فیس بک کی طلسم ہوش ربا (حصہ دوئم) شہنیلہ بیلگم والا

3
  • 41
    Shares

اگر آپ نے اس طلسم ہوش ربا کا پہلا حصہ پڑھا ہے اور اب آپ دوسرا بھی کھول رہے ہیں تو آپ کے حوصلے اور ہمت کی داد بنتی ہے۔ اس دوسرے حصے میں کچھ ایسی شخصیات کے بارے میں گفتگو کا ارادہ ہے جن کے بارے میں نہ بولنا ہی بہتر ہے مگر چونکہ ہمیں خوامخوا پنگوں کی عادت ہے اور چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تو پھر ہوجائے کچھ بات فیس بُک کے چند کرداروں کے بارے میں۔

دانشور:  اس مخلوق کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ( ہماری دانست میں)۔ آپ چاہیں تو پندرہ بیس کرلیں کونسا دھیلہ خرچ ہوتا ہے۔

چائنہ کے دانشور: یہ وہ خواتین اور حضرات ہیں جو خود کو دانش ور کہلوانا پسند فرماتے ہیں اور اس لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھنا، بیوی کی ڈانٹ کھانے جتنا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ عموما بے سروپا باتیں کرتے ہیں۔ لفظوں کو اس طرح گھماتے ہیں کہ دس منٹ تک ان کی پوسٹ کو تکنے کے باوجود آنکھیں پھوٹیں جو کچھ سمجھ آتا ہو۔ ہمیشہ کی طرح ہم نے اس کو اپنی کم عقلی سمجھا اور چند بھائیوں سے گزارش کی کہ ہمیں سمجھا دیں کیونکہ اس معیار کا فلسفہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جواب آیا چھوڑیئے بہن اس کو کون پڑھتا ہے۔ آپ بہن ہیں میری۔ اگر کسی بندے نے اس کے بارے میں پوچھا ہوتا تو میں صرف ایک لفظ بولتا اور وہ سمجھ جاتا۔ اس پہ اتنے جملے نہیں ضایع کرنے چاہیے۔ مگر اے برادر محترم، ہم نے عرض کی۔ ان کے اسٹیٹس اپلوڈ ہوتے ہی دھڑا دھڑ منٹوں میں لائکس اور کمنٹس کی بھرمار ہوتی ہے۔ فرمایا سسیئے بے خبریئے، آپ نے کبھی غور کیا ہے جو فورا لائک اور کمنٹس کرتی ہیں وہی گنی چنی آئی ڈیز ہوتی ہیں۔ اور وہی واہ واہ کے ڈونگرے برسا رہی ہوتی ہیں۔ میں نے کہا جی کیونکہ پسند کرتی ہیں نا ان کو۔ جواب میں دیوار پہ سر پھوڑتا اسٹیکر آیا۔ کہنے لگے کہ یہ انہی کی فیک آئی ڈیز ہیں جن سے ان کے اوپر فٹافٹ کمنٹس اور لائکس کی بھرمار ہوتی ہے۔ خود ہی کوئی ہلکا پھلکا اعتراض کیا، خود ہی جواب دیا اور آپ جیسے بھولے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی وال پہ ڈسکشنز چل رہی ہیں۔

ان کے اسٹیٹس کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں۔
” ہماری قوم کی بے حسی اس نقطہ پر پہنچ چکی ہے کہ اب انبساط کی کوئی لہر ہی نہیں اٹھتی”
یا
” ہر بات ضروری نہیں ہوتی۔ کچھ غیر ضروری باتیں نظریہ ضرورت کے تحت ضروری بنا کر پیش کی جاتی ہیں۔ ضروری اور غیر ضروری کا ادراک ہونا نہایت ضروری ہے۔”
دوسرے لفظوں میں بھائی معافی دے دیو۔
یہ بات نہیں کہ ان کی ان بےسروپا باتوں پر اس قسم کے چائنہ کے دانشوروں کو پڑتی نہیں مگر اتنی بار بیستی خراب ہوچکی ہوتی ہے کہ یہ بے عزتی پروف ہوچکے ہیں۔

واقعی دانشور: یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے سنجیدہ پڑھنے والے فیس بُک کھولتے ہیں۔ لوگ ان کی اسٹیٹس اپلوڈ ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کے اسٹیٹس کے اپلوڈ ہوتے ہی ان پر جینوئن آئی ڈیز سے لائکس اور کمنٹس کی بھرمار شروع ہو جاتی ہے کیونکہ یہ اکثر کے” سی فرسٹ “پہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ریپوٹیشن اپنی محنت اور ٹیلنٹ سے بنائی ہوتی ہے۔ کوئ بھی بات بغیر کسی ریسرچ کے نہیں کرتے۔ اپنے پڑھنے والوں کا احترام کرتے ہیں اور جواب میں اپنے قارئین سے خلوص اور احترام پاتے ہیں۔ انتہائی مدلل بات کرتے ہیں۔ لائکس اور کمنٹس بٹورنے کے لیے خوامخواہ کے اختلافی موضوعات کو نہیں چھیڑتے اور نہ ہی ان کو اس قسم کی بات کرنے پر ہر دوسری وال پہ گالیاں پڑ رہی ہوتی ہیں۔ یہ اپنے پڑھنے والوں کا اختلاف برداشت کرتے ہیں اور نہایت منطقی اور مدلل جواب دیتے ہیں۔ آپ کبھی نہیں دیکھیں گے کہ یہ انہوں نے اپنی مرضی کے خلاف بات پہ چراغ پا ہو کر سامنے والے کو بے نقط سنائی ہو اور اگلے کی نظر میں اپنی عزت دو کوڑی کی کروائی ہو۔ ان کی وال پہ دیکھا جائے تو پہلے مسئلہ پیش کرتے ہیں پھر عوامی نقطہ نظر پیش کریں گے پھر کیا ہو رہا اور کیا ہونا چاہیے اور آخر میں ان کی نظر اس مسئلے کا کیا حل ہے۔ اس کے بعد پڑھنے والوں کو مدعو کیا جاتا ہے ایک سنجیدہ ڈیبیٹ کے لئے۔ میری نظر میں یہ وہ لوگ ہیں جو عوام کی تربیت کررہے ہیں اسی لئے باشعور اور سنجیدہ پڑھنے والے ان کی قدر کرتے ہیں۔ یہ دانشور اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ عزت و احترام پاتے ہیں۔

ترجمے والی سرکار: یہ دانشور اکثر انگریزی سے اردو ترجمہ کر کے اپنی وال پہ لگاتے ہیں۔ میں ان کی دل سے قدر کرتی ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے کارن وہ لوگ انگریزی کے شہ پارے پڑھ سکتے ہیں جو انگریزی زبان سے نابلد ہوتے ہیں یا پھر انگریزی کے موٹے موٹے اور خطرناک الفاظ دیکھ کر خوف کے مارے پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مسئلہ تب آتا ہے جب وہ اس ترجمے کو اپنی تحریر کہہ کر لگاتے ہیں۔ اور اصل لطف یا تڑکا اس وقت پڑتا ہے جب بھائی لوگ سراغ پالیتے ہیں اور ان کی وال پہ سکرین شاٹ چپکانا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اندر کا چھپا ہوا مال لاتے ہیں جسے کوئی پکڑ نہیں پاتا مگر چونکہ خود کی تحریر نہیں ہوتی اس لیے تحریر پہ کئے گئے اعتراضات کے تسلی بخش جواب نہیں دے پاتے اس لئے منہ کی کھانے کے بعد صرف بلاک کا آپشن بچتا ہے۔ بلاک کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ بلاک شدگان موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ جیسے ہی انہوں نے کوئی بونگی ماری سب نے مل کر دھاوا بول دیا پھر تو بس اللہ دے اور بندہ لے۔ ماشاءاللہ ہماری قوم تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال ہے۔ وہ وہ جگتیں لگتی ہیں کہ بندہ اش اش کر اٹھے۔ کچھ لوگ تو اس پر بھی بس نہیں کرتے۔ فوٹو شاپ کے ذریعے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ پھر تو وہ ماسٹر پیس تیار ہوتے ہیں کہ بندہ لیونارڈو ڈیونچی کی مونا لیزا کو بھول جائے۔

ٹھرکی بابے: ان کرداروں سے فیس بُک استعمال کرنے والی تمام خواتین بخوبی واقف ہیں۔ یہ وہ مخلوق ہے جو اپنی بزرگی کا ٹھرکیانہ فائدہ اٹھاتی ہے۔ ان کا بہترین ٹائم پاس خواتین کو انباکس میں نصیحتیں کرنا ہے۔ یہ حضرات نصیحت کرنے میں ٹھرک کا مزا پاتے ہیں۔ ان کا طریقہ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ بیٹا اپنا خیال رکھا کرو۔ تم چھوٹی ہو تمہیں دنیا کا نہیں پتا۔ میں مرد ہوں۔ مردوں کی فطرت اچھی طرح پہچانتا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ کیوں مرد ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہیں کیونکہ بیویاں اپنا خیال نہیں رکھتیں۔ بیٹا تھوڑا بن ٹھن کر رہا کرو کسی اور کے لئے نہیں صرف اپنے میاں کے لئے۔ خواتین لفظ بیٹا سن کر ہی ڈھیر۔ فورا ان کی گرویدہ ہو جاتی ہیں کہ بابا جی کتنا میری بھلائی کا سوچتے ہیں۔ حالانکہ بابا جی اس وقت صرف اپنی بھلائ کا سوچ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بابا جی آہستہ آہستہ پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ بیٹا ذرا نئے فیشن کے کپڑے پہنو۔ ہلکا پھلکا میک اپ شخصیت میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ میں تمہیں صرف اس لئے کہتا ہوں کہ اپنے آپ کو سجا سنوار کر رکھو گی تو اپنے میاں کے دل میں بسی رہو گی۔ اچھا ایک کام کرو ذرا اچھے سے ماڈرن کپڑے پہن کر، ہلکا سا میک اپ کر کے مجھے اپنی تصویر تو بھیجنا۔ بلکہ اچھا سا ہیئر کٹ کرواو۔ میں دیکھ کر بتا دوں گا کہ اور کیسے امپروو کر سکتی ہو۔ اور بالکل فکر نہ کرو۔ دیکھ کر ڈیلیٹ کردوں گا۔
اور اگر کوئی تصویر بھیج ہی دے تو آگے سے یوں نصیحت کرتے پائے جاتے ہیں “فگر کا دھیان رکھا کرو, زمانہ بہت خراب چل رہا ہے گھر میں رونق نہ ہو تو شوہر باہر منہ مارتا ہے”
اب انھیں کون بتائے کہ صاحب آپ بھی گھر سے باہر ہی منہ مار رہے ہیں۔

اس کے بعد بابا جی آہستہ آہستہ پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ بیٹا ذرا نئے فیشن کے کپڑے پہنو۔ ہلکا پھلکا میک اپ شخصیت میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ میں تمہیں صرف اس لئے کہتا ہوں کہ اپنے آپ کو سجا سنوار کر رکھو گی تو اپنے میاں کے دل میں بسی رہو گی۔

یہ تو ہو گئ دوسروں کو نصیحت۔ گھر میں یہ حال ہوتا ہے کہ بیگم جوتی کی نوک پہ رکھتی ہیں۔ کبھی کان لگا کر سنیں تو ان کے گھر سے اس قسم کی آوازیں آتی ہیں۔
بیگم آف ٹھرکی بابا: صبح سے بنیان اور میلی شلوار پہن کر گھوم رہے ہیں۔ دس بار کہہ چکی ہوں کہ نہا لیں۔ کپڑے بدل لیں۔ بدبو آرہی ہے مگر اس منحوس مارے فیس بُک سے جان چھوٹے تو کچھ کام ہو۔ پتا نہیں کس اماں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں صبح سے”۔
اس سے پہلے کہ بیگم صاحبہ اور عزت افزائی کریں ٹھرکی بابا فورا سے پیشتر کان لپیٹے غسلخانے کا رخ کرتے ہیں۔

یہ تو تھے ہمارے ارد گرد بسنے والے چند کردار۔ فیس بُک وہ گلشن ہے جس میں ہر طرح کا گل ہے جو ہر قسم کا گل کھلانے پہ قادر ہے۔ ہم نے کافی کرداروں کا ذکر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر کوئی رہ گیا ہے تو دلی معذرت۔ بندہ بشر ہیں کتنوں کا دھیان رکھیں۔ بہرحال اگر کوئی حقیقی زندگی میں ان کرداروں سے مماثلت رکھتا ہے تو کومپنی اس کی ذمہ دار نہیں۔ صرف اتنا کہیں گے کہ جس کو فٹ اس کو گفٹ۔


 

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. واواہ کیا بات ہے سارے دسنشوروں کی ہلکے پهلکے انداز میں خوب خبر لی ٹهرکی بابے سور اور ترجمے والوکا تو تراہ نکال دیا هاں ایک شوقیہ دانش ور جو دوسروں کا مال چرا کر اپنی دکان پر بیجتے ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: