زلف و لب و عارض کے فسانوں میں نہیں ہوں: وائس چانسلر شاہ بھٹائی یونیورسٹی، محترمہ پروین شاہ سے گفتگو

0
  • 25
    Shares

ڈنمارک اور پاکستان کا دوستی اور انسانی بنیادوں پر ہمدردی اور تعاون اور مالی امداد کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ 2005 سے لے کر آج تک ڈنمارک کی طرف سے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ترقی و تعلیم کے لیے کروڑوں ڈالر کی امداد کی جا چکی ہے۔ زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں ڈینش حکومت اس ہراول دستے کی طرح رہی جو انسانیت کو اپنا مذہب سمجھ کر دشوار اور کٹھن وقت میں ہمدردی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔

دوست آں باشد کہ گیرد دست دوست
در پریشاں حالی و درماندگی

2005 میں نارک کے تحت پاکستان کے بارے میں 43 صفحات کی ایک رپورٹ بنائی گئی۔ ناروے سویڈن اور ڈنمارک کے تعاون سے انڈیا اور پاکستان کا دورہ کیا گیااور تعلیمی نظام اور صورتحال کی رپورٹ مرتب کی گئی۔ یوں تو امداد کا یہ سلسلہ تقریباً ایک دہائی سے خاموشی سے جاری ہے لیکن جب سے سفیر ییسپا مئولا سئورنس Jesper Møller Sørensen نے یہاں اپنا عہدہ سنبھالا ہے ایک ناقابلِ یقین عزم و استقلال کے ساتھ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی نظام کی بہتری اور بالخصوص خواتین کے حوالے سے مالی امداد فاہم کی گئی۔

گیارہ جنوری 2015 کو محترم سفیر ڈنمارک ییسپا مئولا سئونسن نے وزیرستان علاقوں کے لیے اضافی 1.6 ملین کی امداد کا اعلان کیا خیمے اور پناہ فراہم کی۔

ڈنمارک کی شہری اور پاکستان کی مٹی سے خمیر ہونے کے ناطے سے میری کیفیات کچھ عجیب رنگوں کا امتزاج رہیں۔ کبھی اس بات کا ملال ہوتا کہ ہمارے ہاتھ کا کاسہ کبھی گرے گا ہی نہیں…. کبھی ارضی و سماوی آفات، کبھی سیاسی و سماجی کشاکش…. مفلسی و بے مائگی کے کنوئیں شاید کبھی بھر ہی نہ سکیں…. کبھی گزشتہ ربع صدی سے ڈنمارک میں رہائش پذیر ہونے سے دلی لگائو اور ایک وطن ثانی کی کیفیت ابھرتی اور احسانمندی .اور سکون کا احساس کروٹیں لینے لگتا۔ جی چاہتا کہ پاکستان کی فضائوں سے کچھ ایسا ڈھونڈ کر لائوں جسے ڈینش حلقے میں احساسِ تفاخر سے پیش کر سکوں۔

ایسے میں ایک دن اچانک شاہ عبد الطیف بھٹائی یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس میں میری ملاقات ایک ایسی ہستی سے ہوئی جس پر قلم کشائی میرے لیے باعثِ افتخار ہی نہیں دلی مسرت کا سبب بھی تھا. یونیورسٹی کی وائس چانسلر محترمہ پروین شاہ.

ایک ایسے علاقے میں جسے خواتین کے حوالے سے مایوس کن کہا جاتا ہو اچانک وہاں ایک ایسی ہستی تمکنت اور وقار سے سر اٹھائے کھڑی ہو جائے…

لو دیکھو.. ہاتھ سے کشکول گرنے کا وقت بھی آ جاتا ہے۔ یقین کیجئے یہ کشکول تب ہی گرے گا۔
جب ہر عورت کو پروین شاہ بننے کا جنون ہو جا ئے گا۔
محترمہ پروین شاہ کے تعارف اور تفصیلی بات چیت سے پہلے ڈینش خواتین کی زندگی کے ایک پر آشوب باب کا تذکرہ کرتی چلوں۔
1999 میں ڈینش شاعرات پر ایک مضمون لکهنے کا . اتفاق ہوا. میرا موضوع جدید پیشرفت کے دورانیے 1870-1890 کی خواتین قلمکا ر اور ان کی زندگی و تخلیقات تھا۔

خود کشی کی ظلمت بھری دنیا میں پناہ لیتی…. ذہنی امراض کے ہسپتال کی اذیت بھری تنہائیوں سے لڑتی …. اور ازدواجی زندگی کے محفوظ حلقے سے باہر نکل کر ملامت بھری رسوائیوں کی دلدل میں دھنستی …. قلمکار اچانک کیسے زقندین بھرتی علم و ادب و اقتصادیات کی دنیا میں جھنڈا لہرانے لگیں…

خود کو بناؤ سنگھار اور سامان آرائش سمجھنے سے انکار کر کے اسی مساوات کا مطالبہ جو معاشرے کے دوسرے فریق کو تھی.
عورت صرف ایک جسم اور حسن کا استعارہ نہیں بلکہ ایک ذہانت بھی ہے.
اسے بھی تعلیم کا حق اور ملازمت کا حق ملنا چاہیے.
تحسین و آفرین …. رشک و داد.. کئی طرح کی کیفیات غلبہ پاتی رہیں.

اس زمانے میں ایک ڈینش ادیبہ وہٹا آناسن کی کتاب Hold kæft og være smuk بکواس بند کرو اور آرائشِ حسن کرو، سے متاثر ہو کر ایک غزل کہی….

زلف و لب و عارض کے فسانوں میں نہیں ہوں
میں اب تری مرضی کے جہانوں میں نہیں ہوں

تُو حسن و نزاکت کی نمائش میں نہ الجها………
اب میں ترے طے کردہ ٹھکانوں میں نہیں ہوں

جینے کے لئے اپنی الگ سوچ ھے میری
میں حسن و جوانی کی دکانوں میں نہیں ہوں

زندان میں کب تک تُو مجھے قید رکھے گا
صیاد میں اب ٹوٹی اڑانوں میں نہیں ہوں

کب تک کوئی سامانِ تعیش ہی بنائے
میں صرف نمائش کے زمانوں میں نہیں ھوں

آج جب میں محترمہ پروین شاہ کی گفتگو قلمبند کرنے بیٹهی ہوں تو مجهے صرف وہی اس غزل کی حقدار دکھائی دیں
سو یہ دیرینہ جذبات ان کے نام ….

وائس چانسلر محترمہ پروین شاہ کی آمد شاید بہار آمد نگار آمد کے مصداق بھٹائی یونیورسٹی کے لیے ایک نعمت الہی سے کم نہیں.
خوش لباس و خوش کلام و خوش خصال و خوش ادا…
خاتون بھر پور اعتماد اور لگن کے ساتھ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے مصروف عمل رہیں.

تمام مندوبین ان کی توجہ و احترام کا مرکز رہے بہ نفس نفیس ہر ایک سے گفتگو اور ہر ایک کی عزت افزائی ان کا شعار ہے. اپنے ادارے کے منتظمین کی قدر دانی اور عزت افزائی ان کا مطمع نظر ہے.

یقینا قدرت نے انہیں قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ حسن و رعنائی اور دلپذیر آواز عطا کی.
پھر ان صلاحیتوں کو جو ایک جوہر خالص کی طرح کہیں شخصیت کے گل کدے میں موجود تھیں اعلی تعلیمی مواقع بخش کر مزید گلکاری کی.

یقینا ایک ایسے علاقے میں جسے نسائی ترقی کے اعتبار سے پسماندہ ترین تصور کیا جاتا ہے وہاں ایسی ہفت پہلو جھلملاتی شخصیت نے میرے احساسِ تفاخر کو بلند کیا.

بیک وقت میرا ذہن اور قلم مصر ہو گئے کہ ان سے ایک مکالمہ و ملاقات کی جائے…
ان مراحل و حالات سے آگاہی حاصل کی جائے جس سے یہ معجزہ رونما ہوا.

اگرچہ میرے سوالات وہی عام سے تھے
تعلیم و تربیت میں کس کا زیادہ ہاتھ رہا
دوران تعلیم تجربات…. مسائل…. حل…. ؟
تعلیمی زندگی کے متوازی.. ذاتی .. خانگی زندگی کے بارے میں بتائیے
ملازمت پیشہ خواتین کے لیے زندگی
آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے ..
کے مصداق آسان کبھی نہیں رہتی
بیوی اور ماں… کے کردار نبهاہنا ….

کیسے دریا پار کیا ؟
یہ ہفت پہلو شخصیت. . قائدانہ صلاحیتیں کیا قدرت نے ودیعت کیں یا کسی دانائے راز کی نظر کرم بھی رہی؟
اس علاقے کی خواتین کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گی
دنیا کو. . جو سندھ کی عورت کو علمی و ادبی میدان میں پسماندہ سمجھتی ہے…
کیا کہنا چاہیں گی. وغیرہ وغیرہ.

لیکن ان عام سوالات کے منفرد جوابات نے مجھے مجبور کر دیا کہ انہیں خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا جائے.

موافق حالات اور تعلیمی استعانت اور گھریلو معاونت سے تو حصولِ علم مشکل نہیں لیکن جہاں تعلیم نسواں کا تصور ہی موجود نہ ہو وہاں سے ایسی تعلیمی کامیابی فتح مبین کے برابر ہے.
بڑے سکولوں کے ناموں اور بڑے تعلیمی اداروں کے ساتھ اہلیت کو وابستہ کرنے کا محدود اور احساس کمتری کا پروردہ خیال بهی غلط ثابت کر دیا.

پروین صاحبہ نے حصول علم کی تشنگی اور ذوق و شوق کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا
کسی نے ایک دفعہ ان کا ہاتھ دیکھا اور کہا
کہ آپ کے ہاتھ میں تعلیم کی لکیر نہیں ہے
یا بہت کم ہے
تو بجائے اس پیشگوئی سے بد دل اور شکستہ ہونے کے انہیں مزید تحریک ملی کہ اگر ہاتھ کی لکیروں میں یہ درج ہے تو اس قسمت کو بدلنا ہے.

گھر میں سب سے پہلے تعلیم حاصل کرنے کی مخالفت بے پناہ پیار کرنے والے بابا سے شروع ہوئی جن کو وہی روائتی سوالات ہراساں کر رہے تھے کہ تعلیم حاصل کر کے کیا کرو گی۔

یا پھر یہ کہ لوگ کیا کہیں گے کیونکہ اس علاقے کے رواج کے مطابق عزتِ سادات اور کسی چیز میں پنہاں ہو یا نہ ہو کچھ علاقوں مین اس چیز کے ساتھ ضرور مربوط ہوتی ہے کہ شاہوں کی مستورات گھر کی چار دیواری سے نکل کر مکاتب و مدارس کی سمت قدم نہ بڑھائیں اس میں بھی ناموس و آبرو کے گنبدِ بے در میں شگاف پڑنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔

محترمہ پروین شاہ نے اپنی والدہ کے استقلال اور پختہ عزم کو سراہتے ہوئے ایک احساسِ تشکر کے ساتھ بتایا کہ ان کے باپ انہیں تعلیم دلانے کے حق میں نہیں تھے لیکن ان کی والدہ نے اس بظاہر محال نظر آتے مقصد کے حصول مین ان کا ساتھ دیا۔
وہ نہ صرف ان کو اس شوق و جستجو کے سفر میں ان کے شانہ بشانہ ہمسفر رہیں بلکہ انہوں نے ہر ممکن طریقے سے ان کی حوصلہ افزائی کی، ان کے جذبے کو سراہا اور ان کے سر پر اپنی دعاؤں کا گھنا شاداب سایہ بھی رکھا۔
.راستے کی کٹھنائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انهوں نے کہا کہ محبت جہاں انسان کے بے پناہ استحکام اور مضبوطی بخشتی ہے وہیں ایک خاردار طویل راستے پر چلتے چلتے اپنے نقشِ قدم پر آنے والوں کے لیے راستے صاف اور ہموار کرتے کرتے ایک خاموش اور خائف کرتی کمزوری بھی ساتھ ہمسفر ہو جاتی ہے کہ کہیں ان کے اٹھائے ہوئے قدم عشاق کے اس قافلے کا راستہ کھوٹا نہ کر دیں۔
محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں

اپنے پیاروں کو اور اپنی خاطر ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہونے والوں کا اعتبار انسان کی سب سے بڑی دولت ہوتا ہے
اس سے محرومی کا تصور ہی حوصلوں کو کمزور کرتا ہے
خود کو سرخرو کرنے کے اسی محکم جذبے نےانہیں آمادہ رکها کہ اپنی مستحکم قوت ارادی اور
ان تھک قوت عملی سے راستے کی مشکلات بھری کھائیوں
اور حوصلہ آزما پہاڑوں کی مغرور چوٹیوں کو فتح کرتی
ہوئی منزل مراد تک پہنچیں.

اپنی تعلیمی منازل اور مشکل مراحل میں کامیابی اور سرخروئی حاصل کرنے کے اس طویل سفر میں انہوں نے راستے کے سب سایہ دار اشجار کو یاد کیا اور ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان لیکن ان کی والدہ نے اپنی قریبی سہیلیوں کے سکول میں اور پھر پرائیویٹ جیسے بهی ممکن ہوا ان کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔

قدرت کی عطا کردہ ذہانت اور چیلنج قبول کرنے والی فطرت کے تحت انھوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر کے ہر مرحلے پر شاندار کامیابی حاضل کر لے اپنی والدہ اور اساتذہ کو سرخرو کیا.
جب کالج داخلے کا وقت ایا تو پھر مسائل ایک نیا چہرہ پہنے آ موجود ہوئے
طے یہ پایا کہ برقعہ پہن کر با پردہ تعلیم حاصل کرنے جائیں گی
انهوں نے اپنی استاد کی رہنمائی میں اکنامکس جیسے مضمون میں ایم اے کیا اور سرفرازی نے قدم چومے
پهر سندھی زبان و ادب میں بهی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہو گئیں اور مسلسل ترقی کرتے ہوئے آج شاہ عبدالطیف بھٹائی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدے پر جلوہ افروز ہیں.

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہون نے کہا کہ مجھے نہیں پتا جسے قائدانہ صلاحیتیں کہا جاتا ہے یہ اسی ارادے کی دین ہے جس کے تحت میں کسی بھی مسئلے کے ہر پہلو پر غور کر کے جب کسی فیصلے پر پہنچ جاؤں تو پھر اس پر مصمم ارادے سے ڈٹ جاتی ہوں خواہ راستے میں کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں پھر اسے انجام تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائی یونیورسٹی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جب انہیں یہان تعینات کیا گیا تو انہوں نے ان شعبوں کا جائزہ لیا۔
بہترین اور ادبی و علمی صلاحتون سے مالا مال ٹیم نے ان کے ساتھ تعاون و تن دہی سے کام کیا جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف کونوں سے محققین و مصنفین اور مدرسین یہاں تشریف لاتے ہیں۔
ننھے ننھے ستاروں کا یہ قافلہ ہی مل کر سفر کی نئی جہات مقرر کرے گا اس طرح سندھ میں آنے والی نئی نسل کے کل کو روشن امکانات سے مالا مال کرے گا۔
اکیسویں صدی کے تحیرات میں سے ایک سرعت اور برو ردتاری سے قائم ہونے والا رابطہ ہے جس کی مدد سے یہ انٹرویو مکمل ہوا اور ہم ایک مرتبہ پھر محترمہ پروین شاہ صاحبہ کے ممنون ہیں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے لمحات نکال کر نہ صرف ہمارے سوالات کے جوابات عنایت فرمائے بلکہ انہوں نے انٹر نیٹ کے بھر پور اور موئثر استعمال کے ذرئعے یہ بات بھی واضح کر دی کہ ان میں نہ صرف قائدانہ صلاحیتیں ہیں بلکہ آئینِ نو اور ترقئ نو کے قدم بہ قدم چلنے کا عزمِ نو بھی شامل ہے۔
میرے نزدیک وائس چانسلر صاحبہ ایک ہستی کا نام نہیں، یہ ایک عہدے کی علامت نہین اور نہ ہی یہ ایک جامعہ کی سربراہی کا استعارہ ہیں بلکہ یہ ایک زمانہ ساز اور مستقبل ساز تبدیلی کا قطبی ستارہ ہیں جو روشن اجالوں کی خبر دے رہا ہے اور جو تعلیم کے دروازے بلا تخصیص صنف ہر ذی روح پر کھولنے کا نصب العین لیے ہوئے ہے۔ ان کی ذات نے یہ بات بھی ثابت کر دکھاٗی ہے کہ کہ جب عورت، جو خالقِ مجازی ہے کسی بات کا تہیہ کر لیتی ہے تو اس کے لیے نئے جہان کی تخلیق بھی اسی مجازی کن فیکون کے طلسم سے آباد کرنا بازیچۂ اطفال ہی ٹھرتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: