ترکی میری نظر سے: عمار یاسر (پہلی قسط)

0
  • 69
    Shares

عمار یاسر پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور دیس دیس سفر کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ حال ہی میں ترکی اور قطر کا سیاحتی دورہ کر کے آئے ہیں اور اپنے سفر نامے کو قلمبند کر رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سفر نامہ ہے دانش کے قارئین کی نذر ہے۔


گذشتہ کچھ سالوں سے خوبصورت اور تاریخی ممالک کی سیر کی لت پڑچکی ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ ہر سال کچھ دن کسی خوبصورت ایشیائی ملک کی سیر کرسکوں، کچھ نئے لوگوں سے میل جول ہو، ان کے ملکوں کی ثقافت بارے آگاہی ہو، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے ایک ہی مسئلے میں کیسا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ نئے تعلق استوار ہوں کہ مبادا مستقبل میں ان تعلقات کا فائدہ بھی ہو۔

ہم پاکستانی بھی عجب قوم ہیں، زیادہ تر مادی فوائد پر ہی نظر رکھتے ہیں، لیکن جب آپ دو چار ملک گھوم لیں تو پھر آپ کی سوچنے کی صلاحیتیں اس شخص سے بجا طور پر بہتر ہوں گی جو یہیں اپنے محلے اور شہر کی سڑکیں ناپتا ہے۔ یہ بات تو جملہ معترضہ کے طور پر آگئی۔

میں 5 سال لیبیا میں تعلیم کے حوالے سے گزار چکا ہوں اور یہ لیبیا کی جنگ کی ابتدا سے پہلے کی بات ہے۔ ہمارے کالج میں دنیا کے تقریبا 55 ممالک کے طلبہ بیک وقت تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہاں سے جو مختلف ممالک کے دوستوں سے تعلق استوار ہوا اسی کے مرہون ہر سال کسی نہ کسی ایشیائی ملک کا سیاحتی دورہ ہوتا رہتا ہے۔ کیونکہ اس میں صرف ویزا اور جہاز کا ٹکٹ میرے ذمہ ہوتا ہے۔

امسال عید الفطر کے بعد ترکی جانے کا پروگرام بن گیا۔ کیونکہ ترکی کے دوست اور مقامی میڈیا وہاں کے حالات کے بارے میں کچھ نہ کچھ خبر دیے رکھتا۔ خیر ترکی جانے کا پروگرام فائنل کیا، اور اس کی ایک بڑی وجہ ترکی کا تاریخی ہونا اور آمدہ دور میں مسلم امہ کی قیادت کے طور پر ابھرنے والے ملک کی ہے۔

اسی دوران قطر پر چار عرب ممالک کی جانب سے پابندیوں کے باعث قطری حکومت اور قطر ائرلائن مختلف پیکیجز کا اعلان کرتی رہی۔ ٹکٹ سستا ہونے کی وجہ سے پروگرام بنا کہ دس گیارہ روز ترکی میں گزارنے کے بعد واپسی پر دودن قطر میں قیام کروں گا۔ ٹکٹ خریدنے کے بعد قطری حکومت کی طرف سے اعلان سامنے آیا کہ پاکستان سے آنے والے مسافروں کو مفت ویزہ دوحہ ائر پورٹ پر ہی مہیا کیا جائے گا۔ یہ اچھی خبر تھی کیونکہ اس سے پہلے دوحہ ائر پورٹ پر ویزہ کی مد میں کچھ رقم کی ادائیگی ضروری تھی۔

30 ستمبر 2017 کو لاہور سے براستہ دوحہ ترکی جانے کا پروگرام فائنل کیا۔21 اگست کو Gerry’s کے لاہور آفس تمام مطلوبہ کاغذات (گذشتہ چھ ماہ کی بینک اکاؤنٹ کی تفصیل، بینک کی جانب سے تصدیقی خط، اگر آپ ملازمت پیشہ ہیں تو دفتر کی جانب سے تصدیقی خط، آپ کی تنخواہ کی گذشتہ تین ماہ کی سلپ، آنے جانے کی ٹکٹ کی بکنگ، ترکی میں ہوٹل کی بکنگ، پرانے پاسپورٹس پر جتنے سفر کیے ہیں ان کے ویزا والے صفحات کی کاپی، پولیو سرٹیفکیٹ، آن لائن ویزا فارم کا پرنٹ، چار عدد تصاویر) کے ساتھ گیا۔

مذکورہ کاغذات میں ہوٹل بکنگ کے حوالے سے یہ بات مد نظر رہنی چاہیے کہ جتنے دن آپ نے ترکی رہنا ہے اتنے دن کی ہوٹل بکنگ کروائیں، اسی طرح ترکی سفارت خانے کی ویب سائٹ سے آن لائن ویزا فارم بھرنے کے بعد اس کا پرنٹ لیں اور کاغذات کے ہمراہ رکھیں۔ اس فارم کو بھرنے میں اگر آپ کو دشواری ہو تو “گیریز” کے آفس میں آپ کی مدد کردی جائے گی جس کا معاوضہ وہ بہر حال وصولتے ہیں۔ ویزا دس سے 14 ایام میں مل جاتا ہے، اور جتنے دن کے لیے آپ نے درخواست کی تھی اس سے صرف دو دن اوپر آپ کو ویزا دیا جائے گا۔ویزا فیس کی مد میں آپ سے 10 ہزار لیا جاتا ہے جس میں “گیریز” کی اپنی فیس بھی شامل ہے۔

ساتھ ہی ساتھ سفر کی تیاری کے حوالے سے آپ کے پاس اگر “کریڈٹ کارڈ/ ویزا کارڈ” ہو تو اسی سے آن لائن ٹکٹ بھی خریدیے، ہوٹل بکنگ بھی کیجیے۔ یہ آسان بھی ہے اور آپ کو نسبتا سہولت بھی حاصل رہتی ہے۔ اس کی مثال آپ کو آگے چل کر ملے گی۔

اپنے گذشتہ اسفار میں پی آئی اے، تھائی ائرویز، ماہن لنکا، امارات ائر لائن، ائر ایشیا، اتحاد ائر لائن، ترکش ائر لائن کے ساتھ سفر کرچکا ہوں۔ قطر ائر ویز کی دھوم تو بہت سنی تھی لیکن ہمیشہ ٹکٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اجتناب کیا۔ اب کی بار حالات نے قطر ائر ویز کو پاؤں زمین پر ٹکانے پر مجبور کیا تو ہم جیسوں نے بھی سوچا کہ اس کا مزہ بھی لیا جائے۔

30 ستمبر صبح 9:30 بجے لاہور ائر پورٹ سے دوحہ کے لیے پرواز تیار تھی۔ ایک روز قبل ہی آن لائن چیک ان اور اپنی پسند کی سیٹ منتخب کرلینے کے باعث ائر پورٹ جانے کی جلدی نہ تھی۔ 8:15 پر خلاف توقع ائر پورٹ میں پہلی سکینر مشین سے سامان گزارنے کے بعد بنا کسی روک ٹوک کے کاؤنٹر پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ میں آخری مسافر ہوں جس نے دوحہ کی فلائٹ پکڑنی ہے۔ تمام مراحل سے گزرنے کے بعد مطلوبہ ہال میں پہنچا تو مسافر جہاز میں داخلےکے لیے جا رہے تھے۔ جہاز نے مقررہ وقت پر ہوا میں اڑان بھری اور میں آنکھیں موند کر سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنے والے دنوں میں کھو گیا۔

کچھ وقت کے بعد فضائی میزبان نے پاس آکر کھانے کے بارے میں پوچھا، کھانے میں دو میں سے ایک آپ اختیار کرسکتے ہیں۔ اسی دوران سامنے لگی سکرین پر نظر دوڑائی تو معلوم پڑا کہ اس وقت ہم 40،000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہے ہیں۔ اچانک یاد آیا کہ قطر ائر ویز میں دوران پرواز آپ 10MB انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر اس سے زیادہ استعمال کرنا چاہیں تو کریڈٹ کارڈ کے عوض اس نعمت سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، لیکن اس صورت میں آپ انٹرنیٹ استعمال کم اور پیسوں کی فکر زیادہ کریں گے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس شوق کو دی گئی محدود پیشکش میں ہی پورا کریں۔ انٹر نیٹ رابطہ حاصل کرنے کے لیے موبائل فون کا وائی فائی آن کریں اور مطلوبہ رابطہ پر انگلی رکھیں۔ نیا صفحہ کھلنے پر آپ کو اپنی ٹکٹ کا نمبر ڈالنے کے لیے کہا جائے گا۔ تصدیق کے بعد آپ کا رابطہ نیچے کی دنیا سے بحال ہوجائے گا۔ ہم جیسے لوگ تو اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھ کر فورا ًسے پہلے فیس بک کھولتے اور سٹیٹس دیتے ہیں لیکن کاروباری افراد اپنی ای میل وغیرہ دیکھ لیتے ہیں۔

ٹکٹ کی خریداری کے حوالے سے بنیادی بات یہ ہے کہ بیرون ملک سفر کرنے کےلیے آپ کو “سیزن اور آف سیزن” کا علم ہو۔ ہوائی کمپنیاں سیزن، جیسے گرمیوں کی چھٹیاں، ایام حج اور دسمبر، میں نئے سال کی آمد کے موقع پر ٹکٹ کی قیمت بڑھادیتی ہیں۔ اور جب آپ نے کسی سیاحتی ملک جانا ہو تو اس میں مئی تا اگست اور دسمبر تا جنوری کا پہلا ہفتہ سیزن کا ہوتا ہے۔ یہ بھی مد نظر رہے کہ مختلف ہوائی کمپنیاں آف سیزن میں پروموشنز دیتی رہتی ہیں۔ اس چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے آپ ٹکٹ خرید سکتے ہیں۔ ٹکٹ اگر اپنے کریڈٹ کارڈ سے آن لائن خریدیں گے تو نسبتا ً ایک ہزار روپیہ سستا مل جاتا ہے کیونکہ ایجنٹ کا منافع نکل جاتا ہے۔

خیر کھانے سے فارغ ہوکر کچھ دیر ساتھ بیٹھے پاکستانی بھائی سے تعارف ہوا، جو پاکستان اٹامک انرجی کی ملازمت کو چھوڑ کر قطر میں کسی اچھی ملازمت کے لیے جا رہے تھے۔تین گھنٹے کی پرواز کے بعد دوحہ ائر پورٹ پر مقامی وقت کے مطابق صبح 10:30 پر جہاز اترا۔ دوحہ شہر کے اوپر پہنچ کر دوحہ کا فضائی منظر کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کرلیا۔ استنبول کی پرواز میں ابھی ڈھائی گھنٹے باقی تھے لہذا دوحہ ائر پورٹ کو کھنگالنے کا پروگرام بنایا لیکن حیرت کے سمندر میں غوطہ کھایا جب اتنی بیابانی اور سنسانی دیکھی۔ دوحہ ائرپورٹ کے بارے میں کافی کچھ دیکھ اور سن رکھا تھا لیکن یہاں معاملہ بالکل الٹ تھا۔ ائر پورٹ پر مسافروں کی آمدو رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس کی بنیادی وجہ حال ہی میں چار عرب ممالک کی جانب سے قطر کا بائیکاٹ تھا۔ (اس بائیکاٹ کے محرکات، اثرات، اور مستقبل کے منظرنامے کی کہانی اس سفر نامے کی آخری قسط میں)۔

دوسری حیرت یہ ہوئی کہ اچانک اذان کی آواز سنائی دی تو وقت دیکھا، مقامی وقت کے مطابق 11:20 ہورہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ قطر میں ظہر کی نماز کا یہی وقت ہے۔ نماز کے بعد تھکاوٹ اور بھوک نے ایک ساتھ حملہ کیا تو استنبول کے لیے پرواز کے مقررہ ہال کی جانب جاتے ہوئے  “قطری شوارما” خرید لیا کہ اگلی پرواز میں تو آرام سے ہی کھانے کو کچھ ملے گا۔

جہاز نے مقررہ وقت پر استنبول کے لیے اڑان بھری۔ یہ جہاز نسبتا ً بڑا اور مسافروں سے مکمل تھا۔ دوحہ سے استنبول تقریبا ً چاڑھے چار گھنٹے کی پرواز تھی۔ اس دفعہ ساتھ بیٹھنے والے ایک لبنانی نوجوان تھے جو قطر میں دس سال ملازمت کرنے کے بعد ترکی میں اپنا کاروبار کر رہے تھے۔ (تصویر بنانا مناسب نہیں سمجھا)۔

استنبول کے اتاترک ائر پورٹ پر امیگریش کاؤنٹر سے بنا کسی سوال و جواب کے خلاصی کے بعد باہر نکلا تو عمر فاروق استقبال کے لیے موجود تھے۔ عمر فاروق بھائی کو بہت سے لوگ جانتے بھی ہیں اور ان کا مختصر تعارف شعیب ہاشمی  نے اپنی داستان ترکی میں کیا ہے۔ لیکن عمر بھائی کے بارے میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہمارا تعلق کسی بھی اور شخص سے بڑھ کر ہے۔ اور اس کی وجہ گھریلو تعلقات کا ہونا ہے۔

شام کے ساتھ بج رہے تھے اور ہلکی ہلکی بارش سے موسم میں خنکی بڑھ رہی تھی۔ لاہور سے نکلنے سے ایک دن پہلے عمر فاروق خبردار کرچکے تھے کہ استنبول میں بارشوں کے آغاز کے ساتھ موسم سرما آچکا ہے لہذا “احتیاطی تدابیر” کرتے ہوئے آئیے گا۔ ائر پورٹ میں بنے میٹرو ٹرین سٹیشن سے عمر بھائی کے گھر کا قصد کیا۔ راستے میں ٹرین سے اتر کر “ٹرام وے” کے ذریعے عمر بھائی کے گھر پہنچے تو ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ موصوف کا گھر تھوڑی بلندی پر ہے اور کمرے کی کھڑکی سے شہر کی روشنیاں آنکھوں کو بھلی لگتی ہیں۔

کھانے سے فراغت کے بعد اپنے مقررہ ہوٹل کی جانب بذریعہ ٹیکسی روانہ ہوا۔ سلطان احمد کے علاقے میں “ایلدم ہوٹل” میں ٹھہرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہوٹل کی چھت سے “بلیو ماسک” یعنی مسجد سلطان احمد کے مینار اور گنبد براہ راست نظر آتے تھے۔

ایک چھوٹا سی سبق آموز بات یہ وقوع پذیر ہوئی کہ ہوٹل پہنچ کر جب ٹیکسی والے کو کرایہ ادا کر رہا تھا تو 20 لیرا اور انجانے میں 5 یورو (20 لیرا) بھی پکڑا دیے۔ جبکہ کل کرایہ 25 لیرا تھا۔ ڈرائیور نے 5 یورو کا نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا کہ آپ یورو دے رہے ہیں جبکہ آپ کے پاس 5 لیرا کا نوٹ بھی ہے۔ حیرت، خوشی اور “تشکر” کے ساتھ ڈرائیور کو رخصت کر کے کمرے میں پہنچ کر سامان رکھا اور فورا چھت پر پہنچا کیونکہ جو منظر ہوٹل بُک کرواتے وقت دیکھا تھا وہ اپنی زندہ آنکھوں سے بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ اس منظر کو آپ بیان ہی نہیں کرسکتے جس طرح آپ اس کو محسوس کرتے ہیں۔ ہلکی بارش اور ٹھنڈی ہوا کی آمیزش میں آیا صوفیہ اور سلطان احمد کے مینار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی زرد روشنی میں مسلمانوں کی تاریخ کی گمشدہ عظمت کا پتہ دے رہے تھے۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: