سوال ایسے سوالوں پر: محمد عثمان جامعی

0
  • 94
    Shares

سوال انسان کی سب سے اہم ایجاد نہیں تو اہم ترین ایجادات میں ضرور شامل ہے۔ یہ ”کیوں“ اور ”کیسے“ کی پُراسرار نازنینوں کا تعاقب ہی تھا جو ابن آدم کو ترقی اور تمدن کے روشن راستوں اور منزلوں تک لے گیا۔ سوال کے جھونکے ہی سماج کو حبس سے بچاتے ہیں، سوال اٹھتے ہیں تو شکوک وشبہات کی گرد بیٹھتی ہے، ان کی نوک دار کرن ہی سے توہمات اندھیرے چاک کیے جاسکتے ہیں۔ سوال کے نشتر سے بدعنوانی، ناانصافی، تعصب، اندھی عقیدت اور ان جیسی دیگر سماجی بیماریوں کا علاج کیا جاسکتا ہے، ان کی کھُرچ نقابوں کو نوچ کر مکروہ چہرے سامنے لے آتی ہےلیکن یہ سوال وہ ہیں جن کا تعلق حیات وکائنات سے ہے، جو انسانی وجود کی بنیادی آزادیوں کو جکڑے ریت رواج پر حملہ کرتے ہیں، جو قانون شکنی، ظلم اور زیادتی کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے سوال ہمارے معاشرے میں شعور و جرات کی غذا کی کمی کے باعث دماغ کی کوکھ ہی میں مرجاتے ہیں یا زبان کی نوک پر جان دے دیتے ہیں، اگر زندہ جنم لے لیں تو اکثر زندہ دفن کردیے جاتے ہیں۔

مگر ایسا نہیں کہ ہم سوال نہیں کرتے، اِس کا جتنا شوق ہمارے ہاں پایا جاتا ہے دنیا کی دیگر اقوام اُس سے محروم ہیں۔ فرق بس یہ ہے کہ ہمارے سوال جستجو، جاننے کی لگن، حق گوئی اور صداقت شناسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، یہ ”کیا“ اور ”کیوں“ پوچھنے، کھوجنے، اپنی بڑائی اور حقارت کے جذبے کو خوراک دینے اور وقت گزاری کے آلات ہیں۔

ہمارے ہاں شاید سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے ”اور“، جو ٹیلی فون پر ہونے والی طویل گفتگو کے بعد اس وقت کیا جاتا ہے جب کہنے اور سُننے کو کچھ نہیں رہ جاتا۔

”کیا ہونے والا ہے“ ہمارے ملک کا دوسرا مقبول ترین سوال ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے دورانیے کم کم آتے ہیں جب یہ سوال اخبارات اور ٹی وی اسکرینوں سے ڈرائنگ رومز اور تھڑوں تک پوچھا نہ جارہا ہو۔ بس مارشلائی ادوار کا بڑا حصہ ایسے سکوت میں گزرتا ہے کہ ایسے کسی سوال کی سوئی بھی نہیں گِرتی۔ یہ استفسار اپنے اندر ایک ہی معنی رکھتا ہے، بڑی سیاسی تبدیلی، چناں چہ فوراً اپنا ابلاغ کرلیتا ہے۔ پھر جواب میں دانش وری کا طوفان اٹھتا اور خواہشات کا باب کُھلتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ پوچھنے والا اور جس سے پوچھا جائے دونوں حقائق کی روشنی سے دور لاعلمی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے ہیں۔

سوال اپنا بے ضرر روپ بدل کر تیر وخنجر اُس وقت بن جاتے ہیں جب انھیں جہل، ذہنی پس ماندگی، تعصب اور نفرت سے تراشا گیا ہو۔ کبھی یہ ان جانے میں ہوتا ہے اور بعض اوقات سوچ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

میں نے ایک اخباری ادارے سے ناتا جوڑا تو میرے ہاتھ میں ایک فارم تھمادیا گیا، جس میں مجھے سوالات کا جواب تحریر کرتے ہوئے اپنے کوائف درج کرنا تھے۔ دیگر سوالات کے ساتھ یہ فارم پوچھ رہا تھااپنی سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیےاتنا ہی نہیں آپ کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں! میں نے اصرار کیا کہ خود کو صرف مسلمان سمجھتا ہوں اور یہیں لکھنا چاہتا ہوں، کہا گیا جو پوچھا گیا ہے اس کا جواب تو لکھنا ہوگا۔

مجھے نہیں پتا کہ اس نوعیت کے سوالات جو کسی کے سیاسی نظریے اور عقیدے کی بابت کیے گئے ہوں پاکستان میں اور کس کس ادارے سے وابستگی اختیار کرنے والوں کو دینا پڑتے ہیں؟ لیکن سوال ایسے سوالوں کے جواز پر ہے۔

آگے بڑھتے ہیں۔ اس منظر میں چلیے:
خوشی کی تقریب میں ایک نوجوان ہر فکر و اندیشے سے بے نیاز مسرور نظر آرہا ہے۔ ہنس رہا ہے، مسکرا رہا ہے، پُراعتماد دکھائی دے رہا ہے۔ ساتھ بیٹھے صاحب اُن لوگوں میں سے ہیں جن کا مقصد حیات ہوتا ہے کہ دوسروں میں اپنے حصے کا جتنا دُکھ بانٹ سکتے ہو بانٹ دو، کسی کو جس قدر نقصان پہنچانے کی اسطاعت رکھتے ہو پہنچا دو۔ کھنکار کے نوجوان کو مخاطب کرتے ہیں اور پوچھ گچھ شروع کردیتے ہیں، ”کیا کرتے ہو کس ادارے میں“ یہ سوال تو حملے کی تیاری تھے، تیر تو اب چلے گا۔ ”کتنی تنخواہ دے رہے ہیں؟“ جواب سے حیران ہو کر وار کرتے ہیں”اتنی کم۔“ پھر کہیں اور ملازمت کا ہم دردانہ مشورہ دے کر نوجوان کی مالی اور سماجی حیثیت اس کی نظر میں گرادی جاتی ہے۔ اب اُس کے چہرے پر خوشی ہے، آنکھوں میں چمک، نہ لہجے اور نہ جسمانی حرکات وسکنات میں اعتماد۔ اس کے سینے میں گھونپا گیا سوال اپنا کام کرچکا ہے۔

اگر کسی تقریب میں میاں بیوی بچوں کے بغیر دکھائی دیں تو اِدھراُدھر کی کچھ باتیں کرکے اجنبیت دور کرنے کے بعد اپنائیت اور خلوص کے بھرپور اظہار کی ٹھانی جاتی ہے۔ بڑی معصومیت سے پوچھا جاتا ہے ”بچوں کو نہیں لائے“، جواب محرومی کی کہانی سُنادیتا ہے تو شادی کی مُدت پوچھی جاتی ہے (جیسے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہو کہ ایکسپائری ڈیٹ گزر تو نہیں گئی؟) پھر تفتیش اور افسوس کے بھرپور جذبات کے ساتھ کسی ڈاکٹر، حکیم، ہومیوپیتھ یا جھاڑ پھونک کرنے والے کے بارے میں اس یقین کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ بس یہ کہنا رہ جاتا ہے کہ ”ارے خواتین تو کیا وہ تو حضرات کو بھی ولادت کی سعادت عطا کرسکتے ہیں۔“

یہ بہ ظاہر معصومانہ سوال اور پیار چھلکاتی گفتگو اس جوڑے کے ہونے پر ہی سوالیہ نشان لگادیتی ہے۔ خاص طور پر ان لفظوں کے کانٹے عورت کی روح میں ایسے چھبتے ہیں کہ کتنے ہی دن ان کی چبھن نہیں جاتی۔ اس سوال سے اس کے دل میں یہ زخم سا سوال جنم لیتا ہے کہ کیا میرا وجود اولاد کے بغیر کچھ نہیں؟ اور لٹیرا سوال جوڑے سے چند پَل کی خوشی چھین کر یہ جا وہ جا۔

لڑکی نے پچیسواں برس پار کرلیا ہو اور مرد نے تیس کی چوکھٹ پھلانگ لی ہو تو ”اب تک شادی کیوں نہیں ہوئی؟“ کی تشویش ہر جگہ ان کا پیچھا کرتی ہے۔

کوئی کہیں بھی آپ سے بے دھڑک پوچھ سکتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ یعنی مادری زبان کیا ہے، کس صوبے کے ہو، کون ذات ہو، قبیلہ کیا ہے؟ جب اس سوال کے پھاو_¿ڑے سے کُھدائی کرکے بھی کچھ حاصل نہ ہوپارہا ہو تو ”پیچھے کہاں کے ہو؟“ کی کُدال چلائی جاتی ہے۔ اسی دھڑلے کے ساتھ آپ سے مذہب، مسلک اور فرقہ پوچھا جاسکتا ہے۔

ہمارے گھروں سے درس گاہوں اور محفلوں سے عبادت گاہوں تک کہیں کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ سوال کی بھی کوئی اخلاقیات ہوتی ہے۔ ذاتی نوعیت کا سوال پوچھنا بعض دفعہ توہین کرنے اور گالی دینے کے مترادف ہوتا ہے، ایسے سوالات کبھی اعتماد پر وار کرتے ہیں تو کبھی مسرت اور ہمت وحوصلے پر حملہ۔

ایسے سوالات پر سوال اٹھائیے، انھیں دھتکاریے، ٹھکرائیے، کہ یہ بے مصرف اور بے مقصد سماج کے عکاس ہیں، اور یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کو بولنے کے لیے لفظوں کی تلاش ہے، لیکن اس کا کتاب دشمن، عقل و خرد کا بیری اور سوچنے اور غور کرنے سے بے زار رویہ اسے بانجھ کرچکا ہے، سو الفاظ اور موضوعات کیسے جنم لیں گے؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: