہ زیادہ پرانی بات نہیں اور نہ ہی یہ کچھ زیادہ مشکل تھا۔ بلکہ اگر میں کہوں کہ شہر میں گھومتے ہوئے ہم راستہ بھول جاتے تھے تویہ ایک خوشگوارتجربہ ہوتا تھا۔ نہ کہ فورا گوگل میپ نکالا اور دوبارہ منزل ڈھونڈ لی۔

اور یہ ایسا ہی چلتا رہا۔ مگر میں اس مسئلے کو ایک الگ جہت سے دیکھنے کی کوشش کرتارہا ہوں۔اور ہر بار مجھےاسی سچائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اب زندگی بہتر ہے اور اب اگر پینتیس سال کے بعد زندگی کے اچھے دنوں کو یاد کیا جائے اور چاہے آج کے اچھے وقت کے حصول کی کوشش کی گئی ہے یانہیں کی گئی مگر اب زندگی آسان ہے۔

اور حقیقت تو یہ ہے کہ اگر میرے پاس بچپن میں سمارٹ فون ہوتا تو میری زندگی بہت ہی بہتر ہوتی! نہیں بلکہ غیر معمولی بہتر ہوتی۔ بات یہ ہے کہ میں کیسے یہ تصور کرلوں کہ ستر کی دھائی کی زندگی اس موجودہ زندگی سے نصف بہتر تھی؟ میں ایک ایسی دنیا میں پلا بڑھا جو محض وقت گزاری کے لیے ریاضی کی زہنی مشقیں کرتی اور وقت ضائع کرتی رہی۔۔ مگر میں اب میں ایسی ایپلی کیشنز اپنے پاس رکھتا ہوں جو لمحوں میں میری مدد کرتی ہیں اور وقت بچاتی ہیں۔ میں محض انگلی دبانے سے اپنی ہر چیزوہ حاصل کرنے کا عادی ہوچکا ہوں جس کی مجھے ضرورت ہے۔

مثال کے طور مجھے اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ کل صبح مجھےجو میں اپنی کتاب لکھ رہا ہوں اس کے لیے ایک ایسے رشتے دار کےبارے میں جاننے کی ضرورت پڑی جو مجھ سے بہت فاصلے پر رہتا تھا اب مجھے نہیں یاد کہ کوئی کتاب لکھنے کے لیے لائبریری جاتا ہو اور وہاں گھنٹوں بیٹھ کر خوردبین کے ساتھ ایک ایک صفحے کو پلٹتا ہو اور نوٹس بناتا ہو۔۔ میں نے اس طرح سے پوری کتاب لکھی مگر سچ یہ ہے کہ اس طرح ایک ایک صفحے کو دیکھ اور پڑھ پڑھ کر کسی پیرے میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ کرسکا۔

کل میں نے ایک ویب سائٹ کی فہرست سے مطلوبہ معلومات محض بیس منٹ میں نکال لیں۔ اس کے بعد میں نے اوبر سےکار منگوائی جو کہ مجھے وہاں لےگئی جہاں میں نے ایک کلاس لینی تھی۔ کارمیں بیٹھے بٹھائے میں نے دفتر کے کمیپوٹرکو اپنے نوٹس ای میل کردئے۔ بہت سی ایمیل دیکھ بھی لیں ان کے جوابات بھی دے دیے اور ایک ریسٹورنٹ کےبارے میں معلومات بھی لے لیں جہاں میں شام کو کھانا کھانےجارہا تھا۔

بجائے اس کے کہ میں چیزوں کی ٹرالی لیے ڈیڑھ گھنٹے تک سوپرمارکیٹ میں گھومتا رہتا،سب کچھ آنلائن آرڈر کرنےاور خریدنےسے آپ جانتےہیں میری زندگی میں سے کچھ ایسا تھا جو خارج یا کم ہوگیا؟ جی ہاں میری کمردرجو مجھے ضرور ہوجاتی اگر یہ سب خود باہر جا کر خریدنا پڑتا۔

یہ سب کچھ اب کی بورڈ پر میں اپنے فارغ وقت میں چاہے وہ دن ہویارات کبھی بھی سرانجام دے سکتاہوں وہ بھاگ دوڑ کیے بغیر جو ہزاروں لوگ اپنی بنیادی ضروریات کے لیےکررہے ہوتےہِں۔

مجھے ہمیشہ سے موسیقی پسند ہے اور خاص کروہ اعلی قسم کےریکارڈز جو میں جب بھی سننا چاہوں۔ مگر گزرے سالوں کے مقابلے میں (سپوٹیفائی ایک میوزک ایپ )سےبہتر کچھ نہیں۔

میں نے پرانے لوگوں سے سنا ہے کہ موسیقی کی دکانوں پرکئی کئی سال تک جانا بھی ایک ایسی ثمرآور محنت اور شاعرانہ خیال تصورکیا جاتا تھا۔ عجیب بات ہےکہ لوگ اپنے ہی تجربات اور خیالات کے اسیرہوکر ان کے عادی ہوجاتےہیں۔ “اب ہم اس رومانوی خیال سے یرغمال نہیں بنائے جا سکتے کہ ماضی ہمیشہ ایک بہتر جگہ ہوتی ہے”۔
ہر جگہ کچھ لوگ ایسے ہو جو نئی چیزوں سے اپنے آپ کو الگ کھڑاکرتے یا سمجھتےہیں۔

یہاں شاید ایک زبردست دلیل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے روحانی خلا کو پُر کرنے کی محض ایک تیز ترین دسیتاب صورت ہے۔مگر ابھی بھی میں آپ کو یقین دلوا سکتاہوں کہ 1982 کےچھوٹے چھوٹے ٹاونز میں رہنے والوں کی زندگی میں بھی اس روحانی خلا کی کمی نہیں تھی۔

بس اس خلا کو پُر کرنا ایک مشکل امر تھا۔ ہم سالوں کسی فلم کا سینما یا ٹی وی پر آنے کا انتظارکیاکرتےتھ​ے۔بعض اوقات کسی کو اپنی دلچسپی کے اظہار کے لیے کسی جماعت یا مذہبی کندھے کا سہارا لینا پڑتا تھا۔

باہمی ربط اور مواصلات ایک غیر یقینی چیز سمجھی جاتی تھی جس کا مثبت پہلو تصورمیں بہت کم ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ آپ کو آپ کی پسندیدہ کتاب پر گفتگو کرنے والا مل جائے مگر زیادہ امکان یہی ہوتا تھا کہ نہیں ملے گا جب تک آپ اسے ڈھونڈتےڈھونڈتے نیویارک نہ پہنچ جائیں۔

اب آپ کے پاس ہر روز کسی بھی اہم کام کو کرنے کے پرانے طریقے کی جگہ نئےطریقےموجود ہیں وہی کام جو کبھی کرنا بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔
کیا آپ امریکہ کی اداہو سٹیٹ میں ہیں اور کسی سے اپنے پسندیدہ پھولوں پر بات کرنا چاہتےہیں؟ کیا آپ روم میں ہیں اور یہ جاننا چاہتےہیں کہ میوزک کہاں بجے گا اور کہاں موم بتیاں جلائی جائیں گی؟ مت کہیے کہ روحانی زندگی ختم ہوگئی بلکہ بہت سے حوالوں سے دیکھا جائے تو یہ اب شروع ہوئی ہے۔

ٹیکنالوجی ہمیں اندھے گاہکوں اور ہندسوں میں تبدیل نہیں کررہی جو معاشرے یا کمیونٹی سے نفرت کرتےہیں یا اس سے دور ہورہے ہیں بلکہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ زندگی میں یہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے جو بہتری آئی ہے اس کی وجہ سے ہم زیادہ جمہوری ہورہے ہیں، اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ جان رہے ہیں اور اپنے آپ کو جاننے کی مزید کوششوں میں ہیں۔

ٹیکنالوجی ہمیں اس سوال کی طرف بھی ابھاررہی ہے کہ ہم آسان زندگی سے کیا مراد لیتےہیں ایک ایسی زندگی جو لاکھوں دےکربھی نہیں مل سکتی۔

میرےخیال میں ٹیکنالوجی نے ہمارے زندگی کو پیچیدہ نہیں کیا بلکہ اسے گزارنے کے لیے تیار کیا ہے۔ اور سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ ہم اس دنیا میں داخل ہونے کا خود تجربہ کررہے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ اب اکیلے اور تنہا رہنے کا کوئی جواز نہیں ماسوائے اس کے کہ آپ خوشی سے اپنی سادہ زندگی کا ماضی یاد رکھنا چاہیں۔

میری بیٹی ٹھیک ہی ہنسی تھی۔ وہ میری کہانیوں میں ایک ایسی زندگی کی خودنمائی کے اشارے اور فخریہ پیغام دیکھ رہی تھی جوترقی یافتہ ہی نہ تھی۔
حقیقت میں ہم نے خود کو دفنا دیا مگر خواہش یہ رکھی کہ ہم باہر نکل آئیں گے لوگوں سے ملیں گے اور اپنی من پسند آوازیں ڈھونڈیں گے۔

میرا پسندیدہ میوزک ریکارڈ، جب میں لڑکپن میں تھا پرانے یورپ کے کسی دوردرازکنارے پرتھا اورمجھے ایک بس اور ٹرین کے بعد کئی میل پیدل چل کر اس میوزک ریکارڈ کو حاصل کرنا پڑا۔یہ سفر بتاتا ہے کہ کس طرح ایک تجربے کے بعد میں نے یہ کوشش دوبارہ نہیں کی۔

مجھے نہیں علم کہ اس میوزک ریکارڈ کی طبعی شکل کہاں گم ہوگئی اور وہ اس وقت کہان موجود ہے مگر وہ موسیقی وہ نغمہ اس وقت میری انگلیوں کے پوروں کے نیچے ہےجسے میں ٹائپ کررہا ہوں۔ میرے اردگرد کی دنیا جدید اور مسلسل بہتر ہورہی ہے ، مجھے اس نغمے کو ڈھونڈنے میں محض پندرہ سیکنڈز لگےہیں۔
کیا آپ رقص کرنا چاہیں گے؟

بشکریہ: ریڈرز ڈایجسٹ

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. واقعی آصف صاحب آپ نے خوب آشکار کیا ہے جدید دور کے ان فنی اور تکنیکی تقاضوں کو جو ہماری ضرورت ساتھ عادت بھی چکے ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: