سیکولرزم کیا ہے؟ بنیادی فکر کو کھوجتی ایک تحریر — عمر فرید

0
  • 8
    Shares

ہمارے ایک بہت ہی قابلِ قدر و درویش صفت حضرت کی تحریر کا ایک ٹکڑا بطور ابتدائیہ نیچے لکھا ہے۔ یہ وہی درویش صفت انسان ہیں جن کے ایک ذاتی فعل کو لے کر آجکل کافی لفظی مارا ماری چل رہی ہے۔ مارا ماری کرنے والوں کی اکثریت بالکل اسی طور و طرز پہ قائم ہے حضرت درویش کے متعلق جس طور و طرز پہ سلسلہء رَن مریدیہ سے بیزار کرنے کا بیڑہ اٹھائے شادی شدہ افراد کنواروں کو درسِ دانائی دیتے ہیں کہ خود ”رَن“ کو نہیں چھوڑتے۔ اس سلسلہ آوازاریہ میں بیزاری پہ مشتعمل تمام لٹریچر تین درجات میں منقسم ہوتا ہے۔

١:- ذاتی تجربہ و تفہیمِ رن مریدی
٢:-علاج و تلاشِ تسکین میں وارد ہوئے متاثرہ شخص کا تجربہ و تفہیمِ رَن مریدی
٣:- تاریخی سینہ بہ سینہ سفر کرتا مہان بزرگوں کا تجربہ و تفہیمِ رَن مریدی۔

”رَن“ خود کیا ہے اور اس کا تجربہ کدھر جاتا ہے، میں مزید وضاحت سے پھر کبھی بیان کروں گا۔ کہ سلسلہ رَن مریدیہ میں شمولیت اختیار کی جائے یا نہیں میں ہنوز شش و پنج میں ہوں۔ حضرت درویش کی تحریر اور اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں۔

معاشی و معاشرتی حقیقت پسندی کے تناظر میں انسانوں نے معاہدے کے اصول ضابطے متعین کئے ہیں۔ فریقین کی ذمہ داریاں اور حقوق واضح طور پر بیان کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی معاہدے کی بنیاد فریقین کی نیک نیتی اور اخلاص پر نہیں بلکہ اختلاف اور تصادم کے امکانات پر رکھی جاتی ہے۔ اختلاف کا امکان کسی فریق کی مفروضہ بدنیتی یا کج روی سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے تنقیدی شعور سے ہوتا ہے۔ فرد ہو یا معاشرہ، انسانوں کی سب سے بڑی کوتاہی اپنے تنقیدی شعور کو کسی فرد یا گروہ کے ہاتھوں رہن رکھ دینا ہے.

میں ایک عام انسان ہوں۔ ہر دو لحاظ سے معاشرے میں ہی رہنا پسند کرتا ہوں۔. ہر دو لحاظ سے معاشرے میں رہنے سے میری مراد ہے نظریاتی اور فکری لحاظ سے۔ مزید آسان لفظوں میں، اجتماعی و انفرادی آسودگی کے لحاظ سے میں معاشرے ہی میں رہنا پسند کرتا ہوں. جس طرح انسان اور معاشرہ لازم وملزوم ہیں اسی طرح انسان اور اخلاقیات بھی لازم و ملزوم ہیں۔ معاشرہ اور معیشت بھی لازم و ملزوم ہیں۔ انسان کی بحیثیت فرد مجموعی اکائی کے تسکینات اور معاشرے کی بحیثیت مجموعی اکائی کے تسکینات بھی لازم و ملزوم ہیں۔

ہمارے ہاں بیان فقط الفاظ کا دھندا ہے۔ اس دھندے میں دو لفظ بہت معروف ہیں۔ مذہب اور دین…!! اس پہ بہت سے اہلِ علم بزرگوں نے شمشیر قلم پھیر کر معنی برآمد کئے ہیں۔ کہ مذہب بنیادی طور پر ”انفرادی“ آسودگی سے عبارت فکری پرواز کا نام ہے۔ یعنی یہ ایک اسوہ یا طریق ہے مگر انفرادی یا شارع خاص ہے۔ جیسے اکثر بڑے بڑے رتبے والے مقامات اور فوجی اور غیر فوجی افراد کے گھروں کی طرف آنے جانے والے رستے پہ ایک لوحِ عبارت ”یہ شارع عام نہیں“ مع محافظ ڈنڈا شارع پہ کھڑی ہوتی ہے۔ کہیں ایک محافظ و خدمتگار بھی بیٹھا ہوتا ہے. گویا مذہب ایک طریق یا اسوہ ہے جو ایک ”اجتماعی وجود“ کی انفرادیت کو دوسرے ”اجتماعی وجود“ سے جدا رکھتے ہوئے خاص قوتِ کشش یا دفع کا حامل ہے.

اسے ہم عام لفظوں میں بطور بہتر تفہیم ”انفرادی فکری تعصب“ بھی کہہ سکتے ہیں۔کہ اگر انفرادی تعصب نامی چیز کو سرے سے وجود تصور ہی نہ کیا جائے تو معاہدے جنم لیتے ہی نہیں. یہ انفرادی تعصب کا یہ عنصر نظر و فکر و وجود و حادثاتی ضروریات کے مجموعہ ”فرد“ میں بھی اتنا ہی پایا جاتا ہے جتنا کہ ایک معاشرے یا ریاست میں چنانچہ ایک ریاست دوسری ریاست کے مقابل جس طور اپنا انفرادی و جداگانہ تشخص قائم رکھتی ہے میں اسے بھی مذہب ہی تصور کرتا ہوں۔ بنیادی طور پر یہ انفرادی عزتِ نفس کا دائرہ ہے۔

یہ موقعہ و مقامِ ذات و تفہیم کے حساب سے بدلتا بھی رہتا ہے۔ معاشرہ یا ریاست ایک مجموعی اکائی ہے۔ بمجموعی اکائی کے لحاظ سے اس کا اپنا ایک مذہب ”انفرادی تعصب یا عزتِ نفس“ کا دائرہ ہے، جو بطور خاص پہچان بصورتِ تہذیبی، نظریاتی، علاقائی، سانی یا نسلی امتیاز وغیرہ کے ہوسکتا ہے۔

دین کو میں شارعِ عام کہتا ہوں کہ جس پہ اور جس سے اکائیاں رواں دواں ہیں۔ ایک معاشرے یا ریاست کے اندر کونسا دین رواں ہے اور اُس ریاست و دوسری مقابل ریاستوں کے درمیان کونسا دین رواں ہے مثلاً ایک ریاست جیسے پاکستان ہے۔ پاکستان کا بطور ریاست داخلی دین کیا ہے؟ یہ اپنی اکائیوں {افراد و محکموں} پہ کس طور یا کن طے شدہ مفادات کے تحت اثرانداز و کس طریق یا معاہدے کے تحت ان کی اثراندازی کو قبول کررہی ہے۔

اسی طرح ریاست پاکستان کا خارجی دین کیا ہے؟ بطور ریاست پاکستان {اکائی۔مذہب} اور دوسری ریاستوں {اکائی۔مذہب} کے درمیان کس قسم کا دین رواں ہے۔ بیہ بطور اکائی کس طور یا طے شدہ ذاتی مفادات کے صورت دوسروں پہ اثرانداز ہورہی ہے اور کس طریق یا معاہدے کی صورت دوسری ریاستیں اس پہ اثرانداز ہورہی ہیں.

اب اگر بطور تفہیم انسان کو بنیادی ضرورتوں کے لحاظ سےچار اجزاء میں تقسیم کیا جائے تو
نظریاتی شخصیت۔
فکری شخصیت۔
وجودی شخصیت
حادثاتی شخصیت۔

زندگی نام ہے چلتے رہنے کا۔ باشعور کو چلنے کے لیے فقط قدم نہیں منزل بھی درکار ہے۔ کس طرف اور کیوں جانا درکار ہے؟ اس کے لئے قدم سے پہلے نظر کی حرکت ضروری ہے۔ اب نظر کو سفر کرنا ہے تو لازما اسے مرکوز رہنے کے لئے منظر درکار ہے تاکہ بامعنی خیال پیدا ہوسکے۔
یہ خیال ہی ہے جو آراء کی شکل اختیار کر قوتِ اطلاق کے حصول کے بعد قانون بنتا ہے۔ یہی قانون فرد کی خیالی دنیا میں بھی بِگڑتے،.بنتے اور عمل و ردِ عمل کی صورت بیان ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی خارجی دنیا میں بھی بِگڑتے،.بنتے اور اطلاق کی صورت بیان ہوتے ہیں۔

اب غور کیجئے کہ جب دیکھنے والی نظریں لاکھوں ہوں تو اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ تمام نظریں ایک ”نکتہ“ پہ مرکوز ہوں کہ اجتماعی لحاظ سے بہترین و یکساں نظری و فکری آسودگی کا خیال جنم لے سکے تاکہ پیداواری بہتری ممکن ہو سکے۔ اجتماعیت کا بنیادی تقاضا ہر لحاظ سے ”پیداواری بہتری“ ہی ہے!!۔

اب بہتر تفہیم کے لیے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ پنجاب میں کبھی کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے بیل جوتے جاتے تھے۔ بیل کی آنکھوں پہ ایک چمڑے کی عینک چڑھا دی جاتی تھی۔ اس کے جملہ فوائد سے تو کوئی سیانا ڈیرے دار جٹ بندہ ہی واقف ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ سروائیول آف دی فٹسٹ کے تحت جنم لیتے ”خوف“ کا شاخسانہ ہے کہ لاکھوں نظروں کو مطلوب ”مادی نقطہ“ پہ جمع کرنے میں لاکھوں سال لگ سکتے ہیں۔ مطلوب ”پیداوار“ کے حصول کے لیے فرد کی فکری آسودگی کا چمڑا اس کی نظریاتی آنکھ پہ لپیٹ دیا جائے تو وہ فوراً کنوئیں کا بیل بن جائے گا۔جیسے کبوتر بلی کا سامنا ہوتے ہی فوراً آنکھیں بند کر فرضی جنت میں فکری پرواز بھر چکا ہوتا ہے.

اب درویش کی بات پر واپس آئیں تو یہی بنیادی نکتہ ہے کہ معاہدے کو بنیاد ۔۔۔۔۔ اختلاف یا تصادم۔۔۔۔، اختلاف یا تصادم کو بنیاد ۔۔۔۔۔تنقیدی شعور۔۔۔۔ اور سب سے بڑی کوتاہی {کسی فرد یا معاشرے کا} اپنے تنقیدی شعور کو کسی فرد یا معاشرے کے ہاتھوں رہن رکھ دینا ہے۔

میرے خیال میں حضرتِ انسان یا معاشرے کے تنقیدی شعور کو بنیاد حضرتِ انسان یا معاشرے کی نظر یعنی نظریہ ہے. تنقید ہوتی بھی شاید بنیادی طور پر نظریہ یا زوایہ نگاہ پہ ہے کیونکہ فکر اسی کے تحت متحرک ہے البتہ فکر کی حرکت خود میں نظریات کی خالق بھی ہے!۔

میرا تنقیدی شعور جس نظریہ سے عبارت ہے وہ ہے ایک خاص نظریہء حیات میرا ماننا ہے کہ میں اجتماعی لحاظ سے کسی ندیدے خوف کے تحت افراد کو کبوتر نہیں بنا سکتا اور نہ ہی بننے دے سکتا ہوں. نہ ہی کوئی وقتی فکری آسوودگی کی خاطر عینک چڑھا سکتا ہوں. یہ ضرور ہے کہ میں دوسروں کو نظریاتی لحاظ سے اپنی نظریں مرکوز کرنے کو ایک ”نُکتہ“ جو کہ وہ پہلے سے اپنائے ہوئے ہیں. بطور مرکز پیش و تلقین کرسکتا ہوں۔ میں انہیں نظریاتی تسکین کے ساتھ فکری آزادی کی راہ دکھا سکتا ہوں کیونکہ ان سے ان کی اپنی نظر چھین لینے کا مجھے کچھ حق نہیں ہے.

پیداواری اہلیت کو جلد و فطری سطح سے بہت اوپر مطلوب مقام تک پہنچانے کے خوف کے تحت جن مے ایک خیال کو میں کیسے اپنا سکتا ہوں کہ میں کوئی کنوئیں کا بیل نہیں۔ مجھے بطور فرد اولین ”تفریح“ نظریاتی درکار ہے۔بوہ ایک ”نُکتہ“ میرے ہاں کی اکثریت کے لیے باعثِ تسکین ہے لیکن جب قوتِ اطلاق کے ساتھ یکساں لاگو ہو__!!!

میں کیسے کسی خوف کے تحت جنم لیتے خیال کے ہاتھوں اپنے تنقیدی شعور کو رہن رکھ سکتا ہوں؟ جو کہ ایک نظریہء حیات کے تحت ترتیب پاتا ہے ایسا نظریہء حیات جو میری نظر میں انسان کی ”اجتماعی سلامتی“ کا ضامن ہے!

سیکولرازم اپنی پیدائش میں خوف کی نسل ہے۔ بنا کسی ثبوت کے خود کو منوانے کا نام ہے

میں سیکولرازم کو خود میں لادینیت نہیں کہہ سکتا نہ ہی اسے کسی طور مشرف بہ اسلام کرواتا ہوں۔ اپنی نظر اور تنقیدی شعور کے بمؤجب میں اسے ”بیوقوفانہ خیال“ کہتا ہوں۔
انسان کو دین{شارع عام و حصولِ منزل} کے معاملے میں کنوئیں کا بیل بنانے کی کوشش کرنے والے کو لادین نہیں بیوقوف کہہ سکتا ہوں. انسان کو نظریاتی لحاظ سے غلام بنا کر انہیں فکری آسودگی کے لالچ میں اپنے مفادات کی جنگ میں جھونک دینے والے کو جاہل کہتا ہوں.

مکاری کے ساتھ انسانوں سے ان کے تنقیدی شعور کی بنیاد کو چھین لینے والے غاصب گنتا ہوں. سیکولرازم اپنی پیدائش میں خوف کی نسل ہے۔ بنا کسی ثبوت کے خود کو منوانے کا نام ہے۔ خوف کبھی قانون نہیں ہوتا۔ گویا سیکولرازم فقط ایک خیال ہے اور بیوقوفانہ خیال ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: