کشمیریوں کے ایام سیاہ کب ختم ہونگے؟ مظہر چوہدری

0
  • 121
    Shares

27 اکتوبر 1947 کو بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر میں فوجیں اتارنے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف سمیت پوری دنیا میں بسنے والے کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔

بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر میں فوجیں اتارنے کی سنگین غلطی سے پیدا ہونے والے تناؤ نے سات دہائیوں سے پاک بھارت تعلقات کشیدہ کر رکھے ہیں. اگر 1947 میں انڈیا یہ سنگین غلطی نہ کرتا تو خطے کی تقدیر کچھ اور ہوتی۔ انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں جو تلخی اور تناو مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پیدا ہوا وہ آج تک موجود ہے۔ دونوں ممالک میں ایسے انتہا پسندوں کی کمی نہیں جنہوں سے اس مسئلے کو بنیاد بنا کر اپنی سیاسی اور مذہبی دوکانداری چمکائی اور آج دونوں ملکوں کی حکومتیں ایسی قوتوں کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہی ہیں۔

انڈیا کی یہ ناقابل تلافی غلطی پاکستان میں شدت پسندی کو پروان چڑھانے والے عوامل میں سے ایک اہم عامل ہے۔ کشمیر ایشو کی وجہ سے دونوں طرف کی حکومتیں شدت پسند عوامل کے ہاتھوں یرغمال بنتی رہیں اور 1965 کی جنگ نے پاک انڈیا تعلقات میں عوامی سطح پر نفرت اور دشمنی کا رشتہ مزید گہرا کر دیا۔

1971 میں بنگلہ دیش کی علیحدگی کا عظیم سانحہ، سیاچین ایشو، بابری مسجد، کارگل جنگ اور ممبئی حملہ، یکے بعد دیگرے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں آنے والی کسی بھی بہتری کےراستے میں رکاوٹیں بنتے گئے۔ مسئلہ کشمیر کی ہی وجہ سے پاکستانی ریاست کشمیری مجاہدین کی مدد اور سرپرستی کرنے پر مجبور ہوئی۔

برہان وانی کی شہادت کے نتیجے میں کشمیر میں شروع ہونے والی مزاحمتی تحریک کو کچلنے کے لیے بھارتی فوج کی جانب سے ظلم و ستم اور بربریت نے آزادی کی تحریک کو نیا خون فراہم کیا. اوڑی حملہ کے ردعمل میں بھارت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اشتعال انگیز اقدامات کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدگی کی انتہا تک پہنچ گئے

دونوں ممالک نے اپنے اپنے روایتی اور بے لچک موقف پر قائم رہ کر سات دہائیوں تک لاکھوں کشمیریوں کے ساتھ ساتھ دونوں طرف کے کروڑوں عوام کا سیاسی و معاشی استحصال کیا ہے. کشمیر ایشو کے حل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ دونوں طرف کے مذہبی، نظریاتی اور سیاسی انتہا پسند ہیں جنہوں نے اپنی دوکانداری بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر کشمیر ایشو پر سیاست جاری رکھی ہوئی ہے. اس کے علاوہ دونوں اطراف کی اسٹیبلشمنٹ بھی اس مسئلے کے دیرپا حل نہیں چاہتیں. جیسے ہی دونوں ممالک کی حکومتیں کشمیر ایشو پر مذاکرات کا کوئی روڑ میپ طے کرنے لگتی ہیں، سرحد کے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف گولہ باری اور شیلنگ شروع ہو جاتی ہے.

آج بھی اگر پاکستان اور انڈیا اچھائے ہمسائیوں کی طرح رہنے کا فیصلہ کر لیں تو دونوں ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ افراد کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز لڑنے کی بجائے اس غربت اور بدحالی کے خلاف جنگ لڑنی چاہیے جس نے دونوں طرف کے 50 کروڑ عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے. دونوں ملکوں کی بڑی سیاسی جماعتیں کشمیر کے مسئلے پر اصولی موقف اختیار کر لیں تو کشمیر ایشو کا کوئی ایسا ضرور نکل سکتا ہے جو دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو بھی قابل قبول ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: