جماعت اسلامی انتخابی سیاست میں ناکام کیوں؟ تنویر اعوان

0
  • 73
    Shares

این اے 4 کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔جماعت ایک بار پھر تنقید کی ذد میں ہے۔ دوست پوچھتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جماعت انتخابی سیاست میں ناکام ہے؟

میری نظر میں اس کی کئی بڑی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی اور اہم وجہ جماعت اسلامی کا تنظیمی ڈھانچہ ہے۔ اس میں ہمدرد، کارکن، امیدوار اور رکن کی تفریق اس کے سیاسی جماعت کے طور پر کامیاب ہونے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
کارکنان میں یہ احساس شدت سے پایا جاتا ہے کہ جماعت کے نزدیک ان کے مشوروں کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی پارٹی کے ارکان کے مقابلے انہیں اہمیت دی جاتی ہے۔ اس سے بد دلی پھیل رہی ہے۔ کارکن اور رکن لفظ ہی تفریق کا باعث ہے۔

یہ تفریق ایک حد تک رہے تو درست بات ہے لیکن کسی اجتماع سے لیکر کسی جلسے تک ارکان ارکان کی گردان ایک عام کارکن کیلئے قابل قبول نہیں ہوتی۔ پھر سیاسی جماعت میں دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور عہدیداران کیلئے جو گنجائش پائی جاتی ہے وہ جماعت میں بالکل نہیں ہے۔

اگر عمران خان بھی جماعت اسلامی میں شامل ہوجائے تو اسے بھی رکن بننے کیلئے اتناہی انتظار کرنا پڑے گا جتنا دیگر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے جبکہ تک وہ رکن نہیں بنے گا مشاورت میں شریک نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوگی۔ رکن بن بھی گیا تو اسے امیر ضلع بنانا بھی ناممکن ہے۔ تو ایسے میں کیا کیسے جماعت میں ایڈجسٹ ہوسکتا۔ یعنی کہ آنے والا دیانتدار اور ایماندار بھی ہو تو بھی اس کے لئے جماعت کے قواعد و ضوابط وہی رہیں گے۔ جو عام لوگوں کیلئے ہیں۔

کارکن جماعت اسلامی

پھر جماعت میں جمعیت کے سابقین  بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باعث یہ ویسے بھی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ لیکن پڑھے لکھے نہ بھی ہوں تو جماعت کے اجتماعات میں باقاعدگی سے شرکت کے باعث ان کا مزاج بدل جاتا ہے۔ ان کی شخصیت میں بڑی حد تک تبدیلی آتی ہے۔ کردار و اخلاق بہتر ہو جاتا ہے ان کے رویے میں سدھار آتا ہے۔ یہ سب خوش آئند باتیں اپنی جگہ لیکن اسی تبدیلی کی وجہ سے یہ لوگ اپنے کام سے کام رکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ محلے میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوتا ہے تو ہونے دیں یہ اس میں نہیں جائیں گے۔ پولیس آکرکسی کو لے جائے تو انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی۔ محلے میں کتنے لوگ ہیں کون کہاں سے ہے کیا کرتا ہے انہیں معلوم نہیں ہوتا۔ اپنی نوکری سے آتے ہیں کھانا کھاتے ہی حلقے کے ناظم کو کوئی کام یاد جاتا ہے اور وہ بلالیتا ہے یا ماہانہ اجتماعات ہی اتنے ہوتے ہیں کہ اور کچھ کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ اجتماعات میں بھی بال کی کھال کھینچنے والے موجود ہوتے ہیں جو فضول کے سوال کر کر کے دماغ کی دہی کردیتے ہیں۔

چونکہ ان کی نیت بھی اس دوسرے حلقے کے ناظم کو نیچا دکھانا ہوتا ہے اس لئے ان کے سوال بھی اوٹ پٹانگ ہی ہوتے ہیں۔ نیت کا اس لئے کہا کہ نیت اچھی ہو تو رزلٹ آتا ہے لیکن آج تک ایسا ہوانہیں۔ اب کوئی حلقے کا ذمہ دار ہے بھی تو اسے رپورٹس کی فکر ہوتی ہے۔ بس کسی بھی طرح کیسے بھی کچھ نہ کچھ کرا کے رپورٹ بھر لی جائے۔ چاہے جو مقصد تھا س کی روح فوت ہوجائے لیکن رپورٹس یعنی پیپر میں کام بہترین ہونا چاہیے۔ یہی روش پروگرامات میں لوگوں کو شریک کرانے کے حوالے سے اپنائی جاتی ہے۔ ہر حلقے میں چند لوگ ایسے ہوتے ہیں جو واقعتاً جماعت سے مخلص ہوتے ہیں بس ایسے ہی لوگوں کو ہر پروگرام میں بن بلائے گھر سے پکڑا کر ساتھ لے لیا جاتا ہے۔ جو عام عوام ہوتی ہے اسے دور پار سے بھی بھنک نہیں لگتی کہ جماعت اسلامی نامی تنظیم کاکوئی جلسہ ہے۔ باقی رہی اوپر کی قیادت تو وہ شہر کے مصروف علاقوں میں رکشہ والوں کو دعوت دیکر اپنا کام پورا کرلیتے ہیں۔

اب علاقے کی سطح پر آجائیں کسی بھی گلی میں سیاسی جماعت کا کارکن نا صرف مشہور ہونے کے چکر میں ہوتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ علاقے میں ہر کوئی اپنے مسئلے کیلئے اسی کے پاس آئے۔اس مقصد کیلئے محلے جھگڑا ہو تو وہ کارکن جاکر ٹانگ اڑاتا ہے بعض اوقات تو جھگڑا ہی اپنا بنالیتا ہے۔ پھر صلح و صفائی اور تھانہ کچہری تک معاملات ایسے کرالیتا ہے کہ اس کانام بھی دعاسلام بھی اور احسان بھی آل ان ون ہوجاتا ہے۔ اس کیلئے بیک پر اس کی پارٹی ہوتی ہے۔محلے میں کچھ ہو نہ ہو سیاسی جماعت کے کارکنان کچھ نہ کچھ پیدا کرہی لیتے ہیں۔ کوئی الیکشن مہم ہو یہ اپنی تصاویر اور پوسٹرز ضرور لگائیں گے۔

دوسرا ان میں اپنے عہدوں کو لیکر بڑا فخر پایا جاتا ہے۔ میں فلاں یوسی کا صدر ہوں ایسے کہتے ہیں جیسے صدر پاکستان ہوں۔ یہ بے شعور لوگ ہوتے ہیں لیکن کوئی مرجائے تین دن تک مرنے والوں کے گھر کے سارے کام کریں گے۔ ہر ایسا ایونٹ جس میں عوام کا مسئلہ ہوا اسے ہیک کر نا ہر سیاسی کارکن کی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جماعتیوں کا مزاج عاجزانہ ہے۔ کوئی بھی جماعتی اپنا نام نہیں چاہتا بلکہ جماعت احباب نے امیر جماعت کی اہمیت بھی اتنی کردی ہے کہ جے آئی یوتھ کے کسی زون کا بھی کوئی پروگرام ہو تو سراج الحق آتے ہیں اور ہزار دو ہزار لوگوں سے خطاب کرکے چلے جاتے ہیں۔حالانکہ یہ ان کی سیاسی اہمیت کا کباڑہ کردیتا ہے۔ امیر حلقہ کو تو کوئی کچھ سمجھتا ہی نہیں ہے بلکہ کسی کے گھر درس قرآن ہو تو امیر ضلع کو بلالیاجاتا ہے اور بلابھی لیں تو کیش نہیں کیا جاتا ہے۔ جماعت کا کوئی جلسہ ہو تو امرائے اضلاع عام بندوں کی طرح نیچے گھوم رہے ہوتے ہیں۔ بھائی یہ سب باتیں اچھی ہیں لیکن ان معاشروں میں جہاں شعور اپنی بلند سطح پر ہے آپ فرانس اور کنیڈا یا ہالینڈ میں سائیکل پر گھوم سکتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا کریں گے تو عوام آپ پر ہنسے گی۔

اہم بات یہ ہے کہ عام بندوں کی طرح گھومنے والے امرائے اضلاع عوامی پھر بھی نہیں ہوتے۔ انہیں اپنے ضلع کی اکثریتی آبادی جانتی ہی نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یونس بارائی ضلع شرقی کراچی کے امیر ہیں لیکن آپ سروے کرالیں ضلع شرقی کی کتنی فیصد عوام ان کو جانتی ہے؟؟؟ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گے۔

عوامی بنا جاتا ہے۔ دیگر جماعتوں کے کارکنان خود کو شو کرتے ہیں۔ محلے والے جانتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کا ہے لیکن جماعتیوں کی اکثریت سن من ہی رہتی ہے۔بلکہ اکثر کوئی بڑا مسئلہ ہوجائے تو لوگ کہتے ہیں ارے یہ بھی جماعتی ہے۔
اب امرائے اضلاع کا کوئی قصور تو نہیں ہے لیکن یہ کارکنان کا کام ہے کہ وہ اپنے امراء کا تعارف عام لوگوں میں کریں۔اس کیلئے ایک کارکن کو خود گلی محلے میں خود کو جماعتی ظاہر کر کے ہر کسی کے کام آنا ہوگا۔ دوسروں کے مسئلوں کو اپنا بنانا ہوگا۔جماعت کو ماہانا اجتماعات و سوال جواب اور رپورٹس کے سسٹم کو بہتر کرنا ہوگا۔ ارکان اور کارکنان کی تفریق کو کم کرنے کیلئے کچھ سوچنا ہوگا۔

مہمات چلانا خانہ پری کرنا ہے۔ ہر الیکشن میں آپ پیپر ورک میں آگے اور ووٹ میں سب سے پیچھے ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی اسباب ہیں۔ جماعت کے لوگوں کی ساری کہانی اپنے لوگوں کے درمیان گزرتی ہے۔ ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہنا الگ معاملہ ہے لیکن بعض جگہوں پر چیزیں اس سے بھی بڑھ چکی ہیں۔
اب یا تو جماعت اسلامی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کرے یا سیاسی پلیٹ فارم علیحدہ بنائے۔ دونوں صورتوں میں ایمرجنسی بنیادوں پر کام۔کرنا ہوگا۔
۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: