ڈالر بمقابلہ یوآن ۔۔۔۔۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آصف محمود

0
  • 37
    Shares

معاصر فکر: منتخب کالم


فرض کریں ’ون بیلٹ ون روڈ ‘ منصوبے کی تکمیل کے بعد چین یہ اعلان کر دیتا ہے کہ آج کے بعد جس نے بھی اس کے ساتھ تجارت کرنی ہے وہ جان لے کہ اس کی بنیاد امریکی ڈالر نہیں بلکہ چینی یو آن ہو گا، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں اس کے بعد ڈالر کا کیا حشر ہو گا اور امریکی معیشت کہاں جا کھڑی ہو گی؟

فرض کریں چین یہ فیصلہ کرتاہے کہ اب یو آن کی قدر ڈالر سے کہیں زیادہ ہو گی، اور وہ امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اگر اسے ڈالر کی قدر پر اصرار ہے تو اس کے مقابل سونا دکھا دے۔ساتھ ہی چین یوآن کے پیچھے کھڑے اپنے سونے کے ذخائر دنیا کے سامنے رکھ دیتا ہے تو ڈالر کہاں کھڑا ہو گا اور امریکی معیشت کس صورت حال سے دوچار ہو جائے گی؟
فرض کریں چین امریکہ سے کہتا ہے کہ اس نے چین سے جو قرض لے رکھا چین معاشی اصطلاح میں اسے ’’ کال اِن‘‘ کر رہا ہے، قرض واپس کیا جائے۔کیا ہم جانتے ہیں کہ جب چین 1 ٹریلین ڈالر سے زائد کا قرض ’ کال ان ‘ کرے گا تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے ؟

یہ تینوں مفروضے جو میں نے بیان کیے، محض مفروضے نہیں ہیں۔حقائق کی دنیا میں ان پر پوری معنویت کے ساتھ بات ہو رہی ہے۔ہمارے ہاں چونکہ ’’ چائنا ڈیلی‘‘ تک مارکیٹ میں دستیاب نہیں اور اہل دانش کی ترک تازی کا میدان صرف مغرب ہے اس لیے ہمارے ہاں کم ہی زیر بحث آتا ہے کہ چین میں اہل دانش کیا سوچ رہے ہیں۔

کسی بھی ملک کی کرنسی کی قدر کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے پاس سونے کی کتنی مقدار ہے۔ تیس کی دہائی میں امریکہ نے ’جہاں سے اور جیسے بھی ‘ کی بنیاد پر سونا اکٹھا کیا جو نیویارک میں مین ہٹن کے مقام پر رکھا گیا ہے۔امریکہ کا دعوی ہے کہ اس کے پاس 8 ہزار 1 سو 33 میٹرک ٹن سونا موجود ہے۔ ڈالر کی قیامت خیزیوں کا راز یہی خزانہ ہے۔جرمنی نے سرد جنگ کے زمانے میں 150 ٹن سونا امریکہ میں رکھوایا تھا وہ بھی ابھی تک امریکہ کے پاس پڑا ہے۔

تاہم اب اس ذخیرے کے بارے میں سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہوا یہ کہ امریکہ نے کچھ ادائیگیوں کی مد میں2009 میں چین کو ’’ گولڈ بارز‘‘ بھیجیں۔ چین نے ان کو ٹیسٹ کیا تووہ جعلی نکلیں۔امریکہ کی بد قسمتی کہ اس نے کاروباری معاملات میں چینیوں سے دھوکہ کرنے کی کوشش کی اور پکڑا گیا۔ چین نے معاملہ یہیں ختم نہیں کیا بلکہ ساری کہانی منظر عام پر لا کر رکھ دی کہ اس میں فلاں دھات استعمال کی گئی ہے اور اس کے استعمال کی وجوہات کیا ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ اس جعل سازی کو پکڑنے کا یہ طریقہ ہے۔

2011 میں ٹیکساس سے امریکی کانگریس کے رکن رون پال نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کے سونے کا آڈٹ کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ اس میں کتنا سونا جعلی ہے۔ یہ مطالبہ رد کر دیا گیا۔ 14 جون 2011 کو سی این بی سی کی سائٹ پر سٹیو لیزمین نے انکشاف کیا کہ سی این بی سی نے کہا کہ ہمیں صرف وہاں جا کر فلم بنانے دو لیکن امریکی انتظامیہ نے اس کی بھی اجازت نہیں دی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 1953 کے بعد سے امریکہ نے اس ذخیرے کا آڈٹ نہیں کروایا اور اس آڈٹ کے بارے میں بھی سونے کے عالمی ماہر جیمز ٹرک کا کہنا ہے کہ سونے کو نہیں پرکھا گیا تھا بلکہ صرف دستاویزات کی جانچ پڑتال کر کے طے کر دیا گیا کہ اتنا سونا پڑا ہے۔ نہ کوئی غیر جانبدار آڈیٹر آیا نہ اس کا آڈٹ کیا گیا۔ 1974 میں صرف ایک سینیٹر کو اندر جانے کی اجازت دی گئی اور اس سے مزید سوالات پیدا ہو گئے۔

اب امریکہ کے اس فیڈرل گولڈ ریزیرو کے بارے میں چار باتیں کہی جا رہی ہیں۔
1۔اس سونے کی بنیاد پر بہت سا لین دین ہو چکا اور اب اس کا بڑا حصہ امریکہ کی ملکیت نہیں ہے۔
2۔خزانے میں سے سونے کی بہت بڑی مقدار نکال کر مختلف مدوں میں ادائیگیاں ہو چکی ہیں اور اب یہ صرف کاغذات کی حد تک موجود ہے۔
3۔ تیس کی دہائی میں یہ سونا جن ممالک اور اداروں سے لیا گیا تھا، ایک بڑا حصہ انہیں واپس کیا جا چکا ہے۔
4۔بنکوں سے لیے گئے قرض کی ادائیگیاں اسی سونے سے ہوتی رہیں اور اب اس کی اصل مقدار وہ نہیں جو بیان کی جاتی ہے۔
یہ سوالات جب اٹھے تو ایک وقت وہ بھی آیا کہ جرمنی نے پریشان ہو کر امریکہ سے اپنا سونا واپس مانگ لیا۔ جرمنی کو کیسے چپ کرایا گیا، یہ الگ کہانی ہے۔

دوسری طرف چین نہ صرف دنیا بھر سے سونا خریدتا رہا ہے بلکہ سی این این کے مطابق 2007 سے اس خریداری میں 700 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سی این این ہی کا دعوی ہے کہ چین کے اندر سونے کی کانیں بھی ہیں جہاں سے چین سونا نکال رہا ہے تاہم چین نے کبھی اصل حقیقت کسی سے شیئر نہیں کی کہ اس کے پاس کتنا سونا ہے۔ عین ممکن ہے کہ بہت جلد ہم چین کو یہ مطالبہ کرتے سنیں کہ امریکہ کے پاس اگر ڈالر کے پیچھے واقعی اتنا سونا پڑا ہے تو سامنے لے آئے ورنہ یہ لیجیے چین اپنا سونا ’شو‘ کر رہا ہے اور آج کے بعد ڈالر کا نہیں بلکہ چین کے ’یو آن‘ کا راج ہو گا۔

چین ابھی بھی چاہے تو ڈالر کو کافی نیچے لا سکتا ہے لیکن وہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کر رہا۔ یو آن سستا ہو گا تو امریکہ شہری خوشی سے چینی مصنوعات خریدیں گے اور چین اپنی ایکسپورٹ پر کمپرومائز کرنے کو فی الحال تیار نہیں کیونکہ اس میں اس کا غیر معمولی فائدہ ہے۔ امریکہ سے چین کو ہونے والی ایکسپورٹ کا حجم 116 بلین ڈالر ہے بلکہ چین سے امریکہ کو ہونے والی ایکسپورٹ کا حجم 463 بلین ڈالر ہے۔ یعنی اس باہمی تجارت میں امریکہ کا2016 میں جو خسارہ تھا وہ 347بلین ڈالر تھا۔یہ وہ چیز ہے جو چین کو روکے ہوئے ہے۔

اب اگر ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، اور ایک وقت آتا ہے چین کو متبادل مارکیٹ مل بھی مل جاتی ہے اور تجارتی معاملات میں دنیا کے اہم ممالک اس کے ساتھ چلنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں اور وہ اس کاروباری سرگرمی کا محور و مرکز بن جاتا ہے تو پھر وہ ڈالر کے ناز کیوں اٹھائے گا؟ اس صورت حال میں کیا وہ تینوں مفروضے حقیقت بن کر ہمارے سامنے آ سکتے ہیں جن کا شروع میں ذکر کیا گیا ہے؟ ڈی ایٹ ممالک کی کانفرس میں اگر طیب اردوان متبادل کرنسی کی بات کر رہے ہیں تو کیا یہ محض ایک جذباتی بیان سمجھا جائے؟ ڈی ایٹ میں قابل ذکر ممالک تو پاکستان، ترکی، ایران اور ملائیشیا ہیں۔خطے میں چین اور روس ایک بلاک کی صورت ابھر رہے ہیں اور یہ تینوں ممالک اپنے اپنے دائرہ کار میں اسی صف کا حصہ ہیں۔

یہ چیز اگر ہونے جا رہی ہے تو امریکہ اسے آسانی سے تو برداشت نہیں کرے گا۔اس کا رد عمل تو آئے گا۔ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے خلاف اگر امریکہ نے کھل کر بیان دے دیا ہے تو یہ قابل فہم ہے۔ صدام حسین کا بھی ایک بڑا قصور یہی تھا کہ اس نے تیل کی تجارت ڈالر سے ڈی لنک کرنے کی کوششیں کی تھیں۔لیکن صدام کا عراق اکیلا تھا۔ اور چین عراق نہیں ہے۔لیکن امریکہ بھی کسی معمولی قوت کا نام نہیں ہے۔ لازم ہے کہ وہ اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔اب جو منظر نامہ بنے گا سوال یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے لیے چیلنجز کیا ہیں اور امکانات کتنے ہیں؟

دو کام یقینی ہیں۔
پہلا یہ کہ سرد جنگ کی بنیاد پر نئی صف بندی ہو رہی ہے۔ یہ صف بندی ہمارے سامنے ہے۔چین، روس ایران، ترکی اکٹھے ہو چکے اور پاکستان ظاہر ہے چین کے ساتھ کھڑا ہے۔پریشان کن بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای دوسرے کیمپ میں ہیں جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔ترکی نے بڑے واضح انداز میں عربوں سے گلہ کیا ہے کہ امریکہ کو فوجی اڈوں کے لیے جگہ دے دیتے ہیں لیکن مسلمانوں کو نہیں دیتے۔۔ اب پاکستان کے لیے مشکل مرحلہ ہے کہ اس صورت حال میں توازن کیسے رکھے اور پوسٹ سی پیک منظر نامے میں چین کے ساتھ کھڑے ہونے کے باوجود دوسرے کیمپ سے دشمنی مول نہ لے۔یہی ہماری سفارت کاری امتحان بھی ہو گا۔

ہمارا دوسرا امتحان دہشت گردی سے نبٹنا ہے۔اس بات کا امکان تو بہت کم ہے کہ امریکہ اور چین میں کھلی جنگ ہو۔ ایسی جنگیں بہت مہنگی ہوتی ہیں، آسان ترین جنگ دہشت گردی ہے۔ پہلے اکانومی گلوبلائز ہوئی اب دہشت گردی گلوبلائز ہو رہی ہے۔ حساب برابر ہوں گے تو کھلی جنگ کی بجائے دہشت گردی کے میدان میں ہوں گے اور انارکی پھیلانے کی کوشش کی جا ئے گی۔اس بات کا خطرہ ہے کہ میدان جنگ پاکستان ہو گا۔بلکہ ہو گیا کیا، پاکستان میدان جنگ بن چکا ہے۔ دہشت گردی بڑھے گی تو سی پیک کی کامیابی کے امکانات کم ہوں گے۔ہمیں اس چیلنج سے نبٹنا ہو گا۔ یہ چیلنج اس وقت بہت سنگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی کیمپ میں کچھ ایسے برادر اسلامی ممالک بھی موجود ہیں جو اس کھیل کا حصہ بن گئے تومعاملہ بہت سنگین ہو جائے گا کیونکہ پاکستانی سماج میں ان کی بڑی طاقتور پراکسیز موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کیا ہم آنے والے چیلنجز سے نبٹنے کو تیار ہیں؟ اور ہم نے کوئی پالیسی وضع کر رکھی ہے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: