الفاظ کی قوت قاہرہ: قاضی عبدالرحمن

0
  • 27
    Shares

حرفوں نے اتحاد کیا تو لفظ کا ظہور ہوا- لفظوں کو ایک ڈوری میں پرویا تو تحریر و تقریر کو وجود ملا- گویا ہر لفظ ایک آئیڈیا ہے. ایک مجسم پیکر ہے. ہر ایک میں مخصوص حدت و حرارت ہے- جب ان الفاظ کو مناسب لہجہ کی معیت نصیب ہو جاتی ہے تو یہ قیامت ڈهاتے ہیں- انسانی عمر کی طرح لفظ کی بهی عمر ہوتی ہے. یہ بچپن سے جوانی کا سفر کرتے ہیں اور بالآخر متروک ہوکر موت کا شکار ہوجاتے ہیں. کچھ خوش نصیب دوبارہ زندگی پاتے ہیں- ان کا استعمال متکلم کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے.کسی کو فصیح بناتے ہیں تو کسی کو یاوہ گو. یہ امن کے دیپ بهی جلاتے ہیں اور جنگ کے شعلے بهی بهڑکاتے ہیں –

شیخ محمد القہتانی اپنی ایک تقریر میں کہتے ہیں،”لفظوں کے انتخاب پر آپ کے پیغام کے مقبول و مردود ہونے کا دارومدار ہے-”
لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں یہود کے مشہور ادارہ قبالا سینٹر کا سابق ڈائریکٹر یہوداہ برگ اپنی کتاب میں رقمطراز ہے؛

“Words have energy and power with the ability to help, to heal, to hinder, to hurt, to harm, to humiliate and to humble.”

“الفاظ میں توانائی اور طاقت ہوتی ہے،جن میں مددکرنے،زخم مند مل کرنے،مزاحمت کرنے،چوٹ پہنچانے، دکه دینے اور عاجزی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہیں-

اصل تجارت زر نہیں الفاظ کرتے ہیں- صحیح وقت پر تاجر کی زبان سے ادا ہونے والا صحیح جملہ تجارت کے نفع کو چہار گنا کردیتا ہے- سکندر کے روبرو شکست خوردہ پورس کا برمحل جملہ ہاری ہوئی سلطنت دوبارہ عطا کرتا ہے- غلط جملہ کا استعمال جیتی ہوئی بساط کو الٹ دیتا ہے – امریکی تاریخ میں نومبر 1884 میں ڈاکٹر سیموئیل رچرڈ کے زبان سے ادا ہونے والا جملہ،” Rum,Romanism and Rebellion ” نے ریپبلیکن کے جیمس بلین کو محض اعشاریہ 6 کی کمی سے ہار دلادی اور ڈیموکریٹ کے گروور کلیولینڈ کو صدارتی کرسی عطا کردی- ایک لفظ شادی کے بندھن کو توڑدیتا ہے اور ایک لفظ دوستی کو دشمنی میں تبدیل کردیتا ہے-

چکبست نے زبان سے ادا ہونے والے ناروا الفاظ کے متعلق کہا تها،
“یہ چیز بنادیتی ہے احباب کو دشمن
حق میں ہے محبت کے یہ چلتی ہوئی تلوار”.

جنگوں میں جتنی اہمیت اسلحہ و بارود کی ہوتی ہے، اتنی ہی الفاظ اور نعرہ سے دئیے جانے والے حوصلہ کی- جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی تقریر شاہ نجاشی کو مسلمانوں کا ہمنوا بنادیتی ہے- فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی ندا ساریۃ الجبل (اے ساریہ پہاڑ کی طرف سے ہوشیار) نے دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملادیتی ہے- طارق کی ایک تقریر اندلس کو مسلمانوں کا زیر نگیں کرتی ہے- عمران بن خطان کی ایک تقریر اموی خلیفہ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنے کافی ہوتی تهی-

افواج نعروں کے سہارے لڑتی ہیں- پہلی جنگ عظیم میں امریکی فوج Make the world safe for democracy کے سہارے لڑی تو دوسری جنگ عظیم میں Remember Pearl Harbor کے سہارے- چرچل کے نعرے” V for victory اور آخری فتح ہماری ہے” نے افواج کو جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد دی-

خود مقبوضہ ہند کی تاریخ اٹها کر دیکھ لیجئے. کس طرح شورش کا ہر لفظ سامراج پر یورش کرتا تھا- آزاد کی تقریر و تحریر نے عوام کے دلوں میں موجزن جذبات کے لئے آزادی کے تازیانہ کا کام کیا- ظفر علی خان کی تحاریر نے برطانوی استعمار کے خلاف فتح و ظفر کے خواب دکهائے تو اقبال کی شاعری نے ادبار کی پستی میں گرتی عوام کو اقبال کا سبق پڑهایا-

لفظوں سے ہمارا واسطہ ہمہ وقت رہتا ہے اور ان سے فرار ممکن نہیں بقول شخصے،’جو میں لکهوں تو نوک قلم پہ وہ، جوپڑهوں تو نوک زباں پہ وہ-‘ جس طرح ‘آتی ہے اردو زباں آتے آتے’، اسی طرح لفظ کا استعمال اور لفظ شناسی بهی بحرادب کی شناوری اور تلخ و ترش تجربات کی ضرب کاری سے آتی ہے- یہ وقت طلب ہے-
یہ نازک آبگینے ہیں- ان کے برتنے میں احتیاط ضروری ہے- لفظ لفظ سوچ کر اور جملہ جملہ تول کر ادا کرنے کی ضرورت ہے-

اسی جانب توجہ منعطف کروانے مالک کن فیکون فرماتا ہے-
«ما یلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیهِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ»
ترجمہ:(انسان) منہ سے کوئی بات نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک ہوشیار محافظ ہوتا ہے(جو اسے فورا لکھ لیتا ہے)-

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: