ٹوبہ ٹیک سنگھ میں جنم لینے والی ایک دردناک کہانی۔ احمد اقبال

1
  • 32
    Shares

یہ میری لکھی ہوئیؑ کہانی نہیں ہے
یہ پیر محل میں جنم لینے والی ایک کہانی ہے۔ یہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک ضلع ہے۔
یہ ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ نے منٹو کی لازوال کہانی ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑھی ہو۔ گوگل میپ تو آپ کو پیر محل پہنچا سکتا ہے وہاں کی مساجد اور بازار کی تصاویر بھی دکھا سکتا ہے۔۔ لیکن اس کی چنداں ضرورت نہیں۔۔ نام میں کیا رکھا ہے۔۔کہانی اہم ہے۔

اس بار ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کہانی لکھی ہے ایک سعودی حجاب منظر نے جو اردو کا ایک لفظ نہیں جانتا۔۔ حجاب منظر نام سے تو پاکستان کا شاعر لگتاہے۔ مگر کیا یہ کافی نہیں کہ وہ سعودی شہری ہے۔۔ شاہی خاندان سے نہ بھی ہو لیکن عرب پتی۔۔۔ سوری۔۔ ارب پتی ضرور ہوگا۔ کوئی دو ہفتے قبل اس نے سعودی ایر لایؑن کی پرواز سےاسلامی جمہوری مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بےنظیر شہید ایرپورٹ پر قدم رنجہ فرمایا۔ ایک وہیل چیؑر میں تشریف کو رکھا۔۔آپ چاہیں تو فرض کرلیں کہ وہ سونے کی بنی ہوگی۔۔کسٹم والوں کی کیا مجال کہ سوال جواب کریں۔ نوکری سب کو کرنی ہے۔۔لیکن جری اور ذہین لوگ کہاں نہیں ہوتے اور مان لیجےؑ کہ انٹلیجنس ایجنسیونںمیں ذہین لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ایک افسر نے یہ منظر دیکھا تو سوچ میں پڑ گیا۔۔ ؑ معزور ڈپلومیٹ تو ہوگا نہیں۔ بزنس مین بھی مشکل ہے۔اس حال میں تفریح کے لےؑ حسن و شباب کا متلاشی بھی نہیں ہوسکتا۔۔ وہ پیچھے گیا تو حجاب منظر کسی لکژری لیموزین کار میں نہیں ایمبولینس میں لوڈ کیا جارہا تھا۔ اس نے نمبر نوٹ کیا اور پیچھے لگ گیا۔ یہ ٹرک کی بتی کا تعاقب ثابت نہیں ہوا۔ ایمبولنس پہنچی پیر محل کے “ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلکس” سے متصل ایک کوٹھی میں جس کے چند کمرونںکو ایک وی آیؑ پی آپریشن تھیٹر میں بدل دیا گیا تھا۔ حجاب منظر کا موباییؑل ڈاٹا چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ موصوف گردہ بدلوانے کیلےؑ پاکستان تشریف لاےؑ تھے، سفید اجلے ایپرن باندھے مسکراتے چہروں والے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم نے ان کا ستقبال کیا جس کے سربراہ سرجن شاہد رشید نیفرالوجسٹ ( ماہر مراض گردہ) تھے۔

سرجن شاہد رشید نیفرالوجسٹ کون تھا؟
کل ایف آئی اے کی پریس کانفرنس کے مطابق جو آج۔”ٹریبیون” میں شایع کوئی ہے۔۔۔ وہ دیپال پور کے گاوں “کھڑک سنگھ” کا پیدایشی تھا جس کا نام صدرالدین رکھا گیا تھا۔۔ وہ لاہور جنرل ہسپتال کا معمولی ملازم تھا۔ اس کو ڈاکٹر شاہد رشید کا پتا چلا تو اس نے اخبار میں اعلان کرکے اپنا نام شاہد رشید کیا اور بعد میں اس نے نیےؑنام سے قومی شناختی کارڈ بھی بنوالیا۔۔ ڈاکٹر رشید کے کلینک میں فریم کی ہوئی اصل ڈگری چوری کرنے کے بعد وہ مستند ڈاکٹر بن گیا کیونکہ یہ ڈگری پاکستام میڈیکل ایسوسیایشن کے پاس رجسٹرڈ تھی لیکن نہ وہ سرجن تھا اور نہ نیفرالوجسٹ۔ اس نے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلکس کے معاون عملے کی مدد سے گردے بدلنے کا راتوں رات دولت مندی عطا کرنے والا “کار خیر” شروع کیا۔

اب تیار ہو جاےےؑ ایک اور صدمہ یعنی شاک برداشت کرنے کیلےؑ۔ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلکس چلانے والے میرے آپ جیسے عام لوگ نہیں ہیں۔۔وہ سابق صدر تحریک انصاف اور گورنر پنجاب لارڈ سرور سابق ممبر برطانوی پارلیمنٹ کے دو سگے بھانجے خاشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ ہیں جو اپنے باپ کے نام پر یہ رفاہی ہسپتال چلا رہے ہیں۔اللہ کی رحمت مرحوم پر بہر حال کم نہ ہوگی۔۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لفافہ صٖحافت کے علمبرداروں کی زباں پر مہر خموشی لگی ہوئی ہے اور کسی میں “حق گوئی و بے باکی آئین جواں مرداں” والی ہمت نہیں کہ یہ نام زباں پر لائے۔ کیا کسی چینل نے اصل مجرموں کا نام ونسب بتایا؟۔۔
اب ملاحظہ کیجےؑ ظریقہؑ واردات اور سوچتے رہےؑ ؑ کہ کیا ہوس زر میں کوئی انسانیت کے درجہ سے کتنا گر سکتا ہے۔؟ حد کیا ہے آخر؟؟

ابراہیم ریاض االلہ ہسپتال اس علاقے کے دور افتادہ دیہات میں غریب اور لاوارث آدمی کے لےؑ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے جو فیصل آباد۔شور کوٹ اور جھنگ کے درمیان واقع ہیں اور لاہور کے اعلیٰ ہسپتالوں تک رسایؑ کے وسایل نہیں رکھتے۔ ایک لیڈی ڈاکٹر کسی دیہاتی عورت کی زچگی کیلےؑ رجسٹریشن کرتی تھی تو اس کے سب ٹسٹ ہوتے تھے۔ اگر کسی کا گردہ کسی “حجاب منظر” جیسے دولت مند کی ضرورت کے مطابق مل جاتا تھا تو وہ “گورنر زادوں”کو مطلع کرتا تھا اور وہ حجاب منظر سے رابطہ کرتا تھا کہ” عالی جاہ۔۔مبارک ہو نیا گردہ۔ تیار ی سفر کی کیجےؑ اور پہلی اطلاع پر پہنچ جاییؑں۔بس جناب صرف ایک کروڑ روپیہ لانا نہ بھولےؑ۔ ” غریب عورت جب ڈلیوری کیلےؑ داخل ہوتی تھی تو کوئی حجاب منظر معہ ایک کروڑ روپے بھی پہنچ جاتا تھا۔ عورت کا اپریشن ہوتا تھا اور وہ لا علم و بے خبرایک بچہ اور ایک گردہ کے ساتھ دعاییؑں دیتی رخصت ہوتی تھی کیونکہ اس سے اخراجات کی مد میں کچھ بھی نہیں لیا جاتا تھا۔۔اس کار خیر کا ڈنکا اطراف کے ستر گاوں دیہات میں گونجتا تھا۔۔ مجھے یقین ہے کہ میں یا آپ ان دیہات میں جا کے “سچ” بتاییں تو اس کی پاداش میں عقیدت مند ہمیں مار مار کے جہنم رسید کردیں کہ خدا کے نیک بندوں پر الزم تراشی کرتے ہو مردودو۔

چھاپہ کے وقت سات مسیحا گرفتار ہوےؑ۔ بد بخت زچہ اور خوش بخت حجاب منظر کو لاہور کے ایک اچھے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اصل مجرم فرار ہو گیا یا کرادیا گیا اور مشہور کیا جارہا ہے کہ باہر نکل گیا ہے۔۔ دوسرے مجرم شہزادنے اعتراف کیا کہ وہ الیکٹریشن تھا اور خیر سے ان پڑھ بھی لیکن یہاں وہ ڈاکٹر تھا اور اپنے جیسے دوسرے ڈاکٹروں کے ساتھ گرد و نواح کے گاوں سمندری اور کمالیہ جا کے بھی اپریشن کرتے تھے اور دعاییؑں سمیٹتے تھے۔۔

اسے کہانی ہی سمجھےؑ کیونکہ خیر سے یہ دھندانیا نہیں۔ایک وقت تھا کہ پاکستان کی بڑی “شہرت ” تھی اور پاکستان میں اسلام آباد ملک کے اندر سے بھی ان دولت مندوں کو کھینچتا تھا جو گردہ خریدسکتے تھے۔۔ کسی مقروض بھٹہ مزدور کا۔۔ کسی مجبور کا۔۔ اس کی سب سے بڑی دکان تھی “کڈنی سنٹر” جس کے مالک ایک سابق بریگیڈیر اور ان کا کرنل بیٹا تھے۔ اگر آپ ایوب پارک کے سامنے عین جی ٹی روڈ کی ایک پہاڑی پراس دکان کا محل وقوع اس کی وسعت اور شان و شوکت دیکھ لیں تو اندازہ نہیں کر پاییؑں گے کہ 5 ارب سے اوپر ہوگی یا 10 ارب۔۔یہاں قانون کی نظر میں دھول جھونکنے کے طریقے بتانے والے ماہرین بھی ہیں۔ ان کی مدد سے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ دنیا میں آپ کا ایک بھی عزیز نہیں جو گردہ دے سکے۔ جب بدنامی کی داستانیں عام بہت عام ہوئییؑں تو ایک چھاپے اور گرفتاریوں کا ڈراما بھی رچایا گیا اور کڈنی سنٹر بند ہو گیا۔۔۔ الحمد للہ۔۔ گردہ “عطیہ “کرنے والے مجرم تا حال زنداں میں ہیں لیکن مالکان رہا ہوےؑ اور کڈنی سنٹر اسی کروفر کے ساتھ چل رہا ہے

میری طرح آپ کو بھی کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہےؑ کہ پیر محل کے وی آیؑ پی مجرموں کو قانون ہاتھ بھی لگا سکے گا۔۔آپ اسے بھول کر اگلی کہانی پڑھیے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. پیر محل کیس کی مکمل تفصیلات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں جو صرف اور صرف انگریزی کے اخبارات میں آی ہیں.

    https://tribune.com.pk/…/1-illegal-kidney-transplants…/

    http://nation.com.pk/…/ex-gov-s-nephew-involved-in…

    http://www.customstoday.com.pk/kidney-transplantation…/

    https://www.dawn.com/news/1363729

    https://www.dawn.com/…/seven-held-for-illegal-kidney…

    https://tribune.com.pk/…/kidneys-transplanted-18…/

Leave A Reply

%d bloggers like this: