ہم سب بھی ان کے کوے ، گھوڑے اور چوہے ہیں۔ محمد خان قلندر

0
  • 51
    Shares

کہاوت سُنتے آئے ہیں کہ زلزلے جیسی کسی بھی غیبی آفت کا پرندوں میں کوؤں کو، چوپایوں میں گھوڑے اور حشرات میں چوہؤں کو پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے، اور کوے کائیں کائیں کرتے ہیں، گھوڑے رسی تڑوانے کو ہنہناتے ہیں اور چوہے بل میں مزید اندر گھسنے کی کرتے ہیں۔

پنامائی نااہلی کی آفت جب نون لیگی قیادت پر ابھی ٹوٹی بھی نہی تھی کہ اس کے درجنوں کوؤں نے ٹی وی پر کائیں کائیں کا شور مچانا شروع کر دیا تھا، جس میں ایک ہی بے سُرے راگ میں فوج، عدلیہ، اور عمران پر تُو تُکار ابھی تک کئے جا رہے ہیں اگرچہ اب ان کی تعداد کچھ کم ہو گئ ہے۔

غیر فعال چوہے بلوں سے جتنی مٹی مزید کھود سکتے ہیں وہ اس میں مصروف ہیں، گھوڑوں کا حال تا حال بہت بُرا ہے، وہ تب سے رسی تڑانے کی کوشش میں ہنہنا بھی رہے ہیں، لیکن وہ چونکہ کسی اور تھان کے مرہون منت ہوئے بغیر، اور کسی کے ہاتھوں رسی پکڑے جانے تک حرکت نہی کر سکتے، پس مجبور ہیں۔نواز شریف کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ان سب کی ان فطری صلاحیتوں سے واقف نکلے اور ان کا تدارک کئے ہوئے ہیں۔

ہاں اب ان سب کا مستقبل میاں صاحب کے آخری حربے سے بندھا ہے۔
میاں برادران کا حکمرانی کا دورانیہ اور اور تجربہ چاروں ملٹری ڈکٹیٹرز کے اجتماعی ادوار سے بھی زیادہ ہے، بڑے میاں دو بار وزیراعلی رہ چکے ہیں اور تین بار وزیراعظم ہاؤس سے نکالے جانے کا فخر بھی ان کے پاس ہے۔ چھوٹے میاں دوسری دفعہ، اور تیسری مدت کے لئے وزیر اعلی پنجاب ہیں، ان کے کریڈٹ پے ماڈل ٹاؤن، کرنل شجاع خان زادہ اور سلیمان تاثیر کی شہادتیں ہیں، اور اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنے میں ان کا کوئی ثانی بھی نہیں۔ بکاؤ گھوڑوں کے سودے میں یہ ہی رکاوٹ ہیں،
چرند، پرند اور حشرات تو لرزہ خیزی پیدا کئے ہوئے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پی ایم سیکرٹیریٹ میں ان کی کاشن اسٹک گم تو نہی ہوئ ٹوٹ گئ ہے، اس لئے جو دُھن وہ گا رہے ہیں وہ آؤٹ آف ٹیون ہے۔ اس میں ٹاپ کی سُر سرود پر بٹیا رانی والی ہونی چاہیئے لیکن وہ بیٹھ ہی نہی رہی، تجربہ ناک میاں برادران نے ایک نیا ری مکس تیار کر لیا ہے، پرانے جاگیردار سیاست کار گھرانے یہ کلاسیکل راگ جانتے تھے، کہ ہارنے کے سوگ کا راگ اور جیتنے کی سمی کی دھن دونوں ان کے گھرانے سے ہی ہوں، یہی موسیقی اب آپ سُنیں گے۔

نُون لیگ میں سے نُون لیگ کی نئی سُر نکلے گی، مطلب یہ ہے کہ اگر بڑے میاں صاحب مسند اقتدار سے چمٹے رہے تو چھوٹے میاں صاحب حزب اختلاف ہوں گے، اور اگر چھوٹے میاں صاحب، اور جو عین ممکن ہے منظور اقتدار ہو گئے تو راجکماری
ان کے مخالف برسر پیکار ہوں گی، چت بھی ان کی پٹ بھی ان کی۔

پاکستان میں اب اقتدار میاں محمد شریف مرحوم کی اہل بیت کی امانت ہے۔ رائے ونڈ محلات سے چلے یا ماڈل ٹاؤن ولاز سے، اقتدار پنجاب میں اور اسکی وجہ سے مرکز میں اس خاندان کا حق ہے۔

تفنن میں کی گئ گزارشات کا مقصد اس ہولناک حقیقت کو آشکارا کرنا ہے کہ ہم عوام حکمران طبقوں کی پاور گیم میں
کوئ حیثیت ہی نہی رکھتے سوائے اس کے کہ ان کے اشارہ ابرُو پے ووٹ دے آئیں، سڑکوں پے نکلیں، نعرے لگائیں اور
انکی جھوٹی اور نمائشی تقریبات پے واہ واہ کریں، نواز شریف کو اپنے گھناؤنے مالیاتی جرائم کا پتہ تھا، اس احساس جرم سے مجبور ہو کر اس نے اسمبلی میں اور قوم سے خطاب میں خاندانی اور آبائ امارت اور ساتھ ہی ان پر ہوئے مظالم کی رام کہانی سنائی۔

عدالت کو گمراہ کرنے اور چکمہ دینے کی کوشش تو کی لیکن اس ممکنہ ناکامی سے نپٹنے کے لئے فوج اور عدلیہ کو اپنے زیر دست رکھنے کی مہم جوئی بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی، افواج کے خلاف بھارتی اور امریکی بیانیہ اپنانے کی کوشش اب بھی جاری ہے۔

عدلیہ کی کردار کشی بھی، اور پس پردہ ڈیل کی شرائط بھی طے ہو رہی ہیں، آخری حربہ یہ نظر آ رہا ہے کہ شہباز شریف کو مقتدر ادارے نواز شریف کی جگہ قبول کر لیں۔ ہمیں خوش کرنے کے لئے ہمارے ووٹ کی حرمت کا قصیدہ اب اور زور شور سے پڑھا جاتا رہے گا۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں وسیع تر عوامی مفاد میں کوئی نہ کوئی این آر او زیر تالیف رہتا ہے۔
حالانکہ ہم تو سب بس اللہ کے حوالے کئے جا چکے ہیں، اصل کھیل حکومت اور طاقت والے کھلاڑی کھیل رہے ہیں، ہم سب بھی ان کے کوے، گھوڑے اور چوہے ہیں ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: