پی ٹی آئی اور مجھ جیسے لوگ:محمود فیاض

0
  • 112
    Shares

موقع اچھا ہے کہ کہہ دوں کہ پی ٹی آئی زندہ باد، میں بھی پی ٹی آئی سے ہوں۔ کہ این اے چار جیت کر دوست احباب خوشیاں منا رہے ہیں اور عامر کی “لیاقت” کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ تو اچھا موقع ہے کہ خود بھی ناچنے والوں میں جا شامل ہوں۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے جیسوں کی پارٹی، حلقہ، وفاداری، گلہ شکوہ، تعریف و توصیف سب پاکستان کے لیے ہے۔ پاکستان کے لوگوں کے لیے ہے۔ اور اسکی وجہ بھی سیاسی سے زیادہ مجبوری کی ہے۔ جیسے انسان جس گھر میں جس ماں کی کوکھ سے پیدا ہوتا ہے اس اس گھرکے افراد کا خیال رکھنا اسکی مجبوری ہوتا ہے اسی طرح جس دھرتی، جن لوگوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کی ذات آپ کو پیدا کرتی ہے اس کا خیال رکھنا بھی مجبوری ہوتی ہے، کوئی اور آپشن ہے ہی نہیں۔

بس اسی وجہ سے ہر وہ جماعت جو پاکستان کے لوگوں کا بھلا چاہے میری جماعت اور ہر وہ لیڈر یا کارکن جو پاکستان کے لوگوں کے لیے آسانی کی بات کرے میرا لیڈر۔
ریکارڈ کی درستگی کے لیے جب چھیانوے ستانوے میں پی ٹی آئی کی پہلی ممبر سازی مہم چلائی گئی تو میرا ممبر شپ نمبر سولہ سو کچھ تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک کے پہلے دو ہزار لوگوں میں میں بھی شامل تھا۔ مجھے یاد ہے کہ مال روڈ پر جب ایک لمبی ریلی نکالی گئی اور حسن نثار جیسے استاد بھی اس میں شامل تھے تو میں بھی ہزاروں پرجوش کارکنان میں شامل تھا۔ تبدیلی کا خواب لیے۔ وہ خواب تب بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔ ہماری قبروں تک زندہ ہی رہے گا کہ کوئی اور آپشن ہی نہیں سوائے کوشش کرتے رہنے کے۔ جب تک ہر گھر سے “بھٹو” نکلتے رہیں گے، اور “کتے کو بھی امیدوار” بنا کر نون لیگ جیسی جماعتیں جتواتی اور جتاتی رہیں گی، ہمیں یہ خواب زندہ رکھنے ہی ہونگے۔
مگر وقت گذرنے کے ساتھ احساس ہوا کہ ایک لکھنے والے کو جماعتی وابستگی سے بالاترہونا چاہیے۔ برے کو برا کہنے کے لیے آپ کو ہر لیبل سے مبرا ہونا چاہیے۔

عمران خان اور تحریک انصاف کی پاکستان کی بہتری کے لیے مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم جماعت کی وابستگی سے بالاتر رہ کر ان کے اچھے کاموں کو سراہتے رہیں اور غلط اقدامات پر تنقید کرتے رہیں۔

پھر عمران خان صاحب نے اپنے طویل جدوجہد کا پھل 2011 کے جلسے میں ملک کی تیسری بڑی جماعت بننے کی صورت میں حاصل کیا اور اپنی پے در پے انسانی غلطیوں اور مردم ناشناسی کی وجہ سے 2013 کا الیکشن تقریباً آدھے سے زیادہ گنوا دیا تو اندازہ ہوا کہ انسان کو مخلص ہونا کافی نہیں اس کا اہل ہونا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کے سیاسی وجود کو جن خون آشام قوتوں نے جن جپھا ڈال رکھا ہے، انکا مقابلہ کرنے کے لیے اخلاص اور کردار کی مضبوطی کے علاوہ انتہا درجے کی سیاسی بصیرت، انتخابی چالبازیوں کے گر، اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور بیرونی طاقتوں کے مزاج کا ادراک رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ عمران خان نے وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھا ہے مگر مردم شناسی وہ واحد چیز ہے جو شائد خداداد ہوتی ہے، وہ آج بھی کسی بھولی صورت سے دھوکا کھا سکتا ہے۔

ان حالات میں اور استازی ہارون الرشید صاحب کے سولہ سترہ سال کے تحریک سے وابستگی کے تجربے سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے مجھے یہی مناسب لگتا ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کی پاکستان کی بہتری کے لیے مدد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم جماعت کی وابستگی سے بالاتر رہ کر ان کے اچھے کاموں کو سراہتے رہیں اور غلط اقدامات پر تنقید کرتے رہیں۔

عمران خان کو پسند کرنا، اس کو ایک ہیرو کا درجہ دینا، اس کی انسان دوستی کی وجہ سے کینسر ہسپتال بنانے کو سراہنا، اور پاکستان کا سرمایہ قرار دینا میری جنریشن کے لوگوں کی مجبوری ہے۔ میری سوچی سمجھی رائے میں عمران خان، عبد الستار ایدھی، ڈاکٹر قدیر خان، ڈاکٹر ثاقب پاکستان کی خوش قسمتی کے ستارے ہیں جو آسمانوں پر چمکتے ہیں تو زمین پر ہماری قسمتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ قوموں میں ایسے لوگ ہی کسی قوم کو بانجھ ہونے سے بچا لے جاتے ہیں۔ ان میں سے عمران خان باقی سب سے ایک قدم آگے بڑھ کر میرے لیے قابل صد احترام اس لیے بھی ہو جاتا ہے کہ اس نے پاکستان کی سیاست کے گندے جوہڑ میں زندہ رہنے کی کوشش کی اور میری نوجوان نسل کو زندگی کی ایک امید دے دی۔ عمران خان کے بغیر میں اپنی سیاست کو نوے کی دہائی سے آگے کی طرف جاتا دیکھوں تو سوائے بھوکی عوام کو سستے نعروں پر اپنے بچے بیچنے کے کچھ اور منظر دکھائی نہیں دیتا۔ میرے خیال میں عمران خان سیاست میں نہ آتا تو ہم آج کے سیاسی حالات سے کئی گنا دگرگوں حالات کا شکار ہوتے۔

عمران خان کی عزت کرنے کی ایک وجہ اسکی وہ قربانیاں ہیں جو اس نے پاکستانی سیاست میں رہنے اور آگے بڑھنے کے لیے دیں۔ ان میں سب سے بڑی قربانی اپنے خاندان کی ہے۔ اسکی جگہ میں ہوتا تو اپنی فارن ارب پتی بیوی، اور سنہرے مستقبل کو گلے لگا کر بیرون ملک اپنی دنیا بسا لیتا اور پاکستانی عوام کو ان خون آشام درندوں کے حوالے کرکے اسکو پاکستانی عوام کی تقدیر سمجھ کر خاموش ہو جاتا۔ مگر شائد اسی لیے عمران خان آسمان پر ہے اور میرے جیسے مٹی خور کیڑوں کی زندگی جیتے ہیں۔

میرا ایمان کی حد تک یقین ہے کہ سیاست کرنا خیرات کرنے سے زیادہ افضل کام ہے۔ کیونکہ صرف ایک شہر کا مئیر بن کر بھی آپ کروڑوں لوگوں کی زندگی میں وہ آسانیاں لا سکتے ہیں جو خیراتی ادارے بنا کر آپ سو سال میں نہیں کر سکتے۔ اسی لیے شائد مسلمان حکمران کو خدا کا نائب قرار دیا گیا ہے۔ عمران خان سے خیرات میں بھی لاکھوں کروڑوں کی زندگیاں بدلیں اور اپنی جھولی پھیلا کر غریبوں کے لیے آسانیاں بھیک میں مانگیں۔ مگر سیاست میں آ کر تو اس نے اپنی زندگی، اپنا مستقبل، اپنی عزت اور اپنا خاندان سب پاکستانی عوام کی بہتری کی خاطر داؤ پر لگا دیا۔ اسکی یہ قربانی میرے نزدیک پاکستان کے موجود زندہ لوگوں میں سے سب سے بڑی قربانی ہے۔

اس نے مشکل راستہ چنا، بہت ہی مشکل۔ ہمارے ہاں کوئی بندہ چار دن ایمانداری کی نوکری کرلے اور رشوت لینے کے گناہ سے باز رہے تو اس کے اندر اتنی بڑی انا پیدا ہوجاتی ہے کہ کوئی زرا سی انگلی اٹھا دے وہ فوراً استعفیٰ دیکر “عزت” بچانے کی بات کرتا ہے۔ مگر ساری زندگی حرام کا ایک پیسہ نہ کھا کر، اور ملک کے لیے بڑے اعزازات لا کر بھی عمران خان کو الزامات کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا۔ اس کے بیس سال کے سیاسی کیریر میں کونسا الزام ہے جو مخالفین نے اس پر نہیں لگایا اور اس نہ ہنس کر سہا، جواب دیا، بھگتا، مگر “عزت بچا کر” بھاگا نہیں۔ بس یہی بات مجھے عمران خان کی شخصیت کے سامنے بونا بنا کر عاجزی سے کھڑا کردیتی ہے۔ میرے پاکستان اور میرے پاکستان کے لوگوں کے لیے جو گالیاں اور الزامات سہے، اس کے جوتے میں فخر سے اپنے دامن سے پونچھ کر چمکاؤں تو میرا مان بڑھتا ہے۔

لیکن ۔ ۔ ۔
عمران سے مجھے محبت ہے تو پاکستان میری ماں ہے۔ اور پاکستانی عوام جو اس ماں کی کوکھ سے پیدا ہونے کے ناتے میرے بہن بھائی ہیں۔ اگر مجھے عمران خان یا اس کی تحریک بھی پاکستانی عوام کی بہتری کے خلاف کوئی کام کرتے محسوس ہوتے ہیں تو میری آواز، میرا قلم اس پر احتجاج اور تنقید کے لیے اٹھے گا۔ میں جب جب محسوس کرونگا کہ عمران کی تحریک ، اسکی جماعت کوئی ایسی غلطی کرنے جا رہی ہے جو عمران خان کے لیے نقصان کا باعث ہوسکتی ہے تو اس کی قربانیوں کا مداح ہونے کے ناتے میں اس کو روکنے کی ایک کوشش ضرور کرونگا۔ چاہے وہ کوشش چڑیا کے چونچ میں پانی بھر کر آگ بجھانے جیسی ہی کیوں نہ ہو۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: