پتھر کے منہ والا، گورا اور انگریزی ادب: فواد رضا

0

لکھنے پڑھنے کی صنعت سے وابستہ ہونا شاید دنیا کا سب سے مشکل کا م ہے، ماں تو نو ماہ اپنی تخلیق کو سینچ کر ایک بار دردِ زہ کی مشکل سے گزرتی ہے، لیکن ہم صحافیوں کو تقریباً اس درد سے روزانہ گزرنا ہوتا ہے۔مجھ پر بھی ایک سخت مشکل آن پڑی ہے کہ انگریزی زبان میں لکھی گئی ایک کتاب پر تبصرہ کرنا ہے اور کتاب بھی ایک اچھے صحافی کی ہے، جو دوست بھی ہیں۔

اب انگریزی ایک تو مجھے اس لیے اچھے نہیں لگتی کہ یہ آج کی دنیا میں ان کی زبان ہے جو کبھی ہم پر اعلانیہ حکومت کیا کرتے تھے، جب کبھی انگریزی کی کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہوں تو لاشعور میں آزادی کے موضوع پر بنی کسی ہندی فلم کا منظر چلنے لگتا ہے جس میں کوئی پتھر کے منہ والا گورا صاحب منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی میں احکامات صادر کررہا ہوتا ہے۔

دوسرا مجھے انگریزی اس لیے بھی پسند نہیں کہ ہم ایسے لوگ جنہوں نے سرکاری جامعات سے تعلیم حاصل کی ہوتی ہے ان کے لیے انگریزی بغیر لغت کے پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی کاروباری پٹھان رسم الخط کے ایک ہونے کی وجہ سے فارسی میں لکھی تحریر اردو سمجھ کرپڑھ لے اور پھر سوچے کہ یہ لکھا کیا ہے؟

انگریزی پڑھنے کے ایک نقصان یہ بھی ہے کہ بندے کی حالت اس دیہاتی جیسی ہوجاتی ہے جو کہ جو ایک ہی لطیفے پر تین بار ہنستاہے، پہلی بار عوام کے ساتھ، دوسری بار جب لطیفہ سمجھ آئے اور تیسری بار اپنے دہقانی رویے پر۔۔۔۔ دہقان سے یاد آیا کہ ہمارے معاشرے میں میں جو انگریزی کا دلدادہ طبقہ ہے وہ اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے والوں کو اسی نظر سے دیکھتا ہے جیسا کہ لندن سے آئے ہوئے گورا صاحب برصغیر کے دہقانوں کو دیکھا کرتے تھے، چاہے اب ان دہقانوں میں سے کوئی اپنے دور کا ولی ہی کیوں نہ ہو۔

معروف شاعر انور مسعود کی طرح میں بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ انگریزی ہمارے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ کھیت کو پانی، راجا کو رانی اور مبشر علی زید ی کے لیے کہانی ضروری ہے، یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور آخر الذکر کے لیے تو کہانی بہت ہی ضروری ہے کہ وہ قلم قبیلے کے نامور آدمی ہیں اور کہانی لکھے بنا شاید وہ سانس بھی نہیں لے سکتے، ویسے تو ان کی کہانی ہمارے اور ہمارے جیسے اور بہت سے لکھنے والوں کےلیے بھی بہت ضروری ہے کہ حبس کے ماحول میں سانس لینے کے لیے کوئی تو بہانہ ہو، بات ہورہی تھی انور مسعود کے شعر کی، پہلے ذرا یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔

دوستو انگلش ضروری ہے ہمارے واسطے
فیل ہونے کو بھی ایک مضمون ہونا چاہیے

ایک بات تو ماننے والی ہے، طلبِ علم کی راہ میں وقت برباد کرنا کوئی ہماری قوم سے سیکھے، ہم دس سال تک اسلامیات پڑھتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہم سے بیشتر، اپنے مرحومین کی فاتحہ تک نہیں دلا سکتے، سات سال یا پانچ سال سندھی پڑھتے ہیں لیکن اپنے ہی ملک کے ایک صوبے کے رہنے والے اس صوبے کی سرکاری زبان کو سمجھنے اور پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اگر بات کریں انگریز ی کی تووہاں بھی یہی حال ہے کہ میٹرک پاس اکثریت شیکسپیئر کے نام سے اور اسم کی اقسام سے نا بلد ہوتی ہے۔ کچھ تو ایسے ہونہار بھی ہوتے ہیں کہ انگریزی لکھنا اور بولنا تو دور کی بات ‘ پڑھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔

ایسے ماحول میں اگر خرم سہیل جیسے صحافی کی کتاب ہم تک محض اس لیے آجائے کہ اس پر تبصرہ کرنا ہے تو سوچئے ہمارا کیا حال ہوا ہوگا، کچھ دیر تو محض کتاب کو دیکھ کر، سونگھ کر اور چھو کر محسوس کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن مجال ہے جو ہماری حسیات متحرک ہوئی ہوں سوائے چھٹی حس کے، کہ’ ان کنوزیشن ود لیجنڈز‘ ایسی کتاب ہے جسے مکمل پڑھے بغیر اس پر تبصرہ کرنا صرف کتاب اور مصنف سے ہی نہیں ان پچاس نامور شخصیات سے بھی زیادتی ہوگی جن کے انٹرویوز پر یہ کتاب مشتمل ہے۔

اب کتاب میرے ہاتھ میں ہے، میں اسے پڑھ رہا ہوں اور کس طرح پڑھ رہا ہوں، یہ بیان تو اوپر ہو ہی چکا، سو آپ حضرات میرے لیے دعا کیجئے کہ جیسے خرم سہیل نے اس کتاب کو اپنی زندگی کے دس سال دیے، کہیں میرا دردِزہ بھی سالوں پر محیط نہ ہوجائے، بلکہ جلد از جلدمیں اس مشقت سے آزاد ہوجاؤں کہ اس کے بعد ایک اور دوست ہیں جن کی بھیجی ہوئی کتابیں، ایک انتہائی فارغ شخص کے تبصرے کی منتظر ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: